’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ایک بے ہودہ مغربی تہوار

(عابد محمود عزام, Lahore)

تہوار بنیادی طور پر کسی بھی معاشرے کی سوچ اور عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔’’ویلنٹائن ڈے‘‘ مادر پدر آزاد مغربی معاشرے کا تہوار ہے، جسے چند سالوں سے مشرق میں پروان چڑھانے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کا آغاز رومن پادری سینٹ ویلنٹائین کی مناسبت سے ہوا، جس کو مذہب تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتوں میں رکھا گیا، قید کے دوران ویلنٹائین کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہو گئی اور پھانسی پر چڑھنے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کو الوداعی خط لکھا، جس پر دستخط سے پہلے لکھا تھا ’’تمھارا ویلنٹائین‘‘۔ یہ واقعہ 14فروری 279 عیسوی کو پیش آیا۔ اس کی یاد میں دنیا بھر میں آزاد خیال اور مذہب بیزار لوگ اس دن کو مناتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی روایات ہیں، جس کے مطابق رومی نوجوانوں کا ایک آوارہ گروپ تھا، جو لڑکیوں کا نام لکھ کر اسے تہہ کرکے پانی میں ڈالتے اور ایک لڑکا پرچی اٹھا کر کھولتا، اس پر جس لڑکی کا نام ہوتی، وہ دونوں ساتھی بن جاتے تھے۔ یہ تہوار رومیوں کے ہاں 15 فروری کو ہوتا تھا، جس کی مخالفت ہوئی تو اسے اوباش نوجوانوں کے نام سے موسوم کرنے کی بجائے سینٹ یعنی عیسائی اولیاء سے منسوب کیا گیا۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ دن ایک یہودی شخص ’’مسٹر ویلنٹائن‘‘ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ شخص بغیر شادی کیے عورت اور مرد کے ایک ساتھ رہنے اور نا جائز تعلقات قائم کرنے کو جائز سمجھتا تھا۔ جس پر اس کو 14فروری 1488ء کو سزائے موت دے دی گئی۔ اس کی پھانسی کے بعد اس کی پیروی کرنے والوں نے اس کی یاد میں ہر سال 14فروری کو ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ منانا شروع کر دیا اور اس بے ہودہ شخص کی طرح عورت اور مرد کے ناجائز طریقے سے ملنے اور بے حیائی پھیلانے کے اس عمل کو ’’اظہار محبت‘‘ کا نام دے دیا۔ اس حوالے سے اس کے علاوہ بھی مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔

پاکستان میں اس بے ہودہ تہوار کا آغاز تہوار مغربی چندے پر پلنے والی این جی اوز کی کوششوں سے 90کی دہائی میں ہوا اور پرویز مشرف نے اس کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ویلنٹائن کا تصور 90ء کی دہائی کے آخر میں ریڈیو اور ٹی وی کی خصوصی نشریات کی وجہ سے زیادہ مقبول ہوا اور یہ وبا ہمارے شہروں میں تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔ اس میں کاروباری حضرات بھی ایک دو دن میں زیادہ سے زیادہ روپیہ کمانے کی ہوس میں اسے نت نئے انداز سے پروموٹ کرنے لگ گئے۔ دکانوں پر سرخ گلاب کے پھول، سرخ غبارے اور دل کی شکل کے بنے ہوئے کارڈ فروخت ہونے لگے۔ لڑکیاں، لڑکے اور عورتیں مرد، دھڑلے سے اور کھلے عام یہ چیزیں خریدتے ہیں اور اپنے دوستوں کو تحفہ دیتے ہیں۔ ہوٹلوں، پارکوں اور دیگر جگہوں پر تنہائی میں ملنے اور ’’اظہار محبت‘‘ کرنے کا بندوبست کیا جاتا ہے اور یوں اسلامی روایات اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ٹیلی وژن چینل کی بھر مارنے معاشرے کو بگاڑنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ رہی سہی کسر دور جدید کے تیز ترین مواصلاتی ذرائع نے پوری کر دی ہے اور انٹرنیٹ نے نوجوان نسل کو خصوصاً ایک ایسی دنیا تک رسائی فراہم کر دی ہے کہ اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔ ملک میں بے ہودہ تہوار ویلنٹائن ڈے کو پروان چڑھانے میں سیکولر طبقہ پیش پیش ہے، اس طبقے کے لوگ مغربی تہذیب کے دلدادہ، مختلف ’’این جی اوز‘‘ کا سہارا اور اشارہ پا کر تفریح اور اظہار محبت کے نام پر بے شرمی اور بے حیائی کے ایجنڈے کو پروان چڑھانے کے مواقع پیدا کرتے ہیں، تاکہ اسلامی روایات اور کلچر پر جدیدیت اور آزاد خیالی کا لیبل لگا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔

