پولیس کا فرسودہ نظام

(Wajid Nawaz, Bhakkar)

میں اپنے آفس میں بدستور کام میں مشغول تھا کہ تبھی میرے موبائل کی گھنٹی بجی ، فون پر کالر کا نام پڑھ کر میرے چہرے پر مسکراہٹ آگئی کیونکہ یہ میرے ایک دوست کی کال تھی ،اور ہم بھکر کے لوگ دوستوں کی فون کال یا انکے خود آنے پر بہت خوش ہوتے ہیں( کچھ لوگ اس بات سے اختلاف کرینگے )۔ میرا یہ نوجوان دوست چند برس قبل پی سی ایس کا امتحان پاس کر کے پنجاب پولیس میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوا تھا اور ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد پنجاب کے مختلف تھانو ں میں ڈیوٹی سر انجام دیتا رہا اور پچھلے کچھ عرصہ سے بطور چھوٹا تھانیدار ( اے ایس آئی ) فرائض سرانجام دے رہا تھا۔
میں نے فوراً کال اٹھائی اور پر تپاک سلام کیا لیکن آگے سے سلام کا جواب کچھ مایوس کن انداز میں آیا ۔ بہر حال ، حال احوال پوچھنے کے بعد اس دوست نے بتایا کہ وہ آج رات بھکر آرہا ہے بھکر سے بس پکڑ کر وہ لاہور روانہ ہوجائے گا، ساتھ یہ حکم بھی صادر فرمادیا کہ ڈائیو بس کی ایک ٹکٹ بھی کرادینا۔
حسب وعدہ میں ڈائیو اڈے پر پہنچ گیا اور بھکر سے لاہور جانے والی بس کا ٹکٹ کرادیا، ابھی میں ڈائیو اڈے پر ہی موجود تھا کہ موصوف کی دوبارہ کال موصول ہوئی ساتھ یہ حکم ملا کہ راقم الحروف بھی اُن کے ہمراہ لاہور جائیں گے ، خیر دوستی کا بھرم رکھتے ہوئے میں نے ایک کی بجائے بس کے دو ٹکٹ کرالیے۔ اگلے چند گھنٹوں بعد میں اپنے دوست کے ہمراہ ڈائیوو ٹرمینل پر موجود تھا۔
اگلی چند گھڑیوں میں ڈیرہ اسماعیل خان سے آنے والی ڈائیو بس بھکر ٹرمینل پر پہنچ گئی ، چند سواریوں کے اترنے کے بعدمیں میرا وہ دوست بھی اسی بس میں سوار ہوگئے ، بس میں سوار ہوتے وقت اُن کے ہاتھ میں دو بڑے بڑے بیگ تھے ۔ میں نے اتنے زیادہ سامان کی وجہ پوچھی تو وہ بولا بتاتا ہوں۔
خیر ہم بھکر سے لاہور کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں اس نے مجھے بتایا کہ میرے پاس وقت کم ہے کیونکہ میں کل صبح دبئی جا رہا ہوں، کل دوپہر کو میری فلائٹ ہے ۔ میں نے یہ سنتے ہی حیرت سے پوچھا کہ تم دوبئی کیا کرنے جا رہے ہو تو اس کے بعد جو خبر اس نے مجھے سنائی اس کے لیے میں بالکل بھی تیار نہیں تھا ۔ اس نے بتایا کہ میں نے پنجاب پولیس چھوڑ دی ہے اور اب میں دو سال کے ویزہ پہ دوبئی جا رہا ہوں کہ وہاں جا کر اپنے لیے کوئی روزگار تلاش کر سکوں۔ اس کی یہ بات سن کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی ، میں نے پوچھا کہ کیوں بھائی ؟ کیوں چھوڑ دی پنجاب پولیس ؟ یار! اچھی خاصی عزت شان والی سرکاری نوکری چھوڑ دی تم نے لوگ ترستے ہیں اس نوکری کو اور تم بے وقوف آدمی اس کو ٹھوکر مار کے جا رہے ہو آخر وجہ کیا ہے ؟
