مشکل راستے قسط نمبر58

(Farah Ejaz, Karachi)

مجھے اپنا گھر چھوڑے ایک مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا ۔۔۔۔ لیکن جن لوگوں کے درمیان میں اب رہ رہی تھی بہت ہی مہربان اور پیار کرنے والے لوگ تھے ۔۔۔ خالہ بی اور چندہ پھو پھو جن کا خمیر ہی شاید اللہ نے محبت کی مٹی سے گوندھا تھا ۔۔۔۔۔ صرف ایک ذیشان احمد عرف ذکی صاحب تھے ۔۔۔۔۔ جن کا سامنا کرنے سے میں کتراتی تھی ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں اس کی آنکھیں مجھے میرا اپنا آپ ٹٹولتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں ۔۔۔۔ جو کہانی میں نے انہیں اپنے سے متعلق بتائی تھی خالہ بی اور چندہ پھو پھو نے اس پر فوراً یقین کرلیا تھا ۔۔۔ مگر اس انسپکٹر کی کٹیلی باتوں سے تو لگتا تھا کہ موصوف کو ڈاؤٹس تھے اس پر ۔۔ لیکن بھلا ہو خالہ بی اور چندہ پھو پھو کا انہوں نے ذکی کو میرے ماضی سے متعلق کچھ بھی پوچھنے یہ جاننے سے منع کردیا تھا ۔۔۔ اور وہ اپنی پیاری نانی جان کی کوئی بات رد نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔۔۔ ان کی چھوٹی سی بات بھی اس کے لئے حکم کا درجہ رکھتی تھی ۔۔۔ اور اسی وجہ سے میں یہاں ابھی تک ٹکی ہوئی تھی ورنہ کب کی نا معلوم منزل کی طرف بڑھ چکی ہوتی ۔۔۔

اس وقت بھی جب میں چندہ پھو پھو اور خالہ بی کے ساتھ لان میں ببیٹھی شام کی چائے پی رہی تھی تبھی ذکی صاحب کی پجیرو کا مخصوص ہارن بجا تھا جس پر چوکیدار نے گیٹ کھول دیا ۔۔۔. جیسے ہی میں نے پجیرو کو اندر آتے دیکھا تو دل تو چاہا کے اسی وقت اُٹھ کر اندر چلی جاؤں مگر آخر کب تک ان صاحب سے چھپتی پھرتی ۔۔۔۔۔ اس لئے دل کڑا کر کے وہیں بیٹھی رہی ۔۔۔۔۔۔ ابھی مغرب کی اذان کو آدھا گھنٹا باقی تھا ۔۔۔ مگر دھوپ میں وہ تپش باقی نہیں بچی تھی ۔۔۔۔۔ پجیرو کی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکلتے انسپکٹر ذکی کو کن اکھیوں سے میں نے دیکھا تھا ۔۔۔ وہ سیدھا ہماری طرف آیا تھا ۔۔۔۔۔۔

اسلامُ علیکم ۔۔۔۔

وعلیکم اسلام ۔۔۔۔۔ وعلیکم اسلام ۔۔۔۔

چندہ پھو اور خالہ بی ایک ساتھ بولی تھیں ۔۔۔۔۔

او ہو چائے ۔۔۔۔ بھئی شاہدہ ایک کپ مجھے بھی پلیز ۔۔۔۔

ابھی لاتی ہوں جی ۔۔۔۔۔۔

شاہدہ جو ابھی گرما گرم جلیبیاں اور اسپرنگ رولز کی ٹرے ٹیبل پر رکھ رہی تھی نے فوراً جواب دیا تھا ۔۔۔۔ ذکی نے پولیس کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھی تھی اور ایک پلیٹ میں دو تین جلیبیاں لئے میرے عین سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔

ذکی کافی ٹینس لگ رہے ہو ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے بھئی ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں نانی جان ۔۔۔۔۔۔

بچے تمہاری نانی ضرور ستر کے اوپر ہوگئی ہے ۔۔۔۔ لیکن برخوردار حواسِ خمسہ ویسے کے ویسے ہی ہیں ابھی تک ۔۔۔۔
اب بتاؤ یہ اتنے غصے میں کیوں ہو ۔۔۔۔۔

وہ بغور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں تھیں ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں نانی جان ۔۔۔۔ بس اپنی بے بسی پر بعض دفعہ غصہ آجاتا ہے ۔۔۔۔

