معاشرے کے مفلوک الحال لوگوں کی مدد کا طریقہ۔۔۔عبید اللہ سندھی کی نظر میں

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)
انسانی معاشرے کی بقاء کا دارومدار اس میں بسنے والے افراد کے باہمی اشتراک اور یکجہتی پر ہوتا ہے۔قومی سطح پہ مضبوطی اور خوشحالی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک پوری قوم مل کر اپنے اداروں کی تشکیل اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں محنت کو شعار نہیں بناتی۔محنت سے جی چرانے والی اقوام روبہ زوال رہتی ہیں۔آج ہم دنیا بھر میں ترقی یافتہ اقوام سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔جنہوں نے اپنی آبادیوں میں کام اور محنت کو رواج دیا ۔اور مسلسل محنت اور کام کے نتیجے میں آج وہ معیشت،سائنس،علوم،صنعت وتجارت میں ترقی اور خوشحالی کی معراج کو چھو رہی ہیں۔ یقیناً ان اقوام کی تاریخ اس حقیقت کو آشکارا بھی کرتی ہے کہ ماضی میں ان کے معاشرے زوال پذیر تھے۔بے شمار مسائل نے آبادیوں کو گھیرا ہوا تھا۔ادارے اپنا فعال کردار ادا نہیں کر رہے تھے۔لیکن ان اقوام نے انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی سطح تک تبدیلی کے لئے جدو جہد کی۔اور زندگی کے ہر شعبے میں درست حکمت عملی اپنا کر محنت کو رواج د یا۔

Walking through the streets of Orangi: Perween believed that everyone, regardless of income, had a right to basic services. — Photo courtesy OPP

انسانی معاشرے کی بقاء کا دارومدار اس میں بسنے والے افراد کے باہمی اشتراک اور یکجہتی پر ہوتا ہے۔قومی سطح پہ مضبوطی اور خوشحالی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک پوری قوم مل کر اپنے اداروں کی تشکیل اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں محنت کو شعار نہیں بناتی۔محنت سے جی چرانے والی اقوام روبہ زوال رہتی ہیں۔آج ہم دنیا بھر میں ترقی یافتہ اقوام سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔جنہوں نے اپنی آبادیوں میں کام اور محنت کو رواج دیا ۔اور مسلسل محنت اور کام کے نتیجے میں آج وہ معیشت،سائنس،علوم،صنعت وتجارت میں ترقی اور خوشحالی کی معراج کو چھو رہی ہیں۔ یقیناً ان اقوام کی تاریخ اس حقیقت کو آشکارا بھی کرتی ہے کہ ماضی میں ان کے معاشرے زوال پذیر تھے۔بے شمار مسائل نے آبادیوں کو گھیرا ہوا تھا۔ادارے اپنا فعال کردار ادا نہیں کر رہے تھے۔لیکن ان اقوام نے انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی سطح تک تبدیلی کے لئے جدو جہد کی۔اور زندگی کے ہر شعبے میں درست حکمت عملی اپنا کر محنت کو رواج د یا۔

مولانا سندھی ایسے فلسفیوں اور اہل علم پہ تنقید کرتے ہیں جو کہ فسلفیانہ مشگافیوں میں مصروف ہیں اور عملی طور پہ انسانوں کی خبر گیری اور ان کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کر کے ترقی راہوں پہ ڈالنے کا اہتمام نہیں کرتے۔مولانا فرماتے ہیں کہ’’ہم انسانیت کی خدمت کرنے کی بجائے فلسفیانہ موشگافیوں اور دوراز کار بحثوں میں پڑ گئے اور کمزوروں کو کمزور رکھ کر ان کا خون چوسنے کے فلسفے کے جواز میں بڑی بڑی بحثیں کرنے لگ گئے حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ بیکاروں (un employed) کو کام پر لگانیکے ذرائع پر غور کرتے اور جو لوگ خدا سے تعلق جو ڑنا بھول گئے ہیں ان کو اس طرف متوجہ کرتے اور انہیں علم دیتے۔‘‘(1)