جس پر اس نے جواب دیا کہ بس یار یہ پنجاب پولیس کی نوکری ہم جیسے شریف لوگوں کے بس کی بات نہیں ۔ میں نے پھر پوچھا کہ یار آخر وجہ کیا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ یار میں رشوت نہیں لے سکتا ، کسی غریب لاچار اور بے بس پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا ، چند روپوں کی خاطر کسی بے قصور شخص کو جیل کی کال کوٹھڑی میں نہیں ڈال سکتا اور بھی بہت کچھ ہے جو میں نہیں کر سکتا ۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ میں ہر مہینے چھبیس ہزار سات سو تیرہ روپے میں اپنے تین بچوں والا گھر نہیں چلا سکتا ۔
تو میں نے فورا کہا کہ بھائی تو تو مت لے نا رشوت ، نا کر کسی کے سا تھ نانصافی، نا کسی بے قصور کو جیل میں ڈال ۔ باقی رہی تیری کم تنخواہ تو یار انشا اللہ وہ بھی بڑھ جائے گی اور اگر تو چاہے تو ساتھ میں کوئی چھوٹا موٹا کاروبار میں بھی حصہ ڈال دے اللہ برکت ڈالے گا انشا اللہ ۔ باقی میں نے تو سنا ہے کہ ایماندار پولیس آفیسر کی نہ صرف متعلقہ ایس ایچ او ،بلکہ ایس پی ، ڈی ایس پی بھی اس کی عزت کرتے ہیں ۔ میری یہ بات سن کر وہ قہقہ لگا کے ہنس پڑا اور بولا کہ بھائی یہ سب صرف فلموں اور ڈراموں میں ہی ہوتا ہے جبکہ حقیقت تو اس کے برعکس ہے جناب ۔
اس نے بتایا کہ بھائی با مشکل دس فیصد ہی پولیس آفیسرز ایسے ہونگے جو رشوت نالینے والے افسران کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایسے افسران آپ کو کسی بے گناہ کو جیل میں ڈالنے یا اس بے چارے پر ظلم و تشدد کرنے پر مجبور نہیں کرینگے ۔
میرے بھائی پولیس میں رہ کر آپکو مجبوراً رشوت بھی لینے پڑتی ہے ، اس کی اس بات پر میں ہنس دیا اور کہنے لگا کہ یار یہ اچھا بہانا ہے کہ مجبوراً رشوت لینی پڑتی ہے ۔ او بھائی آخر ایسی کیا مجبوری ہوتی ہے کہ آپ کو رشوت لینی پڑتی ہے ؟ میں نے پھر ہنس کے کہا کہ اب تم بھی باقی لوگوں کی طرح اپنے افسران کا بہانہ کروگے کہ آپ کا ایس ایچ او یا کوئی اور اوپر کے افسر آپ کو رشوت لینے پر مجبور کرتے ہیں ؟
اس پر اس نے جواب دیا کہ یار یہ بھی ایک مجبوری ہے کہ زیادہ تر افسران ہی اپنا حصہ مانگ کر آپ کو رشوت لینے پر مجبور کرتے ہیں، انہیں ” کماﺅ پتر “ اچھے لگتے ہیں، لیکن اصل مجبوری یہ بھی نہیں ہے ۔ اصل مجبوری ہے تھانے کا فضول نظام ، تھانے کا اور آپ کے نامزد کیس پر آپکا اپنا خرچہ ، اصل میں یہ خرچے آپ کو رشوت لینے پر مجبور کرتے ہیں ؟
اس جواب پر میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا وہ کیسے ؟