کیوں اب کیا ہوگیا بھئی ۔۔۔۔

چندہ پھو پھو اس دفعہ بولی تھیں ۔۔۔۔۔

کیا ہونا ہے پھو پھو ہم نے کچھ افراد کو موقع واردات پر رنگے ہاتھوں پکڑا تھا ۔۔۔۔۔ تمام ثبوتوں کے ساتھ مگر دوگھنٹے بھی نہیں گزرے کے اوپر سے فون آگیا ۔۔۔۔۔ چھوڑنا پڑا ۔۔۔۔۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم پولیس والے کچھ اچھا کام کرنا بھی چاہیں تو نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ہمارے ۔۔۔۔۔

اگر آپ چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں جناب مگر افسوس آپ لوگ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔۔۔

ذکی صاحب کی بات سن کر اس دفع میں بولی تھی ۔۔۔۔ تو اس نے مجھے چونک کر دیکھا تھا ۔۔۔ میں بات کہہ کر خاموشی سے چائے پینے میں مصروف ہوگئی تھی ۔۔۔۔

کیا مطلب ہے محترمہ آپ کا ۔۔۔۔ ہمیں ہر بات کا اپنے سے اوپر جواب دینا پڑتا ہے ۔۔۔۔

ہمممم ۔۔۔ میں پھر وہی بات کہونگی کہ اگر آپ چاہیں تو بہت کچھ آپ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔

اچھا تو محترمہ آپ ہی بتا دیجئے کہ ہمیں ایسی سچویشن میں کیا کرنا چاہئے ۔۔۔۔
جھنجھلاہٹ بھرے لہجے میں مجھ سے پوچھا تھا ۔۔۔۔ تو میں نے چائے کا آخری گھونٹ لیتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے جناب کہ آپ تھانے کے ایس ایچ او ہیں کانسٹیبل نہیں ۔۔۔۔ اگر کسی بڑے مگرمچھ پر آپ ہاتھ ڈالتے بھی ہیں تو تمام کوئینسیکوئنسز کا پتا ہونا چاہے آپ کو ۔۔۔۔ اور آپ کس طرح سے اسے ڈیل کرسکتے ہیں ۔۔۔۔ اگر میں آپ کی جگہ ہوتی تو سب سے پہلے اپنے تھانے کا فون بند ہی رکھتی تاکے اتنا ٹائیم مجھے مل سکے کہ تفتیش کے تھرو میں کوئی اہم انفارمیشن اس بندے سے حاصل کر سکوں ۔۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی جب اوکھلی میں سر دے ہی دیا تو موءسل کا کیا ڈڑ جناب ۔۔۔۔۔ یا تو وردی بچا لیجئے یا فرض پوری دیانت داری سے ادا کیجئے ۔۔۔

بی بی بولنا بڑا آسان ہے ۔۔۔۔ آپ ہماری جگہ ہوتیں تو پتہ چلتا آپ کو کہ ہم پر کتنا دباؤ ہوتا ہے ۔۔۔۔

ہممم ۔۔۔ دباؤ ۔۔۔۔۔ محترم اگر اسی دباؤ کا آپ رونا روتے رہے تو شہر کے امن و امان کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔۔۔۔ جو میں چڑیا گھر کے سامنے ان بچیوں کی بے بسی اور اپنی پولیس کی چابکدستی دیکھ چکی ہوں ۔۔۔۔ اس کے بعد آپ لوگوں سے کچھ اچھے کی توقع رکھنا تو عام شہری کے لئے مشکل ہے ۔۔۔۔ آپ لوگوں نے قانون صرف عام آدمی کے لئے رکھ چھوڑا ہے ۔۔۔۔ بڑے لوگ تو اس سے بری ہیں ۔۔۔۔ یوں کہنا چاہئے کہ آزاد ہیں ۔۔۔۔

ہممم ۔۔۔۔ میں آپ کی بات سے ایگری کرتا ہوں ۔۔۔۔ مگر کچھ باتوں پر آپ سے مجھے اختلاف ہے ۔۔۔۔ میں مانتا ہوں مجھے ان بچیوں کی مدد کرنی چاہئے تھی ۔۔۔۔ لیکن میں اور میرے ماتحت خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے ۔۔ لیکن اس کے پیچھے بھی ایک ریزن تھا جو میں آپ کو بتا نے کا پابند نہیں ۔۔۔۔۔

چندہ پھوپھو اور خالہ بی خاموش بیٹھیں ہم دونوں کی باتوں یا یوں کہہ لیں بحث کو سن رہی تھیں ۔۔۔۔ خالہ بی بار بار تاسف سے نواسے کو دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔

ویسے دیکھا جائے تو ذکی نائلہ بالکل صحیح کہہ رہی ہے ۔۔۔۔ ایسی نوکری کا فائدہ ہی کیا جس میں آپ کچھ بھی اپنی طرف سے کر نہیں سکتے ۔۔۔۔ اس سے بہتر تو میری جان تم کسی اور فیلڈ میں طبع آزمائی کرو ۔۔۔۔

