پیغمبر اسلام کی مبینہ توہین پر ہندو درزی کا قتل: انڈیا کے شہر اودے پور میں مذہبی تناؤ اور کرفیو

انڈیا کا شہر اودے پور اس وقت مکمل طور پر بند ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے اور کرفیو نافذ ہے۔ ہر جگہ پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
انڈیا کے شہر اودے پور میں ہندو درزی کے قتل کے خلاف مظاہرے
Reuters
انڈیا کے شہر اودے پور میں ہندو درزی کے قتل کے خلاف مظاہرے

انڈیا کی شمالی ریاست راجھستان میں دو مسلمان نوجوانوں کے ہاتھوں ایک ہندو درزی کے مبینہ قتل کے بعد مذہبی تناؤ کے باعث حکومت نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

کنہیا لال نامی درزی کو راجھستان کے شہر اودے پور میں منگل کو دو مسلمانوں نے قتل کیا تھا جنھوں نے اس واردات کی ویڈیو بھی بنائی اور پھر اسے آن لائن پوسٹ کر دیا۔ پولیس نے دونوں کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ راجھستان پولیس نے میڈیا سے درخواست کی ہے کہ قتل کی ویڈیو کو نشر نہ کیا جائے جو ’بہت بھیانک ہے۔‘

ملزمان نے دعویٰ کیا کہ مقتول کی جانب سے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان دینے والی نوپور شرما کی حمایت میں فیس بک پر پوسٹ لگائی تھی جس کا بدلہ لینے کے لیے انھوں نے کنہیا لال کو قتل کیا۔

ایک اور ویڈیو میں ملزمان نے قتل کی واردات پر فخر کرتے ہوئے اور چھریاں لہراتے ہوئے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی دھمکیاں دیں۔

انڈیا کی حکومت نے علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

راجھستان کے وزیر اعلی اشوک گہلوٹ نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے جب کہ وفاقی حکومت نے انڈیا کی نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی، جسے اعلی ترین انسداد دہشت گردی ایجنسی مانا جاتا ہے، کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

https://twitter.com/HMOIndia/status/1542020613631791104

اس واردات کے دوران دونوں افراد کنہیا لال کی دکان میں خریدار کے طور پر داخل ہوئے اور انھوں نے اس وقت قتل کیا جب ان کا ناپ لیا جا رہا تھا۔

مقتول پر الزام ہے کہ انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نور پور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی تھی جنھوں نے گزشتہ ماہ پیغمبر اسلام کے بارے میں ایک متنازع بیان دیا تھا۔

بہت سے اسلامی ممالک نے نوپور شرما کے متنازع بیانات پر مذمتی بیانات جاری کیے اور انڈیا سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ قطر نے انڈیا سے معافی کا مطالبہ کیا۔

بڑے پیمانے پر سامنے آنے ردعمل کے جواب میں انڈیا نے نوپور شرما کی بی جے پی سے رکنیت کو معطل کر دیا گیا تھا۔

اس تنازعے کے بعد انڈیا میں بھی پر تشدد مظاہرے ہوئے جن میں پتھراؤ ہوا اور سرکاری املاک کو نقصان ہوا۔


جو ہوا وہ بہت بڑا صدمہ ہے

نیتین سریواستوا، بی بی ہندی، اودے پور

انڈیا کا شہر اودے پور اس وقت مکمل طور پر بند ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے اور کرفیو نافذ ہے۔ ہر جگہ پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

اس وقت یہاں اکثریتی ہندو اور اقلیتی مسلمان لوگوں کے درمیان تناؤ کافی واضح ہے جو اس گنجان آبادی والے شہر میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔

کنہیا لال کی آخری رسومات، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، کے دوران بھی نہایت سخت سکیورٹی تھی۔

زیادہ تر لوگ کیمرا پر بات کرنے سے کترا رہے ہیں لیکن جن چند لوگوں نے ہم سے بات کی، وہ واضح طور پر مذہبی بنیادوں پر بٹے ہوئے نظر آئے۔

جے پال ورما مارکیٹنگ ایگزیکٹیو ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ہندو اکثریتی ملک میں رہتے ہیں اس لیے یہاں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے کہوں گا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔‘

یہاں کی آبادی کا بیشتر حصہ اچانک کرفیو کے لیے تیار نہیں تھا اور اسی لیے اب اکثریت کو روز مرہ کی بنیادی اشیا کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مقامی مکیش گردیا کہتے ہیں کہ ’دیہاڑی دار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جو بھی ہوا وہ بہت بڑا صدمہ ہے۔‘


یہ بھی پڑھیے

اودے پور میں ہندو درزی کا قتل، بین الاقوامی سطح پر ردعمل

پیغمبر اسلام سے متعلق بیان منظر عام پر لانے والے محمد زبیر گرفتار، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان انڈیا اور اسلامی دنیا کے تعلقات کا ٹیسٹ کیس کیسے بنا؟

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق قتل سے تین ہفتے قبل کنہیا لال کو پولیس نے 'مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے' کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد کنہیا لال نے جان کے خطرے کے پیش نظر پولیس سے حفاظت کی درخواست بھی کی تھی۔

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ایک مقامی پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’پولیس نے مقامی مسلمانوں اور ہندووں کو بلا کر امن کے لیے ایک ملاقات کا اہتمام کیا جس کے بعد کنہیا لال نے کہا تھا کہ ان کو کسی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔‘

انڈیا میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سیاسی وابستفی سے بالاتر ہو کر تمام رہنماوں نے اس کی مذمت کی ہے۔

راجھستان کے سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے، جن کا تعلق بی جے پی سے ہے، نے کانگریس کے وزیر اعلی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’ریاست میں مذہبی جنونیت اور تشدد کی کیفیت ہے۔‘

بی جے پی کے چند رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ اس قتل کے خلاف دارالحکومت دلی میں مارچ کریں گے۔

کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ ان کو ’اس قتل سے بہت صدمہ پہنچا۔‘ انھوں نے حملہ آوروں کو جلد از جلد سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انڈیا کی چند ممتاز مسلمان تنظیموں نے بھی اس قتل کی مذمت کی ہے۔ آل انڈیا پرسنل لا بورڈ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انڈین قوانین کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

ایک بیان میں آل انڈیا پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ ’کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور کسی کو بھی مجرم قرار دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ یقینا ایک انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.