گنز اینڈ روزز (قسط ٢٠)

(Hukhan, karachi)

کون ہو تم لوگ،،،؟
سب سے پہلے آفندی کے ہاتھ سے کلہاڑی چھوٹ کر گرگئی۔آفندی کی گھبراہٹ
کی ایکٹنگ اس قدر شاندار تھی کہ رانا بھی عش عش کر اٹھا،،،، ‘‘میجر صاحب کو
آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے‘‘۔مگر اگلے ہی لمحے رانا نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی پر
قابو پایا،،،کیونکہ ڈاکٹر انعم نے اتنی تیزی سے خود کو شٹل کاک برقعے میں گھسیڑا
جیسے اس سے ذیادہ پردے دار خاتون کم سے کم اس وادی میں ہو ہی نہیں سکتی۔

عجیب ہی منظر تھا،،،جیب سے مسلح افراد اترتے چلے گئے،،رانا نے چھ تک افراد
کاؤنٹ کیے، پھر خود کلامی تھی،‘‘سو بھی ہوں تو کیا فرق پڑتا ہے‘‘،،،
ان کا میزبان خوفزدہ سا سامنے آگیا،،بڑی عزت سے ان سے مخاطب ہوا،،‘‘جناب یہ
سب میرے مہمان ہیں ۔مسلح شخص نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی،،،اس نے
برقعے میں تھر تھر کانپتی انعم کو دیکھا،،،‘‘یہ تم عورت ذات کو کیوں ساتھ لائے ہو،،؟

میزبان جھٹ سے بولا،،،یہ میرے مہمان ہیں،،،اتروت کی وادی سے آئے ہیں پشتوسے
ذیادہ واقف نہیں ہیں،یہ گھر میں اکیلی گھبرا رہی تھی ،،،اس لیے اسے بھی ساتھ لے
آئے ہیں۔

تم لوگ کیا جانتے نہیں کہ یہاں سکندر خان کا راج ہے ،،یہاں کی اک اک چیز اسی کی
ملکیت ہے،،ہوا،،،پانی،،،چرند پرند سب سکندر خان کے ہیں۔
میزبان جھٹ سے بولا،،،ہم تو سب گزارے کی لکڑی کاٹ رہے تھے،،،سوچا وادی کوبھی
دیکھ لیں گے اور تھوڑا ساکام بھی ہو جائے گا،،،!

بس،،،تمہارے باپ کا مال ہے کیا،،اب کے ڈورہ چمچہ جوکہ مسلسل برقعے کے پیچھے
جھانکنے کی کوشش رہا تھا،،،بد تمیزی سے بولا،،،تم لوگ کس چیز پر آئے ہو،،،؟
مسلح شخص ہر جگہ نظر دوڑا رہا تھا،مگر انہوں نے جیپ کو ایسے درختوں کی شاخوں سے
چھپا دیا تھا کہ کسی کی نظروں کا وہاں تک پہنچ جانا ناممکن تھا۔
میزبان کا کتا مسلح افراد پر حملہ آور ہونا ہی چاہتا تھاکہ میزبان کی ہلکی سی سیٹی سن
کر وہ جھاڑیوں کے پیچھے دبک کر بیٹھ گیا۔

ان چاروں کو جیپ میں بٹھا دیا گیا،،،جیب شمال کی جانب اترائی کی طرف چل پڑی،،،!!
جونہی جیپ نے موڑ کاٹا،،کتا جست لگا کے شارٹ کٹ سے جیب کے پیچھے ہو لیا،،آفندی
نے اپنی ہتھیلی جیپ سے باہر نکال لی،،،اب اس کی آستین میں چھپا باریک پاؤڈر سڑک پر
گرنا شروع ہوگیا تھا،،،زمین کو چھوتے ہی پاؤڈر پیلے رنگ میں تبدیل ہونے لگا۔انعم ڈرائیور
کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔

جیپ کچھ ہی دیر میں بڑی سی حویلی میں داخل ہو چکی تھی،،،کتا جیپ کو حویلی میں
داخل ہوتا دیکھ کر واپس مڑ گیا،،،پیلے رنگ کی خوشبو اور رنگ اس کو با آسانی رہنمائی کر
رہا تھا۔
رانا کو زور سے دھکا لگا اور وہ منہ کے بل جیپ سے نیچے آیا،،،آفندی کا رنگ سرخ ہونے لگا
رانا جو درد سے کراہ رہا تھا اس نے آفندی کو آنکھ ماری،،،جو اس بات کا اشارہ تھا ،،،‘‘ آئی ایم
اوکے میجر صاحب،،،ڈونٹ وری،،،! (جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 859976 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Mar, 2018 Views: 798

Comments

آپ کی رائے
amazing
By: sohail memon, karachi on Mar, 03 2018
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Mar, 06 2018
0 Like
kia baat hay,,,,,,,,maza anay laha hay dost
By: rahi, karachi on Mar, 03 2018
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Mar, 06 2018
0 Like