لہذا ضروری ہے کہ تعاون باہمی کے اصول پہ افراد معاشرہ مل جل کر اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو حل کرنے کے لئے کوشش کریں۔کیونکہ مل جل کر ایک دوسرے کے مسائل کو حل کرنے کا یہ عمل ہی بہتر نتائج پیدا کرنے کا باعث ہو گا۔اگر مل جل کر کام کرنے کی یہ سوچ کسی معاشرے میں ناپید ہو جائے تو وہ معاشرہ انفرادی مفادات کی بھینٹ چڑھ کر زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔یہ مل جل کر کام کرنے کا عمل جہاں ایک دوسرے کے دکھوں اور مصائب سے آشنا ہونے کا ذریعہ بنتا ہے اور دوسری طرف ایک تنظیمی عمل کی داغ بیل ڈالنے کا باعث ہوتا ہے ۔تنظیمی عمل میں ایک طاقت پنہاں ہوتی ہے۔بڑے سے بڑے مسائل باہمی اتفاق اور مشترکہ قوت سے حل کئے جا سکتے ہیں۔اس عملی اشتراک کی ابتداء افراد معاشرہ کی ایک دوسرے کی خبر گیری سے ہوتی ہے ۔مولانا عبید اللہ سندھی سماجی زندگی میں ایک دوسرے کی خبر گیری کی اہمیت پہ روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں
’’خدا تعالیٰ نے فرد انسانی کی ساخت کچھ ایسی رکھی ہے کہ وہ اجتماع ہی میں آگے بڑھ سکتا ہے انفرادی زندگی میں اسے اپنی پوشیدہ قوتوں کو بروئے کار لانے کا موقعہ نہیں ملتا اور وہ جامد(Atrophied)ہو کر رہ جاتا ہے ۔فرد کی حالت انجماد کا اثر اجتماع انسانی کے دوسرے افراد پر خود بخود پڑتا رہتا ہے ۔اس لئے اجتماع کو ان مضر اثرات سے بچانے کے لئے افراد کی خبر گیری ضروری ہے۔جو اجتماع محتاجوں کی خبر گیری نہیں کرتا وہ توڑ دینے کے قابل ہے۔اصل میں اس کا نام ’’اجتماع‘‘رکھنا ہی ظلم ہے ۔اجتماع فقط افراد کی خبر گیری کے لئے پیدا ہوتا ہے اگر وہ افراد کی خبر گیری نہیں کرتا تو وہ برباد کر دئیے جانے کے لائق ہے۔‘‘(2)
سورہ المزمل کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں
انسان کو اپنی اصلاح میں کھانے پینے کے انتظام کو پوری اہمیت دینی چاہئے اور اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ کوئی شخص اس کے ہمسائے میں بھوکا نہ سوئے ۔جب اس اصول پراصلاح شروع کی جائے گی تو اسے اپنے زمین وآسمان بدلے ہوئے نظر آئیں گے وہ اس گھر میں آرام سے نہ رہ سکے گا جس میں وہ اب تک ظالمانہ انداز سے رہتا تھا وہ اس شہر میں نہ رہ سکے گا اور اس ملک میں نہ رہ سکے گا جس میں انسانیت پر ظلم ہو رہا ہو۔‘‘(3)
سورہ المزمل کی تفسیر میں مزید بیان کرتے ہیں
’’قیامت کے دن قوموں کا فیصلہ اسی مسئلہ پر ہو گا کہ انہوں نے مسکینوں اور بیکسوں کو کھانا اور کپڑا لتہ وغیرہ دیا یا نہیں ۔‘‘(4)
مزید بیان کرتے ہیں
’’اس دنیا کی زندگی میں فرد کی صالحیت موقوف ہے اس بات پر کہ وہ دوسرے کمزور اور مسکین افراد کی کھانے پینے اور کپڑے لتے سے کتنی مدد کی۔‘‘(5)
