دوسروں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے ۔۔ متھیرا کے بیان پر طوبیٰ انور خاموش نہ رہ سکیں، دونوں کے درمیان کیا تکرار ہوئی؟

image

ابھرتی ہوئی اداکارہ طوبیٰ انور نے چند دن قبل بی بی سی اردو کو انٹرویو دیا جس میں انہوں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے تشدد بھرے واقعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہیں طوبیٰ انور نے خود کا موازنہ نور مقدم سے کیا جس پر متھیرا نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔

دونوں شوبز شخصیات کے درمیان لفظی تکرار سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

طوبیٰ انور نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب نور مقدم والا واقعہ سامنے آیا تھا تو اس وقت میں بھی اپنی زندگی کے تکلیف دہ لمحات سے گزر رہی تھی، حالانکہ میں نور مقدم سے کبھی نہیں ملی لیکن میں وہ سب کچھ محسوس کرسکتی ہوں جوکہ نور کے ساتھ ہوا کیونکہ نور نے جن چیزوں کا سامنا کیا میں بھی اپنی زندگی میں وہ تمام چیزیں برداشت کر چکی ہوں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں تمام چیزیں یوں کھل کر بتا نہیں سکتی لیکن ہماری سوسائٹی میں صرف قصوروار مظلوم کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ اب متھیرا کو طوبٰی انور کا نور مقدم کے ساتھ موازنہ درست بات نہ لگی جس پر انہوں نے انسٹاگرام پر تفصیلی پوسٹ شئیر کی۔

پروگرام میزبان نے طوبیٰ انور کے خیالات پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عامر بھائی نے طوبیٰ کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں قدم رکھنے میں مدد کی، اس لیے صرف لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے طوبیٰ انور کو اس طرح کے انٹرویو دینا بند کرنے چاہئیں اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ عامر بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

متھیرا نے طوبیٰ انور کو کہا کہ مرحوم کی عزت کرنا سیکھیں کیونکہ وہ دنیا سے جا چکے ہیں اور انہیں معاف کر دینا ہی بہتر ہے جس پر طوبیٰ انور غصے میں آگئیں اور انہوں نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب دیا کہ میں نے متھیرا کو اپنی باتوں کی وضاحت دینے کے لیے فون بھی کیا لیکن اُنہوں نے میرا فون نہیں اٹھایا۔

اُنہوں نے کہا کہ متھیرا کو مجھ پر تنقید کرنے سے پہلے مکمل انٹرویو دیکھنا چاہیے اور دوسروں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ انٹرویو کے دوران دیے گئے میرے بیان کے ترجمے میں اس کی صحیح تشریح نہیں کی گئی۔


مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.