شب قدر کو مخفی رکھنے کی حکمتیں!!!!!

(Abdul Ghaffar, )

اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزوں کو اپنی حکمتوں سے مخفی رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ کس عبادت سے راضی ہوتا ہے اس کو مخفی رکھا تاکہ بندہ تمام عبادات میں کوشش کرے۔ کس گناہ سے ناراض ہوتا ہے اس کو مخفی رکھا تاکہ بندہ ہر گناہ سے بعض رہے۔ ولی کی کوئی علامات مقرر نہیں کی اور اسے لوگوں کے درمیان مخفی رکھا تاکہ لوگ ولی کے شائبہ میں ہر انسان کی تعظیم کریں۔ قبولیت توبہ کو مخفی رکھا تاکہ بندے مسلسل توبہ کرتے رہیں۔ موت اور قیامت کے وقت کو مخفی رکھا تاکہ بندے ہر ساعت میں گناہوں سے باز رہیں اور نیکی کی جدوجہد میں مصروف رہیں۔ اسی طرح لیلتہ القدر کو مخفی رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ رمضان کی ہر رات کو لیلتہ القدر سمجھ کر اس کی تعظیم کریں اور اس کی ہر رات میں جاگ جاگ کر عبادت کریں۔

امام رازی تحریر فرماتے ہیں: اگر اللہ تعالیٰ اس رات کو معین کر کے بتا دیتا تو نیک لوگ تو اس رات میں جاگ کر عبادت کر کے ہزار ماہ کی عبادتوں کا اجر حاصل کر لیتے اور عادی گناہ گار اگر شامت نفس اور اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس رات بھی کوئی گناہ کر لیتا تو وہ ہزار ماہ کے گناہوں کی سزا کا مستحق ہو تا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مخفی رکھا تاکہ اگر کوئی عادی گنہگار اس رات بھی کوئی گناہ کر بیٹھے تو لیلتہ القدر سے لاعلمی کی بناء پر اس کے ذمہ لیلتہ القدر کی احترام شکنی اور ہزار ماہ کے گناہ لازم نہ آئین۔ کیونکہ علم کے باوجود گناہ کرنا لا علمی سے گناہ کرنے کی بہ نسبت زیادہ شدید ہے روایت ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہویے وہاں ایک شخص کو سوے ہویے دیکھا آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے وضو کیلئے اٹھا دو انھوں نے اٹھا دیا بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپ کو نیکی کرنے میں خود پہل کرتے ہیں آپ نے اس کو خود کیوں نہیں جگادیا؟ آپ نے فرمایا اگر میرے اٹھانے پر یہ انکار کر دیتا تو یہ کفر ہوتا اور تمھارے اٹھانے پر انکار کرنا کفر نہیں ہے تو میں نے تم کو اٹھانے کا اس لئے حکم دیا کہ اگر یہ انکار کر دے تو اس کا قصور کم ہو"،

غور کریں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گنہگاروں پر رحمت کا یہ حال ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کیا عالم ہوگا ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ آسان ہے کہ نیکو کار لیلتہ القدر کی جستجو میں رمضان کی متعدد راتیں جاگ کر کھنگال ڈالیں یہ بھی گوارا ہے کہ اس تلاش میں ان سے لیلتہ القدر چوک جائے لیکن یہ گوارہ نہیں ہے کہ لیلتہ القدر بتلا دینے سے کوئی گنہگار بندہ اپنے گناہ کی ہزار گُناہ زیادہ سزا پاے، اللہ! اللہ! وہ اپنے بندوں کا کتنا خیال رکھتا ہے، پھر گنہگار بندوں کا !

تیسری وجہ یہ ہے کہ جب لیلتہ القدر کا علم نہیں ہو گا اور بندے رمضان کی ہر رات کو لیلتہ القدر کے گمان میں جاگ کر گزاریں گے اور رمضان کی ہر رات میں عبادت کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماے گا اسی ابن آدم کے متعلق تم نے کہا تھا کہ یہ زمین کو خونریزی اور گناہوں سے بھر دے گا ابھی تو اس کو لیلتہ القدر کا قطعی علم نہیں ہے پھر بھی عبادت میں اس قدر کوشش کر رہا ہے اگر اسے لیلتہ القدر کا علم قطعی ہوتا کہ کون سی رات ہے پھر اس کی عبادتوں کا کیا عالم ہوتا،!
[شرح صحیح مسلم جلد٣
شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ]
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Ghaffar
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Dec, 2017 Views: 552

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