مجھے کیوں نکالا؟(حصہ اوّل)

(Kaleem Ahmed Shaikh, )

پاکستان کے سیاستدان اور یہاں گزشتہ طویل عرصے تک حکمران رہنے والے لوگ اس قدر چھوٹے ہوں گے یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا ۔گزشتہ کئی دنوں سے یہ تماشہ چل رہا ہے اور ڈھٹائی ، بے شرمی ،بے اصولی پر مبنی ڈرامہ پاکستان کے عام لوگ دیکھ رہے ہیں مگرکچھ کرنہیں سکتے اس لئے کہ ان کو مسائل اور روٹی کے چکر میں اتنا برا پھنسایا گیا ہے کہ وہ ہماری اشرافیہ اور حکمران طبقے کے بارے میں نہ جانتے ہیں او رنہ ہی جاننا چاہتے ہیں ،ایسا نہیں کہ شعور نہیں رکھتے مگر جس ملک میں خواندگی کی شرح تشویشناک حد تک کم ہو اور وہ شخص بھی پڑھا لکھا سمجھا جائے جو کہ اپنا نام لکھ سکتا ہو تو پھر ایسا کیونکر ممکن ہے کہ ایک صحت مند اور تعمیری تنقیدسے فیضیاب ہوا جائے یااس کو برداشت کیا جائے ۔

سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف مئی 2013 ء کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے بڑے کرو فر سے پاکستان پر حکومت کررہے تھے ،ساتھ ہی پاکستانی سیاست میں نئی ظہو ر پذیر ہونے والی قوت تحریک انصاف نے نوازشریف صاحب کے اس بھاری اکثریت کو تسلیم نہیں کیا اور اس الیکشن کو الیکشن سے زیادہ سلیکشن قرار دیا اور مسلسل احتجاج اور دھرنوں سے نواز شریف کوپریشان کئے رکھا ان ہی دھرنوں اور احتجاجوں کے نتیجے میں تحریک انصاف اپنا ایک مطالبہ تو منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی کہ قومی اسمبلی کے چار حلقے کھولے جائیں اور ان انتخابی حلقو ں میں ہونے کاسٹ ہونے والے ووٹوں کی تصدیق کی جائے ،آیا کہ یہ ووٹ اصلی ہیں یا نواز شریف کو یہ اکثریت دھاندلی کے ذریعے دلوائی گئی ہے۔خیر صوب�ۂ پنجاب سے قومی اسمبلی کے چار حلقے کھولے گئے جہاں سے نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سینئر رہنما ، خواجہ سعد رفیق (وفاقی وزیر ریلوے)، خواجہ محمد آصف (وفاقی وزیر خارجہ)، سردار ایاز صادق(اسپیکر قومی اسمبلی) اور ایک حلقہ اور تھا جہاں سے نواز شریف کی جماعت نے بھاری اکثریت حاصل کی ۔۔مگر ان حلقوں میں بھاری تعداد میں مشکوک ووٹ برآمد ہوئے اور کچھ جگہ تو ووٹوں کو تھیلوں سے ووٹوں کی جگہ ردی کاغذ برآمد ہوئے ،اورعدالت نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے الیکشن کو مشکوک قرار دے دیا ایاز صادق کو قومی اسمبلی کی اسپیکر شپ اور اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے ہاتھ دھونا پڑااوراس نشست پر دوبارہ پولنگ ہوئی اور چند سو ووٹ کے فرق سے اسپیکر ایاز صادق صاحب بمشکل اپنی سیٹ بچا پائے اور دوبارہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے،تحریک انصاف سے انہیں بہت سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا ۔اسی طرح دیگر تین حلقوں میں بھی کم و بیش یہی صورتحال رہی اور نواز شریف کی پارٹی کی دھاندلی طشت از بام ہوگئی ، مگر تحریک انصاف حکومت کو گرانے میں کامیاب نہ ہوسکی ،دیگر لوگ بھی کسی نہ کسی طرح اپنی سیٹوں پر براجمان رہے اور وزارتوں کے بھی مزے لیتے رہے۔

اس طرح نواز شریف کی حکومت عارضی طور پر اس بحران سے نکلتی ہوئی دکھائی دینے لگی اور یہ محسوس ہونے لگا کہ شاید اس بار نواز شریف اپنے اقتدارکی مدت پوری کرلیں گے ، کیونکہ قومی اسمبلی میں موجود حزب اختلاف اور قائد حزب اختلاف نے کبھی بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی کوشش نہیں کی اور قائدِ حزب اختلاف ،اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ کی ذاتی کرپشن کے اتنے معاملات تھے کہ وہ کسی بھی صورت میں نواز شریف اور ان کی پارٹی کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے اور سکون سے ان کی حکومت کی مدت پوری ہوتے دیکھ رہے تھے اور اپنی باری کا انتظار کررہے تھے ، اور حزب اختلاف میں ہونے کے باوجود حزب اقتدار والے فوائد حاصل کررہے تھے ۔

