کالج لائبریرینزکے مسائل

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

پاکستان میں تعلیم کے مختلف مدارج ہیں جو اسکول و مدرسہ سے شروع ہوکر جامعات تک جاتے ہیں۔ تعلیم کے ان مدارج میں کالج کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔وجوہات تو بہت ہیں لیکن سب سے اہم وجہ جو مشاہدے اور تجربے سے سامنے آئی وہ یہ کہ جب تک بچے اسکول میں رہتے ہیں وہ خود بھی اور والدین بھی انہیں بچہ تصور کرتے ہوئے ان سے ٹریٹ کرتے ہیں۔ اس کے لیے یہ لفظ عام استعمال ہوتا ہے کہ تم ابھی چھوٹے ہو، ابھی بچے ہو لیکن جس دن اس بچہ میٹرک کا امتحان پاس کرتا ہے وہ اسی لمحہ بڑا ہوجاتا ہے۔یہ احساس اس میں خود بھی جنم لے لیتا ہے اور اس کے گھر والے بھی اس سے یہ کہہ کر بات کرتے ہیں کہ تم اب بڑے ہوگئے ہو ، کالج میں آگئے ہو ۔کالج میں قدم رکھتے ہی اسکول کابچہ اپنے دل میں نا جانے کیا کیا امنگیں اور خواہشات لے کر داخل ہوتا ہے۔ حقیقت میں اسے کالج کا ماحول اسکول سے بالکل مختلف ملتا ہے۔ کالج کا طریقہ کار مختلف، کلاس میں تدریس کا انداز مختلف، اساتذہ کے پڑھانے اورطلباء سے برتاؤ کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ یہ کہنا چاہیے کہ کالج کا طالب علم بچہ بن کر کالج نہیں آتا بلکہ وہ اپنے آپ کو جوان سمجھتے ہوئے، بڑا محسوس کرتے ہوئے کالج میں آتا ہے۔ کالج کی سرگرمیاں اسکول کے مقابلے میں مختلف ہوتی ہیں۔ یہاں اساتذہ کے علاوہ اس کی رہنمائی اور حصول علم اور مطالعہ کے لیے اسے لائبریری کا رخ بھی کرنا ہوتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں کتب خانے کا تصور نہ ہونے کے برابر ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں حالات مختلف ہیں۔ کالج کے مسائل اور معاملات اسکول سے مختلف اور پھرجامعات سے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ماہر تعلیم جان ڈیوی نے کتب خانے کو کسی بھی تعلیمی ادارے کا دل قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لائبریری خواہ وہ اسکول، کالج یا جامعات کی ہو تعلیمی نظام میں اثر پید اکرنے قوت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں اس اثر پید اکرنے والی قوت کا اسکول کی سطح پر تو وجود ہی نہیں ملتا البتہ کالجوں سے اس قوت کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔

یہاں موضوع کالج میں خدمات انجام دینے والے وہ ذمہ داران ہیں جنہیں لائبریرین کہا جاتا ہے۔ اس پیشہ کی ابتداء اس اعتبار سے تو بہت ہی اعلیٰ اور متاثر کن ہے کہ ابتدائی زمانے میں کسی بھی کتب خانے کا سربراہ یا لائبریرین اس وقت کا عالم فاضل شخص ہوا کرتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھا ہر شعبہ نے ایک الگ اورانفرادی حیثیت اختیار کرلی۔ اس کی وجہ کام کی زیادتی، کتب خانوں میں کتب کا اضافہ، کتب کے ضرورت مندوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ، چناچہ یہاں ضرورت پڑی ایک الگ ، مکمل ، ھنر مند کی جو کتب خانے کے انتظامی اور پیشہ ورانہ کاموں کو انجام دے سکے۔ ابتدا میں کیوں کہ لائبریری سائنس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام نہیں تھا چنانچہ کسی بھی پڑھے لکھے شخص کو یہ ذمہ داریاں سونپی دی جانے لگیں۔ بڑھتے بڑھتے لائبریری سائنس کی باقاعدہ تعلیم اور تربیت کے کورسیز ہونے لگے اور ان کورسیز کے حامل لوگ کتب خانے کے مہتمم بنے جیسے پاکستان میں لائبریری سائنس کی تعلیم و تربیت کا آغاز کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر عبد المعید اور دیگر احباب لائبریری سائنس کا سرٹیفیکیٹ رکھتے تھے۔ انہوں نے اسی تعلیم سے لائبریری سائنس کی تعلیم کا آغاز کیا۔ اس سے قبل تاریخ یہ بتاتی ہے کہ 1915ء میں جامعہ پنجاب میں آساڈان ڈکنسن نے لائبریری سائنس کا سرٹیفیکیٹ کورس شروع کیا جو پاکستان کی سرزمین پر لائبریری سائنس کی تعلیم و تربیت کا نقطہ آغاز تھا۔ سرٹیفیکیٹ سے سلسلہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلو ، ایم اے، ایم فل اور اب پی ایچ ڈی تک وسیع ہو چکا ہے۔

