جہاد فی سبیل اللہ سب مسلمانوں پر فرض ہے

(محمد فارق حسن, ڈسکہ)
بچّوں اور عورتوں کو اپنا غلام بنا لیں گے کہ جن ذرائع سے اپنی کمائی مسلمان بھیجیں گے وہی مال اپنی طرف سے مسلمانوں اس شرط پر دیں گے کہ جب تیرا باپ آئے گا تو یا چچا یا ماموں آئے گا تو واپس کر دینا کیوں کہ وہ فتوحات حاصل کرکے آئے گا تو اگر ہم تمھارے ساتھ تعاون نا کرتے تو تم اب تک مر چکے ہوتے جب تک وہ جہاد سے واپس آتے اس لیے اوّل تو کوئی جہاد کے لئے جا نہیں سکتا کیونکہ مالی حالات اجازت نہیں دیتے ٹریننگ کے لیے پیسے نہیں ہوتے سواری کے لئے پیسے نہیں ہوتے ہتھیاروں کے لئے پیسے نہیں ہوتے کیوں نہیں ہوتے اس لئے نہیں ہوتے کیونکہ کافر ہمسائے بچّوں کو جادو ٹونہ اور مکّاریوں کے ذریعہ سے جہالتوں اور کبیرہ گناہوں اور نشے کی عادتوں میں مبتلا کرکے دیتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ تم جہاد تو تب کرو گے جب ہم تمھیں نکلنے دیں گے

جہاد ایک اہم ترین نمونہ ہے سب سے پہلے جہاد کے خلاف جو کافروں نے سازشیں کر رکھی ہیں وہ سمجھنا ضروری ہے اسلام میں جہاد کی جتنی زیادہ اہمیت ہے اس کو لیکر کافروں نے دنیا بھر میں ایسے اصول بنائے ہیں جو سمجھنا نہایت ضروری ہیں

1 _ پہلا اصول ہمسائے گری کے ذریعہ سے مقبولیت حاصل کرنا

مسلمانوں کے ہمسائے یہودی عیسائی مجوسی اور ہندو بنائے جاتے ہیں کسی بھی صورت میں مسلمان اسلام پر چلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے جہاد پر نہیں جاسکتے اور جہاد کی تعلیم بھی حاصل نہیں کر سکتے اور جہاد کی تبلیغ بھی نہیں کر سکتے کیوں کہ نظام درھم برھم کر دیا جاتا ہے کیوں مسلمان کی شادی جب ہوگی تو اس چیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے جو صرف خاوند کے لئے خاص اور حرمت والی ہوتی ہے اس کام میں ہمسائے کے بچّے کام کرتے ہیں صاف ظاہر ہے جب بچّے گھر سے باہر نکلیں گے تو ہمسایوں کے بچّوں سے ہی کھیلیں گے جب نماز کا وقت ہوگا تو مسلمانوں کے بچّے نماز پڑھنے نہیں جائیں گے کیونکہ ہمسایوں کے بچّے نہیں جائیں گے وہ انہیں کھیل میں الجھا لیں گے کیونکہ کافر لوگ مسلمانوں کو یہ بات پتا نہیں چلنے دیتے کہ کیا سازش ہو رہی ہے بس ماں باپ یہ کہتے ہیں کہ روٹی تب ملے گی جب تم یہ وعدہ کرو گے کہ میں نماز نہیں پڑھوں گا اور مسلمانوں کے بچّوں کا مذاق اڑاوں گا اوربچّیوں کو بھی یہ سمجھایا جاتا ہے کہ کسی کے گھر جانا ہے تو اس کو اسلام سے ہٹانا ہے غافل کرنا ہے مسلمانوں کے گھر میں جا کر ناچ گانا کرنا ہے اور ان کے طرح طرح کے امتحان لینے ہیں کہ تم میں یہ خامی ہے تم میں وہ خامی ہے اور روز بروز یہ بات جتلانا ہے کہ اسلام میں ہمسایوں کے بارے میں کوئی اصول سرے سے ہیں ہی نہیں مسلمان صرف باتیں ہی بنانا جانتے ہیں عمل نہیں کرتے اب اسلام کی باتیں ہمارے ساتھ نا ہی کرو تو اچھا ہے اور یہ تو گھر داری کی باتیں ہیں اس میں ناکام کرنے کے ساتھ ساتھ کافر سیکولر کمانا اور کھانا ہی ناکام کر دیتے ہیں جب کمانے کے لئے گھر کے مرد باہر جاتے ہیں تو عورتوں اور بچّوں کے ذریعہ سازشیں کی جاتی ہیں اور بہن بھائیوں کو آپس میں لڑایا جاتا ہے ایک دوسرے کی چغلیاں کر کر کے

