bbc-new

عمران خان کی بھانجی کا ’ڈائیلاگ‘ جو جمائما خان نے ارینج میرج پر بنائی گئی اپنی فلم میں شامل کیا

’جب میرے والدین نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے (سب لڑکوں میں سے) کون سا (لڑکا) سب سے زیادہ پسند آیا ہے۔ تو میں نے کہا نہیں! آپ انتخاب کریں کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ اگر یہ فیصلہ غلط ثابت ہو تو میں کسی کو قصوروار ٹھہرا سکوں۔‘

’جب میرے والدین نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے (سب لڑکوں میں سے) کون سا (لڑکا) سب سے زیادہ پسند آیا ہے۔ تو میں نے کہا نہیں! آپ انتخاب کریں کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ اگر یہ فیصلہ غلط ثابت ہو تو میں کسی کو قصوروار ٹھہرا سکوں۔‘

جمائما خان کے مطابق یہ الفاظ اُن کے سابقہ شوہر (عمران خان) کی بھانجی نے اپنے والدین کو کہے تھے۔ تاہم اب یہی ڈائیلاگ جمائما کی نئی آنے والی فلم ’وٹس لوو گاٹ ٹو ڈو وِد اِٹ؟‘ میں آپ کو شبانہ اعظمی کے منھ سے سننے کو ملیں گے۔

یہ فلم جمائما خان نے لکھی اور پروڈیوس کی ہے۔

جمائما کے مطابق جب انھوں نے پہلی مرتبہ یہ الفاظ (ڈائیلاگ) سُنے تو یہ ناصرف انھیں دلچسپ لگے، وہ ان سے محظوظ ہوئیں بلکہ یہ ان کو یاد بھی رہے اور اب یہ اُن کی نئی فلم کا حصہ ہیں۔

اس فلم کی کہانی بنیادی طور پر برطانیہ کی کثیر الثقافتی کمیونٹی میں ارینج میریجز پر مبنی ہے۔ اس فلم میں پاکستانی کلچر کی بھی عکاسی ہے کیونکہ یہ پاکستانی نژاد کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلم کا ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد سے اس فلم میں پاکستانی شائقین کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔

اسی بڑھتی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے بی بی سی اُردو نے جمائما خان سے ایک خصوصی گفتگو کی ہے۔

نرم لہجے میں گفتگو کرنے والی جمائما خان نے انٹرویو کا آغاز ہی ایک سوال سے کیا اور ہنستے ہوئے پوچھا کہ کہیں بی بی سی اُردو ’اُردو‘ زبان میں تو اُن سے گفتگو نہیں کرے گا؟

اس سوال کے بعد انھوں نے خود ہی بتایا کہ ’خدا حافظ‘ اور ’ماشا اللہ‘ کے سوا وہ اُردو کے باقی الفاظ اب ’بھول چکی‘ ہیں۔

فلم کے لیے ارینج میرج کا موضوع ہی کیوں چنا؟

اُردو زبان میں اب وہ شاید اتنی ماہر نہ رہی ہوں مگر اس سوال کے جواب میں جمائما نے بتایا کہ پاکستان میں گزرنے والا اُن کا وقت اس فلم کی کہانی اور کرداروں کو لکھنے میں بہت اثر انداز ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’20 سے 30 سال کی عمر کے درمیان میں پاکستان میں ایک قدامت پسند  گھرانے میں اپنے سابقہ شوہر (عمران خان) کے ساتھ رہی، جہاں اُن کی بہنیں، بہنوں کے شوہر، اُن کے بچےِ، اور ان (عمران خان) کے والد ساتھ رہتے تھے۔ وہاں میں نے لانگ ٹرم  ارینج میرجز دیکھیں جو بہت کامیاب اور خوشحال تھیں۔‘

جمائما کے مطابق ان کے اس مشاہدے نے ارینج میرجز کے متعلق ان کے پہلے سے بنے ہوئے تصورات کو تبدیل کیا اور انھیں سمجھ آیا کہ جسے ’ارینجڈ میرج‘ کہا جاتا ہے دراصل وہ ’اسسٹڈ میرج‘ ہے یعنی ایسی شادی جس میں گھر والے لڑکی یا لڑکے کو مناسب رشتے سے متعارف کرواتے ہیں جس کے بعد پھر وہ جوڑا بات چیت کو خود آگے بڑھاتا ہے اور مستقبل کا خود فیصلہ کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ پاکستان سے واپس برطانیہ منتقل ہوئیں تو اس وقت ان کے بہت سے دوست  گھر بسانے اور والدین بننے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

’تو ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ اگر ہمارے والدین ہماری شادی کریں تو وہ کس کو چُنیں گے، اور کیا ایسی شادیاں (ارینج میرج) کامیاب ہوں گی؟‘

