الوداع2017 مرحبا2018ء

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

2017ء رخصت ہوا ،چند لمحات قبل سال نو کا آغاز ہوا۔ جانے والے کو خدا حافظ اور آنے والے کو مرحبا ، خیر سے آئے، برکتیں اور خوشیاں لائے، پریشانیوں سے محفوظ رکھے، بیماروں کو شفاء ملے، بے روزگاروں کو روزگار، مشکل میں گرفتاروں کی مشکل ہو دور۔ مسلمان کی حیثیت سے ہمارا نیا سال یعنی اولین مہینہ تو محرم الحرام ہے جب کہ آخری مہینہ ذولحجۂ کا مہینہ ہے۔ یعنی ہماری ابتدا قربانی اور انتہا قربانی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان قائم تو ہوا اسلام کے نام پر لیکن بہت سے معاملات میں اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں ہوتا ان میں سے ایک ماہ و سال بھی ہیں۔ یہاں انگریزی مہینوں اور تاریخوں کے مطابق عمل ہوتا ہے۔ بمشکل تمام جمعہ کی چھٹی بھٹو صاحب نے کردی تھی لیکن حکومتوں نے کچھ اور تو نہ کیا اس اسلامی کام کو دوبارہ جمعہ کے بجائے اتوار مقرر کردیا دلیل یہ دی گئی کہ پوری دنیا اتوار کو بند اور جمعہ کو جاگ رہی ہوتی ہے تو ہم جمعہ کو کیسے سوجائیں ۔ ملک کا نقصان ہوتا ہے ، دنیا جاگ رہی ہوتی ہے بھلا پاکستانی قوم اس دن کیسے سوتی رہے وغیرہ وغیرہ ۔ سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک میں جمعہ کی چھٹی ہوتی ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی منطق اپنی الگ ہی ہے۔ اسلامی سال اور اول مہینے کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے اسے کوئی کم نہیں کرسکتا ، بے شمار کام ہم چاند دیکھ کر ہی کرتے ہیں حج کا دن مقررہے، قربانی کا دن متعین، رمضان کے روزے رکھتے ہیں چاند دیکھ کر اسی طرح بہت سے کام چاند دیکھ کر ہی کر رہے ہوتے ہیں لیکن زیادہ کام انگریزی مہینوں اور دنوں کے اعتبار سے ہورہا ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات اجرت یعنی تنخواہ ملتی ہے انگریزی مہینے کے ختم ہونے کے بعد ، چھٹی کے معاملے ہماری قوم خود کفیل ہے یعنی اسلامی تہوار ہو تب چھٹی انگریزی مہینوں میں کوئی تہوار ہو تب چھٹی ،اس لیے ہماری زندگی میں انگریزی مہینے اور دنوں کا عمل دخل زیادہ ہے۔گزرے سال کے لیے دعائے خیر اور نئے آنے والے کو خوش آمدید البتہ سال گزشتہ کا احتساب ضروری ہے ، ویسے بھی یہ سال بہت سی باتوں میں ہمیشہ یادرکھا جائے گا خاص طور پر احتساب کے حوالے سے یہ بہت سوں کو بہت یاد ہی نہیں آئے گا بلکہ خون کے آنسو رلائے گا۔ شریف خاندان پر یہ بہت بھاری رہا۔ویسے تو سال گزشتہ میں پاکستان کی عدالتوں نے 56 ہزار 374 فوجداری مقدمات کے فیصلے سنائے لیکن پاناما کیس کا فیصلہ سب پر سبقت لے گیا، مجھے کیوں نکالا ؟ عزت گئی، کرسی گئی، بیوی بیمار ہوگئی ، بیٹوں کو عدالت نے اشتہاری قراردے دیا بیٹی پر مقدمہ، داماد عدالت میں، سمدھی جی بیمار لندن میں ہائے رے2017ء تیرا بیڑا غرق تیسری مرتبہ وزارت اعظمیٰ پر براجمان رہنے والے میاں نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر ، بیٹے کی کمپنی میں ملازم لیکن تنخواہ نہ لینے پر نکالا ۔ یہ سب کچھ اسی 2017ء میں تو ہوا ، آخر یاد تو آئے گا۔ دھرنوں کے حوالے سے اس سال نے نئی تاریخ رقم کی ، 126دنوں کا صرف ایک دھرنا ، جس نے حکومت کی کرسی کو ہلا کر رکھ دیا ، چھوٹے موٹے دھرنے، جلسے، ریلیا ں اپنی جگہ آخری دل کو دھلا دینے والا فیض آباد کا دھرناکم تاریخی نہیں تھا جس نے پاکستانیوں کو خوف زدہ کردیا تھا اگر طاقت ور ادارے اس دھرنے میں لفافے نہ بانٹتے ، بیچ بچاؤ پر عمل کرنے کو یقینی نہ بنا تے ، نہیں معلوم وہ آگ پاکستان کو کس قدر نقصان پہنچادیتی۔سب کچھ چھوڑیں ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کو کون بھول سکتا ہے۔ اقتدار چلا گیا، پنچاب میں باقی ہے لیکن ماڈل ٹاؤن کے شہید وں کے خون کا حساب ہونا باقی ہے، یہ بھی ایک تلوار ہے جو باقی ماندہ شریف خاندان کے اقتدار پر لٹک رہی ہے۔