مگر پاکستان کے غریب عوام کی خوش قسمتی اور نواز شریف کی بد قسمتی کہ اپریل 2016 میں ICIJنامی ایک صحافیوں کی تنظیم نے آف شور کمپنیاں بنانے والی پنا ما میں واقعہ ایک لاء فرم MOSSAK FONESCA کا دستاویزی ثبوت کے ساتھ ریکارڈ دنیا بھر میں آن لائن نشر کر دیا جو کہ دنیا بھر کے کرپٹ حکمرانوں کے لئے ایٹم بم کے دھماکے سے کم نہیں تھا اس دھماکے کو دنیا ’’پناما لیکس‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔اس’’پناما لیکس‘‘ میں تقریباً450 سے زائد پاکستانی افراد کے نام بھی تھے جن کی اربوں ڈالرز کی جائیدادیں ملک سے باہر موجود ہیں اور ان میں سر فہرست شریف فیملی بھی جن کے لندن کے انتہائی مہنگے علاقے مے فئیر میں پارک لین لگژری فلیٹس جن کے نمبر16, 16-A اور 17, 17-A تھے جن کی مالیت اربوں ڈالر میں تھی اس کے علاوہ بھی کئی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ،۔ تحریک انصاف نے اس موقع کو بہت اچھی طرح استعمال کیا اور نوازشریف کے خلاف ایک نئی تحریک شروع کردی ، ساتھ ہی نواز شریف کے پرانے ساتھی ، اور موجودہ سب سے بڑے سیاسی دشمن سینئر سیاستدان ، شیخ رشید احمد اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے اور کئی ماہ تک یہ کاروائی چلتی رہی مگر وزیر اعظم نواز شریف او ران کی فیملی کے پاس اپنے دفاع میں کچھ بھی نہیں تھا اور ان کے صاحبزادے حسن نواز، اور حسین نواز نے ’’پناما لیکس‘‘ آنے سے قبل ہی جو کہ خود لندن میں واقع ان پر تعیش اور انتہائی مہنگی جائیدادوں میں طویل عرصہ سے رہائش پذیر ہیں انہوں نے کچھ پلانٹڈ انٹریوز مختلف میڈیا چینلز کو دئیے جن انہوں نے بڑے مزے سے الحمدللہ ، الحمدللہ کہہ کر درج بالا فلیٹس کی ملکیت کااعترا ف کیا اور جب بھی کسی اینکر نے ان کی منی ٹریل پوچھی اور وہ مالی ذرائع دریافت کئے جن کے ذریعے یہ فلیٹس خریدے گئے تو حسن نواز صاحب نے برملا کہا کہ یہ ثبوت ہم میڈیا پر نہیں دکھا سکتے اور یہ دکھانا ضروری ہوا کہ یہ اربوں ڈالر کی جائیداد خریدنے کا ذریعہ کیا تھا تو یہ ثبوت ہم کسی مناسب فورم یا عدالت میں پیش کریں گے، میڈیا پر نہیں دکھائیں گے ۔ انہیں یہ توقع تھی کہ یہ وقتی مسئلہ ہے ہم پاکستان کے35 سال سے حکمران ہیں اور کس میں جرأت ہے کہ ہم سے سوال و جواب کرسکے مگر جب عدالت میں یہ معاملہ پہنچ ہی گیا تو شریف خاندان کے پاس اپنے دفاع میں ایک بھی دستاویزی ثبوت نہیں تھا ۔