اور جب مرد کما کر گھر میں لاتے ہیں تو گھر میںلڑائی جھگڑا شروع ہوجاتا ہے شکوے شکایات اور اس موضوع کو درست کرتے کرتے محنت مزدوری کر کے آئے ہوئے مردوں کو نماز کے لئے مسجد میں جانا پڑتا ہے اور ہمسایوں کے بچّوں کے جھانسے میں آکر بچّے ضد کر لیتے ہیں کہ ہم آج نماز پڑھنے نہیں جائیں گے گھر میں ہی پڑھیں گے اور پھر مردوں کو بھی بعض اوقات گھر میں ہی نماز پڑھنی پڑتی ہے اور پھر تھکے ہارے سو جاتے ہیں اور یوں کمانا کھانا ایک ایسا چکر ویو بن جاتا ہے کہ ترقّی کی سوچ سوچنا بھی محال لگنے لگتا ہے اور ہمسائے یہ خبر رکھتے ہیں کہ کہ مسلمان کیا کھاتے ہیں اور کیا کماتے ہیں اور ایسی نحوست ڈالی جارتی ہے کہ مسلمان مردوں کو سیکولر اور کافر اور بے دین لوگوں سے قرض لینا پڑتا ہے اور اپنے گھر کا خرچہ چلانا پڑتا ہے اور جہاد کے بارے میں صرف قرآن پاک میں ہی پڑھنا ہوتا ہے یا خطبہ جمعہ میں سنا جاتا ہے یہ کام پوری طاقت لگا کر مسلمانوں کو کرنا پڑتا ہے اور سارا زور لگا کے مسلمانوں کو صرف اپنے گھر کی حد تک یہ کام کرنا ہوتا ہے کہ جہاد کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے اور جہاد کے فائدے کیا کیا ہیں جو فائدے ہوتے ہیں وہ کافر لوگ مل بانٹ لیتے ہیں کہ ابھی صرف بیان ہی ہوا ہے کہ جہاد کا کیا فائدہ کیا ہے اس میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جہاد کرنے سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگی مال غنیمت ملے گا اور مال غنیمت کو کوڈ ورڈ میں بیان کر کے کافروں کے درمیان یہ باتیں ہوتی ہیں کہ یہ ہمارے باپ کا مال ہے اور بہنوں کو اتنا حصّہ ملے گا اور بھائیوں کو اتنا حصّہ ملے گا اور مسلمان یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ ہماری باتیں نہیں کر رہے ہیں لیکن سازش یہ ہو رہی ہوتی ہے کہ مسلمانوں نے ہمیں شکست دینے جانا ہے تو ہم چپکے سے مسلمانوں کے اموال کے مالک بن جائیں گے

بچّوں اور عورتوں کو اپنا غلام بنا لیں گے کہ جن ذرائع سے اپنی کمائی مسلمان بھیجیں گے وہی مال اپنی طرف سے مسلمانوں اس شرط پر دیں گے کہ جب تیرا باپ آئے گا تو یا چچا یا ماموں آئے گا تو واپس کر دینا کیوں کہ وہ فتوحات حاصل کرکے آئے گا تو اگر ہم تمھارے ساتھ تعاون نا کرتے تو تم اب تک مر چکے ہوتے جب تک وہ جہاد سے واپس آتے اس لیے اوّل تو کوئی جہاد کے لئے جا نہیں سکتا کیونکہ مالی حالات اجازت نہیں دیتے ٹریننگ کے لیے پیسے نہیں ہوتے سواری کے لئے پیسے نہیں ہوتے ہتھیاروں کے لئے پیسے نہیں ہوتے کیوں نہیں ہوتے اس لئے نہیں ہوتے کیونکہ کافر ہمسائے بچّوں کو جادو ٹونہ اور مکّاریوں کے ذریعہ سے جہالتوں اور کبیرہ گناہوں اور نشے کی عادتوں میں مبتلا کرکے دیتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ تم جہاد تو تب کرو گے جب ہم تمھیں نکلنے دیں گے بچّوں میں کھیل کھیل کے ذریعہ سے زنا لواطت مشت زنی جوا شراب کی عادتیں ڈال دی جاتی ہیں اور مسلمانوں کو اس وقت پتا چلتا ہے کہ ہمارا بچّہ بے راہ روی کا شکار ہو کر نااہل ہو چکا ہے اور شادی کے ہی قابل نہیں بن سکتا ہے جہاد تو دور کی بات ہے اس طرح سے مسلمانوں کے گھرانے کا سربراہ زندگی سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے کہ میری ساری زندگی محنتوں پر پانی پھر چکا ہے کب پھرا کس نے پھیرا کیوں پھیرا کیسے پھیرا یہ سوچنا مسلمان گھرانے کے سربراہ کے بس کی بات ہی نہیں رہ جاتی اور مایوسیاں ایسے گھیرا ڈال لیتی ہیں کہ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ایسی ذلّت سے تو مر جانا بہتر ہے

