مفلوک الحال دو نابینا خواتین

(Malik Tahir, )

تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تقریبات ، سیمیناروں اور میڈیا شوز ، اخبارات کے سپیشل ایڈیشنز کی اشاعت جاری ہے مگر آج کی عورت ، ظلم و جبر، معاشرتی نا ہمواریوں، غربت و افلاس کا شکار ہے۔ حقیقی مسائل پر کسی کی توجہ نہیں ان میں سے غربت کی سطح سے بھی نیچے گھر کی چھت سے محروم فاقہ زدہ مفلوک الحال دو نابینا بہنیں ایسی بھی ہیں جو موت کے انتظار میں بھوک اور مفلسی سے نبردآزما اپنی حیات کے ایام پورے کر رہی ہیں۔ ضلع اٹک کی یونین کونسل بولیانوال کی داخلی آبادی ڈھوک اکبری کا بد نصیب خاندان جس میں نابینا پن کی بیماری آفت بن کر وارد ہوئی ۔ خاندان کا سربراہ غلام خان عرف کالا خان اس کی بیوی سعادت جان اور جواں سالہ بیٹا محمد سرفراز چند ہی سالوں میں یک بعد دیگرے اس بیماری کی لپیٹ میں آکر خالق حقیقی سے جا ملے ۔ مگر زمانے کے امتحانوں کا سامنا کرنے اور سختیاں جھیلنے کے لیے ان کی دو بیٹیاں ساجدہ بی بی اور شاہدہ بی بی زندہ تو ہیں مگر نابینا پن کا شکار ان دو بہنوں کے پاس رہائش کے لیے نہ تو اپنا گھر ہے اور نہ ہی زندگی گزارنے کے لیے دوسرا سازو سامان ۔ اہل دیہہ و ہمسائیوں کی طرف سے مہیا کر دہ اشیائے خوردونوش سے زندگی اور پیٹ کا رشتہ قائم ہے۔بیگانے گھر میں رہائش پذیر ان دونوں بہنوں کے چہروں سے مفلسی ، بھوک ، مفلوک حالی کی جھلک نظر آتی ہے اور غذائی کمی پریشانیاں و مصائب کی تصویریں ان کے چہروں پر نمایاں دکھائی دیتی ہیں ۔ تقریبا دو سال قبل جب راقم الحروف کو اس خاندان کے متعلق علم ہوا تو ان کو ملک رفعت حیات کی وساطت سے خصوصی طور پر اٹک شہر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بلوا کر امراض چشم کے ڈاکٹرز سے معائنہ کروایا میڈیکل چیک اپ کے دوران ڈاکٹرز نے واضح کیا کہ ان بہنوں کے امراض کا علاج اس شہر میں نہیں ہو سکتا اس کے لیے انہیں کسی بڑے شہر کے بڑے ہسپتال لے جانا درکار ہے ۔ بعد ازاں محکمہ سوشل ویلفیئر اٹک میں ان کے اندراج کے بعد میڈیکل چیک اپ کروایا گیا اور سرکاری سطح پر ان کو معذوری کا سرٹیفکیٹ دلوانے کے بعد اسی سرٹیفکیٹ کی وساطت سے محکمہ سوشل ویلفیئر و وزیر اعلی خدمت کارڈ پروگرام میں مالی امداد کے لیے درخواستیں بھی دی گئی مگر آج تک نہ ہی حکومت پنجاب اور نہ ہی سوشل ویلفیئر اٹک کی طرف سے کوئی مثبت جواب آیا نہ کسی قسم کی امداد کی گئی ۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر سے چند کلو میٹر دور ہونے کے باوجود آج تک یہ بد قسمت خاندان نہ تو کسی NGO اور نہ ہی کسی سیاسی اور سماجی شخصیت کی توجہ حاصل کر پایا تاکہ ان کی وساطت سے ان کا علاج معالجہ و امداد ہو سکے۔ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے میری حکومت پنجاب اور ضلع اٹک کے نیک دل ڈپٹی کمشنر رانا اکبر حیات جو کہ نابینا افرا دکے لیے شجر سایہ دار کا درجہ رکھتے ہیں اور جنہوں نے اپنی ذاتی دلچسپی سے درجنوں نابینا و معذور افراد کو بر سر روزگار کروایا ہے ان کو سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ملازمتیں فراہم کر وائی ہیں نابینا افراد کی سرپرستی و امدا د کے لیے اور ان کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے محمد نیاز نامی اس کمیونٹی کے ایک فرد کو انہوں نے فوکل پرسن بھی مقرر کر رکھا ہے جس کی وساطت سے نابینا افراد کے مسائل کی نشاندہی بھی ہوتی ہے ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ رانا اکبر حیات ڈپٹی کمشنر اٹک کے دفتر کے دروازے نابینا افراد کے لیے ہر وقت کھلے رہتے ہیں اور وہ ان مخصوص افراد کو بھر پور طریقے سے امداد فراہم کروا کر خوشی محسوس کرتے ہیں میری رانا اکبر حیات سے بھر پور اپیل ہے کہ ان نابینا و بے سہارا ، مفلوک الحال ، فاقہ زدہ ، بے گھر دو بہنوں کے علاج اور مالی امدا د کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ اس خاندان تک رسائی اور ان کی امداد کے لیے حکومتی و مخیر حضرات سیف اﷲ ملک سے اس نمبر0333-5692075 پر رابطہ کر سکتے ہیں اور موقع پر جا کر خود جانچ پڑتال کر کے ان کی امداد کو یقینی بنا سکتے ہیں ۔ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے اگر جائزہ لیا جائے تو اسلام نے خواتین کو جس عزت ، رتبے اور احترام سے نواز ا ہے شاہد ہی دنیا کے کسی اور مذہب میں اس کی برابری ہو۔ اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں بچیوں کو زندہ درگور کرنے اور دختر کشی کا رواج عام تھا اسلام عورتوں کے لیے سراپا رحمت بن کر آیا، ماں ، بہن ، بیٹی ، بیوی جیسے باعزت رشتوں سے ان کے حقوق متعین کیئے آج کے دور میں اقوام مغرب نے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے عورتوں میں شعو ر وا ٓگاہی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس سے بہتر نظام ہزاروں سال پہلے اسلامی تعلیمات میں متعین کیا گیا ہے۔ اﷲ تعالی کی کتاب قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ احادیث مبارکہ میں خواتین کے حقوق و احترام کے حوالے سے پورا نظام موجود ہے ان پر عمل پیرا ہو کر ہی خواتین کو حقیقی معنوں میں عزت و تکریم اور ان کے حقو ق دیئے جا سکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Tahir

Read More Articles by Malik Tahir: 27 Articles with 11787 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Mar, 2018 Views: 356

Comments

آپ کی رائے