نوٹ بک آخر بولتی کیوں نہیں ؟

تحریر ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی

نوٹ بک آخر بولتی کیوں نہیں؟

کلاس ختم ہوتی ہے، گھنٹی بجتی ہے، بچے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور کمرہ خالی ہو جاتا ہے، مگر میز پر رکھی نوٹ بک وہیں رہ جاتی ہے۔ خاموش۔ ساکت۔ بظاہر بے جان۔ مگر حقیقت میں یہ خاموشی عام نہیں ہوتی۔ یہ خاموشی سوال کرتی ہے۔ ایسا سوال جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔

نوٹ بک محض چند صفحات کا مجموعہ نہیں۔ یہ طالب علم کے ذہنی سفر کی تحریری شکل ہوتی ہے۔ ہر صفحہ ایک کہانی سناتا ہے، ہر سطر ایک مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے اور ہر لفظ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سبق کس حد تک سمجھا گیا۔ کہاں گرفت مضبوط ہے اور کہاں رہنمائی درکار ہے۔ مگر افسوس کہ یہ کہانیاں اکثر پڑھی ہی نہیں جاتیں۔

عملاً ہوتا یہ ہے کہ نوٹ بک کھلتی ہے، چند صفحات پلٹے جاتے ہیں اور پھر بند ہو جاتی ہے۔ آخر میں ایک دستخط، ایک تاریخ اور بس۔ نہ اصلاح، نہ وضاحت، نہ حوصلہ افزائی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیکھنے کا عمل کمزور پڑنے لگتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دستخط ہو گئے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا مقصد پورا ہوا؟

نوٹ بک چیکنگ بظاہر ایک سادہ اور معمولی سا عمل دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک نہایت سنجیدہ اور اثر انگیز مرحلہ ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں طالب علم کا اعتماد بنتا بھی ہے اور بکھرتا بھی۔ ایک غلطی نظر آتی ہے مگر درست نہیں کی جاتی، ایک کمزور جملہ پڑھا جاتا ہے مگر سمجھایا نہیں جاتا، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی غلطی بار بار دہرائی جاتی ہے اور سیکھنے کا دروازہ آہستہ آہستہ بند ہونے لگتا ہے۔

نوٹ بک دراصل خود بولتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کہاں طالب علم الجھا، کہاں اس کی سمجھ رک گئی اور کہاں اسے ایک جملے کی رہنمائی درکار ہے۔ مگر اکثر اسے سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ کبھی وقت کی کمی کا بہانہ سامنے آتا ہے، کبھی کام کے بوجھ کا اور کبھی نصاب کی طوالت کا۔ مگر سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: کیا سیکھنے کا عمل انتظار کر سکتا ہے؟

چند اصلاحی نشان، چند رہنمائی کے الفاظ اور چند حوصلہ افزا جملے ہی وہ اصل سرمایہ ہوتے ہیں جو طالب علم کے اندر اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ جب نوٹ بک پر“بہتر کوشش”،“مزید توجہ درکار ہے”یا“خیال اچھا ہے”جیسے الفاظ درج ہوں تو آنکھوں میں ایک خاص چمک پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ چمک نمبروں کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ توجہ اور دلچسپی سے جنم لیتی ہے۔

نوٹ بک چیکنگ صرف تحریر کا جائزہ نہیں، بلکہ نظم و ضبط، سلیقے اور ذمہ داری کی تربیت بھی ہے۔ وقت پر کام مکمل کرنا، صاف اور مربوط تحریر، درست ترتیب اور تسلسل وہ عادات ہیں جو آہستہ آہستہ طالب علم کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ لیکن جب یہ عمل رسمی ہو جائے تو طالب علم بھی رسمی ہو جاتا ہے، سوال ختم ہو جاتے ہیں اور تجسس دم توڑنے لگتا ہے۔

انتظامی سطح پر ریکارڈ بنتے ہیں، فائلیں مکمل ہوتی ہیں اور رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں، مگر اصل سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ کیا نوٹ بک واقعی پڑھی جا رہی ہے؟ دوسری طرف گھر کا ماحول بھی اس خاموشی میں شریک ہو جاتا ہے۔ نوٹ بک بیگ میں بند رہتی ہے اور وہ پل کمزور پڑ جاتا ہے جو گھر اور تعلیمی عمل کو جوڑتا ہے۔

تعلیم صرف نمبروں اور نتائج کا نام نہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے، ایک طویل سفر ہے۔ اور اس سفر کی سب سے سچی ڈائری نوٹ بک ہوتی ہے۔ آخر میں ایک سادہ مگر گہرا سوال خود کو دہراتا ہے: اگر نوٹ بک بول سکتی تو وہ کیا کہتی؟ شاید یہی—
“مجھے پڑھ لو، میں سب بتا دوں گی۔”

 

Dr-Muhammad Saleem Afaqi
About the Author: Dr-Muhammad Saleem Afaqi Read More Articles by Dr-Muhammad Saleem Afaqi: 58 Articles with 62655 views
Dr. Muhammad Saleem Afaqi is a prominent columnist and scholar from Nasar Pur, GT Road, Peshawar. He earned his Ph.D. in Education from Sarhad Unive
.. View More