خیال

(Fatima Ishrat, )

 ۔۔۔ عالیہ روز فجر کی آذان کی آواز سے جو بیدار ہوتی پھر دیر رات تک گھر کے سب کاموں کو نمٹانےمیں جتی رہتی۔ ۔وہ سب کا بہت اچھے سے خیال رکھتی تھی۔سبکو خوش رکھنا اسکی اولین ترجیح ہوتی۔اسکی مصروفیت اس قدر تھیں کہ خود اسکی ذات کہیں پہچھے رہ گئ تھی ۔اکثر کھانا کھانے کا یاد بھی اسکی ساس دلاتیں ۔۔وہ تھی بھی ایسی ہی ہر ایک کو اپنی ذات پہ فوقیت دینے والی۔۔ بہت محبت کرنے والی۔۔۔۔

۔۔۔۔امجد جو کہ اسکا شوہر تھا روز اپنی بیوی کو مشین کی طرح کام کرتے دیکھتا رہتا اور جب سے منے نے انکے گھر کو رونق بخشی تھی ۔۔۔عالیہ کی مصروفیت میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ جو تھوڑا بہت اپنے لئے بڑی مشکل سے وقت نکا ل لیا کرتی تھی اب وہ بھی اسے میسر نہیں تھا۔۔۔

۔۔۔روز کی طرح آج بھی وہ کچن میں گھسی امجد کیلئے ناشتہ تیار کر رہی تھی۔۔ساس فجر کے بعد ہی ناشتہ کرنے کی عادی تھیں تو وہ انہیں پہلے ہی نا شتہ کرواچکی تھی۔۔۔۔

۔۔۔امجد ریڈی ہوکے کھانے کی میز پہ اخبار کی سرخیوں پہ نظر ڈالنے میں محو تھا۔۔۔۔

"بیگم ذرا جلدی کیجئے۔۔اگر ناشتہ تیار ہوچکا ہے تو میز پہ لگادیجئے۔۔۔۔مجھے دیر ہورہی ہے۔۔"!!!!

۔۔امجد نے عالیہ کو آواز لگائ۔

"آرہی ہوں جی! بس ٹرے سجارہی ہوں ۔۔۔سب ریڈی ہے۔۔۔۔""!!

عالیہ نے پھرتیلی سے ناشتہ میز پہ سجایا۔۔۔آملیٹ اور ٹوس۔۔امجد کے سامنے رکھ دیئے۔۔

"شکریہ بیگم!!۔۔۔کیا اشتہا انگیز خوشبو ہے آملیٹ کی۔اس نے تو ۔بھوک ہی بڑھا دی میری۔۔!!۔۔۔"

۔۔عالیہ مسکرادی۔۔۔جوس کا گلاس بھی امجد کی جانب بڑھا دیا۔۔

"بیگم صاحبہ، کیا آپ نے ناشتہ کیا۔؟؟؟""

امجد آملیٹ کھاتے ہوئے عالیہ سے پوچھنے لگا۔۔

""نننہیں ۔۔۔ابھی کچھ دیر میں کرلونگی۔۔۔منے کو ذرا دیکھ آؤں اسکے جاگنے کا ٹائم ہوگیا ہے۔۔۔""

عالیہ کرسی گھسیٹ کے اٹھنے لگی۔۔

امجد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور واپس بیٹھا دیا۔۔

"ابھی نہیں اٹھنے والے شہزادے!!!"۔۔

"آپ پہلے آرام سے میرے ساتھ ناشتہ کیجئے۔۔۔سارا دن کاموں میں کوہلوکی بیل کی طرح جتی رہتی ہیں ۔۔۔صحت بھی متاثر نظر آرہی ہے۔۔چہرہ بھی دن رات کام کرتے کرتے جھلس گیا ہے۔۔ آپ اپنا بلکل بھی خیال نہیں رکھتیں۔۔۔!!""

