شرک کبیرہ گناہ ہے

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
ر جو یہ آیت بیان کی جاتی ہے کہ اگر تمھیں آسمان کی بلندیوں سے زمین پر گرا دیا جائے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے چیل کوّوں کو کھلا دیا جائے یا زمین پر بکھیر دیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے لیکن پھر بھی شرک نہیں کرنا تو جو آدمی اس آیت پر ایمان لے آئے گا اس کو شرک کرا کر ہی چھوڑیں گے اس کے آقا اور مالک اور اس پر غلبہ پانے والے اس کی سمادی بنا دیں گے کہتےہیں ہم جب ایک بار آقا بن جاتے ہیں تو پھر نسلوں کی نسلیں مشرک کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ہوتے غلام ہیں اور عقل ہماری آقا والی ہوتی ہے -

اللہ پاک مسلمانوں کو شرک سے بچائے آمین میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں سے کہنا چاہوں گا وہ شرک سے بچیں مسلمانوں کا شرک کیا ہے میں اس پر بحث کرنا چاہوں گا اللہ پاک کا فرمان ہے کہ اکثر مسلمان ایسے ہیں جو ایمان بھی لاتے ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں میں اس آیت کا مفہوم بیان کر رہا ہوں کہ اکثر مشرک ایمان بھی لاتے ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں لیکن ان کا ایمان لانا صرف دنیا میں ہی فائدے مند ہے لیکن آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنّم ہے جس مِن وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اب بہت سے گمراہ لوگوں کا کہنا ہے کہ دنیا میں اگر شرک کے بغیر فائدہ حاصل نہیں ہو گا تو ہم مشرکوں کو شکست کیسے دے سکیں گے اس لئے اسلام کی فتح کے لئے شرک کرنا پڑے تو کر لینا چاہیے آقا اگر مشرک ہو تو وہ اس وقت تک اجازت ہی نہیں دے گا اسلام کی تبلیغ یا جہاد کرنے کی اور بھوکا مارنے کی دھمکیاں دے اور اس کی تربیّت غلط کر دے اس کو اسلام کی تعلیم ہی حاصل نا کرنے دے تو اس کے چنگل سے نکلنے کے لئے شرک تو کرنا ہی پڑے گا اور جو یہ آیت بیان کی جاتی ہے کہ اگر تمھیں آسمان کی بلندیوں سے زمین پر گرا دیا جائے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے چیل کوّوں کو کھلا دیا جائے یا زمین پر بکھیر دیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے لیکن پھر بھی شرک نہیں کرنا تو جو آدمی اس آیت پر ایمان لے آئے گا اس کو شرک کرا کر ہی چھوڑیں گے اس کے آقا اور مالک اور اس پر غلبہ پانے والے اس کی سمادی بنا دیں گے کہتےہیں ہم جب ایک بار آقا بن جاتے ہیں تو پھر نسلوں کی نسلیں مشرک کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ہوتے غلام ہیں اور عقل ہماری آقا والی ہوتی ہے -

اور خاص طور پر ہندو کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی پوجا کرتے ہیں جب ان سے مغلوب ہوتے ہیں جب غالب آتے ہیں تو اپنی پوجا کراتے ہیں پیروی تو دور کی بات ہے -

یہ جادو ہے بہت بڑا جادو ہے اور شرک ہے جب مسلمان دین اسلام کی دعوت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بتّوں کی پوجا کرنا شرک ہے کیونکہ وہ نا تو اپنا نقصان کر سکتے ہیں نا نفع حاصل کر سکتے ہیں اس لئے ہم زندوں کی پوجا کریں گے اور جب مریں گے تو خود کشی ہی کریں گے ہم کہیں گے جب ہماری باری آئی کہ عبادت کے بدلے عبادت کرو تو دنیا سے کوچ فرما گئے اب ہم تمھارے حصّے کی پوجا تمھارے مزار کی کریں گے مردہ جو فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا سکتا یا بت نفع نقصان نہیں دے سکتا تو تم جو زندہ ہو ہم تم کو پوج لیں گے حالانکہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ جو بندہ تمھیں اللہ کا شریک بنا دے گا اس کو قتل کر دینا چاہیے یہ کام کون کرے گا حکومت وقت کرے گی یہ بات وہ کہتے ہیں جو دراصل منافق ہوتے ہیں مسلمانوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم کس لئے ہے ورکعو مع الرّاکعیں کا حکم کس لئے ہے اسی لئے تو ہے کہ ایسے نامراد موذی جادوگرں کو قتل کیا جاسکے تو اس صورت میں وہ مسلمانوں سے پوچھتے ہیں جن کو سال ہا سال اپنی غلامی میں رکھ کر اس میں یہ مسئلہ ریکارڈ کر چکے ہوتے ہیں کہ اسلام کے مطابق یہ مسئلہ ہے کہ حد نافذ کرنا حکومت وقت کا کام ہے تو پھر میں مسلمانوں سے عرض کرنا چاہوں گا کہ پھر مسلمانوں کی نماز کہاں گئی کہ نامراد منافق مشرک سیکولر ہندو جادو گر کھلے عام کہتے پھرتے ہیں کہ تم رب تعالٰیٰ شانہ کی پوجا کرتے ہو ہم تمھاری کرتے ہیں تو نماز پڑھو اور جاو جاکر حکمران تلاش کرو کہ وہ ہم پر حد نافذ کریں ہم ان کی بھی کر دیں گے جو تمھاری کرتے تھے اور جب تم ان کو ڈھونڈے جاو گے ہم تمھیں ڈھونڈنے چلے جائیں گے اور ہم کہیں گے کہ ہم تمھاری وہ اس لئے کر رہے تھے کہ ہمیں بتاو تو سہی کہ مسلمان ہوتا کیسا ہے -

