کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ: ناقص تعمیر، کمزور نگرانی اور قومی وسائل کے ضیاع کی ایک اور مثال


کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، جسے 40 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ایک اہم توانائی منصوبہ قرار دیا گیا تھا، آج خود سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف تکنیکی خرابی کا شکار ہوا بلکہ اس نے پاکستان میں سرکاری ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی، نگرانی اور شفافیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگست میں باقاعدہ طور پر شروع ہونے والا یہ منصوبہ چند ہی ماہ میں اس نہج پر پہنچ گیا کہ اس کا پیداواری یونٹ بند کرنا پڑا، جس کی بنیادی وجہ ناقص تعمیر اور دو اہم واٹر کھوٹیوں کا بیٹھ جانا بتائی جا رہی ہے۔

یہ منصوبہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں شروع کیا گیا تھا اور اس وقت اسے توانائی بحران کے حل کی جانب ایک مثبت قدم کے طور پر پیش کیا گیا۔ حکومتی دعووں کے مطابق کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے نہ صرف مقامی آبادی کو بجلی کی بہتر فراہمی ممکن بننی تھی بلکہ قومی گرڈ پر بھی دباو¿ کم ہونا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور ماحول دوست بجلی پیدا کرنے کی پالیسی کا حصہ بھی تھا۔ مگر عملی صورتحال ان تمام دعووں کے برعکس سامنے آئی۔

ہائیڈرو پاور منصوبوں میں واٹر انٹیک اسٹرکچرز یا واٹر کھوٹیاں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے دریا کا پانی موڑ کر ٹربائن تک پہنچایا جاتا ہے۔ کوٹو منصوبے میں انہی دو واٹر کھوٹیوں کا بیٹھ جانا اس بات کی واضح علامت ہے کہ یا تو ابتدائی جیولوجیکل سروے درست نہیں کیا گیا یا تعمیر کے دوران معیار پر شدید سمجھوتہ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر مٹی، چٹانوں اور پانی کے دباو¿ کا درست اندازہ نہ لگایا جائے تو ایسے منصوبے شروع ہی سے خطرے میں ہوتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واٹر کھوٹیوں کے بیٹھنے کے بعد پانی کے بہاو میں عدم توازن پیدا ہوا، جس سے ٹربائن اور دیگر حساس مشینری کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ گیا۔ نتیجتاً مزید مالی اور تکنیکی نقصان سے بچنے کے لیے پیداواری یونٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر منصوبہ اگست میں شروع ہوا تھا تو اتنے کم عرصے میں ایسی سنگین خرابی کیسے سامنے آ گئی؟ کیا منصوبے سے قبل مکمل فزیبلٹی اسٹڈی کی گئی تھی؟ کیا جیولوجیکل اور ہائیڈرولوجیکل رپورٹس محض فائلوں کی حد تک محدود تھیں؟

یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ 40 میگاواٹ کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر اربوں روپے لاگت آتی ہے۔ جب ایسا منصوبہ چند ماہ میں ہی بند ہو جائے تو اس کا براہِ راست بوجھ قومی خزانے پر پڑتا ہے۔ نہ صرف بجلی کی متوقع پیداوار رک جاتی ہے بلکہ مرمت، دوبارہ تعمیر اور تکنیکی جائزوں پر مزید اخراجات بھی سامنے آتے ہیں۔ اس دوران عوام کو نہ بجلی ملتی ہے اور نہ ہی وہ معاشی فوائد جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔

کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی ناکامی نے نگرانی اور احتساب کے نظام کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تعمیر کے دوران کنٹریکٹر کی کارکردگی پر کس نے نظر رکھی؟ کیا کسی آزاد تھرڈ پارٹی نے تعمیراتی معیار کا معائنہ کیا؟ یا پھر روایتی طور پر فائلوں میں سب کچھ درست دکھا کر عملی خامیوں کو نظرانداز کیا گیا؟ اگر نگرانی کا نظام مضبوط ہوتا تو شاید یہ خرابی ابتدائی مراحل میں ہی سامنے آ جاتی اور اتنے بڑے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

پاکستان میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی ہائیڈرو پاور منصوبے میں اس نوعیت کی خامیاں سامنے آئی ہوں۔ ماضی میں بھی کئی منصوبے ناقص منصوبہ بندی، سیاسی دباو اور جلد بازی کی نذر ہو چکے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ منصوبوں کا اعلان تو بڑے جوش و خروش سے کیا جاتا ہے مگر زمینی حقائق، تکنیکی تقاضوں اور ماحولیاتی اثرات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ منصوبے یا تو تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر مکمل ہونے کے فوراً بعد مسائل پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

کوٹو منصوبے کے معاملے میں ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ابھی تک کسی ذمہ دار کا تعین سامنے نہیں آیا۔ نہ کنٹریکٹر کے خلاف کوئی واضح کارروائی کی اطلاع ہے اور نہ ہی ان افسران کے بارے میں کوئی جواب دہی نظر آتی ہے جنہوں نے منصوبے کی منظوری دی یا نگرانی کی۔ یہ خاموشی اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ شاید اس معاملے کو بھی وقت کے ساتھ دبا دیا جائے گا، جیسا کہ ماضی میں کئی منصوبوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

مقامی آبادی کے لیے یہ منصوبہ امید کی ایک کرن تھا۔ علاقے کے لوگوں کو توقع تھی کہ بجلی کی دستیابی بہتر ہوگی، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ مگر پیداواری یونٹ کی بندش نے ان تمام امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ عوام میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ اگر منصوبہ دوبارہ فعال نہ ہو سکا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا اور نقصان کی تلافی کیسے کی جائے گی؟

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے معاملے میں محض عارضی مرمت یا بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک آزاد اور غیرجانبدار تکنیکی فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ اس آڈٹ میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ خرابی کی اصل وجہ کیا تھی، کس مرحلے پر غفلت یا بدانتظامی ہوئی اور کس نے اس کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی آڈٹ بھی ناگزیر ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عوام کے پیسے کہاں اور کیسے خرچ ہوئے۔

کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دراصل پاکستان کے ترقیاتی نظام کے لیے ایک وارننگ ہے۔ اگر منصوبہ بندی، شفافیت اور احتساب کے بغیر اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے جاتے رہے تو نہ صرف قومی وسائل ضائع ہوں گے بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی ختم ہوتا چلا جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے منصوبوں کو سیاسی نعروں کے بجائے تکنیکی بنیادوں پر پرکھا جائے اور ہر سطح پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بندش محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظامی ناکامی کی علامت ہے۔ اگر اس معاملے سے سبق نہ سیکھا گیا تو آنے والے برسوں میں ایسے مزید منصوبے بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتے ہیں، اور اس کی قیمت ایک بار پھر عوام کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 911 Articles with 725478 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More