اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں

(Malik Muhammad SHahbaz, )

نفسا نفسی کے اس دور میں آج ہر ایک صرف اور صرف اپنے آپ کے لیے فکرمند اور مصروف عمل دکھائی دیتا ہے اور یہ صورت حال اس قدر گھمبیر ہوچکی ہے کہ جیسے بھی بن پائے زیادہ سے زیادہ مال و متاع سمیٹ لیا جائے۔ حکومتی ایوانوں میں یا سیاست کے میدانوں میں نظر دوڑائی جائے ، کسی ادارے کے افسران بالا کا جائزہ لیا جائے یا کلیریکل سٹاف کی حرکات و سکنات پر غور کیا جائے، جائز و ناجائز کی پرواہ کیے بغیر ہر ایک کو اپنا پیٹ بھرنے کی فکر لاحق رہتی ہے خواہ کسی کا استحصال ہو رہا ہو یا کسی کا حق مارا جارہا ہوکسی کو کوئی پرواہ نہیں۔اخلاق حسنہ، محبت، مروت، اخلاص ، ایثاراور خدمت انسانیت جیسے اعمال حسنہ کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور صرف اور صرف نام کی مسلمانی رہ گئی ہے۔

تاریخ کے اوراق کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو صحابہ کرامؓ کی زندگی محبت، اخلاص ، ایثاراور خدمت انسانیت کے عملی واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد جب حضور اکرم ﷺ نے انصار و مہاجرین کو بھائی بھائی بنا دیا تو انصار نے عملی نمونہ کچھ یوں پیش کیا کہ نفع و نقصان کی پرواہ کیے بغیر اپنے مہاجر بھائی کو کاروبار میں برابر کا شریک کرلیا اور اس سے بڑھ کر ایثار و قربانی کی بھلا اور کیا مثال ہوگی کہ جس کے نکاح میں دو بیویاں تھیں ایک بیوی کو طلاق دے کر مہاجر بھائی سے نکاح کروادیا۔ایک اور واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ایک صحابی ؓ کو مہمان گھر لے جانے کا حکم دیا تو بغیر کسی سوچ بچار کے آپ ﷺ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے مہمان کو گھر لے گیا۔گھر میں میں کھانا صرف ایک آدمی کا تھا تو کھانے کے دوران چراغ کو بہانے سے بجھا دیا گیا تاکہ مہمان کی مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ رہ جائے اور وہ پیٹ بھر کر کھانا کھالے۔بھوکے کو کھانا کھلانا ، کسی نابینا کو سڑک پار کروانا ، بیمار کی تیمار داری کرنا ، کسی بے کس و بے آسرا کی مالی مدد کرنا عظیم اعمال حسنہ ہیں جو انسان کو اوج ِ کمال تک لے جاتے ہیں اور اﷲ کے ہاں مقام عالیشان کے حصول میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

آج کل جہاں ایک طرف مال و متاع سمیٹنے کی دوڑ میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہمہ تن مصروف عمل دکھائی دیتا ہے وہاں کچھ ایسے انمول ہیرے بھی موجود ہیں کہ جنہوں نے خدمت انسانیت کو اوڑھنا ، بچھونا بنایا ہوا ہے اورلیل ونہار ، موسمی تغیر و تبدل کی پرواہ کیے بغیر خدمت انسانیت کے مشن کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھ کر نت نئے فلاحی منصوبہ جات کا قیام عمل میں لا رہے ہیں۔ کسی مالی فائدے کا لالچ دل میں لائے بغیر دکھی انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنے میں خود کو پیش کر دینے والے انمول ہیرے محمد اقبال خان منج کی شکل میں موجود ہیں جو کہ دن رات بے یار و مددگار انسانیت کی مدد میں معاون ہونے کی کوششوں میں ہمہ تن مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں ۔کوشش ویلفیئر ٹرسٹ کے نام سے محمد اقبال خان کا لگایا ہوا پودانشو نما کے مراحل طے کرتا ہوا تناور درخت بن چکا ہے اور اس کی شاخیں رائیونڈ سے قصور اور مصطفی آباد ( للیانی) تک پھیل چکی ہیں۔نو سال قبل گنتی کے چند افراد نے اس مشن عظیم کی بنیاد رکھی اور آج اس سفر میں سینکڑوں مسافر پرواز بھرکر ہم راہی ہم جولی بن کر اس عظیم مشن'' خدمت انسانیت ـ " کو آگے بڑھانے میں معاونت کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں رائیونڈ کے بعد قصور اور مصطفی آباد ( للیانی )میں برانچز فعال ہو چکی ہیں جہاں ذاتی تشہیر اور ہر قسم کی سیاست سے بالا ترہوکرمستحق و لاچار علاقہ مکینوں کو ایمبولینس ، صاف پانی ، لائبریری ، بچیوں کی شادیوں میں معاونت ،سلائی مشینیں ، ویل چیئرز اور علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ غریب و یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت جیسے اعمال سرانجام دیئے جا رہے ہیں۔سترہ دسمبر بروزاتوارعلاقہ بھر سے غریب و لاچار مریضوں کوعلاج معالجہ کی غرض سے ہسپتال پہنچانے کے لیے ایمبولینس کے تحفے کے ساتھ مصطفی آباد ( للیانی) میں کوشش ویلفیئر ٹرسٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔افتتاحی تقریب میں دنیائے ادب کے معتبر نام بابا جی اشفاق احمد اور راجہ گدھ کی خالق بانو قدسیہ آپا کے چشم و چراغ پروفیسر ڈاکٹر انیق احمد ، سینئر صحافی و تجزیہ نگار حافظ شفیق الرحمن ، ریڈیو سے وابستہ ریاض محمود ، ٹی وی و فلم ایکٹر نور الحسن ، دی عالم ٹرسٹ کی بانی و منتظم فرح عالم دیبا ، کرنل(ر) عدیل ، نامور کوئن کولیکٹر شکیل احمد ، معروف کالم نگار و دانشور مرزا محمد یسین بیگ و ظفر اقبال ظفر ، معروف شاعر الطاف ضامن چیمہ و میاں محمد جمیل ، آصف مبارک ، ممتاز غزنی اور راقم سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

دکھی انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنا اور لاچار و بے سہارا افراد کا دست و بازو بننایقینا بہت بڑی نیکی ہے اور یہ کام صرف اور صرف کوشش ویلفیئر ٹرسٹ کا ہی نہیں ہے بلکہ مجھ سمیت آپ سب پر لازم و ملزوم ہے اور اس نیک کام میں ہمیں ہر گز پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ اس ضمن میں ہمیں لوگوں کی طعن و تشنیع کی پرواہ کیے بغیر خلوص نیت سے رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر خدمت انسانیت کو اپنا مقصد حیات بنالینا چاہیے کیونکہ ۔۔۔
اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ملک محمد شہباز
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Muhammad SHahbaz

Read More Articles by Malik Muhammad SHahbaz: 54 Articles with 25051 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Dec, 2017 Views: 457

Comments

آپ کی رائے