--امجد کے لہجے میں محبت کے ساتھ ساتھ فکر مندی بھی نمایا ں تھی۔۔

۔۔۔عالیہ کی آنکھیں جھلکنے لگیں۔۔اپنے سراپے پے جو نظر دوڑائ تو وہ خجل سی ہوگئ ۔۔شوہر کی ہر بات ماننا اسکے جیسے رگ رگ میں پیوست تھا تو بھلا انکی یہ بات کیسے ٹال سکتی تھی جھٹ سے کہا۔

"ان شآ ء اللہ آگے سے پورا خیال رکھونگی اب کبھی آپکو میری صحت اور حلیے کو لیکے شکایت نہیں ہوگی''!!۔۔

امجد بیوی کی فرمانبرداری سے بے حد خوش ہوا۔۔

"شاباش یہ ہوئ ناں بات!!۔۔۔بھئ مجھے اپنی پیاری بیوی بہت عزیز ہے اور میں اسے بے حد محبت بھی کرتا ہوں اسلئے میں چاہتا ہوں وہ اپنی ذات کو بھی اتنی ہی اہمیت دے جتنی وہ ہمیں دیتی ہے اس میں کسی قسم کی لاپروائ نہ برتے۔۔کیو نکہ ایسا کرنا مجھے ناخوش کر دیتا ہے اور تکلیف بھی ہوتی ہے"۔۔۔

امجد پیار سے اسے دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ سمجھاتا بھی جارہاتھا۔

عالیہ شرم وحیا کی وجہ سے جھینپنے لگی اسکا چہرہ ٹماٹر کی طرح سرخ ہوچکا تھا۔۔اسکئ پلکیں جھک سی گئ تھیں۔۔۔

امجد اسکی سب کیفیت کو سمجھتے ہوئے مزید نرم لہجے میں کچھ اور محبت سے بولا۔۔

"آپ ہمارا اتنا خیال رکھتی ہیں کہ ہماری سب ہی عادتیں خراب کردی ہیں ۔۔بندہ اب خود سے اٹھ کے پانی پینے سے بھی گیا اور کھلا کھلا کے آپنے ہمیں بے حال ہی کردیا ۔ جسم فربی مائل ہوگیا اور اب باقاعدہ ہماری ۔۔توند بھی نکل آئ ہے۔۔""

--عالیہ کے لبوں پہ بے ساختہ ہنسی در آئ۔۔

اتنے میں منے کی رونے کی آواز آنے لگی۔۔

عالیہ ایک دم بوکھلا گئی اور گھبرا کے اٹھی۔۔۔

امجد نے دوبارہ اسکا ہاتھ پکڑ ا اور ایک بار پھر سے بیٹھا دیا۔۔

"میں دیکھ لیتا ہوں آپ اطمینان سے ناشتہ کیجئے۔۔۔"!!

امجد نرمی سے اس کندھے سے بیٹھاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
عالیہ اپنے شوہر کی محبت میں نہال سی ہورہی تھی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا وہ ان سے کیا کہے۔۔

"مگر۔وہ ۔۔آپ۔۔۔۔آپ کو کہیں دیر نہ ہوجائے
۔۔۔۔میں منے کو دیکھ بھی لونگی ساتھ ۔ ناشتہ بھی کرلونگی"۔۔

۔۔عالیہ متفکر سی ہوگئ۔۔

"ارے بیگم !!تھوڑی دیر سویر تو چلتی ہے۔۔آپ بس سکون سے بیٹھکر ناشتہ ختم کیجئے۔۔""!!

۔۔۔عالیہ محبت بھری نگاہوں سےامجد کو منے کے کمرے میں جاتا دیکھتی رہی۔۔ناجانے اللہ پاک نے اسکی کونسی نیکی کے عوض اتنا پیار کرنے والا اور خیال رکھنے والا شوہر عطا کیاتھا۔ ۔۔وہ اللہ کا شکر ادا کرتی نہ تھکتی ۔۔۔

#حیا_مسکان

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fatima Ishrat

Read More Articles by Fatima Ishrat: 30 Articles with 19750 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jan, 2018 Views: 616

Comments

آپ کی رائے