انسانی معاشرے میں جب معاشی تنگ دستی پیدا ہوتی ہے تو اس سے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ ان بنیادی اسباب کا پتہ چلایا جائے جن کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے۔ان اسباب کو ختم کرنے سے وہ معاشی حالات ختم ہو سکتے ہیں۔مولانا عبید اللہ سندھی کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ ان ہی بنیادی اسباب پر بحث کرتے ہیں گذشتہ مباحث میں ان کا یہی نقطہ نظر سامنے آیا کہ معاشرے سے طبقاتی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے ہی معاشرے کے تمام طبقات میں دولت کی گردش کو رواں دواں رکھا جا سکتا ہے۔اور معاشی حقوق کا تحفظ بھی اس وقت ہو سکتا ہے جب معاشرے کا اقتصادی نظام اجتماعیت کی کفالت پر مبنی ہو۔صرف ایک مخصوص طبقے کی کفالت پر استوار معاشی نظام انسانوں کے معاشی حقوق کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔
انسانی معاشرے میں ایک ایسا اجتماعی معاشی کفالت کا انتظام ہونا ضروری ہے۔جو مستقل کفالت کر سکے۔اگر عصر حاضر کا تجزیہ کیا جائے تو اکثر معاشروں میں یہ صورتحال نظر آتی ہے کہ بحیثیت مجموعی طبقاتی نظام معیشت موجود ہیں ۔تمام وسائل دولت پر ایک مخصوص طبقہ داد عیش دے رہا ہے ۔اور اکثریتی محنت کش طبقہ وسائل اور مواقع سے محروم تنگ دستی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔اور یہ محروم المعیشت طبقہ ہمیشہ کے لئے سرمایہ دار طبقہ کا دست نگر بن کر زندگی گذارتا ہے۔اور دوسری طرف اگر کوئی فرد یا تنظیم انسانوں کی معاشی کفالت کے لئے کام کرتی ہے تو وہ بھی انفرادی سطح پر امداد کرتی ہے جس سے وقتی طور پر تو امداد کی جا سکتی ہے لیکن مستقل معاشرے میں انسانوں کی کفالت اور محنت کا نظام قائم نہیں ہو سکتا اگر اس طر ح کا طرز عمل معاشرے میں اگر روا رکھا جائے تو اس سے افراد معاشرہ کے اندر خود سے محنت کرنے کا جذبہ دم توڑنا شروع ہو جاتا ہے وہ دوسرں کی امداد کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور خود معاشی بود باش کے لئے جدوجہد کا نظریہ کمزور ہو جاتا ہے۔لہذا ضروری ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایک اجتماعی طور پر ایسا اقتصادی نظام موجود ہو جو نہ صرف ایسے مواقع پیدا کرے جہاں ہر شخص اپنی محنت سے معاشی جدو جہد کر سکے اور اپنی خاندانی کفالت کے ساتھ ساتھ قومی ترقی میں بھی کردار ادا کرے۔مولانا عبید اللہ سندھی ایسا ہی اقتصادی نظام پیدا کرنا چاہتے تھے۔وہ انفرادی سطح پر اس طرح کی امداد کی بجائے ایک اجتماعی عادلانہ اقتصادی نظام قائم کرنے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔مولانا عبید اللہ سندھی بیان کرتے ہیں
’’چند بھوکے انسان ہیں ان کے لئے روٹی کا انتظام نہیں ہے ان کے لئے ایک دن کا انتظام کر دینے سے ان کی بھوک کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔اس کا انتظام سوچنے کے لئے کافی وقت اور توجہ کی ضرورت رہے گی۔یہ ہے بڑا فکرجو جب تک پورا نہ ہو جائے سامنے رہنا چاہئے۔‘‘(6)
مولانا عبید اللہ سندھی کے نزدیک معاشرے کے اندر بے کاری پیدا کرنے کی بجائے لوگوں کو کام پہ لگانے کی حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے، اور معاشرے کی قیادت کرنے والی جماعت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے موقع پیدا کرے کہ ہر شخص کام کرے ،بے کاری کی زندگی نہ گذارے۔ اس حوالے سے پارٹی کے ممبران کو عملی طور پر اس کی مثال قائم کرنی چاہئے۔اس طرح عوام میں کام کرنے کی ترغیب ہو گی۔
