2018 سے لے کر 2111 تک دنیا میں کیا کچھ ہونے والا ہے؟

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
بابا وانگا کی چونکادینے والی پیش گوئیوں پر مشتمل ایک دلچسپ رپورٹ

یوں تو غیب کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کے پاس ہے لیکن بہت سے دنیاوی علوم ایسے ہیں جن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے علوم کی وجہ سے مستقبل کے بارے میں بہت سی ایسی باتیں بتا سکتے ہیں جو آئندہ آنے والے دنوں میں پیش آنے والی ہوں۔قیافہ شناسی ،دست شناسی یا ستاروں کی چال کا علم جاننے والوں کی مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے کی گئی پیش گوئیاں کتنی سچ اور کتنی جھوٹ ثابت ہوتی ہیں اس معاملے کو الگ رکھ کر اگر ہم انسانی فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے پیش گوئیاں کرنے والوں کی باتوں کو سمجھنا چاہیں تو پھر ہمیں ان علوم کے ماہرین کی کہی گئی باتوں پر غور وفکرضرور کرنا چاہیئے۔

تجسس انسانی فطرت کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں مستقبل میں پیش آنے والے حالات و واقعات کے بارے میں جاننا چاہتا ہے بلکہ جوں ہی نئے سال کی آمد قریب آتی ہے اس کا یہ شوق مزید پروان چڑھتاہوا اپنے ملک سمیت دنیا بھر میں آئندہ رونما ہونے والے واقعات سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے اسے نجومیوں کی جانب سے ہر سال کی جانے والی پیش گوئیوں سے واقفیت حاصل کرنے پر مجبور کرتا ہے جس کی بنا پر وہ ایسے اخبارات و رسائل کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے جہاں سے اسے اپنے اور دنیا کے مستقبل میں جھانکنے کے لیئے کچھ نہ کچھ مواد مل سکے جبکہ وہ انٹرنیٹ کا بھی سہارا لیتا ہے جہاں سے اسے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نامور نجومیوں کی تازہ ترین پیش گوئیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکیں۔چنانچہ قارئین کی دلچسپی اور معلومات میں اضافے کے پیش نظرراقم الحروف نے نئے سال 2018 سے لے کر 2111 کے بارے میں دنیا کی جانی مانی نامور نجومی خاتون باباوانگا کی اہم پیش گوئیوں کو اس تحقیقی تحریر کا حصہ بنایا ہے تاکہ وہ لوگ جو مستقبل میں جھانکنے کی خواہش رکھتے ہیں وہ اس تحقیقی مواد کے ذریعے نئے سال سے لے کر2111 تک کے حالات و واقعات کے حوالے سے اہم معلومات سے کماحقہ طور پر مستفید ہوسکیں ۔

بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی بابا وانگا نامی نابینا خاتون 31 جنوری 1911ء کو بلغاریہ کے شہر وینجیلا میں پیدا ہوئی تھیں ان کی پیدائش پر کسی کو اس کے بچنے کی امید نہیں تھی لیکن وہ زندہ رہیں، وانگا بچپن سے انتہائی ذہین تھیں جنھیں بچپن سے ہی روحانی علاج سے دلچسپی تھی۔ بابا وانگا نوجوان ہی تھیں کہ ایک حادثے نے انھیں نابینا کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی طوفان نے ان کو اٹھا کر دور پھینک دیا اور ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں، اس کے بعد ان کی بینائی ہر طرح کے علاج اور کوشش کے باوجود ختم ہو گئی۔بابا وانگا کا انتقال 1996میں ہوا لیکن اس سے پہلے ہی وہ 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے اور 2004ء میں سونامی، ایک سیاہ فام امریکی شہری کے امریکی صدر بننے اور 2010ء میں عرب دنیا میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں کے سلسلے ’’عرب بہار‘ ‘کی کامیاب پیشین گوئیاں کر چکی تھیں۔ بابا وانگا نے سوویت یونین ٹوٹنے، چرنوبل کے حادثے، سٹالن کی تاریخ وفات اور روسی آبدوز کرسک کی تباہی بھی پیش گوئیاں بھی کیں جو بالکل درست ثابت ہوئیں۔ 1989ء میں بابا وانگا نے کہا تھا کہ امریکی لوگ انتہائی خوف میں مبتلا ہوں گے جب ان پر دو آہنی پرندے حملہ کریں گے اور ہر طرف دہشت کا راج ہوگا۔اس پیش گوئی کے چند سال بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دو طیاروں کے ذریعے حملہ کیا گیا اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ پیشگوئی نائن الیون کے بارے میں کی گئی تھی۔

2017 تک کے لیے باباوانگا نے جو پیش گوئیاں کی تھیں ان کا وقت اب پورا ہوچکا ہے اور اب لوگوں کی خواہش ہے کہ انہیں یہ پتہ چلے کہ آنے والا 2018 کا نیا سال اپنے دامن میں کیا کچھ لے کر آرہا ہے اور 2018 کے بعد بھی دنیا میں کیا کچھ ہونے والا ہے۔

بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی نابینا خاتون بابا وانگا کی نئے سال کے حوالے سے سب سے بڑی پیش گوئی یہ ہے کہ2018 میں چین دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور بن جائے گا۔ 2023ء میں زمین کے مدار میں ہلکی سی تبدیلی آئے گی۔ 2028ء میں انسان توانائی کا ایک نیا ذریعہ تلاش کر لے گا۔ اناج کی کمی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔ سیارے زہرہ کی جانب ایک انسانی خلائی مشن بھیجا جائے گا۔ 2033ء میں قطبین پر جمی ہوئی برف پگھل جائے گی اور سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہو جائے گی۔ 2043ء میں مسلمانوں کو براعظم یورپ پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ 2046ء انسان اپنی مرضی کے مطابق انسانی اعضاء بنا سکے گا۔ اعضاء کی تبدیلی امراض کے علاج کا ایک اہم ذریعہ بن جائے گا۔ 2066ء میں ایک مسجد پر حملہ ہونے کے بعد امریکا غیر معمولی ہتھیار استعمال کرے گا جس سے زمین کا درجہ حرارت اچانک گر جائے گا۔

بابا وانگا کے مطابق 2111ء میں انسان اور روبوٹ کو ملا کر سائیبورگ کے نام سے نئی مخلوق وجود میں لائی جائے گی۔ 2154ء میں جانور ارتقاء کے عمل سے گزرتے ہوئے نصف انسان بن جائیں گے۔ 2170ء میں زمین کو بے مثال خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 2195ء میں انسان پانی کے اندر رہائشی بستیاں بنا لے گا۔ 2196ء میں ایشیا اور یورپ میں رہنے والوں کے ملنے سے انسان کی ایک نئی نسل وجود میں آئے گی۔ 2201ء میں سورج پر تابکاری کی سرگرمیاں سست پڑ جائیں گی اور درجہ حرارت گرنے لگے گا۔ 2288ء میں ٹائم ٹریول ممکن ہو جائے گا۔ دوسرے سیاروں سے تعلق بنیں گے۔ 2480ء میں دو مصنوعی سورج آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ زمین پر تاریکی چھا جائے گی۔ 2100ء میں ایک مصنوعی سورج زمین کے تاریک حصوں کو روشنی دینے لگے گا جبکہ 5079ء میں دنیا ختم ہو جائے گی۔

بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کے ماننے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں جو بھی پیش گوئیاں کی ہیں وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری ہو رہی ہیں۔ بابا وانگا کا انتقال 1996ء میں ہوا لیکن اس سے پہلے ہی وہ 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے، 2004ء میں سونامی، سیاہ فام کے امریکی صدر بننے اور 2010ئمیں عرب دنیا میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں کے سلسلے ’’عرب بہار‘‘ کی پیشین گوئی کر چکی تھیں۔ بابا وانگا کے مطابق 2018 ء میں براعظم یورپ کے ملکوں کو مسلمان عسکریت پسندوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا جن کے نتیجے میں یورپ کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
بابا وانگا کی پیشن گوئیوں کے مطابق 2018ء میں چین دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور بن جائے گا۔ 2023ء زمین کے مدار میں ہلکی سی تبدیلی آئے گی۔ 2028ء میں انسان توانائی کا ایک نیا ذریعہ تلاش کر لے گا۔ اناج کی کمی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔ سیارے زہرہ کی جانب ایک انسانی خلائی مشن بھیجا جائے گا۔ 2043ء میں مسلمانوں کو براعظم یورپ پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ یورپ کے زیادہ تر حصے خلافت کے تحت آ جائیں گے جبکہ اس کا مرکز روم ہو گا۔

بابا وانگا کی پیش گوئیوں کے مطابق 2018 میں یورپ پر مسلمانوں کا قبضہ ہونے اور عالمی جنگ چھڑ جانے کے واضح امکانات ہیں جبکہ بابا وانگا نے 2018 میں چین کے سپر پاور بن جانے کی بھی پیش گوئی کررکھی ہے۔اگر ہم دنیا بھر میں گزشتہ6 ماہ کے دوران ہونے والے حالات وواقعات پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ بابا وانگا کی پیش گوئیاں آنے والے سال میں کیونکر صحیح ثابت ہوسکتی ہیں۔خاص طور پر امریکہ میں ٹرمپ کا برسر اقتدار آنا اور پاکستان و چین کا سی پیک منصوبے کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ مزید مظبوطی سے جڑجانے کی وجوہات ، عالم عرب میں جنم لینے والی نئی تحریکوں اور برما میں مسلمانوں پر ہونے والے سفاکانہ مظالم کو بابا وانگا کی پیش گوئیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو بہت سی ایسی باتوں کا ادارک ہوتا ہے جن کی جانب بابا وانگا نے واضح اشارے کیے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 73402 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
15 Jan, 2018 Views: 474

Comments

آپ کی رائے