تو وہ بولا کہ بھائی ایک چھوٹے تھانے دار کو مقدمہ سنبھالنے کے لیئے ہر وقت اپنے ساتھ کم سے کم دو سپاہی رکھنے پڑتے ہیں جو ہما وقت کہیں پر بھی ریڈ کرنے یا ملزمان کی گرفتاری میں اس کو چاہیے ہوتے ہیں ، اب ان دو سپاہیوں کا روزانہ کا خرچہ، ان کا کھانا پینا یہاں تک کہ ان کی رہائش کا خرچہ اس چھو ٹے تھانے دار کے ذمہ ہوتا ہے کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کرینگے تو کوئی بھی سپاہی آپ کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہوتا ۔
یہ بات سن کے میری حیرت میں اضافہ ہوا اور میں نے پھر ایک سوال کر دیا کہ یار یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی سپاہی اپنے اے ایس آئی کو منع کرے ؟
اس نے کہا کہ بھائی جب بھی آپ کو کہیں ریڈ پر یا کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے جانا ہوتا ہے تو سب سے پہلے آپ اپنے تھانے کے محررکو مطلع کرتے ہیں کہ مجھے اتنے سپاہی چاہیے ہیں ، اب اگر آپ محرر صاحب کو روزانہ یا ماہانہ کچھ نہیں دیتے تو وہ سو طرح کے جائز نظر آنے والے بہانے کر کے آپ کو نفری دینے سے انکار کر دے گا ، چلو اگر محرر صاحب نے کہ بھی دیا کہ ٹھیک ہے لے جائیں چند سپاہی تو اب اگر آپ ہر ریڈ یا گرفتاری پر ہر سپاہی کو ایک یا دو سو روپے فی سپاہی دیتے ہیں پھر تو ہر سپاہی آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہو جائے گا ، ورنہ پھر وہی بات کہ اب ہر سپاہی بھی جائز نظر آنےوالا بہانہ کر کے آپ کے ساتھ جانے سے انکار کر دیگا اورآپ سوائے اس سپاہی کا منہ تکنے کے کچھ بھی نہیں کر سکتے ، آپ زیادہ سے زیادہ اس کی شکایت ایس ایچ او کو لگائینگے لیکن اگر آپ ایس ایچ او صاحب کو بھی روزانہ یا ماہانہ کچھ نہیں دیتے ہیں تو وہ بھی ان کے بہانے کو جائز قرار دے کر چھوڑ دے گا یا زیادہ سے زیادہ وہ سپاہی کو یہ کہہ دے گا کہ جو سرکاری کام آپ کر رہے ہو اُسے جلدی مکمل کر کے صاحب کے ساتھ چلے جا ﺅ۔ اب چونکہ آپ کو اطلاع یا مخبری ہوتی ہے اور آپ کو جلدی ہوتی کہ کہیں ملزم موقع سے فرار نہ ہو جائے اس لیے آپ تاخیر کو تو برداشت ہی نہیں کر سکتے بلکہ بعض اوقات تو محض چند لمحے کی دیر بھی سنگین ملزمان کو بھاگنے کا موقع فراہم کر دیتی ہے ۔ اور آپ بعد میں صرف ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ۔ اب آپ کا پہلا خرچہ ایس ایچ او صاحب ، دوسرا خرچہ محرر ، اور تیسرا خرچہ وہ سپاہی کہ جن کو آپ ساتھ لے کر جارہے ہیں۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے گاڑی کا ، حکومت ہر گاڑی کے لیے ماہانہ صرف 240 لیٹر پیٹرول دیتی اب اس پیٹرول میں آپ نے روزانہ گشت بھی کرنی ہے ، عدالت بھی جانا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی اسی پیٹرول سے کام چلانا ہے ، اس لیے یہ چند لیٹر پیٹرول زیادہ سے زیادہ مہینے کے پہلے دس دن ہی چل پاتا ہے اس کے بعد جو گاڑی لے کر جائے گا پیٹرول بھی وہی ڈلوائے گا ۔ اب آپ بتائیں کہ ایک اے ایس آئی کہ جس کی کل تنخواہ ہی چھبیس ہزار سات سو تیرہ روپے ہو اس تنخواہ میں وہ گھر چلائے یا تھانہ ؟