پاکستان میں مغربی تہذیب سے متاثر افراد یہ بے ہودہ تہوار مناتے ہیں اور جواز یہ فراہم کیا جاتا ہے کہ ’’اظہار محبت‘‘ میں کیا خرابی ہے؟ لیکن اسلامی نقظہ نظر سے اسلام میں غیر مردوں غیر عورتوں کا ایک دوسرے سے ملنا اور اظہار محبت کرنا منع ہے۔ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ غیر اسلامی، اخلاق سوز اور مغربی تہوار ویلنٹائن ڈے سے دور رہیں، کیونکہ یہ تہوار عریانی، فحاشی اور بے حیائی کے فروغ کا سبب ہے، اس لیے مسلم نوجوان اور پوری قوم اس مغربی تہوار کا بائیکاٹ کرے۔ اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں اسلامی تہذیب وثقافت اور دینی ومشرقی روایات کے منافی اس بے ہودہ تہوار کو مسترد کر دیں، کیونکہ ویلنٹائن ڈے منانا شیطان کی پیروی اور اﷲ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ملک بھر میں علمائے کرام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نصیحت کریں کہ وہ اس مکروہ فعل سے دوررہیں، کیونکہ والدین کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نیکی کی راہ پر ڈالیں اور بدی سے بچائیں۔ اگر بچے آج کوئی غلط کام کریں گے تو روز قیامت اس کی جواب طلبی والدین سے بھی ہو گی، اس لیے والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ویلنٹائن ڈے منانے سے دور رکھیں۔ علمائے کرام نے نوجوانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی اس مغربی تہوار سے دور رہیں، کیونکہ یہ تہوار عریانی، فحاشی او ر بے حیائی کے فرو غ کا سبب ہے۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ نوجوان امت مسلمہ کا سرمایہ ہیں، مغرب اپنی بے ہودہ تہذیب کے ذریعے مسلم نوجوانوں کو راہ راست سے ہٹا کر انہیں گمراہی کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے، تاکہ مسلم نوجوان بالکل بے کار ہوجائیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مغربی تہذیب کا نہ صرف بائیکاٹ کریں، بلکہ اس تہذیب کے خاتمے کے لیے بھی جدوجہد کریں۔

گزشتہ سال پاکستان میں ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی عاید کی گئی تھی اور میڈیا پر اس کی کوریج پر بھی پابندی عاید کی تھی۔13 فروری، 2017ء کو اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے ویلنٹائن ڈے سے متعلق ایک عرضداشت نمٹاتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ اس تہوار سے معاشرے میں ’’غیر اخلاقی حرکات، عریانیت اور بدتہذیبی‘‘ کو فروغ ملتا ہے۔ عدالت نے اسلام آباد کے کھلے مقامات پر اور سرکاری دفاتر میں ویلنٹائن ڈے جشن منانے پر ممانعت عائد کی اور پیمرا کو مزید احکامات جاری کیے کہ ’’اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ویلنٹائن ڈے کے جشن سے متعلق اور اس کے فروغ کے لیے کردار ادا نہ کیا جائے‘‘۔ عدالت کی جانب سے متواتر دوسرے سال بھی ویلنٹائن ڈے کو غیر اسلامی تعطیل قرار دیے جانے کے بعد، پاکستان نے ایک بار پھر دن کی تقریبات اور ذرائع ابلاغ کی کوریج پر بندش عائد کر دی ہے۔ فیصلے میں ویلنٹائن کے دن سے متعلق باتوں کے اشتہارات اور اشیا کی فروخت پر بندش لگائی گئی ہے۔ عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے گزشتہ ہفتے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ٹیلی ویڑن اور ریڈیو کے لائنس داروں کو ہدایات دی ہیں، جن میں اْنھیں بندش سے متعلق یاددہانی کرائی گئی ہے۔ پیمرا کے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ’’تعمیل کنندہ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ویلنٹائن ڈے کے جشن کے بارے میں کوئی بات نہیں آنی چاہیے، نہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں اس کی تشہیر ہونی چاہیے‘‘۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’سرکاری سطح پر یا کسی عام مقام پر کوئی تقریب منعقد نہیں ہونی چاہیے۔ پیمرا کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام ٹیلیویژن چنیل فوری طور پر ویلنٹائن ڈے کی تشہیر بند کر دیں‘‘۔