یہ بھی شریف خاندان کی بدقسمتی یا اللہ کی پکڑ تھی کہ اگر شریف خاندان کے افراد ازخو د ان جائیدادوں کی ملکیت تسلیم نہیں کرسکتے تو عدالت میں ان فلیٹس کو شریف فیملی کی ملکیت ثابت مشکل ہی نہیں قریب قریب ناممکن تھا کیونکہ آف شور کمپنیاں تہہ در تہہ ہوتی ہیں اور کئی فرنٹ مین ہوتے ہیں اور ان آف شور کمپنیز کے اصل مالک کا تعین کرنا ایک امر محال ہے، مگر شومئی قسمت شریف خاندان نے ازخود ان کی ملکیت کوتسلیم کرلیا اور اب عدالت میں بارِ ثبوت ان کے سر پر تھا کہ ان جائیدادوں کی خریداری کے لئے کثیر سرمائے کو کمانے کے ذرائع اور پھر اس کثیر سرمائے کو لندن منتقل کرنے کی قانونی اور جائز طریقے کو ظاہر کرے اور اور اگر ظاہر نہ کرسکے تو پھر یہ سب ناجائز بلیک منی اور منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئے گا ۔کئی ماہ تک یہ کیس سپریم کورٹ میں چلتا رہا اور 5 رکنی بنچ نے ہر طرح سے شریف خاندان کو ثبوت پیش کرنے کے بے شمار مواقع فراہم کئے مگر یہ خاندان جوکہ پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے اور کم و بیش 35سالوں سے کسی نہ کسی طرح پاکستان میں بر سرِ اقتدار بھی ہے ، اس وقت نواز شریف نے بطور وزیر اعظم قوم سے کئی خطابات بھی کئے ، قومی اسمبلی میں بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کے لئے تقریر کا سہارا لیا مگر وہ فورم جہاں ان کو ثبوت پیش کرنے چاہیے تھے وہاں انتہائی مضحکہ خیز ثبوت اپنے دفاع میں پیش کئے ان میں ایک خط تھا جوکہ قطر سے سابق وزیر اعظم او ر شہزادے حمد بن جاسم الثانی کا خط تھا جو ’’قطری خط‘‘ کے نام سے دنیا بھر میں مشہورہوا ایک عدد ٹرسٹ ڈیڈ تھی جو کہ مائیکرو سافٹ ورڈ میں ٹائپ شدہ تھی جس میں جو Font استعمال کیا گیا تھا اس کا نام Calibri تھا جوکہ جنوری2007میں مائیکرو سافٹ ورڈ میں مارکیٹ میں متعارف کروایا تھا مگر ہمارے ملک کی عظیم مدبر سیاسی رہنما اورمادر ملت ثانی محترمہ مریم نواز نے وہ Font اس کے مارکیٹ میں آنے سے قبل ہی2006 ء استعمال کرڈالا اور وہ ٹرسٹ ڈیڈ بھی تیار کرکے سپریم کورٹ میں پیش کی جوکہ جعلی ثابت ہوئی ،اس طرح کے ثبوت پیش کرنے سے ہی آپ شریف فیملی کی ذہانت اور قابلیت کا اندازہ کرسکتے ہیں ،یعنی جو ثبوت بھی پیش کیا گیا وہ الٹا ان کے خلاف ایک نئے کیس کا سبب بنا ۔شریف فیملی کا سپریم کورٹ میں مؤقف یہ تھا کہ لندن فلیٹس 2006ء میں انہوں نے خریدے مگر مسلم لیگ کے اپنے کئی سینئر رہنما اس بات کا کئی با ر برملا ٹیلی وژن انٹرویوز میں اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ یہ فلیٹ 1993-94 سے شریف فیملی کے زیر استعمال ہیں یوں تمام حقائق اور ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کور ٹ پانچ رکنی بنچ میں سے دو معزز جج صاحبان نے فوری طور پر نوازشریف کو وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی ممبر شپ کے لئے نااہل قرار دیا اور تین معزز جج صاحبان نے ایک JiT تشکیل دینے کا فیصلہ دیا جوکہ اس معاملے کی مزید تحقیقات کرے اور یو ں JiT کی تحقیقات کے نتیجے میں ایسے ایسے ہوشربا کرپشن اور منی لانڈرنگ کے معاملات سامنے آئے جن کے بعد معزز عدالت عالیہ کے تمام پانچوں ججوں نے بالآخر 28 جولائی 2017ء کو نوازشریف کو نااہل قرار دے دیا۔اس طرح موصوف وزارت عظمیٰ ، ممبر قومی اسمبلی اور اپنی جماعت کی صدارت سے نااہل قرار پائے ، کیونکہ پاکستان کے آئین اور قانون کی رو سے کوئی ناہل شخص کسی سیاسی جماعت کارکن نہیں بن سکتا چہ جائیکہ وہ پارٹی کی صدارت کرے اور تمام ممبران قومی اسمبلی ، سینٹرز، ممبران صوبائی اسمبلی اور مقامی حکومتی عہدے داران اس کے سامنے جوابدہ ہوں اور 18 ویں ترمیم کے بعد تو پارٹی سربراہ کے پاس بہت زیادہ بلکہ آمرانہ اختیارات آچکے تھے ،یعنی ایک نااہل پورے ملک کی تقدیر کا مالک ،اور کنگ میکر ہویہ بات ناممکن تھی، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے میاں نوازشریف کی سیاسی جماعت، جوکہ پاکستان بلکہ شاید دنیا کی انوکھی سیاسی جماعت ہے جوکہ ایک شخص کے نام سے موسوم ہے یعنی مسلم لیگ نواز شریف ۔۔۔اس ہزیمت اور ذلت کے بعد نوازشریف نے ایک چال اور چلی جس میں موصوف نے قومی اسمبلی اور سینٹ سے الیکشن ترمیمی بل 2017ء کے نام سے ایک قانون پاس کروا لیا جس کی رو سے سپریم کورٹ سے نااہل شخص بھی پارٹی صدارت کے لئے اہل قرار پایا ، اور پھر سے پارٹی صدارت پر براجمان ہوگئے ۔اور اپنے ایک انتہائی قریبی ساتھی شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنادیا ۔ (جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kaleem Ahmed Shaikh

Read More Articles by Kaleem Ahmed Shaikh: 11 Articles with 4531 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Feb, 2018 Views: 400

Comments

آپ کی رائے