معاشرتی بگاڑ کی وجہ

(Shehryar Shoukat, )

کچھ روز قبل ایک ٹی وی شو کی ویڈیو منظر عام پر آئی ،ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوگئی۔ویڈیو کسی بھی طرح سے ہماری ثقافت ومذہب کے مطابق نہ تھی،منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کم عمر بیٹیوں کو بھارتی آئٹم گانوں پر رقص کروایا جارہا تھا،رقص اس قدر بیہودہ تھا کہ شاید بھارتی اداکارائیں بھی دیکھ کر شرما گئی ہوں۔سوشل میڈیا پر جس کسی نے بھی ویڈیو شئیر کی اس نے ساتھ پروگرام ہوسٹ کے خلاف دل کی بھڑاس نکالی،یقینی طور پر اس قسم کے پروگرام کرانا اور بچیوں کو سرعام نچوانا غلط ہے،پیمرا کو اس پروگرام پر پابندی عائد کرنی چاہیئے،بلکہ صرف اس پر ہی نہیں اس جیسے ہر پروگرام پر پابندی عائد ہونی چاہیئے۔لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا پروگرام میں رقص کرنے والی بچیوں سے زبردستی رقص کرایا گیا ہے؟یا اس پرفارمنس میں ان کے والدین کی مرضی شامل تھی؟

اس ویڈیو کو بار بار سوشل میڈیا پر دیکھ کر ایک اور منظر ذہن میں آگیا ،کچھ دن قبل ایک اسکول کی تقسیم انعامات کی تقریب تھی۔تعلیم سے کچھ عرصہ وابستگی کے باعث اسکول انتظامیہ نے مجھے بھی دعوت نامہ بھجوا دیا۔دعوت نامہ دیکھ کر مجھے اپنا زمانہ طالب علمی یاد آگیا۔اس دور میں تقریب تقسیم انعامات میں ایسی شخصیات کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا جاتا تھا جن کی تعلیم کے شعبے میں خدمات کا کوئی ثانی نہیں ہوتا تھا۔ان افراد کی گفتگو سے طالب علموں کو کامیاب زندگی گزارنے کے گر ملا کرتے تھے،اس دور کے پروگرامز کا ایک مقصد تو طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا تھا۔ساتھ ہی اس نوعیت کی تقریبات کی بدولت طالب علموں میں جذبہ حب الوطنی بھی ابھارا جاتا تھا۔پرگرام میں پیش کئے جانے والے اکثر ڈرامے پاکستان کے ہیروز اور محسنوں کی داستانوں پر مبنی ہوا کرتے تھے،کوئی طالب علم میجر عزیز بھٹی شہید بن کر انکی بہادری کی داستان سنایا کرتا تھا تو کوئی راشد مہناس شہید کے کردار میں نظر آتا تھا۔طالبات بھی فاطمہ جناح کے روپ میں بے حد اچھی نظر آتی تھیں۔

کشمیر چونکے پاکستان کی شہ رگ ہے اسلئے اسے بھی فراموش نہیں کیا جاتا تھا،ان دنوں کشمیر پر مبنی عبدالراؤف خالد کے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ڈراموں میں سے اساتذہ مختلف کہانیاں چن لیتے تھے جن پر طالب علم بہترین پرفارم کیا کرتے تھے۔یہ سب مناظر اپنی آنکھوں میں سجائے ،بچپن کی یادوں کو تازہ کرنے میں بتائے گئے ہال کے قریب پہنچا۔منزل پر پہنچتے ہی مجھے گمان ہوا کہ شاید میں غلط جگہ آگیا ہوں یا شاید دعوت نامے پر مقام ہی غلط درج تھا۔ہال میں سے بلند آواز میں ہندوستانی گانوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔گانے بھی کوئی عام نوعیت کی شاعری پر مبنی نہ تھے۔ان گانوں کے بارے میں اتنا تو ضرور کہہ سکتا ہوں کے کوئی شریف آدمی بھری محفل میں ان گانوں کو گنگنانے سے گریز ہی کرتا ہوگا۔خیر ہال کے دروازے پر موجود چوکیدار سے دریافت کیا کہ بھائی فلاں اسکول کی تقریب تقسیم انعامات اسی جگہ ہورہی ہے؟انگریزی میڈیم اسکول کے گیٹ کیپر نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا سر! اسکول کا نام تو یہی ہے مگر آپ کی بات میری سمجھ میں بالکل نہیں آئی۔مجھے اس وقت اپنی اردو بولنے کی عادت پر ندامت ہوئی اور میں نے دماغ میں انگریزی کے الفاظ جوڑ ٹوڑ کر ہمت کی اور کہا Annual Prize Distriution Ceremony یہیں ہورہی ہے؟ جس پر محترم نے منہ بنا کر کہا پہلے ہی ایسے پوچھ لیا ہوتا۔۔جی بالکل یہیں ہورہی ہے۔

