میں ان کو کیسے بھول جاؤں

(Qazi Israil, )

ان کی ہرادا ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتی ہے میں ان کی کن اداؤں کو تحریرمیں لاؤں ،جس طرف بھی نگاہ اٹھاتاہوں تو ایک بڑا گلستاں نظر آتاہے پھر اس باغ کے جس درخت کی طرف دیکھتاہوں تو وہ پھلدار ہی نظر آتے ہیں ۔ہر طرف سے ایک آواز آتی ہے اس درخت کی عظمت وبلندی کو چھو جانابھی کمال ہے ۔
8جنوری 2016بروزجمعۃ المبارک کو حضرت باباجیؒ اس دارفناء سے دارِ بقاء کی طرف کوچ کر گئے آج جب 8جنوری کادن آیاتو وہ زخم دوبارہ تازہ ہوگیا ۔لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنے والدین کو بھول گئے ہیں میں تو حیران ہوں والدین بھی بھول جانے والی شخصیات ہیں ْ؟

ہم سے حضرت باباجی ؒ کے بچھڑے ہوئے تیسرا سال شروع ہے جبکہ وہ مجھے پہلے سے بھی زیادہ یاد آتے ہیں۔حضرت باباجی ؒ کی ہر بات دل ودماغ میں نقش ہے ان کی ادائیں ،ان مبارک ونورانی چہرہ ،حضرت لقمان حکیم ؒ ،حضرت شیخ سعدی ؒ،حضرت مولاء رومؒ کی طرح موجودہ دور ہے شناسائے وقت اپنے دور کے لُدنی علوم کے ماہر ،ہرفن مولاکی یاد تازہ کرنے والے ،امن کے داعی ،مخلوق خدا کو خدمت سے راضی کرنے والے والد محترم اسم بامسمی مبارک نام وکام والے جناب سردار محمد اسماعیل ؒ تھے ۔ان کی مبارک یادیں تازہ کرتے ہوئے قارئین کرام کو بھی شریک سفر کیاجارہاہے ۔

وقت گزر رہاہے ،زندگی ختم ہوتی جارہی ہے ،اچھے لوگ دنیا سے الوداع کرتے جا رہے ہیں ۔

تحریر کو چارچاند لگانے کے لیے اس موقع پریہ بے مثال ’اقوال‘بھی شامل اشاعت ہیں کسی نے کیا ہی خوب کیا بہادری اور شجاعت بھی اپنے اندر کمال کا حسن رکھتی ہے بشرطیکہ شجاعت کمزور کے خلا ف استعمال نہ ہو بلکہ حق وصداقت کے لیے ہو ۔

خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا ایک بہت ہی خوبصورت قول ہے ’’احمق کی عقل اس کی زبان کے پیچھے ہوتی ہے ‘‘

ایک اﷲ والے کا قول ،اﷲ کے بارے میں کتنا حسن رکھتاہے بار بار پڑھنے کے قابل ہے ’’انسان کا بہترین دوست اﷲ ہے بہت جلدی مان جاتاہے پرانی باتیں یاد نہیں کراتا کبھی اپنے در دسے مایوس نہیں لٹاتا۔
انسان حالات کا غلام نہیں حالات انسان کے غلام ہیں،۔سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے فرمایا جہاں تک ہوسکے اپنے لقمہ کی اصلاح کر عمل ِ صالح کی بنیاد یہی ہے ۔
برتاؤ ایک آئینہ ہے جس میں ہر شخص اپنا عکس دیکھ سکتاہے

دنیامیں خوش رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے اپنی حاجتیں کم کرو جب حاجتیں کم ہونگی تو سکھ نصیب ہوگا ۔
کسی نے کتنا خوبصورت جملہ کہاہے جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ہر رشتہ ایک پرندہ کی طرح ہوتاہے اگر سختی سے پکڑو گے تو مر جائے گا اگر نرمی سے پکڑو گے تو اڑ جائے گا لیکن اگر محبت سے پکڑو گے تو ساری زندگی ساتھ نبھائے گا ۔

مور ناچتے ہوئے بھی روتاہے ہنس مرتے ہوئے بھی گاتاہے یہی زندگی کا دستور ہے ۔

دکھ والی رات نیند نہیں آتی اور خوشی والی رات کون سوتاہے ،بعض اوقات اﷲ پاک کسی کو دکھ میں مبتلا کر دیتاہے تاکہ دوسروں کے دکھ بھی سمجھ جائے دوسروں کے غموں میں شریک ہونے والا حالِ غم سمجھ سکتاہے جو دکھ کی کہانی نہ جانے وہ کیساانسان ہوگا پھر ایک وقت آئے گا وہ خود ہی دکھ کی کہانی بن جائے گا۔

