بچپن اور مزدوری

(Ramsha Anjum, karachi)

بچے جو کسی ملک کا مستقبل ، سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں جب حالات سے مجبور ہو کر کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو یقیننًا اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتا ہے ۔
تکالیف مصائب حالات کی سختیاں معصوم ننَھے تاروں کو بچپن میں ہی محبوس کر دیتی ہیں ۔ برے وقت کی غرقات لہریں ان کے ہاتھوں میں سے کتابیں چھین کر ان معصوموں کے ہاتھوں میں کبھی بیلچے تھمادیتی ہے کبھی بندوقیں نرم و نازک نحیف جسم کو مزدوری کا تحفہ دے دیا جاتا ہے۔ کھیل کود اور بچپن کی رنگوں سے محروم ان معصوم بچوں کو دھوپ کی شدَت گرم ہوا کی تھپیڑے انکی قسمت بن جاتی ہے۔بھوک و افلاس کے شکار یہ معصوم نہ چاہتے ہوئے بھی مزدوری کے آگ میں دھکیل دئے جاتے ہیں جہاں انکی غربت اور بھوک کا تماشہ بنا دیا جاتا ہے ۔
ذندگی کیا کسی مفلس کی قباء ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

اپنے شوق پورے کرنے کی عمر میں انہیں والدین کا اور اپنا پیٹ بھرنے کی فکر ستاتی ہے اپنے پیاروں کی آرزؤں کو پائیہ تکمیل تک پہچانے ، چھتوں سے ٹپکتے پانی کا خیال ، بے روزگاری ، سماج میں گھٹتے وقار کا احساس یہ تمام سوچیں اور فکرات ان بچوں کو راہ سےبھٹکانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اپنی مرضی سے اگر انہیں جینے کا موقہ ملتا تو نہ یہ بچے چور بنتے نہ کسی سنگین گناہ کے حصَے دار، حالات کی سختی پیٹ کی بھوک اور اپنوں کی تکلیف ہی اصل وجہ ہوتی ہے ،

مزدور جیسا کوئی دربدر نہیں
جس نے سب کے گھر بنائے اور اپنا گھر نہیں

کس قدر بے درد ہے عمال سرکاری نہ پوچھ
بات کرنے میں ہے ان سے کتنی دشواری نہ پوچھ
ان کے دروازوں پر ہے کیا ذلَت و خواری نہ پوچھ
ان کا شیوہ ہے مردم آزاری نہ پوچھ

کیا خوب ان اشعار میں معاشرے کی حقائق کو نظم کیا گیا ہے ۔ جو ہمارےسماج کی تلخ حقیقت ہے ، جسے آج اکیسویں صدی کا انسان بھی بھگت رہا ہے ، سرمائہ دارانہ نظام کی موت کے بعد اشتراکی نظام کی حکمرانی کے بعد جمہوری نظام کی کارفرماء کے باوجود آج بھی یہ طرزَِ عمل ذندہ ہے ۔
تم کیا جانو کتنی سخت دشواری میں لوگ
شام کو کیسے سحر کرتے ہیں ناداری میں لوگ

چائلڈ لیبر کی زیادہ تر وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں وسائل ناکافی ہیں ۔ اسی طرح سے پاکستان میں بڑھتی مہنگائی اور عوام کی بے شعوری بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ گورنمنٹ نے یہ اعلان تو کر دیا کہ تعلیم سب کے لئے ہے اور مفت کتابیں دے کر یہ ثابت بھی کر دیا کہ حکومت ان لوگوں کے لیۓ سوچ رہی ہے جو ابھی نادان ہیں کم عمر ہیں ۔ جنکی آنکھوں کے خواب عرصہ ہوئے مرچکے ہیں ۔ لیکن ان معصوم بچوں کے ذہن پر جو بھوک اور بدحالی کا جو خوف سوار ہے ۔ اسے کم کون کریگا،( آئی ایل او) بیشک جانتی ہو کہ کم عمر بچے کن کو کہا جاتا ہے ، لیکن یہ بچے کم عمر تو نہیں ہیں یہ پختہ ذہن رکھنے والے اور سخت اور کھردرے ہاتھوں والے بچے پاکستان کا وہ مستقبل ہیں جو آنے والے وقت میں نہ جانے کیا کروٹ لیگا اسکا اندازہ تو قبل ازوقت بھی لگایا نہیں جا سکتا ۔ "بول" جیسی موویز پاکستان میں انٹرٹینمنٹ تو فراہم کرسکتی ہیں لیکن کاش وہ ان ذہنوں کو جڑسے بھی کاٹ سکیں جو اس خیال کے پروردہ ہیں ۔ اس سے بہتر تو یہی تھا کہ زمانہ جاہلیت کی طرح بچوں کو زمین کی گود میں اتار دیا جاتا ۔ کم ازکم پھول بیچنے والے یہ ہاتھ کانٹوں سے زخمی تو نہ ہوتے ۔ پڑھنے لکھنے والے یہ ہاتھ کبھی سخت جان اور کھردرے نہ ہوتے ۔

میرے حصَے میں کتابیں نہ کھلونے آۓ
خواہشِ رزق نے چھینا میرا بچپن مجھ سے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ramsha Anjum

Read More Articles by Ramsha Anjum: 4 Articles with 2980 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2017 Views: 182

Comments

آپ کی رائے