ہال میں جس قسم کے گانے چل رہے تھے اس سے مجھے اندیشہ ہوا کہ شاید بچوں کے والدین اور اساتذہ موجود نہ ہوں اور طالب علموں نے یہ شرارت کی ہو،اب والدین اور اساتذہ کے آتے ہی طلبہ کی مرمت کا سلسلہ شروع ہوگا۔اندر جا کر علم ہوا کہ والدین اور اساتذہ تو موجود ہیں مگرفی الوقت پروگرام کا آغاز نہیں ہوا۔ان گانوں کی بدولت ساؤنڈ سسٹم چیک کیا جارہا ہے،کچھ ہی دیر میں پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔اچھے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔تلاوت کے بعد پروگرام کی نظامت سرانجام دینے والے طالب علم نے اعلان کرتے ہوئے جماعت پنجم کے طلبہ و طالبات کو اسٹیج پر آکر پرفارم کرنے کی دعوت دی۔دل میں خیال آیا کہ بچیاں کشمیر کی مظلوم بہنوں کا کردار ادا کریں گی جبکہ بچے کشمیری مجاہدین کے روپ میں نظر آئیں گے۔یا پھر بچے پاکستانی فوج کے جوان کا کردار پیش کریں گے اور بچیاں شہری دفاع کی ذمہ داریاں نبھاتی نظر آئیں گی۔

یہ سب خیالات خاک میں مل گئے۔۔طالب علموں کے اسٹیج پر آتے ہی ایک بار پھر ہال میں بھارتی گانوں کی گونج سنائی دینے لگی،اور مستقبل کے ستارے ان ہی گانوں پر پرفارم کرنے لگے،افسوس ہال میں اساتذہ بھی موجود تھے اور بچوں کے والدین بھی ،اور سب کی سامنے ایک درسگاہ کے اسٹیج پر کسی کی شیلا جوان ہورہی تھی تو کسی کی منی بدنام ہورہی تھی۔انتہائی حیرت کی بات یہ تھی کہ میری ساتھ والی نشست پر موجود شخص نے انتہائی فخر سے مجھے بتایا کہ یہ جو بچی اسٹیج پر ہے یہ میری بیٹی اسے ڈانس کا جنون ہے۔مجھے پوری امید ہے کہ یہ اس فیلڈ میں بہت آگے جائے گی۔۔۔افسوس۔۔افسوس

یہ صورت حال کسی ایک اسکول یا کالج کی نہیں ،اسلامی ملک میں موجود اکثر درس گاہیں اس طرح کے پروگرامز کرانا لازم سمجھتے ہیں اور والدین بھی اس سب کو پسند کرنے لگے ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی اکثر ایسی ویڈیوز سامنے آتی ہیں جس میں معصوم بچے کسی غیر اخلاق گانے پر ڈانس کر رہے ہوتے ہیں اور اس کے بزرگ اس کی ویڈیو بنا بنا کر اپلوڈ کر رہے ہوتے ہیں۔اس سب کے باوجود کیا ذمہ دار صرف وہ ایک پروگرام ہوسٹ ہے جس کے پروگرام میں کم عمر بچیاں ناچتی ہیں؟یا پھر ذمہ دار ہر وہ فرد ہے جو اس قسم کی سرگرمیوں کو اپنے بچوں یا طالب علموں کے لئے پسند کرتے ہیں۔کیا یہ سب بے حیائی ہمارا کلچر ہے؟کیا یہ ہمارا دین ہے؟یا پھر یہی ہماری ریوایات ہیں؟ہرگز نہیں نہ تو یہ ہمارا دین ہے نہ ہمارا کلچر۔۔

جو اقوام دوسروں کی پیروی میں اپنا کلچر بھلا دیتی ہیں وہ تباہ ہوجاتی ہیں اور تاریخ میں ان کی کوئی شناخت باقی نہیں رہتی۔میری تمام والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے دیں جو ہمارے دین اور ثقافت کے منافی ہو یا جس کی وجہ سے ہمارے بچے بے راہ روی کا شکار ہوں،نہ ہی ایسے لباس کو باعث فخر سمجھا جائے جس کے باعث لوگوں کی ناپاک نگاہیں اٹھیں۔میری اسکو ل و کالج مالکان سے بھی گزارش ہے کہ درسگاہ کو عبادت گا ہ کا درجہ حاصل ہے لہذا اس کے تقدس کو پامال نہ کیجئے۔درسگاہوں کا مقصد طالب علموں کو بہترین تعلیم دینا اور ان کی اخلاقی تربیت کرنا ہے،ناچ گانا سکھانا اسکولوں اور کالجوں کی ذمہ داری نہیں ہے نہ ہی ان کو یہ زیب دیتا ہے۔

تمام اسکولوں اور کالجوں کے مالکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو بہترین دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی دیں غیر مسلم طلبہ کیلئے اخلاقیا ت کی کلاسز کا انتظام کیا جائے ،مسلمان بچوں کو عربی اور قرآن پڑھایا جائے ساتھ ہی ایسے سیشنز کا انعقاد کیا جائے جس میں طالب علموں کو پاکستان کی تاریخ کے بارے میں بتایا جائے،پاکستان کے قومی ہیروز کی یادہانی کرائی جائے ،اگر ہم سب نے انفرادی طور پر اپنی ذمہ داریاں نہ نبھائیں تو ہم سب معاشرے اور آنے والی نسلوں کی تباہی کے ذمہ دار ہوں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shehryar Shoukat

Read More Articles by Shehryar Shoukat: 19 Articles with 9681 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jan, 2018 Views: 430

Comments

آپ کی رائے