جانیوالے جارہے ہیں مگر کوئی پتہ وپیغام نہیں کہ ان کا کیا حال ہے ۔

حضرت باباجی ؒ فرمایاکرتے تھے کہ اچھوں کے ساتھ تو ہر کوئی گزار لیتاہے اصل میں بروں کے ساتھ گزارنا کمال ہے ،حضرت باباجی ؒ فرمایا کرتے تھے ڈھنگ کی زندگی گزار کے جانا ہی انسان کے لیے سعادت کا ذریعہ ہے حضرت باباجی ؒ رب کی مخلوق پر بہت ترس کھایاکرتے تھے جب کتیا اور بلیا کے ہاں بچے پیداہوتے تو دور دور جاکر ان کے آگے کھانا ڈال کر آجایاکرتے تھے اور فرماتے کہ یہ بھی اﷲ تعالیٰ کی مخلوق ہے ۔
جیتا جی ہے ،اس کا بھی پیٹ ہے وہ اﷲ کی مخلو ق کی خدمت کرکے سکھ محسوس کرتے تھے ۔
صحت کا کوئی مل(قیمت ) نہیں
حضرت فرماتے تھے کہ ایمان و یقین کے بعد عافیت اﷲ پاک کی بڑی نعمت ہے ۔
دکھ در د میں شرکت
حضرت باباجی ؒ کی ایک سنہری بات جو سو دردوں کی ترجمانی ہے بڑ ے افسوس ودکھ کی بات ہے کہ اب ہمارا ایک دوسرے کے دکھ درد سے کوئی واسطہ نہیں رہا ۔
چھوٹے بھی قابل قدر ہیں حضرت باباجی ؒ کی ایک نایاب بات جو بڑے بڑے مسائل حل کر دیتی ہے وہ فرماتے تھے بڑے لوگوں کی بڑی خدمت کرنے کے بجائے چھوٹے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں پوری کرلیا کریں ان کی زبان سے نکلی ہوئی دعائیں تقدیر بدل سکتی ہیں ۔
احترام اور والد محترم کا فرمان
احترام ہی وہ مقدس لفظ وعمل ہے جس کی وجہ سے حدود کا تعین ہوتاہے ،احترا م نہیں تو کچھ نہیں ۔حضرت والد صاحب کا جب یہ جملہ سناتو ایک اور تجربہ کار کی بات نظر سے گزری ’’احترام کی روایات کو توڑنے کا مزاج اگر ایک بار پید اہوجائے تو وہ کسی حد نہیں رکتا ۔غیروں کو بے عزت کرنے والا بالاخر اپنے کو بھی بے عزت کر کے رہتاہے ‘‘
آہ !گلدستہ الشاشی کا ایک اور پھول بھی مرجھا گیا
حسد سے دور ،ضد سے کوسوں دور ،بخیلی سے ہمیشہ نفرت،ظلم سے بہت ہی دور ،بچپن جوانی بوڑھاپا ہر حال میں ایک اچھا انسان اورسچا مسلمان ہر ملنے والے کی قدر کرنے والا ،الشاشی خاندان کی عزت وآبرو ان کو دیکھ کر کہنا پڑتاہے کہ’’ اﷲ کا احسان الشاشی (چیچی ) خاندان ‘‘
جودوسخاکے پیکر ،شرم وحیا کے پتلے ،مہرو وفاکے پہاڑ،ایک بے مثل کردار کے مالک انسان کو جب اپنے اندر نہیں پاتے تو زبان گنگنانا شروع ہو جاتی ہے آنکھوں میں آنسوؤں کی لڑی بن جاتی ہے ،ان کی قدر وہی جانتاہے جو اس منزل کا آدمی ہوگا ورنہ یہاں کاحال تو یہ ہے
؂کیسے کیسے دل کے اندھے لوگ ہیں دنیا داروں میں
یوسف جیسے حسن کے پیکر بیچ دیے بازاروں میں
سید امین گیلانی ؒ کا یہ شعر سب کو تڑپا گیااور سب ہی کو رلا گیا
آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
رتبہ اوہدہ لاثانی ہے اچا اوہدا پایہ
گڑنگ دا فقیر سارے عالم اتے چھایا
حضرت باباجی ؒ کی جدائی پہ یہی کہہ سکتے ہیں
زندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے
یہ اقامت تجھے پیغامِ سفر دیتی ہے
حضرت باباجی ؒ کی زندگی کے حالات کو دیکھ کر یہ لکھنا اور کہنا پڑے گا
مجھ کو چھاؤں میں رکھااور خود جلتا رہادھوپ میں
میں نے دیکھاہے اک فرشتہ باپ کے روپ میں
حضرت باباجی ؒ بیمثال زندگی گزار کر رب کے حضور پیش ہوگئے اﷲ پاک اپنی قدرت کاملہ سے کروڑوں رحمتیں ان کی قبر مبارک پہ نازل فرمائے اور ہمیں اﷲ پاک انہی کی طرح مخلوق خداکی خدمت اور ان کے دکھ درد میں شرکت کرنے توفیق عطا فرمائے (آمین )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Israil

Read More Articles by Qazi Israil: 38 Articles with 20431 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jan, 2018 Views: 507

Comments

آپ کی رائے