انصاف کی آبرو

(Dr B.A Khurram, Karachi)

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر عبدالمجید چوہدری
حضر ت آدم علیہ ا لسلا م سے پیغمبر آخر ا لزما ں حضر ت محمد صلی ا ﷲ علیہ وسلم تک جتنے بھی ا نبیا ء کر ا م مبعو ث ہو ئے اور کتب سما و یہ نا زل ہو ئیں ، ان سب کا ا ہم مقصد یہی تھا کہ ان کے ذریعہ د نیا میں ا نصا ف اور اس کی بدولت امن و اما ن کا قیا م عمل میں آئے قر آن کر یم میں اﷲ تعا ٰلی نے نبی پا ک صلی ا ﷲ علیہ و سلم کو یہ ا علا ن عا م کی ہد ا یت فر ما ئی ۔ مجھے اﷲ کی طر ف سے تمہا رے درمیا ن عدل و ا نصا ف کا حکم دیا گیا ہے ۔اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فر ما یا میر ا یہ کا م نہیں کہ کسی کے حق میں اور کسی کے خلا ف تعصب بر تو ں ، میر ا سب ا نسا نو ں سے یکسا ں تعلق ہے اور وہ ہے عدل و انصا ف کا تعلق حق جس کے سا تھ ہو میں اس کے سا تھ ہو ں اور حق جس کے خلا ف ہو میں اس کا مخا لف ہو ں ۔ رسو ل اﷲ صلی علیہ وسلم نے فر ما یا میر ے دین میں کسی کے لئے کو ئی بھی ا متیا ز تفر یق نہیں ہے اپنے اور غیر ،چھو ٹے ا ور بڑے،شر یف اور کمیں کے لئے الگ الگ حقو ق نہیں جو کچھ حق ہے وہ سب کے لئے حق جو حر ا م ہے وہ سب کے لئے حر ام اور جو فر ض وہ سب کے لئے فر ض ۔اور فر ما یا میر ی ذات بھی قا نو ن خد ا وند ی کے اس ہمی گیر اصول سے مشتنی نہیں ۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ تم سے پہلے جو ا متیں گز ر ی ہیں وہ ا سی لئے تباہ ہو ئیں کہ وہ لو گ کمتر درجہ کے مجر مو ں کو قا نو ن کے مطا بق سزا د یتے اور اونچے درجہ والو ں کو چھو ڑ دیتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی جا ن ہے ، ا گر محمد صلی ا ﷲ لیہ و سلم کی بیٹی سے بھی چو ر ی سر زد ہو تی تو میں ضر ور اس کا ہا تھ کا ٹ دیتا ۔ مد ینہ منو ر ہ میں ا کثر غیر مسلم مسلما نو ں کے خلا ف مقد مے رسو ل اﷲ صلی علیہ و سلم کی خد مت میں لا تے تھے ا س میں غیر مسلمو ں کے حق میں بھی فیصلے ہو کر تے ۔حضر ا ت صحا بہ کر ا م کی ز ند گی ا یسے ہی بے مثا ل کا ر نا مو ں سے بھر ی پڑ ی ہے ۔ یہی و جہ تھی جب حق و ا نصا ف تھا ۔ شیر اور بکر ی ا یک گھا ٹ پر پا نی پیتے تھے ۔جب سے حق و ا نصا ف سے دو ر ی ہو ئی بد ا منی اور انا ر کی کا را ج شر و ع ہو گیا ۔حقیقت ہے ا گر آ ج ا نصا ف ہو تا تو فسا دا ت رو نما نہ ہو تے شکا یتیں نہ ہو تیں ، ہٹر تا ل اور مظا ہر ے نہ ہو تے ۔ا ب بھی خد ا شنا سی ، ملک دو ستی اور اس کے سا تھ و فا داری کا حق یہ ہے کہ ہر فر اپنے دا ئر ہ ا ختیا ر میں ا نصا ف کو ا پنا شعا ر بنا لے ۔ جج ہو تو صحیح ا نصا ف کر ے حا کم وقت ہو تو ا یک سا معا ملہ کر ے پا ر لمنٹر ین یعنی عو ا م کا نما ئند ہ ہو تو عو ا م کی آ وا ز ا یو ا ن تک پہنچا ئے اور عو ا م کی سہو لت کے لئے قا نو ن سا زی کر و ا ئے ۔نہ کہ قا نو ن سا ز ا درے پہ لعنت بھجیے۔د فتر ی ملا ز م ہو تو ا پنے کا م سے ا نصا ف کر ے ۔محلہ دار ہو تو پڑو سیو ں کی خبر گیر ی کر ے ، پو لیس وا لا ہو تو عو ا م کا خیا ل ر کھے جعلی پو لیس مقا بلہ میں عو ا م کا قتل نہ کر ے اور عو ا م کا دوست ہو نہ کہ شا ہ کا تھا نو ں میں سیا ست نہ ہو سیا سی فا ئد ے کے لئے ، سیا سی ا یف آئی آ ر نہ ہو ۔عو ا م کے جا ن ما ل کے تحفظ کر ے ۔ آج کل جو ہو رہا ہے کہیں قا نو ن کے نا م پر لا قا نو نیت تو نہیں ہو رہی ؟قا نو ن کے ہا تھ لمبے یا پھر قا نو ن ا ند ھا ۔۔۔ ؟ ان کا و نٹر کے نا م پر کہیں قتل غا ر ت تو نہیں ؟ عو ا م کی جا ن ما ل کے محا فظ ہی قا نو ن شکن ۔۔ ؟ جن لو گو ں نے قا نو ن سا ز ی کر نی تھی ا س لئے کہ مجر م سز ا سے بچتے کیو ں ہیں ۔۔؟ ا ن محتر م لیڈر صا حبا ن کو حکمر ا ن جما عت ہو یا ا پو زیشن جما عت وہ کہا ں فا ر غ نظر آ تے ہیں ایک دو سر ے پہ نا منا سب اور تو ہین آ میز جملے کسنے سے اور تو اور سیا سی لیڈر جس پا ر لمنٹ کے قا ئد بننے کے لئے ہز ار جتن کر ر ہے ہیں اسی کو گا لی دیتے ہیں اوران کی داد کے لئے دو سر ے قا ئد ین ان کو ا س گا لی دینے پر مین آ ف دی میچ کا ا یو ا ڑ دیتے ہیں ۔۔ افسو س صد ا فسو س

