یتیم برائلر - مسکین انڈا

(KHALID SHOUQ, )

بہت عرصہ سے یہ افوائیں پھلائی جارہی ہیں کہ برائلر اور انڈا نہیں کھانا چاہیے ، حالانکہ یہ لوگ جو تبصرے کر رہے ہیں ان کو پولٹری کے بارے میں دور دور کا تعلق بھی نہیں نہ ان کو پتہ ہے کہ اس کی خوراک میں کیا استعمال ہو رہا ہے ۔ پاکستان میں پولٹری فیڈ تیار کرنے والی ملز میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ کام کرتے ہیں ۔ اور نٹر نیشنل معیار کے مطابق اس کی خوراک کو تیار کیا جاتا ہے ۔ دنیا میں پاکستان کا پولٹری فیڈ میں دنیا کے 137ممالک میں گیارہواں نمبر ہے ۔ جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ پاکستان پولڑی فیڈ میں بہت بلند معیار رکھتا ہے ۔ یہاں یہ بات قابل امر ہے کہ دنیا میں جیسے جیسے ضروریات بڑھتی گئی اس کے مطابق انسانی خوراک میں اضافہ کرنے کی کوشش ہو تی رہی ۔ 1947؁ء میں پاکستان کی آبادی تقریباً 6کروڑ کے لگ بھگ تھی اور ملکی گندم کی پیداوار تقریباً 10من فی ایکٹر تھی ۔ لیکن حالات کے ساتھ ساتھ آدمی میں اضافہ ہوتا رہا اور زرعی سائنسدانوں نے گندم کی نئی نئی ورائٹی پر ریسر چ کے کے وہ بیج زمیندارو ں کو مہیا کیا ۔ جن کی فی ایکٹر پیداوار زیادہ تھی ۔ اسی طرح سبزیوں ، پھلوں اور دوسری اشیاء میں سب سے اہم گنا ، کپاس تھا ۔ ان پر ریسرچ کر کے ان کی اعلیٰ اقسام کو متعارف کروا یا گیا ۔
اس وقت پاکستان میں گند م کی ایوریج 50سے 70من فی ایکٹر ہے ۔

ذرا سوچئے ! کہ اگر آج 10من گند م فی ایکٹر کی ایوریج ہوتی تو ہمارے ملک میں قحط کی صورت حال ہو ئی ، اسی طرح گنے کی پیداوار میں اضافہ کر کے چینی کی ضروریات کو ملکی ضرورت سے زیادہ پیدا کر لیا گیا ۔ دالیں اور کپاس میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر کے ملک کا زرمبادلہ بچایا جار ہا ہے ۔ اس وقت Mungbeenمیں تقریباً پاکسان خود کفیل ہو چکا ہے ۔ وقت کے ساتھ اس پر مزید محنت کی ضرورت ہے اگر پاکستان میں یہ کوشش نہ کی جاتی تو آج ہمارا حال اتھوپیا جیسا ہوتا کیونکہ کسی ملک کی ریڈ ھ کی ہڈی اس کی معیشت ہو تی ہے ۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور اﷲ تعالیٰ نے اس کو بہت سبزیاں دالیں ، پھل ، اجناس ہر طرح کی نعمت سے نوازہ ہے ۔ ذرا سی توجہ دی جائے تو ہم ہر چیز میں خود کفیل ہو سکتے ہیں ۔ زرعی اجناس کے ساتھ ساتھ ملکی گوشت اور ڈیری فارم لیں ، پاکستان کے ویٹنری ڈاکٹر اور سائنسدانوں کی بہت بڑی محنت ہے جنہوں نے اس ملک کو دودھ اور پولٹری میں خود کفیل بنایا ۔ میرے ذہن میں بھی یہ غلط بات تھی کہ شاید برائلر اور لیئر کو ایسی خوراک دی جارہی ہے جس سے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میں ماموں کانجن کسی ضروری کام سے واپس آرہا تھا کہ راستہ میں مختار فیڈ ملز میں کچھ دیر کیلئے رکنے کا موقع ملا ۔ میں نے اپنی ذاتی خواہش کو ظاہر کیا کہ میں ملز ہذا کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔ درحقیقت میرے ذہن میں تھا کہ آج میں برائلر کی خوراک کو بغور دیکھوں اور پھر میں یہ کہہ سکوں گا کہ اس میں یہ چیزیں مضر صحت ہیں۔ پھر مل کے پراڈکشن مینجر جنا ب ڈاکٹر شکیل صاحب کے ساتھ ہم نے تمام مل کر دورہ کیا اور اس میں استعمال ہونے والی تمام اشیاء کے بارے میں سوال و جواب کیئے اور پھر اس کے معیار کو دیکھا تو یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ جو مکی مختار فیڈ میں ریجیکٹ ہو جاتی ہے وہ ہماری منڈیوں میں آکر بکتی ہے اور پھر ہم اس کا آٹا کھاتے ہیں ۔ اس حیران کن انکشاف کے بعد یہ عیاں ہوا کہ پاکستان میں برائلر انسانوں سے خوش قسمت ہے جو کم از کم خوراک تو معیاری کھا رہا ہے ۔
 
