جنریشن گیپ

(Sana, Lahore)
اول تو یہ کہ بچے ہوتے خاصے گھنے ہوتے ہیں۔ انکو پتہ ہوتا ہے اماں ابا کو کیا بتانا ہے کیا نہیں بتانا ۔ سو کبھی بھی انتہا کی ایمانداری سے آُکو ساری بات نہیں بتائیں گے۔
سو ایک چوبیس گھنٹے میں ایسا آدھا گھنٹہ ضرور رکھیں جس میں آپ اور آپکے بچے بیٹھ کر باتیں کریں۔ چھوٹی چھوٹی اور بے شک بونگی بونگی۔
مگر کریں ضرور۔ تاکہ آُپکے بچے کے پاس آپکی سپورٹ ضرور ہو۔ جزباتی سپورٹ۔ ورنہ وہ فوری یہ سپورٹ لینے انٹرنیٹ سے طریقے ڈھونڈھ لے گا اورپھر آپ نے سر پکڑ لینا ہے۔

"آپ کو میری بات سمجھ نہیں آتی" "میری کوئی سنتا نہیں" " مجھے کوئی سمجھتا ہی نہیں" "یا اللہ میں کہاں جاؤں " " یا اللہ یہ زندگی ہے کہ جہنم"
اس سے ملتے جلتے جملے آج ہمیں عام سننے کو ملتے ہیں۔ یہ جملے ہمیں پریشان بھی کرتے ہیں ۔ دکھی بھی کرتے ہیں۔
میں بات کر رہی ہوں "جنریشن گیپ" کی۔ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ہمیں آج اتنے مسائل جانوروں سے نہیں جتنے اپنے جیسے انسانوں اور ٹیکنالوجی سے لاحق ہو گئے ہیں۔ ہم ان مسائل کو نمٹنے میں سن بہ دن ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔ بلکہ میں تو یہ تک کہوں گی کہ ہمیں ابھی مسئلہ سمجھ آنا نہیں شروع ہوتا کہ ایک نیا مسئلہ سر اٹھا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
ایک چیز تو کنفم ہے کہ آج بہت ذیادہ ترقی تیز رفتاری سے ہونے کی وجہ سے جنریشن گیپ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم چھوٹے سے بچوں کو جتنا معصوم سمجھتے ہیں۔ اتنے تو وہ ہر گز ہرگز نہیں ہوتے۔ ہاں آج کے بڑے مجھے بچوں سے ذیادہ معصوم نظر آتے ہیں۔
یقین کریں ماں باپ آج کی اولاد کے ہاتھوں اتنی تنگ اپنی ہی ایک غلطی کی وجہ سے ہے جسکو میں "کمیونکیشن گیپ" کہوں گی۔ جی ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں باپ کو یہ لگتا ہے کہ جب بچے کو بولنا سکھا دیا اب اسکے ساتھ بولنا ہر گز ضروری نہیں۔ یہ خود سے بیٹھا بولتا رہے جو مرضی جس مرضی کو کہتا رہے۔ بس اب ہمارا کام ختم۔
اصل میں کام شروع ہی تب ہوتا ہے۔ آپ چھوٹے چھوٹے خیالات کے ساتھ بچے سے بات سے بات نکال کر تبادلہ خیال کرتے رہیں۔ ہم یہ تبادلہ خیال کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ بہ ادھر ادھر خیالات کو بتاتا سنتا پھرتا ہے۔ پھر جب تک وہ ماں باپ کے کاندھوں تک پہنچ کر خیالات شتر بے مہار کی طرح ظاہر کرنے لگتا ہے ۔ تب ماں باپ کسی اور اور انکی ہی اولاد کسی اور سیارے کی مخلوق نظر آنے لگتے ہیں۔
غلطی اس میں ایک ننھی سی ہمارے ہاں قریب قریب سب ہی کرتے ہیں۔ ایک عمل کی غلطی اور ایک توقع کی غلطی۔
وہ یوں کہ پہلے تو وہ بات چیت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ماں باپ اپنے بچوں سے کہ جاو اس سے بولو اس سے کہو مجھے تنگ نہ کرو۔پھرجب بچے کسی اور سے جا کر بات کرنا شروع کر دہتے ہیں بلکہ ماں باپ اور گھر والوں کو چھوڑ کر ہر ایک سے بات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر ماں باپ کو لگنے لگتا ہے کہ یہ نافرمان ہو گئے ہیں۔
اسی طرح اگر دیکھا جائے تو توقع کی غلطی یہ کرتے ہیں کہ سوچتے ہیں کہ جو بھی ہو گا زندگی میں ابنارمل کسی بھی حوالے سے بچے ہمیں ضرور بتائیں گے۔
اول تو آپ انکی بات کو اہمیت دینے کی ضرورت نہ سمجھیں۔ جب تک وہ خود کچھ بتانا چاہیں آپ غائب ہونا ضروری سمجھیں۔ بچوں کے علاوہ زندگی کا ہر کام آپکو لگے کہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ بچوں کے خیالات کو آُپ فالتو کے خیالات سمجھیں۔ بچوں کا آس پاس ہونا آپ کو کوفت میں مبتلا کردے۔
پھر جب عمر رفتہ کا وہ دور آءے جب آپکا دل چاہے کہ جی بچے اب بچہ جو کہ ہو سکتا ہے خود بھی ایک عدد بچے کا ابا بن گیا ہو اب جی آپ سے بے تحاشا باتیں کرنے لگے تو یقین کریں آپکی توقع پوری نہیں ہونے والی۔
اول تو یہ کہ بچے ہوتے خاصے گھنے ہوتے ہیں۔ انکو پتہ ہوتا ہے اماں ابا کو کیا بتانا ہے کیا نہیں بتانا ۔ سو کبھی بھی انتہا کی ایمانداری سے آُکو ساری بات نہیں بتائیں گے۔
سو ایک چوبیس گھنٹے میں ایسا آدھا گھنٹہ ضرور رکھیں جس میں آپ اور آپکے بچے بیٹھ کر باتیں کریں۔ چھوٹی چھوٹی اور بے شک بونگی بونگی۔
مگر کریں ضرور۔ تاکہ آُپکے بچے کے پاس آپکی سپورٹ ضرور ہو۔ جزباتی سپورٹ۔ ورنہ وہ فوری یہ سپورٹ لینے انٹرنیٹ سے طریقے ڈھونڈھ لے گا اورپھر آپ نے سر پکڑ لینا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 178569 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
07 Feb, 2018 Views: 752