راستے میں اس نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات تو مدعی بھی پولیس خود ہوتی ہے ، ایسے کیسز میں تو آپ کا خرچہ اور بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ آپ کو رشوت دینے والا مدعی بھی نہیں ہوتا ، میں نے پوچھا کہ ایسے کون سے کیس ہوتے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ جیسے 15 پر شکایت ہوتی ہے کہ فلاں جگہ پہ جوا ءکھیلا جا رہا ہے ، یا فلاں محلے کا رہائشی منشیات فروخت کرتا ہے ، یا کوئی اور ایسا مسئلہ کہ جس سے عوام الناس تنگ ہو رہے ہوں تو ایسے مجرم کی گرفتاری میں مدعی کوئی بھی نہیں ہوتا اب ایسے کیسز میں یہ سارا خرچہ کون کرےگا ؟ مزید یہ کہ خرچہ صرف گرفتاری تک نہیں ہوتا بالکہ اصل خرچہ تو گرفتاری کے بعد شروع ہوتا ہے ،میں نے پھر تجسس سے پوچھا کہ گر فتاری کے بعد اب تمہارا کونسا خرچہ ہوتا ہے ؟
تو اس نے جواب دیا یار ملزم کی گرفتاری کے بعد اسے عدالت میں پیش کرنا پڑتا ہے ، وہاں بھی آپ چند سپاہی اور گاڑی لیکر جاتے ہیں ، ایک بار پھر انکا خرچہ ، عدالت پہنچ کر مثل لکھ کر جمع کرانی پڑتی ہے کہ جس کو لکھنے کا ٹائم آپ کو نہیں مل پاتا اس لیے چار پانچ سو روپے دے کر وہ مثل لکھوانی پڑتی ہے اسکا خرچہ ، اب آپ نے چالان جمع کرانا ہے تو عدالت میں بھی ( مبینہ طور پر) پانچ سو روپے فی چالان رشوت کا ریٹ مخصوص ہے اس کے بغیر آپ کا چالان جمع ہی نہیں کیا جائے گا ۔ اب اگر اس کا چالان ہو گیا ہے تو اس کو متعلقہجیل کون پہنچائے گا ؟ اب ایک بار پھر آپ کسی سپاہی کو کرائے کے پیسے یا گاڑی کا پیٹرول اور اسکی دیہاڑی کے سو دو سو روپے دے کر اسے جیل بھیجیں گے ۔اس کے بعد اب چونکہ مدعی آپ خود ہیں اس لیئے اس کی ہرپیشی پر آپ نے بھی عدالت جانا ہے وہ خرچہ ، اور اگر اس کی ضمانت ضلعی جیل سے آپ نے نہیں ہونے دی تو وہ ہائی کورٹ جائے گا تو ہائی کورٹ کی طلبی پر آپ کو بھی ہائیکورٹ جانا پڑیگا وہ خرچہ، اگر ضمانت ہائیکورٹ سے خارج ہو گئی ہے تو بعض ملزمان کے وکیل تو سپریم کورٹ تک چلے جاتے ہیں ، اب اگر آپ کو سپریم کورٹ بھی طلب کر لے تو آپ اسلام آباد جانے اور رہنے کا خرچہ کہاں سے کرینگے ؟؟ کیونکہ پولیس میں جو ٹی اے ڈی اے ملتا ہے اس سے تو آپ با مشکل دو وقت کا کھانا کھا سکتے ہیں، اور ٹی اے ڈی اے کبھی وقت پر نہیں ملا ، اس کے لیے کافی انتظار، اور کلریکل عملہ کی منتیں کرنا پڑتی ہیں ۔
