قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مصطفیٰ عامر قتل کیس کی فوری تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بھی تشکیل دی جا سکتی ہے، جس میں ایف آئی اے سمیت دیگر ادارے شامل ہوں گے۔
جمعہ کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں آئی جی سندھ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام کو طلب کیا گیا تھا جو شریک نہ ہوئے جس پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
اجلاس کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سندھ نے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں ایجنڈا تاخیر سے موصول ہوا، جس کے باعث آج بریفنگ ممکن نہیں۔ تاہم، کمیٹی کے ارکان نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ایڈیشنل سیکرٹری سندھ کے مطابق، کیس سندھ پولیس کے پاس ہے، لیکن جیسے ہی یہ ایف آئی اے کو منتقل ہوگا، مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عبدالقادر پٹیل نے انکشاف کیا کہ جس جگہ پر یہ واقعہ پیش آیا، وہاں کرپٹو کرنسی اور منشیات کا کاروبار بھی ہوتا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی ادارے ڈارک ویب کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں کی خرید و فروخت کو روکنے میں ناکام کیوں ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ اغوا اور قتل کا معاملہ صوبائی حکومت تک محدود ہو سکتا ہے لیکن دیگر جرائم میں ایف آئی اے کو کردار ادا کرنا چاہیے۔
رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ملزم نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی لیکن اس کے باوجود اسے رعایت دی گئی۔ موقع سے 500 سے زائد لیپ ٹاپ برآمد ہوئے ہیں، جبکہ کئی پولیس افسران کے بزنس معاہدے بھی سامنے آئے ہیں۔
نبیل گبول نے آئی جی سندھ کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے اور آئندہ اجلاس میں انہیں ہر صورت پیش ہونے کی ہدایت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس کاروبار سے وابستہ کچھ لوگ پہلے ہی بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں اور مزید افراد بھی بھاگنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
مصطفیٰ عامر کی لاش جلی ہوئی گاڑی کی ڈگی سے ملی تھی۔ فوٹو: سکرین گریب
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک نوجوان اکیلا اس قدر وسیع پیمانے پر کام کر رہا ہو، بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔
قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے اور اے این ایف سے تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے جبکہ آئی جی سندھ کو بھی ہر صورت طلب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ کراچی میں نوجوان مصطفیٰ عامر کو اغوا کرکے بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اغوا کی ابتدائی اطلاعات کے بعد مصطفیٰ کے اہل خانہ نے پولیس سے مدد طلب کی مگر ابتدائی تحقیقات میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہو سکی۔ کچھ دنوں بعد مصطفیٰ کی لاش بلوچستان کے شہر حب کے ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے اس کیس کو ہائی پروفائل قرار دے دیا۔
پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ اس واردات میں ملزم ارمغان مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔ ارمغان کو جلد ہی حراست میں لے لیا گیا مگر دورانِ تفتیش ایک اور حیران کن انکشاف ہوا کہ اس کے گھر میں غیرقانونی طور پر ایک کال سینٹر اور سافٹ ویئر ہاؤس چل رہا تھا جو ممکنہ طور پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اس انکشاف نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور تحقیقات کو وسیع کر دیا۔
کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی پولیس کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں مختلف کیسز میں نامزد ملزمان کے کرائم ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا۔ تفتیش ملزمان کے بیانات کی روشنی میں اس کیس سے جڑے تمام کرداروں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے کمیٹی کام کرے گی۔