یہی تو رونا ہے کہ جو وقت مسجدوں میں گزارنے کا حکم ہے یا جہاد ی معسکرات میں گزارنا تھا وہ مساجد ضرار جن کا جدید نام سکولز کالجز یونیورسٹیاں ہے مسلمانوں کو ان میں گزارنا پڑتا ہے یہی تو تمام کافروں کی اور خاص طور عیسایوں کی سازش ہے کہ جیسی تربیّت کریں گے تمام عمر بچّے وہی کریں گے اس لئے سب کو یہ سکھا دیا جاتا ہے کہ عادت فی الموت ہوتی ہے یعنی عادت پئی کڑی نوں نئیں جاندی بڈی اڑی نوں جب عادت جو یہ ڈال دی کہ جب ہم بیان ہی منافقوں والا ان سے دلوائیں گے جب بات آئے گی حد نافذ کرنے کی تو ہم کہیں گے کہ تم نے ہی تو مسئلہ یہی بتایا تھا اسی لئے تو ہم کہتے تھے کہ نشہ تھوڑا کیا کرو خود ہی کہا کرتے تھے کہ حد نافذ کرنا حکمرانوں کا کام ہے تو ہم تمھارے آقا ہیں اور ہمارے آقا ہمارے حکمران یہ ہمارے سٹوڈنٹ ہیں یہ ہمارے گاہک ہیں ہم ان کی پوجا کرتے ہیں گاہک ہمارا بھگوان برابر ہوتا ہے تم بھگوان کہنے سے ہمیں ڈراتے ہو تو ہم ڈر کر پیغبر بنا لیتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں تم حکمرانوں کے پاس پہنچ ہی نا جاو اور ہماری شکایت لگا دو اور وہ سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں سے بدگمان ہو جائیں اور خدانخواستہ وہ اسلام کو سمجھ جائیں تو ہم تم کو ہمیش عذاب میں مبتلا کرنے کا بھی فن جانتے ہیں کہ جب ایک دو چھٹیاں ہوں گی تو ہم ن کے ہاتھوں گیند بلّے پکڑا دیں گے اور وہ جوا کھیلنے میں مصروف ہو جائیں گے اور تھک ہار کر وہ سب حول جائیں گے اور مسجد میںجائیں گے یا جہاں جہاں بھی تعلیم حاصل کرنے جائیں گے ہم ان کو وہ ہی مشورہ دیں گے کہ تعلیم حاصل کرنا فرض ہے جو لوگ تم کو تعلیمی اداروں سے بدگمان کرتے ہیں وہ دہشت گرد ہیں تو وہ اس بات میں تیار ہونے میں کتنی دیر لگائیں گے کہ ان دہشت گردوں کو کڑی کڑی سزا دی جانی چاہیے اور جب ہمارے حکمران ہم کہہ دیں گے تو تمھارا کیا حشر ہوگا ذرا سوچ کر بتاو کہ تم کرو گے کیا سوائے اس بات کے کہہ خود کشی کر لیں اور میڈیا پر ہم یہی کچھ تو بتاتے ہیں