جمنا ،نربدا،سندھ ساگر پارٹی کے پروگرام میں نکتہ۳(ط) میں تحریر ہے
(ی)پارٹی کا ہر ممبر اپنی ضروریات زندگی خود کما کر حاصل کرے گا۔اس کا فرض ہو گا کہ ملک سے بے کاری کی زندگی کو ختم کر دے۔ہر امیر غریب کو کسی نہ کسی طریقے سے محنت کش بنایا جائے گا۔‘‘(7)
معاشرے میں مفلوک الحال افراد کی مدد کرنے کے طریقے پہ بحث کرتے ہوئے مولانا سندھی بیان کرتے ہیں کہ’’اسبا و موانع کی وجہ سے جو لوگ کامیاب نہ وہ سکیں انہیں اتنی مدد دی جائے کہ وہ اپنے کام کے آلات فراہم کر کے اپنا کام جاری کر سکیں ایک کاریگر کے پاس اپنے کام کرنے کے اوزار نہ ہوں تو وہ ضائع ہو جائے گا اسے اس فنڈ سے روپیہ دینا جائز ہے اس کے بعد وہ قوم کا ایک مفید فرد بن جائے گا۔‘‘(8)
یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ معاشرے میں ایسے ادارے موجود ہوں جو افراد معاشرہ کی اس انداز سے فنی و علمی تربیت کریں کہ وہ اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو سکیں اور کسی کے محتاج نہ رہیں اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔نہ کہ صرف انفرادی سطح پہ خیرات تقسیم کر کے اپنی زمہ داری سے بری الذمہ ہو جائیں۔
اس حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے آپ فرماتے ہیں
’’فارغ البال لوگوں کا فرض ہے کہ وہ کھانے پینے کے معاملے میں اپنے محتاج بھائیوں کی خبر گیری کریں۔لیکن کسی محتاج کو چند لقمے دے کر اس کا پیٹ بھر دینا خبر گیری میں داخل نہیں ہے۔رسول اکرم ﷺنے ایک آدمی کو لکڑیاں بیچ کر خود کمانا سکھایا ،یہ ہے اصل محتاجوں کی خبر گیری کرنا ۔آج کل ہماری سوسائٹی میں جس ذلیل طریق سے محتاجوں کو ٹکڑہ دیا جاتا ہے یہ ان کو تباہ کرنے کا بدترین ذریعہ ہے ضرورت ہے کہ محتاجوں کی خبر گیری کے لئے جا بجا منظم محتاج خانے ہوں۔جہاں محتاجوں کو اس طرح کھلایا پلایا جائے کہ ان کی انسانیت کو صدمہ نہ پہنچے اور جو لوگ کام کر سکتے ہیں ان کے لئے کام بہم پہنچایا جائے یا ضرورت ہو تو ان کے لئے آلات کار بہم پہنچائے جائیں یہ ہے ان کی خبر گیری۔‘‘(9)
انفرادی سطح پہ یقیناً دوسرے انسانوں کی خبر گیر کرنا ایک مستحسن عمل ہے لیکن معاشرے کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنا اجتماعی ارتقاء کے لئے ضروری ہے۔اگر معاشرے میں ایسے عمل کو فروغ دیا جائے کہ وقتی طور پہ انسانوں کے انفرادی مسائل کو حل کر نے کی کوشش ہولیکن ان کا کوئی مستقل اور دیرپا حل پیش نہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں افراد اس احتیاج سے نکل کر اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو سکیں۔ تو ایسی صورت میں ایک منفیت معاشرے میں پھیل جاتی ہے ۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسائل جوں کے توں موجود رہتے ہیں اور افراد معاشرہ امداد کے انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔اس کی عملی صورت معاشرے میں اکثر نظر آتی ہے کہ غریب اور مفلوک الحال لوگوں کے جا بجا مجمے نظر آتے ہیں اور ان میں قطاروں میں کھڑا کر کے ضرورت کی اشیاء کی تقسیم کی جاتی ہے نیز ان کو اس عمل کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔کہ وہ ہر روز اپنی ضرورت بغیر کسی محنت کے پوری کرتے رہیں۔