اس نے پھر اپنا ہی ایک واقعہ سنایا کہ میں نے ابھی چند روز قبل ہی ایک منشیات فروش کو گرافتار کیا ہے ، اس منشیات فروش سے سارا علاقہ تنگ تھا اور ہر بندے کو پتہ تھا کہ یہ شخص ماہانہ کئی سو کلو چرس وغیرہ فروخت کرتا ہے ، ہم نے عوامی شکایت اور عوامی فلاح کے لیئے کئی مرتبہ اس پہ چھا پہ بھی مارا تھا لیکن اس کے گھر کی لوکیشن ہی کچھ اس طرح کی تھی کہ وہ یا تو ہمیں چکما دے کر فرار ہو جاتا یا اس سے زیادہ سے زیادہ سو دو سو گرام ہی چرس برآمد ہوتی ، اب قانون یہ ہے کہ اگر برآمد ہونے والی منشیات کی مقدار ایک ہزار گرام سے کم ہو تو جو دفعات لگتے ہیں اس سے پہلی ہی پیشی پر باآسانی ضمانت ہو جاتی ہے اور پھر وہی شخص دوبارہ واپس آکر زیادہ کھل کر منشیات فروخت کرتا ہے اور ہمارا منہ چڑا رہا ہوتا ہے ۔ جبکہ اگر منشیات کی مقدار ایک ہزار گرام یا اس سے زیادہ ہو تو ضمانت بہت مشکل سے ہوتی ہے اس لئیے جب میں نے اسکو گرفتار کیاتو گرفتاری کے وقت اس سے صرف تین سو گرام ہی منشیات برآمد ہوئی ،لیکن اب کی بار میں نے عوامی فلاح کی ٹھانی اور اس پر ایک ہزار گرام منشیات کا پرچہ کاٹ دیا تاکہ اسکی ضمانت نہ ہو سکے ۔
اور وہی ہوا کہ ضلعی عدالت نے اسکی ضمانت مسترد کر دی ، تو وہ ہائی کورٹ چلا گیا مجھے وہا ں بھی جانا پڑا ، لیکن با شکر خدا اس کی ضمانت وہاں سے بھی مسترد ہو گئی ، اس کیس میں ، میں نے عوامی فلاح کی خاطر باقی کی سات سو گرام منشیات اپنے پلے سے خرید کے ڈالی تاکہ عوام اس کے مکروح دھندے سے بچ سکے ۔ اب اگر وہ سپریم کورٹ چلا جاتا تو ظاہر ہے میرا خرچہ اور زیادہ ہو جاتا ۔
اس نے مزید کہا کہ میرے بھائی اس کے علاوہ بھی تھانے میں روزمرہ کے کئی خرچے ہوتے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے کسی بھی تھانے کو آنے والے مہمانوں کے چائے پانی کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں دیتی ۔ اب روزانہ آپ کو کئی معززین، مدعی یا آپ کے عزیز آپ کو ملنے آتے ہیں کسی کو چائے بوتل پلانی پڑتی ہے اور کسی کو تو کھانا بھی کھلانا پڑتا ہے ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ ہر ماہ صرف چھبیس ہزار سات سو تیرہ روپے تنخواہ میں یہ سب کوئی کیسے کرسکتا ہے ؟؟
اس نے مزید کہا کہ آپ جیسے ہی کسی کو گرفتار کر کے لاتے ہیں تو ساتھ ہی معززین ، دلال اور سیاسی ٹاﺅٹ وغیرہ آپ کے گرد ایسے جمع ہو جاتے ہیں کہ جیسے کہیں ہل چلاتے ٹریکٹر کے آس پاس پرندے جمع ہوجاتے ہیں، آپ ان سب سے بمشکل جان چھڑا کے ہٹتے ہی ہیں کہ آپ کو ایس ایچ او صاحب اندر بلا کر کہتے ہیں کہ اوپر سے کال آئی ہے اس بندے کو چھوڑ دو ، اب خدا جانتا ہے کہ واقع اوپر سے کال آئی ہوتی ہے یا ایس ایچ او صاحب خود ہی ملزم سے کوئی مک مکا کر چکے ہوتے ہیں ، اگر اوپر سے بھی کال آئی ہو تو اوپر والے بھی مفت کال نہیں کرتے ۔
