bbc-new

مہسا امینی کی ہلاکت اور ایران میں مظاہرے: ’انھوں نے ہمیں دھمکایا کہ اگر ہم چُپ نہ ہوئے تو وہ ہمارا ریپ کر دیں گے‘

مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایران میں شروع ہونے والے مظاہروں کی قیادت بنیادی طور پر خواتین نے کی اور انھوں نے حکومت سے لازمی حجاب کے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن اب یہ مظاہرے ایران کے رہنماؤں اور پوری مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج میں بدل چکے ہیں۔
A police motorcycle burns during a protest on a street in Tehran, Iran (19 September 2022)
Reuters
ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا سلسلہ ملک سے 31 صوبوں تک پھیل گیا ہے

’انھوں نے مجھے زمین پر لٹایا اور ایک افسر نے میرے کمر پر اپنا بوٹ رکھ دیا۔ ان نے میرے پیٹ میں لات ماری، میرے ہاتھ باندھ دیے اور مجھے میرے ہاتھوں سے اُوپر اٹھایا اور مجھے وین میں دھکیل دیا۔‘

51 سالہ مریم (فرضی نام) نے اپنی کہانی کی ابتدا کچھ اس طرح کی۔ مریم کو گذشتہ ہفتے وسطی تہران میں جاری مظاہروں کے دوران ایرانی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔

16 ستمبر کو ایک 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے پورے ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مہسا امینی کو ہلاکت سے تین دن قبل ہی دارالحکومت میں ایران کی اخلاقی پولیس نے حجاب (سر پر سکارف) کے قوانین توڑنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دورانِ حراست انھیں دل کا دورہ پڑا تھا لیکن مہسا کے اہلخانہ کا الزام ہے کہ پولیس افسران نے اُن پر تشدد کیا اور اُن کے سر پر ڈنڈے سے وار کیے اور اُن کا سر پولیس کی ایک گاڑی سے ٹکرایا جس سے ان کی ہلاکت ہوئی۔

مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایران میں شروع ہونے والے مظاہروں کی قیادت بنیادی طور پر خواتین نے کی اور انھوں نے حکومت سے لازمی حجاب کے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن اب یہ مظاہرے ایران کے رہنماؤں اور پوری مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج میں بدل چکے ہیں۔

’بے رحم‘ کمانڈرز

ایران میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ بندش کے باوجود ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کو گرفتار کرنے کی ویڈیوز مسلسل ملک کے سوشل میڈیا پر شائع کی جا رہی ہیں۔

مریم نے بتایا کہ ’جو کچھ آپ ان ویڈیوز میں دیکھ رہے ہیں حقیقت اس سے بہت زیادہ بھیانک ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ دوران حراست ’میں نے ایک کمانڈر کو اپنے جوانوں کو یہ حکم دیتے سنا کہ بے رحم ہو جاؤ، خواتین اہلکار بھی اتنی ہی ظالم ہیں۔ ان میں سے ایک نے مجھے تھپڑ مارا اور مجھے اسرائیلی جاسوس اور وحشیہ کہہ کر پکارا۔‘

بی بی سی نے چند ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کے کمانڈرز پولیس افسران کو ’مظاہرین کے ساتھ رحم کا معاملہ روا نہ رکھنے اور انھیں گولی مارنے‘ کا حکم دیتے نظر آ رہے ہیں۔

دیگر چند ویڈیوز، جن کی بی بی سی نے تصدیق کی ہے، میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی فورسز مظاہرین پر براہ راست آتشین اسلحہ چلا رہے ہیں اور جنھیں وہ پکڑ سکتے ہیں انھیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ملک بھر میں جاری مظاہروں میں اب تک 40 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ایرانی مظاہرین
Twitter

ایرانی حکام کی جانب سے ان مظاہروں میں گرفتار کیے جانے والی افراد کی مجموعی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ تاہم تہران کے شمال میں واقع صوبے مازندران کے چیف پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ صرف 450 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ایران کے ایک بڑے شہر سے تعلق رکھنے والے نوجوان سام نے بتایا کہ ’میں نے مظاہرے کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کو پیچھے دھکیل دیا اور بھاگنے کی کوشش کی، لیکن بہت جلد وہاں دیگر اہلکار پہنچ گئے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے چند سیکنڈ کے بعد ہی 15 سے زائد اہلکار مجھے بے رحمی سے مار رہے تھے۔‘

