گنز اینڈ روزز (قسط ٨)

(Hukhan, karachi)

بنکوں میں سٹیمر لگا دئیے گئے ہیں سب،،،اور بنکوں کے باہر غبارے والے
ٹیکسی والے،،،رکشے والے پہنچا دئیے ہیں،،سب اپنے ایجنٹ ہیں،،،آس پاس
کچھ بھی مشکوک کی رپورٹ ہم کو دیں گے۔۔
ہمارا اسکواڈ بیس منٹ میں ریسپونڈ کرے گا،،سب ایجنٹس کے کوڈ نیم
دے دئیے گئے ہیں،،،

خطرہ سر پر ہوا تو،،،مے ڈے ،،،کا میسج دیں گے،،، یہ میسج ملنے پر ہر،،،
ایجنٹ اور تھنڈر اسکواڈ اپنے اپنے ٹور پر وہاں پہنچیں گے،،،

رانا نے حیرت سے پوچھا،،،یہ تھنڈر اسکواڈ میں کون کون ہے؟؟؟،،! آفندی
مسکرا کر بولا،،،میں،،،اور،،،تم،،،
رانا نے مایوسی سے سر ہلایا،،،بڑبڑا کر بولا،،چڑھ جا بلّی،،،بیٹا رانا ہو گیاکام
کنوارہ ہی مرنا پڑے گا،،،

رانا نے آفندی کو دیکھا،،،میجر صاحب!! آفندی نے سوالیہ نظروں سے ،،،
رانا کو دیکھا،،،
رانا مصنوعی حیرت کے ساتھ،،،آفندی کے قریب جا کے،،،سر!! آپ کو
کیوں لگتا ہے کہ میں لاوارث ہوں،،میرے آگے پیچھے کوئی بھی نہیں
میں تو بالکل پیدا ہی نہیں ہوا شاید،،،لیب میں ایجاد ہوا ہوں،،،،!!!!!

آفندی نے رانا کے آگے پیچھے جھانکنے کی ایکٹنگ کی،،،سچ کوئی
نہیں ہے،،،آفندی کی بات پر رانا رونے کے انداز میں،،،بھو !!! بھو،،،!!!!
کرنے لگا،،،
ہائے مجھ سے کوئی بھی پیار نہیں کرتا،،آفندی مڑ کے دوسرے کمرے
کی طرف جانے لگا،،،بنا مڑے بولا،،،رانا تم روتے بہت اچھا ہو،،،!! کسی
ناٹنکی کو کیوں نہیں جوائن کرلیتے،،،

رانا نے خود کو آئینے میں دیکھا،،،طرح طرح کی شکلیں بنائیں،،، پھر
مسکرا کر آئینے کے اندر موجود رانا کو کہا،،یو آر سو سمارٹ،،آل موسٹ
کیوٹ،،،!!!

بنک میں بہت رش تھا،،اک ماڈرن قسم کا بوڑھا،،ٹانگ پر ٹانگ رکھ
کے بیٹھا ہوا تھا،،،اس کی داڑھی مونچھیں رنگین ہورہی تھیں،،،سرپر
ماڈرن کیپ اسے بہت سوٹ کررہی تھی،،،
کیشیئر نے اسکی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا،،،جینٹل مین بوڑھے ،،،
نے جیب سے لٹکی ہوئی کی طرف اشارہ کیا،،،کہ وہ کسی کا ویٹ کر
رہاہے،،،،

اس کے رعب نے کیشیئر کو دوسرے سوال سے روک دیا،،بوڑھا مینیجر
کے چیمبر میں گھس گیا،،،اس سے ڈالرکے اکاؤنٹ کی معلومات لی،،
پھر بوڑھے نے جس نے اپنا نام ایوب توانا بتایا تھا،،،بنک مینیجر سے،،،،
پوچھا،،،
مجھے اپنے کاروبارکی وجہ سے اپنے اکاؤنٹ سے یکدم،،،ستر ،،،یا اسّی
لاکھ نکلوانے پڑتے ہیں،،،کیا آپ کے بنک میں اتنے پیسے ہوتے ہیں
یا مجھے اماؤنٹ نکلوانے کے لیے انتظار کرنا ہوگا؟؟،،،،!

مینیجر تو اتنے بڑے کلائنٹ کے خواب ہی دیکھ رہا تھا،،،سر،،! ڈونٹ
یو وری،،وِد اِن فوٹی فائیومنٹس آئی کین ارینج،،بس آپ کے اکاؤنٹ میں
پیسے ہونے چاہیے،،،
پھر مسکرا کے ایوب کو دیکھا،،،کہ کہیں وہ مذاق کو مائنڈ نہ کر جائے

پھر وہ اپنے کلائنٹ کو اکاؤنٹ کھلوانے کا طریقہ بتانے لگا،،،چائے کا
سپ لیتے ہوئے بھی ایوب صاحب کی نظریں بنک میں ادھر سے اُدھر
گھوم رہی تھیں،،،اک دم سے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں،،،،(جاری)،،،،!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 859806 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jan, 2018 Views: 551

Comments

آپ کی رائے
great and exciting
By: aslam memon, karachi on Jan, 09 2018
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jan, 10 2018
0 Like
nice bhai
By: rahi, karachi on Jan, 09 2018
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jan, 10 2018
0 Like