سال جو بیت گیا اس کا پوسٹ مارٹم تحقیقاتی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز(پکس) نے پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی اس سال بڑھی ،23 خود کش حملے ہوئے جب کہ اس سے پہلے کے سالوں میں کم ہوئے تھے ، 58 5 شہری ،247اہلکار شہید اور555جنگجو ں کو ہلاک کیا گیا،پختونخواہ میں صورت حال بہتر ، بلوچستان میں ابتری برقرار رہی ، فاٹا میں اغوا کے واقعات بڑھے، گلگت بلتستان میں کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ کہتے ہیں کہ سال گزشتہ پاکستانی روپے کے لیے تیزی کا سال رہا، امریکی ڈالر کے اوپن مارکیٹ میں ڈھائی روپے کا اضافہ ہوا ، ڈالر کی اس بڑھتی ہوئی قدر پاکستان میں مہنگائی کا باعث بنی اور مہنگائی کی شرح پانچ فیصد سے زائد کے اضافے کا سبب بنی، یورو کی قدر میں زیادہ اضافہ ہوا جو18.25تھا، روپے کو استحکام بھی ملا جس کا سبب پاکستان کا اسٹیٹ بن تھا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ جس میں ہمارے منتخب نمائندوں کا بنیادی کام قوانین بنا نا ہے قومی اسمبلی کے گیارہ اجلاسوں کے 87دن کاروائی چلی ، نواز شریف تو نہ اہل ہی ہوگئے اس لیے ان کی موجودگی کو چھوڑ دیتے ہیں، ملک کی تیسری بڑی جماعت کے متحرک لیڈر، جنہیں تبدیلی خان بھی کہا جاتا ہے اپنی سیاسی مصروفیات میں اس قدر مصروف رہے کہ انہوں نے ایک اجلاس میں بھی شرکت مناسب نہ جانی، نہیں معلوم کیوں، اب انہیں ان دنوں کی مزدوری ملی یا نہیں ، کوئی اور تحقیق کر کے بتا سکتا ہے ، میرے ذرائع ایسے نہیں۔ دیگر کی کیا بات کریں، سیاست دانوں کا مرکز لندن ، کبھی دبئی اور اب سعودی عرب بنا ہوا ہے۔ کسی بھلے لکھاری نے لکھا کہ دارالخلافہ کو اسلام آباد سے لندن منتقل کر دیا جائے ، اب کون سا شہر آگے ہے لندن، دبئی یا سعودی عرب ، وقت فیصلہ کرے گا۔سال گزشتہ نے سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ نقصان ایم کیوں ایم کو پہنچایا ، وجہ صاف ظاہر ہے، گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ، یہاں تو گھر کے مالک نے از خود ماچس لگائی ، پھر گھر تو برباد ہونا ہی تھا۔ اپنے تو اپنے سب تیار بیٹھے تھے بوٹیاں بنانے کو ، اور وہی ہوا حصے بکرے ایسے ہوئے کہ سلسلہ تھم کے ہی نہیں دے رہا ۔ اس نے تو مسلم لیگ کا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔ چلیے سال گزشتہ کا ماتم بہت ہوگیا، کچھ اچھا بھی کیا ہوگا اس غریب نے ، شاہد خاقان عباسی کی لاٹری نکل آئی، نا اہل شریف نے اپنے اردگرد موجود ہیروں میں سے چھانٹ کے ایک ہیرا پسند کیا اور مسند اقتدار پر بٹھا دیا، پر اس کی نکیل اپنے ہی ہاتھ میں رکھی، کہیں ادھر ادھر نہ جائے، کچھ نواز شریف کے درباری جنہوں نے کپتان کی خوب خبر لی تھی ، جو کچھ منہ میں آیا کہا تھا، آخر ان کا بھی تو حق بنتا تھا ، انہیں وزارتیں ملیں، سندھ اور خیبر پختون خواہ کی گورنری ملی،بہتی گنگا ہے ، لوٹے جاؤ ، لیکن احتساب کا دن قدرت کی طرف سے مقرر ہے، نصیحت ہوجانی چاہیے نواز شریف کی نا اہلی سے، کہ بڑے سے بڑے اقتدار کا سورج غروب ہوسکتا ہے۔ بات کپتان کی درست ہے کہ نواز شریف تم درست کہتے ہو کہ تمہارے خلاف فیصلے کوئی طاقت کرارہی ہے ، واقعی یہ سب کچھ کوئی طاقت کرارہی ہے اور وہ طاقت ہے اللہ کی ۔ تمہیں اللہ کی طرف سے سزا ملی اور اب بھی مل رہی ہے۔ لیکن ہم پھر بھی نہیں سدھرتے، پھر بھی راہے راست پر نہیں آتے، جب آنکھوں پر اقتدار کی پٹی بندھ جائے تو پھر کچھ نظر نہیں آتا، نہ عزت، نہ جائیدار، نہ بیوی،نہ بیٹے ، نہ بیٹی، نہ داماد ، نہ سمدھی۔ یہ ایسی ظالم چیز ہے اقتدار یہ اپنے آپ کو بھی بھلادیتی ہے۔ اس حوالے سے آخری بات اپنی برادری یعنی صحافیوں کے حوالے سے کہ سال گزشتہ میں 81 صحافی دوران فرائض اپنی جان سے گئے ان میں آٹھ خواتین صحافی بھی شامل ہیں، میری ایک اور برادری علم و ادب سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ہے ، میں گزشتہ دو سالوں سے دسمبر کے اختتام پر ’’اداس پاکستان ‘‘ کے عنوان سے ان ادیبوں، شاعروں ، قلم کاروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس سال کے دوران اس نیا سے رخصت ہوتے ہیں، یہ سلسلہ اداس پاکستان2015، اداس پاکستان2016اور اب اداس پاکستان 2017کے عنوان سے آن لائن ہوچکا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق علم65علمی و ادبی شخصیات اللہ کو پیاری ہوئیں ۔ ان معروف شخصیات میں رخسانہ نور،جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی،شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان،بانوقدسیہ،حمیدہ کھوڑو،پروفیسر محمد طفیل (گوہر ملسیانی) ادیب سہیل ( سید محمد ظہور الحق)،مختار مسعود،فرزانہ ناز،شریف الدین پیر زادہ،پروفیسر ڈاکٹر فرید الدین بقائی،حسن اکبر کمال،سید انور محمود،محمد
ابراہیم جویو اور مسعود احمد برکاتی شامل ہیں۔

