وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات

(Wajid Nawaz, Bhakkar)

خواتین انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہیں۔ عورت بحیثیت مجموعی انسانیت کا نصف اور معاشرے کا وہ ناگزیر عنصر ہے جس کی گود قوموں کی پرورش کرتی ہے اور وہ پھلتی، پھولتی اور پروان چڑھتی ہیں۔ حیات انسانی کا قیام و استحکام اور کائنات عالم کی رعنائی و زیبائی اسی کے وجود سے عبارت ہے۔کائنات کے اس رنگکی رعنایت کا اندازہ اس شعر سے لگایا جاسکتا ہے۔
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اس کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق کے درجے میں عورت کو مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں رکھا ہے۔ اسی طرح انسانیت کی تکوین میں عورت مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان جیسی اسلامی ریاست میں بھی عورت کو وہ مقام دیا جانا چاہیے جو عورت کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ مگر عصر حاضر میں عورت کی حیثیت ، مقام اور اس کے مرتبہ کو جس قدر الجھا دیا گیا ہے اور اسے فکری و عملی ہیجان و تصادم کا شکار کردیا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی، اس کی وجہ سے شاید ہر طبقہ فکر میں عورت کی حیثیت کے بارے میں الگ الگ نظریات اور اختلافات ہیں۔ تجدید پسند گروہ اس نظریاتی اختلاف کی وجہ سے مسلسل تصادم اور عدم توازن کا شکار رہا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ابتدائے ئِ زمانہ سے ہی ہر معاشرہ میں عورت کی بنیادی وابستگی اس کے خاندان اور عائلی زندگی پر محیط رہی ہے لیکن جب کوئی مذہب یا معاشرہ کسی فرد کو کسی اجتماعی شعبہ سے وابستہ کرتا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے تمام شعبہ ہائے حیات سے لاتعلق ہے کیونکہ معاشرے کے تمام شعبے ایک ہی حیات اجتماعی کے مختلف اجزا ہیں جو آپس میں لازم و ملزوم اور باہم مربوط ہیں۔

ہر فرد کی ضروریات پورے معاشرے میں پھیلی ہوتی ہیں ان متنوع ضروریات کی تکمیل کی خاطر اسے تمام معاشرتی اداروں سے وابستہ ہونا پڑتا ہے۔ یہی حال عورت کا ہے کہ بنیادی طور پر عائلی زندگی کا مرکز و محور ہونے کے باوجود اسے دیگر معاشرتی و سماجی، اقتصادی و معاشی اور سیاسی و مذہبی شعبوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے حقوق نسواں کو دو حصوں عائلی اور اجتماعی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ عائلی اور اجتماعی زندگی میں عورت چار حیثیتوں سے گزرتی ہے جس میں پہلے بیٹی، بہن اور پھر اسے بیوی اور ماں کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔

بھکر جوکہ پنجاب کے پسماندہ اضلاع کی صف میں شامل ہونے کا اعزاز رکھتا ہے ، یہاں یہ صنف نازک اپنے بنیادی فرائض کی انجام دہی کے باوجود اپنے حقوق کے معاملے میں ہمیشہ نظر انداز ہوتی رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی مظلومیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حقوق کی ادائیگی کے معاملے میں اسے دو حصوں شہری اور دیہاتی عورت میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ شہری اور دیہی عورت کی یہ تقسیم بھی غیر منصفانہ اور غیر عادلانہ ہے۔ ایک شہر کی تعلیم یافتہ عورت کے مقابلے میں ایک دیہات میں بسنے والی عورت کو قانونی، معاشرتی اور معاشی سہولیات اور ضروریات میسر نہیں ہیں۔ اکثر دیہاتوں اور قبیلوں میں بسنے والی عورت پر آج بھی دور جاہلیت کے رسم و رواج کا اطلاق کیا جاتا ہے ۔

گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں عوام دوست فاﺅنڈیشن جوکہ ہمیشہ خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں صف اول کا کردار ادا کرتی رہی ہے، کے زیر اہتما م خواتین کے مسائل کے حوالے سے صحافیوں سے ایک بیٹھک کا اہتمام کیا گیا ، اس بیٹھک کی میزبانی کے فرائض اے ڈی ایف کے روح رواں ملک احمد خان نے کی، اس شاندار بیٹھک کے انعقاد پر یقینا ملک احمد خان اور اس کی پوری ٹیم خراج تحسین کی مستحق ہے۔ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے سینئر صحافی سید کاظم رضا نقوی ، سید ظفر حسین برنی، چیف ایڈیٹر ( بھکر نامہ ) اعجاز خان بلوچ ، بھائی محسن رضا قریشی ( بھکر ٹائمز ) ،اسامہ خان ( ڈان نیوز )، تنویر احمد بھٹی، رانا شاہد( آواز وطن ) ، آصف خان نیازی ( سچائی ) ، حاجی یونس اولکھ، ملک ارقم اولکھ ( گریٹر تھل)، سید معین عالم ، اسلم خان بلوچ، تنویر قمر گادی ( سوال نامہ ) ، رضا اللہ خالد ظہیر( وائس آف بھکر ) ، سید حماد رضا ہاشمی ، سید آفتاب برنی، اشرف خان، مداح بلوچ، سمیت جملہ مقامی اخبارات و الیکٹرونک میڈیا کے ذمہ داران نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ونی جیسی قبیح رسم کے علاوہ نکاح کے معاملے میں جوانی اور بڑھاپے کی کوئی تمیز روا نہیں رکھی جاتی، حتیٰ کہ نکاح نامہ جوکہ عورت کے مستقبل کا زینہ ہوتاہے ، اس کی حدودوقیود اور شرائط بارے عورت کو اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔ دیہی علاقہ جات میں نکاح کے موقع پر خواتین کے لیے شرعی حق مہر کے طور پر سوا 32 روپے کی اصلاح بھی اب تک موجود ہے ، جس کا شریعت سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ اسلامی شعائر کی تضحیک کے مترادف ہے اس سے عورت کے مقام و مرتبہ کی تذلیل کی جاتی ہے۔ دیہاتی عورت کے مسائل میں سے معاشی مسئلہ سب سے اہم ہے، دیہاتوں اور گاں میں مردوں کے شانہ بشانہ کڑی اور تپتی دھوپ میں کام کرنے والی عورت کو آرام و آسائش اور اس کے بچوں کو تعلیم اور علاج معالجے کی سہولیات بالکل میسر نہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا بھی خواتین کے حقوق، عزت و ناموس کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے ، خبروں، کالمز ، رپورٹس میں ایسے الفاظ کا چناﺅ کیا جائے جو عورت کے لیے معاشرتی تنزلی اور مشکلات کا باعث نہ بنیں، خواتین کو سیاست، معیشت ، اور صحافت میں جگہ دینی ہوگی۔

شرکاءکا کہنا تھا کہ اکثر دیہاتی خاندان عورت کی تعلیم کے ہی مخالف ہیں اور رہی سہی کسر حکومت کی نام نہاد تعلیمی پالیسی اور عدم توجہ پورا کر دیتی ہے جس سے دیہاتوں کی اکثر خواتین تعلیم و تربیت کے زیور سے محروم رہتی ہیں اور ان کی تقدیر جاگیر دار اور وڈیرے کے رحم و کرم پر گروی رکھ دی جاتی ہے۔
 
دیہی خواتین سمیت معاشرے کے تمام مظلوم طبقات کے حقوق، کفالت اور سہولیات کی فراوانی حکومت کا اولین فرض ہے۔ حکومت وقت اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے اور عوام کی خوشحالی اور غربت دور کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتی ہے تو ملک عزیز کے اطراف و اکناف میں موجود جہالت و ناخواندگی، ظلم و ناانصافی اور بنیادی حقوق کی پامالی کا جلد خاتمہ کرنا ہوگا اور اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی کر کے اسے امانت اور دیانت داری کے ساتھ نافذ العمل کرنا ہوگا۔ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنا ہوگا، سستے اور فوری انصاف کو آسان بنانا ہوگا، عورتوں کے وہ تمام شرعی حقوق مثلا زمینوں اور جائیدادوں میں وراثت کا مکمل حق، مہر کی رقم کی مکمل ادائیگی، عورتوں پر جبر اور مار پیٹ جیسی جاہلانہ حرکت، بچیوں کی مرضی کے خلاف جبری شادیاں وغیرہ جیسے واقعات کی فوری روک تھام کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ خواتین کے استحصال کی تمام شکلوں کا خاتمہ اور اس راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے ہم پاکستان کے اصل وقار کو بحال کرکے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 43255 views »
i like those who love humanity.. View More
10 Feb, 2018 Views: 698

Comments

آپ کی رائے