سعودی عرب میں بھی اس تہوار پر مکمل طور پر پابندی ہے۔ وہاں پولیس اس دن کی مناسبت سے فروخت ہونے والی اشیاء یعنی پھول اور کارڈ وغیرہ کے بارے میں چوکنا رہتی ہے۔ ملائشیا میں بھی ویلنٹائن ڈے کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیاجاتا ہے۔ نیشنل مسلم یوتھ ایسوسی ایشن نامی تنظیم نے خواتین اور لڑکیوں پر زور دیاتھا کہ وہ جذباتی علامتوں اور تیز خوشبو کے استعمال سے اجتناب برتیں۔ گزشتہ سالوں میں تنظیم نے اس موقع پر ویلنٹائن ڈے مخالف پوسٹر بھی آویزاں کیے تھے۔ ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مذہبی احکام پر عمل درآمد کرانے کے ذمے دارحکام نے ویلنٹائن ڈے سے قبل بڑے ہوٹلوں اور عوامی پارکوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران متعدد لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات میں میڈیا پر بھی اس تہوار کو اہمیت نہیں دی جاتی، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ خود بخود اس تہوار سے دور رہتے ہیں۔ مختلف ممالک میں ویلنٹائن ڈے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلامی ممالک کے علاوہ بعض غیر اسلامی ممالک میں بھی اس تہوار کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔چرچ نے بھی ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔ گزشتہ سالوں میں مسیحی پادری اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیتے آئے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ویلنٹائن ڈے امریکا اور یورپ کے صرف چند مخصوص علاقوں میں اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے، جبکہ یورپ کے بھی بعض شہروں میں عیسائی پادریوں کی جانب سے اس تہوار کی پْر زور مذمت کی جاتی ہے۔ جاپان میں بھی ویلنٹائن ڈے منانے سے منع کیاجاتا ہے۔ جاپان میں ایک مارکسٹ گروپ نے ٹوکیو میں ایک بڑا بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا’’ ویلنٹائن ڈے کو پاش پاش کر دو‘‘۔ پاکستان کے پڑوسی ملک اگربھارت کو دیکھا جائے تو وہاں بھی ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کی جاتی ہے۔ بھارت میں ہندو تنظیم مہاسبھا نے اعلان کررکھا ہے کہ ویلنٹائن ڈے پر پارک، تاریخی عمارتوں یا دیگر عوامی جگہیں کہیں پر بھی محبت کا کْھلم کْھلا اظہار ہوا تو جوڑے کی زبردستی شادی کروا دی جائے گی۔ جوڑے کے انکار پر ان کے والدین سے رابطہ کیا جائے گا۔ اس سال بھی بھارت میں ہندو تنظیمیں ویلنٹائن ڈے کے خلاف میدان میں آگئی ہیں، چنئی میں دکانوں پر موجود ویلنٹائن ڈے کارڈز کو پھاڑکر آگ لگادی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو انتہا پسند تنظیموں بھارتی سینا اور شکتی سینا کے کارکنوں نے ویلنٹائن ڈے کے خلاف ڈسٹرکٹ کلکٹر آفس کے سامنے مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرے کے بعد ہندو انتہاپسند تنظیموں نے ویلنٹائن ڈے منانے والے جوڑوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تنظیموں نے ویلنٹائن کے دن عوامی مقامات کی نگرانی کا اعلان بھی کیا ہے۔بھارتی تنظیموں کا موقف ہے کہ ویلنٹائن ڈے بھارتی ثقافتی کے خلاف ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 418082 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Feb, 2018 Views: 335

Comments

آپ کی رائے