کالج لائبریرینز کن مسائل اور مشکلات سے دو چار ہیں۔ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ لائبریرین کا جو امیج شروع میں قائم ہوا اس میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ باوجود اس کے کہ لائبریرینز خواہ کسی بھی جگہ پر ہوں اپنے گریڈ، تنخواہوں اور مراعات کے اعتبار سے بہت آگے جاچکے ۔ اس کی بنیادی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ زیادہ تر کتب خانوں میں ہم نے اپنی خدمات کو بہتر نہیں بنا یا۔ اس میں اضافہ نہیں کیا، اس میں بہتری نہیں لائے۔ یہ بات تمام اداروں پر لاگو نہیں ہوتی لیکن اکثر جگہ خاص طور پر سرکاری اداروں کی یہ صورت حال ہے۔کیونکہ ہماری سروسیز وہ نہیں جن کی توقعہ کی جاتی ہے اس وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ، سب سے اہم سوچ تو وہ سوچ ہے جو منتظمین کے ذہنوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔ کچھ مسائل واقعی کالج لائبریریز کو ایسے فیس کرنا پڑتے ہیں کہ جس کے باعث ان کی کار کردگی متاثر ہوتی۔ کالج لائبریرینز کے مسائل کو کچھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔

اعلیٰ منتظمین کی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت
کالجوں سے یہاں مراد سرکاری کالجوں سے ہے۔ منتظمین ان سے مراد پرنسپل، ڈائریکٹر، سیکریٹری، چیف سیکریٹر ی اور تمام بیورو کریٹس ہیں۔عام طور پر ان میں سے اکثر یت تصور کرتی ہے کہ کالج کے کسی بڑے کمرے میں لائبریری بنادی جائے، چند الماریاں ، چند ہزار کتب کا نام لائبریری ہے۔ وہ لائبریری کے اس بنیادی فلسفہ سے نہ واقف ہوتے ہیں کہ لائبریری ایک نامیاتی ادارہ یعنی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھنے والا ادارہ ہے۔ اگر یہ عمل جاری نہیں رہے گا تووہ ظاہر میں تو لائبریری کہی جاسکے گی درحقیقت وہ کتابوں کا اسٹور ہوگا، گودام کہلائے گا۔ چنانچہ اعلیٰ سرکاری افسران کی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔یہ سرکاری افسران انہی تعلیمی اداروں سے پڑھ کر، انہیں کتب خانوں سے استفادہ کر کے اس مقام تک پہنچتے ہیں ،افسوس سیٹ پر بیٹھ کر ان کی سوچ میں لائبریری کو ایک نامیاتی ادارہ سمجھنے والی نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لائبریری نہ ہونے کے برابر اور لائبریرینز اپنے مقاصد حاصل نہ ہونے پر مشکل میں رہتے ہیں۔

کالج لائبریری میں بجٹ کا نہ ہونا
لائبریری بجٹ سرکاری کالجوں کے کتب خانوں میں کتابوں یا دیگر علمی مواد کی خریداری کے لیے مستقل بجٹ نہیں ہوتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئی کتابیں نہیں خریدی جاتی اور لائبریری پرانی اور فرسودہ کتابوں پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر بجٹ دیا بھی جاتا ہے تو وہ کالج کے کل بجٹ میں شامل ہوتا ہے ۔ اسے خرچ کرنے کا اختیار سربراہ کالج کو ہوتا ہے جس کے ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ لائبریری میں تو پہلے ہی بہت کتابیں ہیں کیا ضرورت ہے کتاب خریدنے کی۔لائبریری ہی نہیں بلکہ ہر ایک ادارے کی ترقی کا انحصار بڑی ھد تک مالی وسائل پر ہوتا ہے۔ مالی وسائل جس قدر زیادہ ہوں گے وہ ادارہ اتنا ہی مستحکم ہوگا اور اس کی خدمات بہتر سے بہتر ہوں گی۔ مالی اعتبار سے کمزور ادارے کا گراف رفتہ رفتہ نیچے کی جانب ہی ہو جاتا ہے۔

کالج انتظامیہ کا لائبریرین کے ساتھ رویہ
یہ صورت حال تمام جگہ نہیں لیکن اکثر جگہ یہ دیکھا گیا ہے کہ کالج لائبریرین کو اساتذہ کے مساوی درجہ نہیں دیا جاتا جب کہ کالج لائبریرین گریٹ 17میں اپائنٹ ہوتا ہے، پبلک سروس کمیشن سے اسی طرح آتا ہے جیسے کسی بھی مضمون کا لیکچرار اپائنٹ ہوتا ہے لیکن بعض اعلیٰ افسران کی سوچ وہی ہوتی ہے کہ کالج لائبریرین کا کام تو کتاب لینا اور کتب دینا ہے۔ اس صورت حال سے کالج لائبریرین کا بددل ہونا قدرتی عمل ہے۔انتظامیہ کا غیر منصفانہ رویہ کالج لائبریرینز کے لیے ذہنی اذیت کا باعث ہوتا ہے۔

