پاکستانی پرچم میں لپٹے شہدائے شوپیاں

(Shumaila Javed Bhatti, )

کشمیر پر 27اکتوبر 1947ء کو جبراً بھارتی فوجی قبضے سے لیکر آج تک کشمیریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں کے علاقوں گنوپورہ اور بل پورہ میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے دو طالب علموں جاوید احمد اور سہیل جاوید کو ان کے آبائی علاقوں میں پاکستانی جھنڈے میں لپیٹ کر اور آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعروں کی گونج میں سپردخاک کیا گیا۔ ہزاروں افراد نے شہید طالبعلموں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ قاتل فوج کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ چھائے گنڈ قبرستان میں زائرین پر اندھا دھند فائرنگ پر مزاحمتی قیادت اور اپوزیشن سراپا احتجاج بن گئے۔ مختلف علاقوں میں مظاہرے بھی کئے گئے۔ مظاہرین یکی جانب سے فورسز پر پتھراؤ اور جواباً لاٹھی چارج کے ساتھ پیلٹ کے بے دریغ استعمال سے متعدد افراد زخمی ہو گئے اور وادی میں مکمل ہڑتال رہی۔ اس طرح کی صورتحال ہر دوسرے روز مقبوضہ کشمیر میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ بہرحال بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی سرعام مرتکب ہو رہی ہے جس پر دھیمے لہجے میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔ بھارتی فوج کشمیریوں کی قاتل ہے یہ کس طرح بھیانک طریقے سے کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ سرینگر میں بھارتی فوج نے ایک مکان کو بارود سے اڑایا پھر ملبے تلے دبے اہل خانہ کی چیخ و پکار کو نظر انداز کرکے باآواز بلند ایک با ریش نوجوان سے متعلق کہا کہ ’’داڑھی والا ہے ماردو اسے‘‘ اس کے ساتھ ہی بغیر کسی تحقیق کے داڑھی والے اس کشمیری زخمی نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ اسی طرح جعلی مقابلوں میں بے شمار کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ راشٹریہ رائفل کی طرف سے آٹھ ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کیے جانے کا اعتراف کیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک کسی عالمی عدالت نے بھارتی فوج کے جنگی جرائم کا مقدمہ درج نہیں کیا۔
 
اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق یا انسانی حقوق کی آزادی اور ضمانت۔ نہیں ہر گز نہیں بلکہ بھارتی فوج زیر قبضہ کشمیر میں تو آج تک نہ کشمیریوں کی زندگیاں محفوظ ہیں اور نہ عزتیں جبکہ قاتل بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں اب روز کا معمول بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی ان فائلوں پر عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے جو گرد سے اَٹ چکی ہیں اور یہی گرد اقوام متحدہ اور بڑے ممالک جو انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں کے دلوں پر بھی پڑ چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت کی تھی مگر ابھی تک نہ جانے وہ کون سے عوامل ہیں جو اس پر عملدرآمد کرانے سے اسے روکے ہوئے ہیں۔ کشمیریوں کا خون جس تیزی سے بہہ رہا ہے اور جو ظلم و جبر اور ریاستی دہشت گردی کے پہاڑ مظلوم کشمیریوں پر توڑے جارہے ہیں۔ اس کو تمام دنیا بے رحمی سے دیکھ بھی رہی ہے اور برداشت بھی کررہی ہے جبکہ افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ شروع کی گئی مگر بھارت کے معاملے میں اقوام متحدہ اور ترقی یافتہ انسانی حقوق کے محافظ ممالک خاموش بیٹھے ہیں ان کے ضمیر کشمیری مسلمانوں کے خون اور آگ میں فریادیں کرنے سے کیوں نہیں جاگ رہے یہ دوہرا معیار آخر کیوں ہے؟۔