اور کبھی کبھار تو یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص آکے ایس ایچ او صاحب کی مٹھی میں دس پندرہ ہزار رکھ کہ کہتا ہے کہ میرے فلاں دشمن کو گرفتار کر کے دو تین لتر لگانے ہیں ، بس پھر ایس ایچ او صاحب آپ کو کمرے میں بلا کر دو تین سپاہی ، اور پیٹرول کے ساتھ گاڑی فراہم کرتے ہوئے حکم صادر کرتے ہیں کہ اس بندے کو گرفتار کر کے لے آ اور اس کی چھترول کرو ، اب وہ سپاہی جو آپ کے ساتھ آئے ہوتے ہیں چونکہ انکی بھی مٹھی گرم ہو چکی ہوتی ہے لہذا وہ آپ سے بھی آگے بھاگ رہے ہوتے ہیں اور نا چاہتے ہوئے بھی آپ کو ایک بے گناہ شریف آدمی پر کوئی جھوٹا کیس بنا کر بیچارے کی چھترول کر کے جیل میں ڈالنا پڑتا ہے ، ایسے فرمائشی مقدمات اور چھترول پنجاب پولیس کا خاصہ ہے۔ یہ سب کام کر کے آپ صرف اپنی قبر بھرتے ہیں اور بس۔
اسی دوران ہم لاہور پہنچ چکے تھے ، ایک ریسٹورینٹ میں گئے جہاں اچھا کھانا کھایا، میری فرمائش پر کڑک چائے پی ، چند گھنٹوں کے ریسٹ کے بعد اگلے دن ہم فریش ہوکر ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں اسی موضوع پر ہماری گفتگو جاری تھی کہ ہم لاہور آئیر پورٹ کی پارکنگ میں پہنچ گئے ، گاڑی پارک کی اور ہم فلائٹ کے بورڈنگ گیٹ کی طرف چل دیے ۔ میرے اس دوست نے اپنا سامان ایک ٹرالی پہ رکھا اور مجھ سے مخاطب ہوا کہ یار اب تو ہی بتا کہ کیا میرا پنجاب پولیس کو چھوڑ کر دوبئی جانے کا فیصلہ غلط ہے ؟ میرے پاس تو اس کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ میں خاموش ہی رہا ۔ اس کی فلائیٹ کی چیک ان شروع ہو چکی تھی ، بس پھر اس نے مجھے آخری الوداع کہا اور مجھ سے ایک بار پھر گلے مل کر ٹرالی میں رکھا اپنا سامان گھسیٹتا ہوا بورڈنگ روم میں داخل ہو گیا اور دیکھے ہی دیکھتے میری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ۔
وہ تو چلا گیا لیکن مجھے ایک افسوسناک سوچ اور بوجھل دل کے ساتھ چھوڑگیا ۔ میں آج بھی اس کے سوال کا جواب سوچ رہا ہوں کہ کیا اس نے ٹھیک فیصلہ کیا ؟ کیا واقعی ہماری پولیس کا نظام اس حد تک گندہ اور مکروہ ہے ؟اب میں یہی سوال آپ سب کے سامنے رکھ رہا ہوں ، خاص طور پر میرے دوست جو ابھی بھی پنجاب پولیس سے وابسطہ ہیں ۔انہیں سوالات کے ساتھ میں واپس بھکر پہنچ گیا، ان شاءاللہ اگلے کالم میں بھکر پولیس میں رشوت خوری، غریبوں کی آہ و بکا ، پولیس اہلکاروں کے اخلاق اور جانبداری پر آنکھوں دیکھے واقعات قارئین کے سامنے رکھوں گا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 42219 views »
i like those who love humanity.. View More
13 Jan, 2018 Views: 284

Comments

آپ کی رائے