ذکی نے مسکرا کر اپنی نانی جان کو دیکھا تھا ۔۔۔ بولا کچھ نہیں ۔۔۔۔ پھر میری طرف غور سے دیکھا تھا ۔۔۔ نانی جان مجھے تھوڑی دیر کے بعد پھر راؤنڈ پر نکلنا ہے ۔۔۔۔ اس لئے رات کے کھانے پر انتظار مت کیجئے گا ۔۔۔۔۔۔

بیٹا کیا کبھی پہلے تم ٹائیم پر پہنچے ہو جو اب رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھانے والے تھے ۔۔۔۔

چندہ پھوپھو اس دفع بولی تھیں ۔۔۔۔ تو مسکرا کر انہیں دیکھا تھا اس نے اور کرسی سے اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

نائلہ کیا تم کل میرے ساتھ بازار چل سکتی ہو ۔۔۔۔

جی ضرور چندہ پھو پھو ۔۔۔۔

تو ٹھیک ہے ہم ظہر کی نماز کے بعد مارکیٹ چلینگے ۔۔۔۔۔

وہ خوشی سے بولیں تو میں نے بھی سر ہلادیا تھا ۔۔۔۔

××××××××××××

آدھی سے زیادہ رات بیت چکی تھی ۔۔۔ اس کی بلیک پجیرو گھر کی گیٹ کے سامنے رکی تھی ۔۔۔ ہارن دینے پر چوکیدار نے گیٹ کھولا تو پجیرو اندر پورچ میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔ پھر وہ اس کی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتا ہوا باہر نکلا تھا ۔۔۔ مگر جیسے ہی وہ مین ڈور کھول کر اندر داخل ہوا تو اپنی نانی جان کو وہاں مین ڈور کے قریب ہی سوفے پر بیٹھے دیکھا تھا ۔۔۔۔ ان کی گود میں کتاب رکھی ہوئی تھی اور نظر کا چشمہ کھلی کتاب پر رکھا ہوا تھا ۔۔۔ گردن سوفے سے ٹکائے ناجانے کب وہ کتاب کی ورق گردانی کرتے کرتے سوچکی تھیں ۔۔۔۔ جانتا تھا اسی کا انتظار کرتے کرتے وہ یہاں بیٹھے بیٹھے سو چکی تھیں ۔۔۔۔ محبت سے آگے بڑھا تھا اور ان کے نحیف و ناتواں کاندھوں پر اپنے مضبوط ہاتھ نرمی سے رکھے تھے ۔۔۔۔ انہوں نے ایک دم اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا اور اسے دیکھ کر ایک پیاری سی مسکان ان کے بوڑھے لکیروں زدہ چہرے پر پھیلی تھی ۔۔۔

اسلام علیکم ۔۔۔ نانی جان ۔۔۔۔۔

وعلیکم اسلام ۔۔۔ چلو اچھا ہوا آگئے تم ۔۔۔

آپ یہ بتائیں پہلے آپ ہمیشہ مجھے یہیں اس سوفے پر بیٹھے کیوں ملتی ہیں ۔۔۔۔

بیٹا اس لئے کہہ تی ہوں بار بار شادی کر لو تو میں اور تمہاری بیوی دونوں ایک ساتھ تمہارا انتظار تمہیں کرتی ملینگی ۔۔۔

وہ ہنس دیا تھا ان کی بات سن کر ۔۔۔ اور انہیں پیار سے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر اُٹھایا تھا ۔۔۔۔ اور انہیں ساتھ لئے وہ انہیں ان کے کمرے میں لے آیا تھا ۔۔۔ دوتکئے ان کے سر کے نیچے رکھ کر انہیں پیار سے لٹا کر اور ان کا مخصوص لحاف (بلینکٹ ) انہیں اُڑا کر ۔۔۔وہ کمرے سے نکلنے ہی لگا تھا کہہ انہوں نے اسے پکارا تھا ۔۔۔۔