اپنی ذات کی بات کروں تو2017ء ہمارے لیے خوشیاں بھی لایا اور غم بھی چھوڑ گیا۔ میرا بہت ہی عزیز ترین دوست عبد الصمد انصاری مجھ سے جدا ہوگیا، میرے چچا مغیث احمد صمدانی، میرے دوست عبدالوہاب خان سلیم جو امریکہ میں مقیم تھے جدا ہوگئے۔ اسی طرح میرے عزیز دوست کالم نگار سید انور محمود دنیا سے رخصت ہوئے ،جاتے جاتے مسعوداحمد برکاتی صاحب کو بھی دسمبراپنے ساتھ لے گیا۔ مضامین اور کالم لکھنے کے حوالے سے سال گزشتہ میرے لیے بڑا زرخیز ثابت ہواجنوری 17کا پہلا کالم مخدوم جاوید ہاشمی اور عمران خان کے بارے میں تھا ۔ اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا ، کل مضامین اور کالم کی تعداد 120رہی گویا 10مضامین و کالم فی مہینہ ، دیکھا جائے تو فارغ آدمی کے لیے یہ تعداد کم ہے ، میرے موضات ملک کی سیاست ، عالمی حالات اور سیاست، معاشرتی مسائل کے علاوہ شخصیات اوکتابوں کا تحقیقی مطالعہ شامل ہے۔ اس سال جن شخصیات پر مضامین لکھے ان میں سعادت حسن منٹو،آزادؔ بیکانیری، بانو قدسیہ، مرزاغالبؔ ، کرامتؔ بخاری ،جوشؔ ملیح آبادی،پروفیسر آفاق احمد بھوپالی، ڈاکٹر محمود حسین،تابشؔ صمدانی، تنویر کاظمی،عبدالصمد انصاری،بابائے اردو مولوی عبد الحق،جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ ، احمد فرازؔ ،عبدالوہاب خان سلیم ، سرسید احمد خان، محمد ابراہیم جو یو، ڈاکٹر خلیق انجم،سید انور محمود ،کمال احمد رضوی،مغیث صمدانی اور مسعود احمد برکاتی شامل ہیں۔ہم سرکاری طور پر تو ریٹائر ہوگئے لیکن کہتے ہیں کہ استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا ، سو یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہے، کالج سے فارغ ہوئے سرگودھا یونیورسٹی ، وہاں سے کچھ فارغ وقت سعودی عرب میں گزارا ، واپس آئے 2012ء میں تو لاہور کی منہاج یونیورسٹی میں پروفیسر ہوگئے، صدر شعبہ بھی، اب ہمارے لیے کراچی سے لاہور میں رہنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے ، کئی بار کہہ چکے اب ہمیں رخصت کر دیں پر منہاج یونیورسٹی کے احباب کی محبت کے آگے ہم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، کبھی کبھار جاتے ہیں، دسمبر میں ایک ہفتہ لاہور میں گزرا ، بس کیا بتائیں کس قدر احباب نے عزت افزائی کی ، کہاں کہاں نہیں گئے۔ مصروفیات کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ، میڈیا ان مصروفیات کا گواہ ہے۔