کیا یہ ایک بائیو پک (اُن کی اپنی زندگی پر مبنی فلم) ہے؟

اس سوال کے جواب میں جمائما کا کہنا تھا کہ فلم کا ہر کردار اور ہر واقعہ کسی نہ کسی حد تک ان کی ذاتی زندگی سے متاثر ضرور ہے مگر ’یہ ایک بائیو پِک نہیں ہے۔‘

’میں لِلی جیمز (فلم میں برطانوی لڑکی کا مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ) نہیں ہوں کیونکہ میں 21 سال کی عمر میں پاکستان گئی اور فلم کے مرکزی کردار کے مقابلے میں میری زندگی بالکل مختلف ہے۔‘

یہ فلم ’پاکستان کو لکھا ہوا محبت بھرا خط ہے‘

فلم کے پروڈکشن نوٹس کے مطابق جمائما  کے لیے یہ سکرپٹ ’اپنے پرانے دوست (پاکستان) کو لکھا ہوا محبت بھرا خط ہے۔‘

جمائما اس فلم کے ذریعے پاکستان کے خوبصورت اور رنگین رُخ کی حقیقی عکاسی کرنا چاہتی تھیں جو شاید دوسری انگریزی فلموں میں صرف دہشت گردی اور انتہا پسندی تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔

ان کے مطابق ارینج میریجز کے جہاں نقصان ہو سکتے ہیں وہیں  بہت سے جوڑوں کے لیے یہ کامیاب بھی ثابت ہوئی ہے مگر  کسی بھی لحاظ سے یہ (ارینج میرج) زبردستی کی شادی نہیں ہے۔

مغربی شائقین کے سامنے یہ بات ثابت کرنے کے لیے ہی انھوں نے میمونہ (پاکستانی نژاد برطانوی لڑکے سے شادی کرنے والی پاکستانی لڑکی) کے کردار (جسے پاکستانی اداکارہ سجل علی نبھا رہی ہیں) کو لکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ بہت سی دوسری انگریزی فلموں کی طرح بورنگ، غیر پرکشش اور کم عقل نہ ہو بلکہ خوبصورت اور ہوشیار ہو۔

سجل کے ساتھ کام کرنا کیسا تھا؟

سجل علی کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں جمائما کا کہنا تھا کہ سجل سے انھیں اُن کے دوست یوسف صلاح الدین نے متعارف کروایا جنھیں وہ لاہور میں ثقافت کا ’بادشاہ‘ مانتی ہیں۔ سجل کی ایک ویڈیو دیکھتے ہی انھیں احساس ہو گیا تھا کہ وہ اس فلم کے لیے ’درست انتخاب‘ ہوں گی۔

جمائما نے بتایا کہ اس فلم کے ڈائریکٹر شیکھر کپور کا بھی سجل کے حوالے سے یہی ماننا ہے  کہ سجل کے کام میں جہاں وہ حساس دکھائی دیتی ہیں وہیں طاقت بھی موجود ہوتی ہے۔

فلم کی شوٹنگ کہاں ہوئی؟

فلم کے اکثر مناظر میں پاکستانی بازار اور گھر دکھائے گئے ہیں۔ جمائما سے پوچھا گیا کہ کیا یہ مناظر پاکستان میں فلم بند کیے گئے یا برطانیہ میں سیٹ بنائے گئے؟ تو ان کا جواب تھا ’دونوں۔ لاہور (شہر) کے تمام مناظر لاہور میں فلم بند کیے گئے ماسوائے ان مناظر کے جن میں اداکار دکھائی دے رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فلم میں دکھائے جانے والے انارکلی بازار کے مناظر برطانیہ کی ’شیفڈز بش مارکیٹ‘ میں فلمائے گئے ہیں جبکہ لاہور میں ہونے والی مہندی کی تقریب ’سفک‘ میں واقع ایک مہاراجہ کے محل میں فلم بند کی گئی۔

کووڈ کی وجہ سے فلم کے اداکار اور باقی عملہ پاکستان نہیں جا سکتے تھے مگر جمائما فلم میں ’اصل لاہور‘ دکھانا چاہتی تھیں۔ اس موقع پر اس مسئلہ کا حل بنیں شرمین عبید چنوئے۔ آسکر انعام یافتہ شرمین نے فلم کے دوسرے یونٹ کے ذریعے بطور ہدایتکار لاہور کے مناظر فلم بند کیے۔

’ہمیں آپ پر فخر ہے‘

جمائما
Getty Images

اس فلم کے لیے لکھے گئے جمائما کے سکرپٹ کو اس فلم سے منسلک افراد نے بہت سراہا ہے مگر جمائما نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ سکرپٹ کے متعلق سب سے اہم رائے اُن کے بچوں کی تھی۔