’مجھے اپنے منھ سے خون نکلتا ہوا، اور جسم پر الیکٹرک گن کے ذریعے بجلی کے جھٹکے محسوس ہوئے۔ انھوں نے مجھے زمین پر لٹایا، میرے ہاتھ کمر سے ساتھ باندھ دیے اور میرے پیروں کو میرے جوتوں کے تسموں کے ساتھ باندھ دیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ان میں سے ایک فوجی نے مجھے دیگر حراست میں لیے گئے مظاہرین کی جگہ پر لے جاتے ہوئے میرے چہرے پر لات ماری۔‘

ایرانی مظاہرین
Social media

’بے خوف‘ نوجوان لڑکیاں

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے ملک سے 31 صوبوں تک پھیل گئے مظاہروں سے ’فیصلہ کُن انداز میں نمٹنے‘ کا عزم کیا ہے۔

بہت سے ایرانی شہری صدر رئیسی کا تعلق 1980 کی دہائی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے سیاسی قتل و عام کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ صدر ابراہیم رئیسی اس وقت ان چار ججوں میں شامل تھے جو خفیہ عدالتوں کا حصہ تھے اور ان عدالتوں نے بہت سے ایرانی شہریوں کو مختلف مقدمات میں موت کی سزائیں سُنائی تھیں۔

سام کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے مجھے اور دیگر قیدیوں کو ڈیڑھ گھنٹہ تک بس کے فرش پر ایک دوسرے کے اوپر لٹائے رکھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس وقت مجھے سیاسی قیدیوں کو پھانسی دینے پر رئیسی کے کردار کا خیال آیا اور ایک لمحے کو میں نے سوچا کہ شاید یہ مجھے بھی پھانسی دے دیں گے۔‘

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا اصرار ہے کہ 1980 کی دہائی میں پھانسی کی سزا پانے والے افراد کو ایرانی قانون کے مطابق سزا سنائی گئی تھی۔

اگرچہ صدر رئیسی ملک کی اینٹی رائٹس پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے سربراہ ہیں لیکن اس متعلق کوئی شواہد نہیں ہیں کہ انھوں نے رواں ماہ شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین کو مارنے کا حکم دیا ہو۔

یہ بھی پڑھیے

میں اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹروں نے مجھے اندر جانے نہیں دیا، والد مہسا امینی

’ایسا لگتا ہے جیسے ہم شکار کرنے جا رہے ہیں‘: ایران کی اخلاقی پولیس کیسے کام کرتی ہے؟

ایران سے کرناٹک تک: انڈیا میں سبھی ایران میں خواتین کے احتجاج کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟

خاتون کی ہلاکت پر ایران میں احتجاج: ’ژینا نے ہمارے لیے آزادی کا راستہ کھول دیا‘

مریم کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ گرفتار کیے جانے والے تمام مظاہرین ایران کے پاسداران انقلاب فورس کے ایک بڑے مرکز منتقل کیے جانے تک دوران حراست بھی احتجاج کرتے رہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وین میں میرے ساتھ دیگر لڑکیاں بھی موجود تھیں، لیکن وہ کافی کم عمر تھیں، جب میں نے انھیں اور اُن کی جرات کو دیکھا تو میں نے خود کو سنبھالا اور انھوں نے میری مدد کرنا شروع کر دی۔‘

ایرانی مظاہرین
EPA

وہ بتاتی ہیں کہ ’وہ چیخ رہی تھیں اور افسران کا مذاق اڑا رہی تھیں، یہ نسل میری نسل سے مختلف ہے، یہ نسل بےخوف ہے۔‘

بی بی سی کی طرف سے تصدیق شدہ تصاویر اور ویڈیوز میں گرفتار مظاہرین کے رشتہ داروں کو شمالی تہران کی بدنام زمانہ ایون جیل کے باہر قطار میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ سب لوگ زیر حراست مظاہرین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے یا ان کی ضمانت پر رہائی کے لیے دستاویزات جمع کرانے کے منتظر تھے۔

