منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات آج

image

افغانستان کے منجمند اثاثے بحال کرنے کی غرض سے امریکہ اور طالبان حکام کے درمیان مذاکرات آج قطر میں متوقع ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ فنڈز کی بحالی کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے تاہم افغان مرکزی بینک کے بورڈ کے رکن کا کہنا ہے کہ حتمی مراحل طے کرنے میں دیر لگ سکتی ہے۔

طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی وزارت خارجہ اور مرکزی بینک کے عہدیداروں کے ہمراہ  مذاکرات کی غرض سے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹام ویسٹ مذاکرات کا حصہ ہوں گے اور اس دوران افغانستان میں انسانی حقوق اور بچیوں کے سکول کھولنے کے علاوہ دیگر معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ افغان عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کا مطلب طالبان یا ان کی نام نہاد حکومت کو تسلیم کرنا نہیں ہے بلکہ امریکی مفادات کے حصول کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد افغانستان کے 7 ارب ڈالر کے اثاثے امریکہ نے منجمند کر دیے تھے جبکہ بین الاقوامی کمیونٹی نے مالی امداد کی براہ راست فراہمی پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

عالمی امداد میسر نہ ہونے کی صورت میں افغانستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے جبکہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی صورت میں بے روزگاری میں اضافہ ہو گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے افغانستان میں آنے والے شدید زلزلے سے پیدا ہونے والی انسانی صورتحال کے بعد فنڈز جلد از جلد بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کا کہنا ہے کہ فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ طالبان کے بجائے افغان عوام کو فائدہ پہنچے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.