اس عمل میں چاہے ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہو۔یہ عمل جہاں غریب انسانوں کی عزت نفس کے مجروح ہونے کا باعث بنتا ہے تو دوسری طرف بغیر مشقت کے ضرورت پورا کرنے اور بغیر محنت کے فائدہ حاصل کرنے کی عادت پختہ ہوتی جاتی ہے جس سے سماجی اجتماعی ترقی کا عمل جو کہ محنت اور مشقت کے بغیر ممکن نہیں متاثر ہوتا ہے۔اور قومی سطح پہ بھکاری پن کی عادت بھی پختہ ہوتی چلی جاتی ہے۔جس طرح آج ہمارے معاشرے میں انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک محنت و مشقت سے اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کی بجائے غیروں سے امداد کی طرف دیکھا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قومی سطح پہ غیر ملکی سرمایہ دار اداروں کے چنگل میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ خود کفالت سی سوچ کی بجائے امداد لینے، ادھار لے کر کام کرنے کی سوچ نشوونما پا رہی ہے۔ ملکی نظام معیشت غیر ملکی سرمایہ دار سامراجی اداروں سے قرض و امداد لے کر چلا رہے ہیں اور ان کے چنگل میں پھنستے چلے جا رہے ہیں اور قوم خود کفالت وخود انحصاری سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔
مولانا عبید اللہ سندھی اس اہم مسئلے کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں کہ معاشرے کی مدد اور خبر گیری یہ نہیں کہ وقتی طور پہ روٹی اور کپڑا دے دیا جائے۔اور اطمینان کر لیا جائے کہ ہم نے انسانیت کی خدمت کر لی ہے۔بلکہ ضروری ہیکہ معاشرے میں ایسے منظم اداروں کو رواج دیا جائے جو کہ ایک طرف معذور اور لاچار افراد کی مدد بھی کریں لیکن ان کی عزت نفس کو مجروح کئے بغیر،اور دوسری طرف وہ افراد جو بیکاری کا شکار ہیں اور ان کے اندر کوئی نہ کوئی کام کرنے کی صلاحیت ضرور ہوتی ہے انہیں اس کے مطابق کام پہ لگایا جائے اور انہیں محنت سے کما کر پیٹ پالنے کی طرف مائل کیا جائے۔اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے جو کہ ہاتھ پھیلا نے کے عادی ہو چکے ہیں۔ہمارے معاشرے میں لاتعداد ایسے ادارے معاشرتی خدمت کے مختلف حوالوں سے کام میں مصروف ہیں۔ان کا یہ کام معاشرے کے مختلف مسائل کو کسی حد تک حل کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے،لیکن یہ ادارے ان اسباب کو ختم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں جن اسباب کی وجہ سے معاشرہ مسائل کا شکار ہے۔ یہ ادارے اندرونی اور بیرونی اداروں اور شخصیات سے فنڈز لیتے ہیں۔اور ان فنڈز کا بہت ہی کم حصہ عوامی مسائل کو حل کرنے پہ خرچ ہوتا ہے۔تحقیقی تجزیہ کیا جائے تو اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ مقامی،علاقائی عادات،رحجانات اور تقاضوں سے ہٹ کر بیرونی سوچ اور رحجانات کے مطابق پالیسیوں سے لیس خدمت کے بعض ادارے معاشرے میں اجنبی نظر آتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہیکہ وہ لوگوں کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنے کی بجائے اکثر اوقات نہ صرف خود بیرونی امداد پہ انحصار کرتے ہیں بلکہ یہی عادت آہستہ آہستہ سوسائٹی میں پھیلا رہے ہیں۔