جذام کا عالمی دن:28جنوری2018ء

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

World Leprosy Day 2018
پاکستان میں جذام کے حوالے سے جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی

جذام یا لپروسی کا عالمی دن ،28جنوری2018ء ، بنیادی مقصد اس مرض کے بارے میں عوام میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس مرض کو کوڑھ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال 210,000 جذام کے مریض سامنے آتے ہیں۔ یہ ایک عدوی مرض infectious diseaseہے جو ایک جراثیم ، جس کو متفطرہ جذامmycobacterium lepraeکہا جاتا ہے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس مرض کا جراثیم ٹی بی کے جراثیم کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض کے جراثیم انسان میں سانس کے راستے داخل ہوتے ہیں۔ یہ انسانی جلد پر ہلکی رنگت والے ، بے حس دھبے یاورم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ انسانی اعضاء کو ناکارہ بنا دیتا ہے ۔اس مرض کے حوالے سے جرمن ڈاکٹر رتھ پاؤ کا کردار قابل تعریف ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس مرض کے مریضوں خدمت اور اس کے خلاف کام میں گزاری۔ ڈاکٹر رتھ کی خدمات اور ان کی زندگی کے بارے میں راقم نے ایک مضمون ڈاکٹر رتھ پاؤ کے انتقال پر تحریر کیا تھا جس سے اس مرض ا ور ڈاکٹر رتھ پاؤ کے بارے میں بخوبی آگاہی ہوتی ہے۔