ا گر ہم نے ا نسا نیت کو ا پنا کر وقت اس کے تبا کن د ھا ر ے کو مو ڑ نے کی کو شش نہ کی ایک دو سر ے کو ا لفت ، پیا ر اور محبت کا سبق نہیں دیا تعصب ، ظلم اور فسا د کا طر یقہ ا پنا ئے ر کھا ، ا نسا نیت ا سی طر ح کچلی جا تی ر ہی بن کھلے پھو لو ں کو ا سی طر ح مسلا جا تا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہما را ا نجا م ا نتہا ئی دہشت نا ک ہو گا اور ہما را کو ئی پر سا ن حا ل نہ ہو گا ۔اب بھی خد ا شنا سی ، ملک دوستی اور اس کے سا تھ وفا داری کا حق ہے کہ ہر فرد اور ا دارہ ا پنے دائرہ اختیا ر میں ا نصا ف کو ا پنا شعا ر بنا لے ہما را ملک جنت کا نمو نہ بن جا ئے درا صل کسی ملک اور قو م کی تر قی کا رازاس میں ہے کہ اس کے ا ندار اس قسم کے ز ندہ ا فر ا د ہوں جو مصلحت اور ذاتی مفا د کے مقا بلہ میں عو ا می فا ئد ہ اور ا صو ل کو ا ہمیت د یتے ہو ں ۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 553 Articles with 238087 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jan, 2018 Views: 417

Comments

آپ کی رائے