کالج لائبریرینز کی ترقی کا فارمولا
کالج لائبریرینز کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ان کی ترقی کا کوئی ایسا مساوی فارمولا نہیں جس طرح ایک لیکچرر 17گریٹ میں آکر وقت کے ساتھ 20گریٹ تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے لیکن کالج لائبریرین کے ساتھ ایسا معاملا نہیں۔ باوجود اس کے کہ بعض صوبوں میں ترقی کا فارمولاطے پاگیا ہے لیکن اس پر سختی سے عمل نہیں ہوتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کالج لائبریرین جس گریڈ میں اپائنٹ ہوتے ہیں ترقی کے انتظار میں ریٹائر ہوجاتے ہیں۔

لائبریری کمپیوٹرائزڈ کرنے میں رکاوٹیں
کالج لائبریرینز کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ جس لائبریری میں خدمات انجام دے رہا ہے اسے جدید خطوط پر بنائے یعنی اسے کمپیوٹرائزڈ کرے۔ کسی بھی لائبریری کو کمپیوٹرائز ڈ کرنے میں جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے یعنی کمپیوٹر ، سافٹ ویئر، انٹر نیٹ اور دیگر ساز و سامان و آلات وہ کالج لائبریرین کو فراہم نہیں کیے جاتے۔ آج کا لائبریرین جو ایم ایل آئی ایس کر کے جاب میں آرہا ہے وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے ، وہ اپنی لائبریری کو کمپیوٹرائزڈ کرسکتا ہے لیکن انتظامیہ کا عدم تعاون اس راہ میں رکاوٹ ہوتا ہے۔

فرنیچر ، ساز وسامان و آلات
کالج لائبریرینز کو یہ مسائل بھی ہوتے ہیں کہ انہیں ضرورت کے مطابق لائبریری فرنیچر جیسے کرسیاں، میزیں، ڈکشنری اسٹینڈ، الماریاں وغیرہ فراہم نہیں کیے جاتے۔

معاون لائبریری اسٹاف کی عدم فراہمی
کالج انتظامیہ یہ تصور کرتی ہے کہ کالج میں لائبریرین اپائنٹ ہوکر آگیا چنانچہ وہ جانے اور لائبریری کے کام ۔ اسے صفائی، ستھرائی کے لیے ، معاونت کے لیے کسی پیرا لائبریری اسٹاف کی ضرورت نہیں۔ جب کالج سربراہ کے دروازے پر دو دو تین تین دفتری موجود ہوتے ہیں۔ لائبریرین کے لیے کسی ماتحت عملہ کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ کالج لائبریرینز کو اس قسم کے مسائل بھی فیس کرنا ہوتے ہیں۔

کالج لائبریری کی عمارت
کالجوں میں عمارت کی توسیع کا عمل جاری و ساری رہتا ہے ۔ لیکن پوری عمارت از سر نو تعمیر ہوجائے گی لیکن اگر الگ بلڈنگ نہیں بنے گی تو وہ لائبریری کی ہوگی۔تمام پرانے اور قدیم کالجوں کی عمارتیں از سر نو تعمیر ہوچکی ہیں کسی ایک کالج میں لائبریری کے لیے الگ عمارت کی تعمیر نہیں ہوتی، کالج لائبریرین اگر آواز بلند کرتا بھی ہے تو اس سنی ان سنی کردی جاتی ہے۔

کالج لائبریرینز کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول
کالج لائبریرینز بھی چاہتے ہیں کہ وہ ایم فل یا پی ایچ ڈی کریں۔ اس لیے کہ اب زمانہ بہت تیز تر ہوچکا ہے۔ ماسٹر ڈگری کی ملازمت کی بنیاد ضرور ہے لیکن بات بہت آگے جاچکی ہیں۔ کالج لائبریرینز کے لیے اعلیٰ تعلیم یعنی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے میں بے شمار مسائل اور مشکلات ہیں جیسے چھٹی کا نہ ملناوغیرہ۔ ملک کی بے شمار جامعات میں لائبریری و انفارمیشن سائنس میں ایم فل اورپی ایچ ڈی کی تعلیم کی سہوتیں موجود ہیں لیکن کالج لائبریرینز اس سہولت سے بھی محروم ہیں۔

کالج لائبریرین ہونے کے پیش نظر کچھ مسائل جو ذہن میں آئے تحریر کر دیے ہیں ۔ یقیناًاور بہت سے مسائل ہوں گے انہیں حتمی تصور نہ کیا جائے ۔ متعلقہ احباب انہیں آگے بڑھا سکتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 768 Articles with 669777 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
22 Feb, 2018 Views: 539

Comments

آپ کی رائے