یار کو ہم نے جابجا دیکھا - قسط نمبر 9

(Adeela Chaudry, Renalakhurd)

دو چار دن سے وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا اسی لیے اپنی روٹین لائف میں آہستہ آہستہ واپس آ رہا تھا۔آج وہ بہت دن بعد اپنے والدین کے ہمراہ کسی پارٹی میں شریک تھا۔اس کے ماں باپ بہت خوش تھے کیونکہ آج انہیں اس میں بالکل پہلے والا سندیپ نظر آ رہا تھا۔
آج وہ پہلے کی طرح نہ صرف پارٹی بلکہ کچھ حسیناؤں کی کمپنی بھی خوب انجواۓ کر رہا تھا۔
لیٹس ایٹ سمتھنگ۔اچانک ایک لڑکی نے کہا اور سب پکوانوں والی سائیڈ بڑھ گئے جہاں انواع و اقسام کے کھانے بن رہے تھے اورلوگ اپنی اپنی پلیٹس میں
ڈال کر ایک طرف ہوتے جا رہے تھے۔
اور اگر کوئی دو دن سے بھوکا ہو تب؟؟؟ اس نے جیسے ہی تکے کی طرف ہاتھ بڑھایا اس کے کانوں میں وہی شیریں آواز گونجی
اور اگر آپ کسی کو کچرے کے ڈھیر سے کچھ بچا کچا اٹھا کر کھاتا دیکھ لیں تب؟؟؟کیا تب بھی یونہی پارٹی انجواۓ کرتے رہیں گے؟؟؟ اس نےپلیٹ فوراً واپس رکھ دی اور باہر نکلتے ہی دیوانوں کی طرح ادھر ادھر بھاگنے لگا۔
نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا۔ہرگز نہیں میں ایسا نہیں بنوں گا۔کبھی نہیں۔ کبھی بھی نہیں۔وہ زوردار آواز میں بڑبڑاتے ہوۓ بھاگ رہا تھا۔آخراسےایک جگہ کچرے کے ڈھیر سےاٹھا کر کچھ کھاتا ہوا ایک بچہ نظر آیا۔وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچااس کے ہاتھ سے بچا کچا نان کا ٹکڑا پکڑ کے ایک طرف اچھال دیااور اس کاہاتھ پکڑ کر قریبی ایک ہوٹل میں لے گیا۔
بچے نے سیر ہو کرکھانا کھایااورکچھ کھانا سندیپ نے پیک کرواکر بچے کو ساتھ دے دیا تا کہ وہ اپنے گھر والوں کو کھلا سکے۔بچے کھانا اس کے ہاتھ سے پکڑا اور جاتے جاتےزور دار آوازمیں اس کا شکریہ ادا کیا۔
شکریہ دیپ بھیا اللہ آپ کی ہر مراد پوری کرے۔وہ اتنا کہتے ہوۓ گلی کی نکڑ مڑ گیا اور سندیپ اس کی دعا کو مسکراتا ہوا دل میں دوہراتا جا رہا تھا۔شکریہ دیپ بھیا اللہ آپ کی ہر مراد پوری کرے۔
دیپ بھیا؟؟؟؟؟؟ اچانک اس کا دھیان اپنے نام کی طرف گیا اس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہو گئی وہ چلتے چلتے رک گیا۔
لیکن اس کو میرا نام کس نے بتایا؟؟؟ اور اگر اس کو کسی نے میرا نام بتایا تھا تو اس نے پہلے میرا نام کیوں نہ لیا؟؟؟ کون تھا وہ؟؟؟کیا اسے میرے پاس پللاننگ کے تحت بھیجا گیا تھا؟؟؟؟ ایسے بہت سے سوال جو اس کے ذہن میں آ رہے تھے اسے ان سب کا جواب چاہیے تھا اسی لیے اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اسی سمت دوڑ لگا دی جس سمت وہ بچا گیا تھا۔ اس نے گلی مڑ کے بھی دیکھا بہت سے لوگوں سے بھی پوچھا جو وہاں کافی دیر سے کھڑےتھے لیکن کسی نے بھی کوئی بچہ وہاں سے گزرتا نہیں دیکھا۔ بہت دیر تک تلاش کرنے کے بعد جب وہ اسے نہ ملا تو وہ مرے قدموں واپس لوٹ گیا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adeela Chaudry

Read More Articles by Adeela Chaudry: 24 Articles with 30395 views »
I am sincere to all...!.. View More
07 Mar, 2018 Views: 854

Comments

آپ کی رائے
Oh My God Oh My God this is lovely. Beautiful episode 😘😘😘 Finally ap ne fir se likhna start kar e diya. Gud Luck. 👏🏻👏🏻
By: Ramis, Lahore on Mar, 07 2018
Reply Reply
0 Like