Comments

آپ کی رائے
Aap ka article kafi accha hy aj k zamane me bachon per tawaja dena bht zarori hy kyun iss trha maa baap ko unke future me problems face ni krna pare gi
By: Sam Mughal, Sialkot on Feb, 08 2018
Reply Reply
0 Like
janab sana sahiba bohat acha topic ha ye or acha likha ha ap ni ...bachon k sath bethna bat krna bohat hi achi adat ha is se bachon k ahtimad barhta ha burdbari ati ha maa bap ager waqat nhi daingy to bachay wohi sekhaengy jo wo sekhna chahtay hain ya jo wo hota hoa dikh rahay hain .ager maa bap chahtay hain k un k bacha wo sekhy jo wo sekhna chahtay hain to maa bap ko waqat dena hoga apnay bachon ko .or yaha ek bohat hi khaas masla ha jes per logon ki tawaja bohat hi kam jati ha shayd is sana sahiba ki tahrer ki waja se ye meray comments ki waja se logon ki tawaja ajj is bat per jae k...... hum jetena bhi bachna chahain hum is jadid dur main phone or internet se apnay bachon ko nhi bacha saktay .main ni khud dikha ha ajj kal maa bap ek chotay se bachy ko hath main phone de kr logon se kehtay hain k ..ager is ko phone per game ya carton laga kr na do to rota ha.....ye us waqat hath main phone detay hain jab bachay ko phone hath main pakarna bhi nhi ata or pher jab zara bara hota ha bacha to yahi kheal phone k carton k ...phone use krne k shock main badal jata ha pher maa bap sub se gila kartay hain k hamara bacha phone ki internet ki jan hi nhi chorta........ye sub khud ki galti se hota ha....mujhe ye bat samjh nhi ati ha. k phele waqton main jb phone k name o neshan nhi tha to jab bacha rota tha to us waqt bhi maa bap bacho ko chup krwatay thay na or wo bhi dua kalma ya natt wagera suna kr ager dikha jae to sahi maeno main wo log apni olad ko sahi waqt detay thy hum logoun k ye hal ha k bachon se jan chorani ho to phone de do is lia k hamay bacho ko waqt jo nhi dena .hamy bacho k pas bethy hoay bohat se kam yad ajatay hain .......mauf kijiya ga ager bt bure lagi ho kise ko ..lakin haqiqt yahi ha k hum khud nhi detay waqt jan bujh kr bachon ko or pher internet or phone ki tabhaqareon ko rotay hain ....khuda ra apnay bachon ko waqt dejiya ap k waqt unhay is internet ki lanat se phone k baja istamal se fazul jahaon par jane se bachaega .......har chez k istamal waqt k sath acha lagta ha or internet ki positive or negative mamlat bachon ko choti se age main nhi pta hotay yahi waja hoti ha jo bachay hath se nikal jatay hain q k unhay pata hi nhi hota ..is lia maa bap k apnay bacho ko waqt dena bohat hi zarore ha ager wo apni olad ko dunia or akherat main surakhroh hota dekhna chahtay hain ....ALLAH PAK hum sub per reham farmae ameen
By: shohaib haneef , karachi on Feb, 07 2018
Reply Reply
0 Like