میں’ ہماری ویب رائیٹرز کلب ‘کا صدر بھی ہوں ۔ اس اعتبار سے کچھ علمی و ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی میرے معمولات کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے آخری علمی و ادبی پروگرام ایک روزہ ورکشاپ تھا جو 31دسمبر کو منعقد ہوا جس میں علمی ، ادبی اور صحافت کے شعبے سے احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی، ورکشاپ کا بنیادی مقصد لکھنے والوں خاص طور پر نئے لکھنے والوں کو سوشل میڈیا پر لکھنے کی ترغیب دینا تھا۔ ورکشاپ کا موضوع تھا ’’سوشل میڈیا وقت کی ضرورت‘‘۔سالِ گزشتہ اس اعتبار سے میرے لیے اچھا تھا کہ کراچی کے ایک سہ ماہی ادبی جریدے ’’سلسلہ ‘‘ نے میرے ’’فن و شخصیت ‘‘ پر خصو صی شمارہ شائع کیا ۔ جس میں میری تحریروں کے علاوہ مختلف علمی و ادبی اور صحافت سے تعلق رکھنے والے احباب نے میرے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ یہ کتاب بھی اس ورکشاپ میں دوستوں کی نظر کی گئی۔ گویا سال کا آخری دن کتاب کے ساتھ گزرااور سال نو کی صبح ہوئی تو آنکھ کھلتے ہی دروازے پر جو دستک ہوئی تو ایک صاحب نے دو کتابیں بیگم کو دھمادیں اور خاموشی سے چلے گئے۔ جب وہ جاچکے تو بیگم نے ہمیں اٹھا یا کہ کوئی صاحب آئے تھے یہ کتابیں دے گئے ۔ کتابیں دیکھیں تو یہ جرمنی میں مقیم دوست پاکستانی شاعر و ادیب سرور غزالی صاحب کی کتابیں تھیں ۔ایک ناول ’’دوسری ہجرت‘‘ اور افسانوں کا مجموعہ ’’بھیگے پل ‘‘۔ کتابیں بطور تحفہ بھیجنے کی بات سرور صاحب کر چکے تھے۔ جو صاحب کتابیں دے گئے ان کا سیل نمبر لکھا تھا ہم نے انہیں فوری فون کیا ، کہا کہ آپ اس قدر خاموشی سے آئے اور واپسی کی جلدی کی ، ہمیں شرمندگی ہے کہ آپ نے زحمت کی اور ہم آپ کو ایک کب چائے بھی نہ پلا سکے خیر انہوں نے فرمایا کہ انہیں جلدی تھی ۔ اس بات کو ہم اپنے ایک نوجوان دوست محمد ارشد قریشی کے اس کمنٹ پر ختم کرتے جو انہوں نے کتابوں کا تحفہ مو صول ہونے کی خبر پر فیس بک پر دیا کہ ‘‘سال کی انتہا کتاب سے اور سال کی ابتدا کتاب سے ، واہ ماشا ء اللہ ‘‘۔ تو ہماری تو سال گزشتہ کی انتہا کتاب سے ہوئی اور اب سالِ نو کی ابتدا کتاب سے ہوئی ہے اس لیے ہم آنے والے مہمان سے بہت پر امید ہیں۔