2 - دوسرا اصول جہاد کو ناکام بنانے کا نماز سے غیر حاضری
دوسرا اصول جہاد کو ناکام بنانے کا آج کل یہ چل رہا ہے کہ اپنے بیوی بچّوں کا پیٹ پالنا ہی جہاد ہے گھر کا خرچّہ پانی چلانا یہی تو جہاد ہے کہ جب زندہ ہی نہیں رہو گے تو جہاد کیسے کرو گے اور صرف زندہ رہنے کے لئے اور گھر کے اخراجات چلانے کے لئے مسلمانوں تمھیں یہ عمر کافی نہیں ہے اور تم اپنی پہچان کیسے برقرار رکھو گے اور نماز قائم کیسے کروگے کیونکہ مسلمانوں کی پہچان نماز ہے جب مسلمان یہ تبلیغ کرتے ہیں کہ نماز پڑھا کرو کیونکہ نماز پڑھنا سب مسلمانوں پر فرض ہے اور جو مسلمان نماز نہیں پڑھتا وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور یہ بات جب عیسائیوں نے سنی تو بڑی دیر پہلے سے سن چکے ہیں کہ جب وہ حساب کتاب لگانے بیٹھتے ہیں کہ مسلمان کتنے ہیں اور غیر مسلم کتنے ہیں تو پھر وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں جو سکولوں میں حاضری دیتے ہیں وہ ہمارے ہیں ان سے پتا لگا ہی لیا جاتا ہے کہ تمھارے گھر میں کتنے نمازی ہیں اور کتنے بے نماز ہیں کیوں کہ برتھ ڈیٹ یوم پیدائش اور نام اور باپ کا نام اور دایا کا نام اور ماں کا نام نوٹ کون کرتا ہے وہ عیسائی کرتے ہیں کیونکہ جب تک مسلمانوں کے بچّے 6 یا 7 سال کی عمر کے ہو کر نمازی نہیں بنیں گے اس وقت تک وہ غیر مسلم ہیں اور مسلمانوں میں اتنا دم ہے تو وہ نمازی بنا لیں تو بنا لیں نہیں تو ہم تو بے نمازی بناہی لیں گے

کیونکہ وہ ہی عیسائی ہے جو نماز نہیں پڑھتا اس طرح سے یہ باتیں کی جاتی ہیں کہ مسلمان تو وہ ہیں جو نمازی ہیں مسلمان اپنی نفری کا حساب رکھ لیں ہم بے نمازوں کی نفری کا حساب رکھیں گے اور مسلمان اپنے نمازیوں کے روٹی کپڑا اور مکان کا خود بندوبست کریں اور ہم بے نمازیوں کی روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ گاڑی بنگلہ اور بینک بیلنس کا بھی بندوبست کر لیں گے اور اچھا کاروبار اور اچھی نوکری بھی فراہم کر لیں گے اور اس طرح سے مسلمانوں کو جہاد تو کیا اسلام قبول کرنے میں بھی بہت زیادہ رکاوٹیں قدم قدم پر فرقہ پرستی اور کرپشن کے ذمّہ دار مسلمانوں کو قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنے آپ سے نفرت ہو جاتی ہے اور سیکولر ازم کو قبول کرکے غدّاری کرنی ہی پڑتی ہے عزّت بیچنی ہی پڑتی ہے کفر کا اقرار کرنا ہی پڑتا ہے اگر نا کریں تو اپنے ہی گھر میں لیٹرین میں بند کر دیا جاتا ہے کہ جب اللہ آئے گا یا فرشتوں کو بھیجے گا تو ہم نے اس کا دیدار کرنا ہے ہم نے اللہ کا دیدار کرنا ہے کہ اب تم بچانے آئے ہو تو ہم نے دیکھ لیا ہے اگر نہیں آتے تو ہم یہ سمجھتےاللہ ہے ہی نہیں ہے مسلمانوں نے ایسے ہی باتیں بنا رکھی ہیں ہمیں ڈراتے رہتے ہیں جب اللہ کو ماننے والے اس طرح سے مارے جائیں گے ایک خاندان تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ پاک ہے ہی نہیں ہے تو ہنسو کھیلو موج مستی کرو جیو اور جینے دو اور گیت خوشی کے گاو اور مسلمانوں کا ایک اور مخلص خاندان ڈھونڈ لو اور ان کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھاو اور ان کو اپنا ہمسایہ بنا کے خوب کھلاو پلاو اور پھر ان پر تا زندگی قید کا تجربہ پھر سے کرو