ذکی ٹائیم کیا ہوا ہے ۔۔۔۔

ساڑھے تین بج رہے ہیں رات کے ۔۔۔ ابھی دیڑھ گھٹہ باقی ہے فجر ہونے میں ۔۔۔۔

اوہ ۔۔۔۔

اس کے ٹائیم بتانے پر وہ صرف اتنا ہی بولی تھیں ۔۔۔۔ وہ ان کے کمرے کا سوئچ آف کرتا ہوا باہر نکل آیا ۔۔۔۔ اس کا اور نانی جان کا کمرہ گراؤنڈ فلور پر تھا ۔۔۔۔۔ چندہ پھو پھو کا کمرہ فرسٹ فلور پر تھا جہاں دو کمرے مزید بنے ہوئے تھے جن میں سے ایک کمرہ نائلہ اسفند کو دے دیا گیا تھا ۔۔۔۔ خاموشی سے اپنے کمرے کے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔ اور مین لائیٹ آن کر کے وہ بائیں طرف بنے باتھروم میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ اور سنک کے اوپر لگے بڑے سے شیشے میں خود کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ پھر نل کھول کر منہ ہاتھ دھونے لگا۔۔۔۔ پاس گول سلور اسٹینڈ سے چھوٹا سا تولیا اُٹھا کر منہ اس سے صاف کیا ۔۔۔۔۔ اور اپنی دائیں کلائی کی آستین کا بٹن کھول کر آستین اوپر کی تھی ۔۔۔۔ اور کہنی کے قریب سے اس اسکن کو ہٹایا تھا جو اس نے بڑی مہارت سے اپنے زخم کو چھپانے کے لئے لگایا تھا ۔۔۔۔ ایک پتلی سی جلدی ٹائیپ کی لجلجی سی چیز کہنی پر سے اتار کر سنک کے کاؤنٹر پر رکھی اور اپنے بازو کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔ جہاں ایک بڑے سے گہرے زخم کو گوند ٹائیپ اسٹچز سے بند کیا تھا ۔۔ ایسے کئی زخم اس کے پورے جسم پر موجود تھے ۔۔۔۔

×××××××××××××××××××××

کیا سوچ رہی ہو فاطمہ ۔۔۔۔

وہ سمندر کے کنارے کھڑی اپنی بیٹی کو کسی گہری سوچ میں کھوئے دیکھا تو پوچھا تھا ۔۔۔۔

کچھ نہیں مما حور ۔۔۔ کچھ بھی نہیں بس عائیشہ کا سوچ رہی ہوں ناجانے کہاں کس حال میں ہوگی ۔۔۔۔

ہمممم ۔۔۔ بیٹا یہی فکر مجھے بھی کھائے جا رہی ہے ۔۔۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ کراچی میں نہیں ہے ۔۔۔ کہیں اور طرف نکل گئی ہے ۔۔۔ ہمیں اسے ڈھونڈنے کے لئے کراچی سے باہر نکلنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔

میں بھی یہی سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔۔ اگر وہ یہاں ہوتی تو اب تک مل چکی ہوتی ۔۔۔۔۔ یا کچھ تو پتا چل ہی جاتا ۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔ وہ تمہارے والد کی طرح لگی تھی مجھے ۔۔۔ بہت جلد کسی بھی فیصلے پر پہنچ جانا اور پھر چاہے خود غلط ہی کیوں نہ ہو اس پر سختی سے قائم رہنا ۔۔۔

لیکن اگر وہ مل بھی گئی تو کیا وہ مجھے میرا مطلب ہے کیا وہ ہمیں قبول کر پائے گی ۔۔۔۔

یہ تو بعد کی بات ہے ۔۔۔۔ پہلے اسے مل جانے دو پھر سوچینگے کہ اس کی بدگمانیوں کو کیسے مٹایا جا سکتا ہے ۔۔۔

وہ بولیں تو فاطمہ بی بی ایک گہری سانس بھر کر رہ گئیں ۔۔۔۔۔۔

×××××××××××

باقی آئندہ ۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farah ejaz

Read More Articles by farah ejaz: 146 Articles with 151533 views »
My name is Farah Ejaz. I love to read and write novels and articles. Basically, I am from Karachi, but I live in the United States. .. View More
21 Dec, 2017 Views: 1101

Comments

آپ کی رائے
Very nice episode sister,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Dec, 24 2017
Reply Reply
0 Like
thanx Mini ... Jazak Allah Hu Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Dec, 24 2017
0 Like
nice epi her bar ke tarha or kafi long tha parh kar maza aya ,,, :)
By: Zeena, Lahore on Dec, 22 2017
Reply Reply
0 Like
shukriya and Jazak Allah Hu Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Dec, 22 2017
0 Like
مشکل راستے کے تمام کرداروں کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔ ہم نے اپنے تخیل کو لفظی پیراہن سے سجا کر آپ کے سامنے پیش کیا ہے ۔۔۔امید ہے کہانی آپ سب کو پسند آئے گی ۔۔۔اور اگر کہانی میں کوئی جھول دیکھیں تو ضرور آگاہ کریں ۔۔ شکریہ
By: farah ejaz, Karachi on Dec, 21 2017
Reply Reply
0 Like