بتانا اور مسلمانوں نے تھا کہ خود کشی کرنے ضرورت نہیں ہے تو کافر کیا منافقت پھلاتے ہیں کہ جتنی دفعہ تم خود کشی کانام لوگے کہ اسلام قبول کرو گے تو ایسے حالات سے بچ جاو گے تو ہم میڈیا میں یہ پھیلا دیں گے اس فلاں فلاں ملوانے نے فلاں جگہ پر خود کش حملہ کر دیا ہے اور ہم دہشت گرد بنا کر تم کو مار دیں گے اللہ کی پناہ مشرکوں اور کافروں اور ہندووں کے شر سے جو آنن فانن لفظ کو لے کر جملوں میں استعمال کرتے ہیں اور دو چار دس سے لے سو تک کو کہا جاتا ہے کہ اس لفظ کو جملوں میں استعمال کرو ایک دوسرے کی نقل نہیں کرنی اور سارے جملے جمع کر کے اس کو ایک کہانی بناتے ہیں اور پھر اسکرپٹ تحریر ہوتا ہے اس میں اداکاروں نے خودکشی کا ایسا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے کہ حقیقت کے قریب تر لگے جو بلکل حقیقت کے قریب خودکشی کا مظاہرہ کرکے دکھا دے جتنے بندے اس کہانی میں اداکاری کرتے ہیں وہ ماہر فنکار ہوتے ہیں اور ان کے پاس موجودہ ملک جس میں وہ یہ کام کر رہے ہوتے ہیں یا جس ملک کے لئے یہ کام کر رہے ہوتے ہیں اس کے لئے ایک ایشو بنا لیا جاتا ہے ہوتی اداکاری ہے اور اس بات کو اس ایشو خبریں بنا کر منظر عام پر لایا جاتا ہے اور داعیان حق جب اس کو باطل قرار دیتے ہیں تو ان کے ساتھیوں کو شاگردوں کو اہل و عیال کو سازش کا شکار کر دیا جاتا ہے اور بلیک میل کیا جاتا ہے اور بات جب چیلنج کی ہوتی ہے تو جادوگروں سے کام لیا جاتا ہے اور جادوگر مردہ دوبارہ زندہ کرنے کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کا مظاہرہ ایسے ہی ہوتا ہے کہ جیسے یہودیوں کی پرانی مکّارانہ اور منافقانہ عادت ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندے کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ایمان نا لائیں گے جب تک اس چیلنج کو قبول نا کیا جائے گا اور پھر جب وہ اللہ سے دعا کرکے کافروں کے چیلنج کو حقیقت کا روپ دلاتا ہے تو دوسری پارٹی اپنا اسکرپٹ لے کر آ جاتی اور ان کو روپ بدل بدل کر دعائیں کرائی جاتی ہیں اور ان سے فارمولے پھوچھے جاتے ہیں کہ آپ میں ایسی صلاحیّتیں کیسے پیدا ہوئیں ہیں اور ان کو اپنا زبردستی مہمان بنایا جاتا ہے اور ان سے کرامتوں پہ کرامتیں دکھاتے رہنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے

مقابلے پہ ان سائنس دانوں کو لایا جاتا ہے کہ ان سائنس دانوں نے بجلی پیدا کی سائنس دانوں نے گیس ایجاد کی ٹیلی فون ایجاد کیا ٹی وی انٹرنیٹ میڈیا ریڈیو اخبارات پریس اور دوسری ایجادات کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ جس طرح انھوں نے ساری دنیا میں انقلاب بپا کیا ہے انفرمیشن ٹیکنالوجی ساری دنیا میں پھیلائی ہے اور سینکڑوں زبانیں ہیں اور چینلز ہیں انٹر نیٹ میں کیا کچھ نہیں ہو رہا ہے یہ بلیک میلنگ کا سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا جارہا ہے کہا یہ جاتا ہے کہ اولیا ء کے پاس کرامت اور دعا لی جاتی ہے اسی طرح ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیا جاتا ہے سرکس میں کام والیاں کہتی ہیں کہ ہماری دعا ہماری ٹانگوں کے درمیان ہے وہ بھی بلیک میلنگ سے محفوظ نہیں ہے جسم کی نمائش تو دور کی بات ہے ناچنا گانا تو دور کی بات ہے لیڈیز فرسٹ ہے بلیک میل ہونے کے لیے کیوں کہ کمزور ہے صنف نازک ہے یہی تو یہودیوں کی وہ پرانی عادت ہے کہ وہ عورتوں کو ہتھیار بنالیتے ہیں جب عورتیں دوسری عورتوں کی عادتیں بگاڑ دیں گی تو ہماری فتح یقینی ہے جو ہمسائے یہودی ہوتے ہیں وہ اچھے سلوک کے حق دار کیسے ہو سکتے ہیں ان کو نکال باہر کرنا چاہیے ان سے بائیکاٹ کرنا چاہیے لیکن وہ بلیک میلنگ ہی ایسی مہارت سے کرتے ہیں کہ ان کے جانے بعد بھی طویل عرصے تک درد سہنا پڑتا ہے اور دین اور عقیدہ سے ایمان اٹھ جاتا ہے جیسا کہ اب سکولوں میں یہودیوں کی سازشیں عروج پر ہیں اور وہی تو مساجد ضرار کا کام کررہے ہیں اب جب دنیا خاص طور پر پاکستان میں سب اس مرض کا شکار ہو چکے ہیں الّاما شاء اللہ مگر جو اللہ چاہے اگر میں یہ بات کر رہا ہوں تو مجھے بھی ان سوالات کا سامنہ کرنا پڑے گا کہ آْپ نے بھی تو آٹھ سال تک سکول میں پڑھا ہے لیکن اب جو خود کرتے رہے اس سے دوسروں کو کیسے روکا جاسکتا ہے اللہ کی پناہ کہ یہ تو پیغمر صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا گیا ہے کہ آپ نے وہاں کھڑے بھی نہیں ہونا اور مسجد ضرار کو گرا دینا ہے اب جب اس قدر غالب آچکے ہیں تو وہ صاف کہتے ہیں کہ جس میں جتنا ہے دم گرا لے ہم نے سب برابر کر دیا ہے اللہ کی پناہ مشرکوں کے شر سے