اور ایسے لوگوں کو پولیس بھی نہیں پکڑ سکتی کیونکہ وہ ایسا جادو چلاتے ہیں ایسا اخلاق دکھاتے ہیں کہ بچّوں کو پتا ہی نہیں چلتا کہ جن لوگوں کی خاطر ہم نے اپنے باپ اور دادا کو چھوڑا ہے وہ اس طرح سے ہماری موت کا تماشہ دیکھیں گے اور ہماری موت کی درد ناکیاں موویز کی شکل میں اپنے پاس محفوظ کریں گے اس طرح سے اللہ کو ماننے والوں کا مرزائی مذاق اڑاتے ہیں اور سیکولر کافر مذاق اڑاتے ہیں ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کوئی جاکر بچّوں کو مرنے سے پہلے چھڑا لے اور آزاد کرالے تو پھر سے ان کو چنگل میں پھنسا لیا جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم نے ایسے حافظ قرآن کا قرآن ڈلیٹ کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اسلام بھی ڈلیٹ کر لیتے ہیں اور اس طرح سے اپنے ووٹ بنانے کے لئے ہم حکمت عملی اپناتے ہیں اور جہاد کو صرف حلق تک ہی رہنے دیتے ہیں اور برین واشنگ کی جاتی ہے کہ نما زنہیں پڑنی عیسائیت نہیں چھوڑنی جہاد کا نام بھی نہیں لینا ورنہ دہشت گردی ہو جائے گی کریں گے ہم اور تم بنو گے سبب پولیس اور فوج نہیں آئے گی تمھارے کام جو چاہے کر گزرو اس لیے میں یہ کہا کرتا ہوں کہ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے اور زبردستی نماز پڑھانے پر یقین نہیں رکھتے وہ مسلمان نہیں ہیں ان کو پولیس سزا نا دے گی تو کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی اور پولیس میں بھی وہ ہی آگے آتے ہیں جو سیکولر بے دین بے ایمان ہوتے ہیں ایسے ہی 20 سالہ یا سو سالہ منصوبہ ہوتا ہے ان لوگوں کا جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کا مذہب اختیار کیا تو ہمیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا

اس کا بدلہ وہ اللہ کے دین کی تبلیغ کرنے والوں سے لیتے ہیں اور ان کے بچّوں کو لولا لنگڑا بنا کر یا تو بھکاری بنا دیا جاتا ہے یا ان کو مار ڈالا جاتا ہے اور اس طرح سے معصوم زندگیاں ایسے انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ کر شہید ہو جاتے ہیں اور ان لوگوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے جو ظلم زیادتی اور انتہا پسندی کی مخالفت کرتے ہیں جو سچّائی اور ایمان داری اور صبر کی تلقین کرتے ہیں بلکل اسی طرح سے جیسے آج کل تبلیغ اور جہاد پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں مذہبی اور جہادی تنظیموں پر پابندیاں ایک الگ موضوع ہے اس بات کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ تو لوگوں کو سرعام جیسے پروگرام کے ذریعہ سے دکھایا جاتا ہے کہ فلاں بچّیوں کو اوربچّوں کو ماں باپ یا کسی سرپرست نے قید کیا ہوا ہے ان کو گھر کے اندر یا کسی بند کمرے میں قید کیا گیا تھا اور فلاں چینل والوں نے بر وقت کاروائی کرکے انتہا پسند پیرینٹس سے نجات دلائی لیکن بعد میں اس کام کو انجام دے دیا جاتا ہے جیسے کسی بکریاں چرانے والے نے شور مچایا کہ بھڑیا میری بکریاں کھا رہا ہے لوگو مدد کو پنچو جب لو گ ہتھیار اور لاٹھیاں وغیرہ لے کر وہاں پہنچتے ہیں تو اس نے کہا کہ میں تو مذاق کر رہا تھا ایک دن سچ مچ بھیڑیا آ گیا تو وہ لگا شور مچانے تو سب لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ پھرسے مذاق کر رہا ہے اور اس طرح سے وہ سمجھ گیا کہ اب میں نقصان سے نہیں بچ سکتا -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فارق حسن

Read More Articles by محمد فارق حسن: 108 Articles with 84468 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Feb, 2018 Views: 799

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