2018 جو 12ماہ یعنی365دن ہمارا مہمان رہے گا۔ اگر اس نے سابقہ مہمانوں کی پیروی کی، ان کی طرف دیکھتا رہا تو پھر وہی کچھ ہوگا جو ماضی میں ہوتا رہا ، ممکن ہے اور ہماری دعا بھی ہے کہ یہ سابقہ مہمانوں سے مختلف ہو، اس کے ارادے نیک اور سوچ مثبت ہو، یہ نیکیوں کا پرستار ہو برائیوں سے نفرت کرتا ہو ، امن کا داعی ہو، جنگ سے نفرت کرتا ہو ۔ تابشؔ صمدانی کے بڑے بیٹے رہبر صمدانی ، شاعر باپ کے شاعر بیٹے ہیں ، میرے کزن ہوتے ہیں انہوں نے سالِ نو کا پہلا شعر فیس بک پر لکھا وہ وکچھ اس طرح ہے ؂
کہا ہے ہاتھ میرا دیکھ کر نجومی نے
قدم قدم پہ مسلسل سراب آئے گا

رہبر ؔ کے شعر میں نا امیدی کی جھلک دکھائی دے رہی ہے، خدشات کاا ظہار ہے ، ایک اور شاعر نے اپنے شعر میں حوصلہ افزا بات کی ہے ؂
چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں
دیوار سے پرانا کلینڈر اُتاردے

نا امیدی تو مشکل کو مشکل تر کیفیت میں بدل دیتی ہے اس لیے ہمیں اچھی امید رکھنی چاہیے۔ پاکستا ن وہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام سے قائم ہوا، اللہ کی رحمت و خصو صی عنایت اس ملک پر اس ملک کے عوام پر رہیں ہیں اور انشاء اللہ جاری و ساری رہیں گی۔ ہمیں اچھی امید رکھنی چاہیے۔ میری بھتیجی دردانہ عارف نے ایک پیغام بھیجا ممکن ہے اسے کسی اور نے بھیجا ہو ، پر اچھا ہے ’’ دسمبر اب کے جانا تو دلوں کے میل، حسد کی آگ،بری نظریں ، گھٹن اور بدگمانی سب تم اپنے ساتھ لے جانا ، جہاں تم ڈوبتے ہونا وہیں ان کو بھی دفنا دینا، تم تحفے تو بھیجو گے ؟ جنوری کے ہاتھوں؟ محبت بے تحاشا سی خلوص و گرم جوشی بھی، بے غرض ناطے، گہرے تعلق اور نرم سے دل جو سب کے لیے دھڑکتے ہوں بھجوادینا‘‘۔ اسی قسم کا اظہار ادب کی چاشنی لیے سعودی عرب میں مقیم حبیبہ طلعت نے کیا ‘‘وہ دھڑکتے دل جو خلوص و وفا کی مالا جپتے ہوں، جو کچھ کہتے ہیں تو ان کے لفظ مہر و محبت سے مہکتے ہیں، وہ دل جو نگاہ بنتے ہیں تو پیار کی پھوار سے شرابور کردیتے ہیں ، جنوری اب کے آؤ یہی دل لے آنا، وگر نہ وہاں یہ دل لے جانا جو سچے اور سچے دلوں کا متلاشی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 756 Articles with 642759 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
03 Jan, 2018 Views: 372

Comments

آپ کی رائے