اس طرح سے شرک کرنے پر عوام کو مجبور کر دیا جاتا ہے اور ساری سہولیات گنوا کر جھوٹے وعدے دلا کر لوگوں شرک پر ایسے چلایا جاتا ہے کہ عوام کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم سے کتنا بڑا گناہ کرایا جارہا ہے اور اب تو تبلیغ کی راہیں بھی یہ کہہ کر بند کر دی جاتی ہیں کہ شرک کرنے سے تم کو فرست ہی نہیں ملے گی تو توحید کو کیسے اختیار کرو گے اور توحید کی تبلیغ کیسے کرو گے جب ہم توحید کے لئے کوئی ٹیکنالوجی ہی استعمال نہیں کرنے دیں گے اب جب کہ سیاست دان اس موضوع پر بات ہی نہیں کرتے کہ توحید کی یہ بات ہے اسلام کی یہ بات ہے اب تو صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ اب تو بہت دیر ہوچکی ہے جیسے ایک بھائی اپنی دو بہنوں سے کہتا ہے کہ گھر 10 بجے سے پہلے آجایا کرو بھابی کہتی ہے کہ کیا تم غیرت مند بننا چاہتے ہو تو بھائی نے جواب دیا کہ اب تو اس کام میں بہت دیر ہوچکی ہے تو ایسی صورت میں جھوٹ کا سہارا لینا لازمی ہے اور جب بلیک میلنگ ہو رہی ہو تو ناچنا گانا اداکاریاں بدکاریاں اور غلط کاریاں کرنی ہی پڑتی ہیں جب حکمران نااہل ہوں تو بلکہ جو عورتوں کو ہتھیار بنانے کی اور ایموشنل بلیک میلنگ کی یقین دہانی غیر ملکی این جی اوز کو دلاتا ہے اسی کو تو رہنما نیتا پیر استاد بنایا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بے وقوف بنانے ترکیبیں جانتا ہے چاہے وہ سب سے بڑا خود خود ہو صرف اس نے وعدہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم آپ کی یہودیت کی اور دجالیت کی پاسداری کریں گے ہم آپ سیکورٹی فراہم کریں گے آئیں اور جیسے مرضی قانون کی دھجیاں اڑاتے رہیں ہم ذمّہ داری خود بھی قبول کریں گے اور جس پا آپ کہیں گے اس پر ڈال دیں گے اور وہ کہتے ہیں کہ آپ کی موجودگی میں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں حکم ہی نافذ ہو رہے ہیں اسی لئے تو ہم کہتے ہیں ایک مسجد ضرار کو منع کیا گیا ہے اب ہم نے مسلمانوں کے ملکوں لاتعداد مساجد ضرار بنادی ہیں سکولوں کی حاضری مسجدوں میں کرانی ہوگی اس کے لئے جہاد کا آغاز کرنا ہوگا یہودیوں کا آج بھی یہ ہی کہنا ہے جو موسیٰ سے تھا کہ اللہ اور موسیٰ ہی کافی ہیں اس بات کو خدیجہ {کتیجہ } ہی جب سچ کہتی ہے اور کہتی ہے کہ میں بلیک میل ہورہی ہوں -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 84217 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jan, 2018 Views: 421

Comments

آپ کی رائے