اُنھوں نے بتایا کہ اُن کے لیے سکرپٹ سے متعلق سب سے اہم رائے اُن کے بچوں نے دی، جوعمومی طور پر اُن کے بارے میں بہت کریٹیکل ہیں اور ایسی روم کومز نہیں دیکھتے۔

’یہ فلم دیکھ کر وہ (بچے) حقیقی طور پر اس سے متاثر ہوئے، انھوں نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ اماں ہمیں آپ پر فخر ہے۔ وہ میرے لیے اب تک کا سب سے بہترین لمحہ تھا۔‘

فلم کی کہانی کیا ہے؟

ارینج میریج اور سچی محبت کی تلاش پر مبنی اس فلم کی کہانی ایک برطانوی لڑکی ’زو‘ اور پاکستانی نژاد برطانوی لڑکے ’کاظم‘ کے گرد گھومتی ہے۔ زو کی والدہ گھر بسانے کے متعلق زو کے غیر سنجیدہ رویے سے مایوس ہیں تو دوسری جانب کاظم جو زو کے بچپن کے دوست اور پڑوسی بھی ہیں، اپنے والدین کی مثال کو دیکھتے ہوئے پاکستان سے ایک لائق اور خوبصورت دلہن (سجل) کے ساتھ ارینج میرج کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

جب زو اپنے دوست کاظم کی ایک اجنبی لڑکی سے شادی کرنے کے لیے لندن سے لاہور تک کے سفر کو فلمانے کی غرض سے ان کے ساتھ  جاتی ہیں تو یہ سفر ان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ محبت تلاش کرنے کے جن مغربی طریقوں سے وہ واقف ہیں،شاید اس سے علاوہ اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں۔

پاکستان  میں حاصل ہونے والی توجہ

جمائما
Getty Images

جمائما بلاشبہ پاکستان میں بہت مقبول ہیں۔ جب بھی جمائما سے متعلق کوئی بات ہو تو سوشل میڈیا پر بہت سے پاکستانی صارفین اپنی اپنی آرا کا اظہار کرتے ہیں جن میں جمائما کے لیے حمایت، اُن سے محبت اور  بعض اوقات تنقید بھی شامل ہوتی ہے۔

جب جمائما سے پوچھا گیا کہ پاکستانی عوام کے اس رویے پر خود کو  ملنے والی توجہ کے بارے میں وہ کیسا محسوس کرتی ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’دو طرح کی توجہ ہوتی ہے ایک تو عموماً پاکستانیوں کی جانب سے ملنے والی توجہ ہے جس میں بہت محبت ہوتی ہے۔ یہ توجہ مجھے پسند ہے اور اسے حاصل کرکے میرا دل کرتا ہے کہ میں جلد دوبارہ پاکستان کا دورہ کروں۔‘

’جبکہ دوسری ’سیاسی توجہ‘ ہے جو پیچیدگیوں اور چالاکیوں سے بھری ہوتی ہے۔‘  تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سیاسی توجہ سے ’ اتنی لطف اندوز نہیں ہوتیں۔‘

’ آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی‘

کچھ عرصہ پہلے جمائما نے پاکستان کے سیلاب زدگان کی مدد اور عطیات اکٹھا کرنے کی غرض سے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا تھا۔ انٹرویو کرنے والی میزبان کی فرمائش پر جمائما نے اُردو گانا ’ آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی‘ گنگنایا تاہم جمائما کی درخواست پر اس کو انٹرویو کا حصہ نہیں بنایا گیا کیونکہ جمائما کے خیال میں سیلاب جیسے سنجیدہ موضوع کے ساتھ گانا گانا مناسب نہیں تھا۔

تاہم پروگرام نشر ہونے کے بعد میزبان نے وہ کلپ الگ سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا۔

جمائما کے مطابق اس کلپ کے مقبول ہونے کی وجہ شاید یہ تھی کہ ’بہت سے پاکستانیوں نے یہ گانا سُن رکھا ہو گا اور میں خود بھی اپنے بیٹے کو یہ سُنایا کرتی تھی۔‘

انٹرویوکے اختتام پر جمائما نے کہا کہ ’پاکستانی بہت محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ وہ آپ سے محبت کرتے ہیں یا نفرت (یعنی دو رُخے نہیں ہوتے)۔ میں امید کرتی ہوں کہ وہ مجھ سے ہمیشہ محبت کرتے رہیں۔‘

جمائما کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے مطابق یہ فلم 24 فروری 2023 کو برطانیہ کے سنیما گھروں میں ریلیز کی جائے گی تاہم پاکستان میں اس کی ریلیز پر اب بھی کام ہو رہا ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.