ان میں سے ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام نے انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ ’اپنے خاندان کے فرد کی گرفتاری کے متعلق دوسروں کو مت بتائیں ورنہ انھیں مزید مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

بہت سے مظاہرین کو چھوٹے پولیس سٹیشنوں اور پاسدران انقلاب فورس کے مراکز میں زیر حراست رکھا گیا ہے، جن میں سے بہت سوں کے متعلق عام عوام کو علم نہیں ہے۔

مریم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں ایک چھوٹے پولیس سٹیشن لے جایا گیا تھا، وہ بہت سے افراد کو رکھنے پر تیار نہیں تھے۔ انھوں نے مجھ سمیت تقریباً 60 خواتین کو وہاں ایک چھوٹے کمرے میں رکھا اور وہاں جگہ کم ہونے کی وجہ سے ہم سب صرف ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تھے، بیٹھ اور ہل نہیں سکتے تھے۔‘

مریم کا مزید کہنا تھا کہ ’انھوں نے ہم سے کہا کہ ہمیں بیت الخلا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اگر ہمیں بھوک لگے تو ہم اپنا پاخانہ کھا سکتے ہیں۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں کہ ’تقریباً ایک دن بعد جب ہم نے شور مچایا اور اس کمرے کے اندر احتجاج کیا تو انھوں نے ہمیں دھمکانا شروع کر دیا کہ اگر ہم نے چپ نہ کیا تو وہ ہمارا ریپ کر دیں گے۔‘

ایرانی مظاہرین
BBC

’اپنے جذبے بلند رکھنا‘

ایران کے ایک جنوبی شہر میں گرفتار ایک اور خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں جنسی حملوں کی دھمکیاں دی تھیں۔

فرشتہ (فرضی نام) نے مزید بتایا کہ ’جو خاتون افسر حراستی مرکز میں ہمارا اندراج کر رہی تھی، نے میرا نام پوچھا اور مجھے ’جسم فروش‘ کہا، جب میں نے اس بارے میں شکایت کی تو اس نے کہا کہ اگر میں نے شور مچانا جاری رکھا تو وہ مرد جیل اہلکاروں میں سے ایک کو کہے گی کہ وہ جیسا چاہے میرے ساتھ سلوک کریں۔‘

تہران کے ایک بڑے حراستی مرکز میں رکھے جانے والے بہزاد کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے ایک چھوٹے سے کمرے میں 80 سے زیادہ افراد کو بند کر رکھا تھا، ہم سب غصے اور تکلیف میں تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’انھوں نے ہمارے موبائل فون بھی ضبط کر لیے اور ان میں ہماری تصاویر، ویڈیوز اور میسجز کی جامع تلاشی لی تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ ہم نے احتجاج کے متعلق کسی کو کوئی خبر تو نہیں دی۔ اور اگر ایسا ہوتا ( تو ان کا کہنا تھا ) کہ وہ اسے ہماری فائلوں میں لکھ دیں گے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’اگلی صبح ایک جج ہمارے پاس آئے اور ملاقات کی، انھوں نے زیادہ تر نوجوانوں پر تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں رہا کر دیا۔ مگر بڑی عمر کے افراد سے جج سے مختصر سوالات پوچھے اور ہماری قسمت کا فیصلہ اس مختصر عدالتی سماعت کی بنیاد پر کیا۔‘

بہزاد کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ حراست میں لیے گئے تقریباً 10 فیصد افراد کو بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا گیا، جبکہ باقی افراد کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

تہران میں دو دن تک زیر حراست رہنے والے ایک اور شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جارحانہ کارروائیوں‘ کے باوجود کم عمر قیدیوں نے ’اپنے حوصلے بلند رکھنے‘ کی کوشش کی تھی۔

’میں 25 سال سے کم عمر مظاہرین کے ساتھ تھا، ان میں سے کچھ کے چہروں پر خون لگا ہوا تھا لیکن وہ مسکرا رہے تھے، باتیں کر رہے تھے اور لطیفے سُنا رہے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ان میں سے ایک نے مجھے بھی مسکرانے کو کہا اور بولا کہ ہم فتحیاب ہوئے کیونکہ ہم صحیح ہیں۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.