60کی دیہائی کا ذکر ہے ، ایک نوجوان لڑکی اپنا وطن جرمنی چھوڑ کر پاکستان آئی۔ اس وقت اس کا پاکستان آنا ممکن ہے سیر و سیاحت کی غرض سے ہوا ہو یا کوئی اور مقصد بھی ہوسکتا ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سر شار تھی ، یہ جذبہ اس کے اندر موجود رہا ہوگا۔ اپنے اس جذبے کے تحت وہ کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جو مختلف ہو اور انسانیت کے خدمت سے اس کا تعلق ہو۔ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران وہ کراچی پہنچی اس زمانے میں کراچی مختصر ، صاف ستھرا ، ہنگاموں، ڈرو خوف، دہشت گردی سے پاک صاف ہوا کرتا تھا۔ لوگ سرکاری بسوں ، گھوڑا گاڑیوں ، تانگوں ،بگیوں، سائیکل رکشاؤں، ٹرام اور پیدل سفر کیا کرتے تھے۔ جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ کا گزر میکلورڈ ر(آئی آئی چندریگرروڈ) پر سٹی اسٹیشن کے عقب میں ایک مخصوص بستی میں ہوا ، ہوسکتا ہے اُسے کسی نے بتا یا ہو کہ کراچی میں ایک ایسی خوف ناک بستی بھی موجود ہے جہاں کے مکین نہ امیدی اور بے سہارگی کی زندگی بسر کررہے ہیں، لوگ ان کے نذدیک جاتے ہوئے خوف کھاتے ہیں۔ عام طور پر سیاح جب کسی شہر کی سیاحت کو جاتے وقت وہاں کے خاص خاص مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کر کے جاتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ کراچی میں قائم کوڑھیوں اور جذامیوں کی اس بستی کے بارے میں تھ فاؤ کومعلومات ہوں ۔ خیر یہ جوان لڑکی کراچی کی اس بستی میں پہنچی۔ اس نے جب اس بستی کے مکینوں کی حالت زار کو دیکھا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اسے اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ پاکستانیوں نے ایسے مریضوں کو ایک الگ تھلگ علاقے میں بے یار و مددگار چھوڑا ہوا ہے ۔کوئی سابھی قسم کسی کو بھی کسی بھی وقت لاحق ہوسکتا ہے۔ جس طرح موت اللہ کے اختیارمیں ہے اسی طرح موت کا سبب بننے والا مرض بھی اللہ ہی کی عطا ہے ۔ وہ مرض دیتا بھی ہے، شفاء بھی دیتا ہے اور وہ مرض اسی کے حکم سے موت کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ اس بستی کے مکینوں کو دیکھ کر ڈاکٹر رتھ فاؤ حیران و پریشان ہوئی کہ کتنے ہی لوگ کوڑھ جیسی بیماری میں مبتلہ کرب و اذیت کی زندگی گزار رہے تھے ۔ ان کوڑھیوں اور جذامیوں کا دکھ رتھ فاؤ کے اندر سرائیت کر گیا اس نے اُسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ اُسے اس کے خواب اور خواہش کی تعبیر مل گئی،وہ ایسے ہی دکھی لوگوں کا سہارا بننا چاہتی تھی جنہیں لوگ اپنے لیے خطرہ اور مصیبت سمجھ کر اپنے سے جداکردیتے ہیں، نہ ان کے کھانے کی فکر ، نہ علاج کی فکر، کھلے آسمان تلے انہیں اللہ کے سہارے چھوڑ کر اپنی راہ لیتے ہیں۔ آج تو بے سہارا افراد کی بحالی کے بے شمار مراکز قائم ہیں اُس دور میں تو اس قسم کے ادارے بھی ناپید تھے۔ اب وہ ایسے ہی دکھی انسانیت کی خدمات میں اپنی باقی زندگی گزارنے کا عہد کرچکی تھی۔اسے کراچی کی اس کوھڑیوں کی بستی اور باقی شہر کے مکینوں کے درمیان ایک دیوار حائل نظر آئی جس دیوار کو مسمار کرنے کا جذبہ اس کے اندر پیدا ہوا اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس دیوار کو ایک نہ ایک دن گراکر دم لے گی۔ یہی جذبہ اس بات کا سبب بنا کہ اس نے اب اپنے وطن جرمنی نہ جانے کا فیصلہ کر لیا اور اپنی بقیہ زندگی جذامیوں کے علاج اور انہیں سہارا دینے میں بسر کرنے کا مسمم ارادہ کر لیا۔ ان مریضوں اور بے سہارا لوگوں کے علاج اور انہیں تسلی و تشفی دینے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ زندگی بسر کرنا شروع کی۔ علاج تو بعد کی بات تھی جب وہ ان دکھی اور بے سہارا مریضوں کے قریب گئی ، انہیں گلے لگایا، تسلی تھی، حوصلہ دیا تو وہ مکین حَیرَت و تحیُرکی مورت بن گئے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی نوجوان لڑکی اس طرح انہیں گلے لگا ئے گی، تسلی و تشفی دے گی، وہ تو دور دور سے لوگوں کو چلتے پھرتے دیکھا کرتے تھے، لوگ کھانا بھی دور ہی سے انہیں ڈال دیا کرتے تھے۔ یقیناًاس وقت ان مریضوں کے دل سے جو دعا نکلی ہوگی وہ سیدھی پروردگار کی بارگاہ میں پہنچی ہوگی تب ہی تو ڈاکٹر رتھ فاؤ اپنے مقصد میں قائم رہی اور دکھی انسانیت کی خدمت کرتی رہی۔ ڈاکٹر رتھ فاؤنے اپنے کام کا آغاز کیا وہ تو تنہا ہی چلی تھی جانب منزل لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا لیکن اس نیک کام کا بیڑا ڈاکٹر رتھ فاؤ نے تنہا ہی اٹھا یا تھا۔ نیک اور اچھے کام میں یقیناًلوگوں نے اور حکومتوں نے اس کی مدد کی ہوگی تب ہی تو وہ پورے پاکستان میں170 لپروسی ڈسپنسریا اور اسپتال قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کی خدمات کا کراچی کے ایک چھوٹی سی کلینک سے ہوا تھا جو بڑھ کر پورے پاکستان میں پھیلا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات سے جذام جیسا مرض پاکستان سے ناپید ہوگیا۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے اپنی تمام زندگی لپراسی کے علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال میں صرف کر دی۔ انہوں نے اپنے وطن کو خیر باد کہا، اپنی نجی زندگی کے بارے میں نہیں سوچا، اس کا مقصد لپراسی کے مریضوں کا علاج اور انہیں سہارا دینا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنی جوانی، اپنا بڑھاپہ سب کچھ نچھاور کردیا۔ یقیناًاللہ اس کی جزا اُسے ضرور دیں گے۔بدھ16 اگست 2017کو ڈاکٹر رتھ فاؤ اللہ کو پیاری ہوئیں۔ وہ پاکستانی تھیں لیکن اپنے مذہب پر قائم رہیں ۔ آنجہانی ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری رسومات ان کے عقیدہ کے مطابق 19اگست2017کو کراچی میں صدر میں واقع سینٹ پیٹرکس چرچ میں ادا کی گئیں۔انسانیت کے لیے ان کی عظیم الشان خدمات کے اعتراف میں ان کی آخری رسومات سرکاری اعزازات کے ساتھ ادا کی گئیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کو پاکستان کی مدر ٹریسا کا لقب بھی دیا گیا۔ جذام کے مریضوں اور جذام جیسے مرض کو پاکستان سے ناپید کرنے میں ڈاکٹر رتھ فاؤ نے جو خدمات انجام دیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 752 Articles with 639021 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
28 Jan, 2018 Views: 445

Comments

آپ کی رائے