27 اکتوبر 1947 ء کو بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر حملہ کردیا اور اپنی فوجیں اس علاقے میں داخل کردیں۔ بھارت دنیا کے سامنے یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں غداری کی وجہ سے حالات خراب ہیں جن کو قابو کرنے کیلئے فوجی طاقت کا استعمال ضروری ہے اور یہ کہ یہاں کے لوگوں کو خود مختاری کا حق قواعد کے تحت دیا جائیگا۔ بھارت کے یہ سب وعدے اور دعوے سراسر جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ اس کے قول و فعل میں بالکل ہی تصاد ہے۔ دراصل بھارت جموں و کشمیر پر اپنی گرفت رفتہ رفتہ مضبوط کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے اس نے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کیا۔ حتیٰ کہ بھارت نے اس بات کا خیال بھی نہیں کیا کہ جس میں وہ قانونی طور پر پابند ہے کہ کشمیر کے مستقل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونے والی رائے شماری میں کشمیر کے لوگوں کی رائے کے مطابق ہوگا۔ مسئلہ کشمیر اس وقت دنیا کا سب پرانا ’’نہ حل ہونے والا‘‘ مسئلہ ہے۔ یہ فوجی جارحیت کے سب سے بڑے مظاہرے کو پیش کررہا ہے جہاں 1990 ء سے کشمیری مسلمانوں کیخلاف بھارتی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی ان کی باقاعدہ مہم کا حصہ ہے۔ پچھلے انیس برسوں کے دوران کشمیر کی آزادی کیلئے آواز اٹھانے والوں کو جس بے دردی اور بہیمانہ طریقے سے ہلاک کیا گیا اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ 91330 سے زیادہ افراد کو بھارتی فوج نے موت کے گھاٹ اتار دیا جن کا قصور صرف آزادی اور خود مختاری کیلئے جدوجہد کرنا تھا۔ ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔ ہزاروں کشمیری خواتین کی عصمت دری کی گئی اور کئی دیہات ایسے ہیں جن کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔

کشمیر کے معاملے میں بھارت نے ہمیشہ سے ظالمانہ اور جابرانہ رویہ روا رکھا ہے۔ گزشتہ 61 برس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان اس مسئلے پر کئی مرتبہ مذاکرات کا عمل شروع کیا گیا لیکن ان مذاکرات سے کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے مذاکرات دراصل، بھارت کی طرف سے مثبت رویہ نہ اپنانے اور اس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بے نتیجہ اختتام پذیر ہوجاتے ہیں۔ بھارت اپنے ظلم، جبر، بربریت اور کالے قوانین کے ذریعے بے گناہ کشمیری مسلمانوں پر تکالیف اور مصائب کا سلسلہ طویل کرتا رہا ہے اور آج تک یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ کشمیر صرف دو ریاستوں کے درمیان تقسیم کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پارٹی قانونی یا حقیقی طور پر سرحد کی حد بندی کی دعویدار ہے جبکہ دوسری اس کی مخالفت کرتی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ سرحدی تنازعات سے مختلف ہے کیونکہ یہاں ریاست تمام ملک میں گِھری ہوئی ہے۔ ایک ملک جو اقوام متحدہ کی بہت سی ممبر ریاستوں سے بڑا ہے۔ ایک ریاست جو بہت سی یورپی ریاستوں سے بڑی ہے اور جس کا ایک بڑا حصہ بطور ایک خود مختار سیاسی بستی کے کم از کم ایک ہزار سال وجود قائم رکھ چکی ہے۔ کشمیر ایک ایسا دیس ہے جو طبعی ماحول، تاریخ اور ثقافت کے لحاظ سے اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ اس کے لوگوں میں ایک جداگانہ اور انفرادی تشخص موجود ہے۔ یہ صرف چند سو مربع میل کی الگ سرحد بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کی رضا مندی کی بنیاد پر ایک خود مختار ریاست قائم کرنا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shumaila Javed Bhatti

Read More Articles by Shumaila Javed Bhatti: 18 Articles with 8235 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jan, 2018 Views: 338

Comments

آپ کی رائے