اس عمل سے دیگر خرابیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں مثلاًاہل فکرو دانش کے ایک حلقہ کی ان اداروں پہ تنقید یہ ہے کہ یہ ریاستی ظالمانہ استحصالی نظام میں پسے ہوئے افراد معاشرہ کو ریاستی اداروں کے استحصال کے خلاف شعور دینے کی بجائے ان کے وقتی مسائل کو کسی حد تک حل کرکے،انہیں گویا مطمئن کر دیتے ہیں یا ان کے ان جذبات کو سرد کر دیتے ہیں جو کہ استحصالی اداروں کے خلاف تبدیلی کے حوالے سے پیدا ہوتے ہیں۔گویا ان کے نزدیک ظلم کے نظام کے خلاف انقلاب کو روکنے کا یہ سماجی عمل این جی اوز یا سماجی خدمت کے ادارے انجام دیتے ہیں۔یہ بحث بھی عام طور پہ موجود ہے کہ عالمی سطح پہ کام کرنے والی این جی اوز کے عالمی سطح کے سامراجی سیاسی،معاشی مفادات ہوتے ہیں اور وہ ان مفادات کی تکمیل کے لئے مقامی افراد اور اداروں میں اپنی جگہ بنا کر سامراجی ممالک کے مفادات کے لئے کام کرتی ہیں۔یقیناً جب آپ کسی سے معاشی مدد لیتے ہیں تو پھر آپ اس کی پالیسی اور حکمت عملی کے پابند ہو جاتے ہیں۔
بعض این جی اوز کا کام یقیناً قابل قدر ہے اور وہ کام بھی کر رہی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا یہ کام معاشرے کے اندر اجتماعی طور پہ کیا نتائج پیدا کر رہا ہے۔ایک ایسا عمل جس سے معاشرے کے موجودہ مسائل تو کسی حد تک حل ہو تے ہیں۔ لیکن معاشرے کے اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونے کی کوئی صورت بنتی ہوئی نظر نہیں آتی۔اداروں کی طرف دیکھنے کی عادت پکی ہوتی جا رہی ہے۔امدادکے لئے نگاہیں منتظر رہتی ہیں۔ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر مسائل کا تماشہ دیکھنا ایک عادت سی بنتی جا رہی ہے۔
کیا یہ ضروری نہیں کہ معاشرے کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ معاشرے کے اندر اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی روش پیدا کی جائے چہ جائیکہ کہ وہ تمام عمر این جی اوز یاامداد کرنے والے اداروں کے محتاج ہو کہ رہ جائیں۔کسی بھی قوم کی بڑی خدمت یہ ہیکہ اسے اپنے پاؤں پہ کھڑا کیا جائے۔یہ اس وقت ہی ممکن ہو سکتا ہے جب انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی سطح تک، خدمت خلق کرنے والے یہ ادارے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت اپنے مسائل حل کرنے کی طرف راغب کریں۔اور ان میں مقامی سطح پہ ایسی تنظیم پیدا کریں جو کہ کچھ عرصے کے بعد اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسائل کو خود حل کر سکیں۔اور یہ عمل آگے چل کرسیاسی اداروں کی درستگی یا ان میں تبدیلی کا باعث بھی ہو گا۔اپنے مسائل اپنی بساط میں رہ کر اس طرح حل کرنا کہ کسی کی محتاجی نہ رہے۔اور آئندہ کے لئے اپنے ادارے،اور خود کی صلاحیت مسائل کے حل میں کردار ادا کرے۔یہ حکمت عملی اس وقت ہی عملی جامہ پہن سکتی ہے جب ملک کا سیاسی نظام ایک عادلانہ سیاسی جماعت کے کنٹرول میں ہو اور وہ اس طرح کا ڈھانچہ تشکیل دے جس کے ذریعے قوم اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونا سیکھے، اس حکمت عملی سے عالمی قوتوں کی استحصالی بالادستی سے اور بیرونی قرضوں کے اس بوجھ سے جس سے ہماری سیاسی آزادی سلب ہو رہی ہے،سے بھی چھٹکارا نصیب ہو سکتا ہے جس کے گہرے اثرات ہر خاص و عام اس وقت محسوس کر رہا ہے۔یقیناً اس سلسلے میں مولانا سندھی جس اہم نکتہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں اس کومعاشرے میں کام کرنے والی مقامی این جی اوز اور خدمت خلق کے ادارے اور شخصیات مد نظر رکھ کر معاشرے میں تکنیکی تربیت اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کے اندر خود کفالت کا بھی شعور پید کرسکتے ہیں۔