میرے ایک سوال پر ڈاکٹر شکیل صاحب نے بتا یا کہ ہم جب اس خوراک تیار کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں جوبات سر فہرست ہو تی ہے وہ ہے معیار اور ہماری فیڈ کا معیار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے معیار کے برابر ہے ۔ کیونکہ برائلر بہت حساس ہو تا ہے اور ہم اس کی خوراک کو متوازن بناتے ہیں اور پھر پولٹری فارم والوں کی آمدن بھی اس کے تندرست اور صحت مند ہونے پر ہے ۔ اگر ہم خوراک میں ذرا سی کوتاہی کرینگے تو فارمز کا لاکھوں روپے کا نقصان ہو جائے گا ۔ اس لئے ہم معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ یہاں پر مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ملز مالکان نے جوڈاکٹر صاحبان رکھے ہیں ان کی تنخواہ لاکھوں میں ہے ، جس یہ بات سمجھ میں آئی کہ پولٹری فیلڈ میں کس طرح کام کیا جارہا ہے ۔

1947میں پاکستان میں فی کس سالانہ انڈے کی پیداوار 36تھی جو اب بڑھ کر 300عدد سالانہ ہو چکی ہے جس سے یہ بات عیاں ہے کہ اگر یہ تعداد 36پر رہتی تو آج ملک میں انڈا نایاب ہو چکا ہو تا یا پھر دوسرے ملکوں سے منگوایا جاتا جس پر کثیر رقم زرمبادلہ کی صورت میں خرچ کرنا پڑتی اسی طرح گوشت کا حال ہے ، بکر ے کا گوشت تقریباً 900روپے اور گائے کا 500روپے ہے اگر برائلر میسر نہ آتا تو یہ شاید 4گناہ پر بھی نہ ملتا ۔ حالانکہ برائلر کا ریٹ 150سے 250تک سارا سال رہتا ہے ۔ پولٹری کے شعبہ میں ماہرین کی انتھک کوشش کا نتیجہ ہے کہ ہم اس میں خود کفیل ہیں ، وگرنہ جیسے دیسی مرغی کا حال تھا وہ صرف دو موقعہ پر میسر ہوتی تھی یا تو جب مرغی بیمار ہوتی تو ہمیں کھانے کو ملتی یا پھر گھر میں کوئی مہمان آتا تو ، ہمارے حصہ بھی اس کی ایک بوٹی یا پھر شوربہ ہی ملتا ۔ یاکوئی ڈاکٹر یا حکیم صاحب بیماری کی حالت میں یہ لکھ کر دیتے کہ خوراک میں 5تولہ مرغی کا گوشت اور دو گرام انڈے کا سفوف استعمال کریں۔
میں پولٹری ویٹینرین کا خاص طور پر شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے انتھک محنت سے ہمارے لیے لحمیات کا ایک ذریعہ میسر کر دیا جس سے ہم شب و روز مستفید ہو رہے ہیں۔ میں آخر میں اپنے عنوان یتیم برائلر اور مسکین انڈے کے بارے میں لکھ دوں کہ میں نے یہ لفظ کیوں استعمال کیئے ۔

درحقیقت ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ بے سوچے سمجھے وہ بات کہی ہے کہ جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

ہم جب برائلر استعمال کرتے ہیں تو ہم نے کبھی اس معیار کو چیک نہیں کیا کہ ہماری مرچیں ہلدی ، نمک ملاوٹ شدہ تو نہیں اور پھر اس سے ستم ظریفی کہ اس میں جو آئل استعمال ہو رہا ہے کیا وہ انسانوں کے کھانے کے قابل ہے یا نہیں ، لیکن جو غصہ ہے وہ برائلر پر نکالتے کیونکہ یہ بچارہ یتیم ہے ۔ اور اسی طرح ہمارا انڈا بھی مسکین ہے ۔ ہم برگر میں دنیا کی انتہائی خطر ناک کیچپ سلاد ، آئل ڈبل روٹی استعمال کر تے ہیں اور آخر میں ایک انڈا اس میں رکھ دیتے ہیں سارا الزام مسکین انڈے پر آجاتا ہے خدارا باقی تمام چیزوں کو معیار کے مطابق استعمال کریں اور پھر اس میں انڈے کا اضافہ کریں ۔ انڈا مسکین نہیں رہے گا بلکہ ایک بہترین دوست ثابت ہو گا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: KHALID SHOUQ

Read More Articles by KHALID SHOUQ: 11 Articles with 8123 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jan, 2018 Views: 355

Comments

آپ کی رائے