مولانا عبید اللہ سندھی کے نزدیک انسانی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق کے تصور کے حوالے سے ان کے اقوال کے تجزئیے کے بعدیہ خلاصہ سامنے آیا کہ آپ انسانی معاشرے کی بقاء کے لئے انسانی حقوق کی پاسداری پہ مبنی ایک سیاسی و معاشی نظام کو ضروری قرار دیتے ہیں۔جہاں محنت کا استحصال نہ ہو روٹی ،کپڑا ،مکان اور عزت نفس کا تحفظ ہو اور سیاسی حقوق بحال ہوں۔جہاں عقلی استدلال ورائے کی آزادی ہو اور اس طرح سے ایک ایسا سماج وجود میں آئے جو انسانیت کے لئے ارتقاء کا ضامن ہو۔مولانا انفرادی سطح پر حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ زور اجتماعیت کی تشکیل پہ دیتے ہیں جس میں معاشرے کی تمام اکائیاں پروان چڑھ سکیں۔وہ انفرادی سطح پر کفالت کی بجائے معاشرے کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں وہ مزدوروں ،کاشتکاروں اور دماغی محنت کرنے والوں کے لئے عملی طور پر اقدامات کرنے کے قائل تھے اور اس سلسلے میں وہ عصری تقاضوں کے مطابق جدید علوم کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں ۔جہاں وہ حقوق کی بات کرتے ہیں وہاں عملی جدو جہد کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔عصر حاضر میں انسانی معاشروں بالخصوص مسلمانوں کے معاشروں میں قائم سیاسی و معاشی نظاموں کا اگر جائزہ لیں تو یقیناً کوئی بھی ذی شعور اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ بد ترین استحصالی نظام ہیں۔چند مفاد پرست گروہ جو کہ عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے آلہ کار ہیں وہ سیاسی اور معاشی نظاموں کو کنٹرول کر رہے ہیں،ان ممالک میں اکثریتی طبقہ انتہائی پسماندگی سے دو چار ہے،بالخصوص محنت کش طبقات اپنی روح و جسم کا رشتہ برقرار نہیں رکھ سکتے،تعلیم ،صحت،تحفظ، مناسب خوراک ورہائش ان کے لئے خواب سے کم نہیں۔سرمایہ دار طبقات اور ان کے آلہ کار طبقات انسانی حقوق اور جمہوریت کے راگ الاپتے نہیں تھکتے،لیکن عملی طور پہ انہوں نے بنیادی انسانی حقوق کو بری طرح پامال کر رکھا ہے۔اس صورتحال میں مولانا عبید اللہ سندھی کی سیاسی تحریک میں پیش کئے گئے اصولوں اور ان کے بنیادی حقوق کے نظرئیے کو اپنا کر ان معاشروں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
حوالہ جات
1 ۔عبید اللہ سندھی،مولانا،قرآنی شعور انقلاب،(جمع ترتیب شیخ بشیر احمد لدھیانوی،غازی خدا بخش مرحوم)،ص۳۹۵
2 ۔ایضاً،ص۲۹۸تا۲۹۹
3۔ایضاً،ص۳۳۸
4۔ایضاً، ص۳۳۵
5۔ایضاً،ص۳۳۷
6۔ایضاً،ص۹۱
7۔سرور،پروفیسر،خطبات ومقالات مولانا عبید اللہ سندھی،ص۳۰۰
8۔ایضاً،ص،ص۲۰۳
9۔ایضاً،ص۲۹۸

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68269 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
10 Mar, 2018 Views: 381

Comments

آپ کی رائے