1کروڑ افراد گھر کی سہولت سے محروم……

(عابد محمود عزام, Lahore)
اپنے گھر کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہوگا؟

پاکستان میں غریب عوام کے لیے دیگر بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ سستے دام پر رہائش کی عدم دستیابی بھی سنگین مسئلہ ہے۔ مکانات اور زمینوں کی قیمتوں میں تیز رفتاری کے ساتھ ہونے والے ہوشربا اضافے نے محنت کش، مزدور اورغریب طبقے کو اپنے گھر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے سے محروم کردیا ہے۔ مکان کی اہمیت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہر شخص کی آرزو ہوتی ہے کہ اس کے والدین اس کے لیے گھر بنائیں، تاکہ وراثت میں انہیں گھر مل سکے۔ والدین کی بھی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم وتربیت و شادی بیاہ سے جو بچ جائے اس سے ان کے لیے گھر بنا لیں اور اسے وہ اپنے اولین فرائض میں سے ایک سمجھتے ہیں، لیکن اس خواہش کی تکمیل کے لیے انہیں ساری زندگی محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے لیے وہ مختلف طریقوں سے بچت کی کوشش کرتے ہیں، لیکن مہنگائی کے اس دور میں ایک طرف تعلیم، خوراک، صحت کے حوالے سے اٹھنے والے اخراجات اتنے زیادہ ہوتے ہیں اور دوسری طرف مکانات بنانے کے لیے زمین، تعمیراتی سازو سامان، میٹریل اور تعمیراتی اجرتیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ گھر کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پاتا اور اس طرح بے شمار خاندان نسل در نسل کرایہ کے مکان میں زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں مکانات کے حوالے سے صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے تحت پاکستان کی 22کروڑ آبادی میں سے 1کروڑ افراد گھر کی سہولت سے محروم ہیں اور ہر سال 7لاکھ افراد بے گھر افراد کی لسٹ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 3لاکھ 50ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کیے جاتے ہیں، جو مجوزہ ضروریات کے لیے ناکافی ہیں، جبکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن اور منی لانڈرنگ سے کمائے گئے سرمایہ کی آمدن سے پاکستان میں گھروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں۔ کمرشل بینکوں نے گھروں کی تعمیر کے لیے 75 ارب روپے سے زاید کے قرضے جاری کیے ہیں، لیکن یہ قرضے غریبوں کی بجائے امیر طبقہ نے حاصل کر رکھے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں11 لاکھ افراد گھروں سے محروم ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں گھروں کی سہولت ناپید ہے، جس کی وجہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں زیادہ تر سرماہی کاری میں کرپشن کا عمل دخل ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت نے اس شعبہ پر ٹیکسوں کی بھی بھرمار کر رکھی ہے، جبکہ اس سیکٹر کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے سے بھی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی وزارت ہاؤسنگ عوام کو رہائش کی سہولتیں فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے، جبکہ بڑے بڑے شہروں میں گھروں کی قیمتیں اس قدر بڑھی ہیں کہ غریب عوام خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ دوسری طرف ہاؤس بلڈنگ فنانس بنک اور اسلامی بنک وغیرہ بھاری سود پر قرضے دیتے ہیں، جو عوام کے لیے قابل قبول نہیں۔

2007کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے 25فیصد گھروں کو پانی میسر ہے۔ شہروں میں یہ تناسب 53فیصد ہے۔ باتھ روم ٹوائلٹ کی سہولت بھی بہت سے گھروں کو حاصل نہیں۔ اس کے علاوہ سینی ٹیشن کا غیر مناسب نظام موجود ہے۔ جس سے طرح طرح کی بیماریاں پھیلتی رہتی ہیں۔ایک کمرے کے مکانات مختلف مارکیٹوں میں دو کانوں کے اوپر،کچی آبادیوں یا پرانی بستیوں میں قائم ہیں۔ گیس میسر نہ ہونے کے باعث کوئلے کے دھویں سے ان گھروں میں بچوں اور بڑوں کو کھانسی، گندے پانی کے باعث یرقان یا ہیپا ٹائٹس جیسی بیماریاں عام ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں ہاؤسنگ کے مسائل متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔کم آمدن والے اور انتہائی پسماندہ افراد کے لیے مکان کے حصول کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی ادارے کیا کر رہے ہیں اس کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ جو سکیمیں حکومت نے متعارف کروائیں، ان میں سرکاری کالونیوں سے لے کر ہاؤسنگ سکیموں تک کا جو سلسلہ نظر آ رہا ہے، اس میں کم آمدنی والے یا پسماندہ بے گھر افراد کے لیے کوئی سہولت موجود نہیں کہ وہ اسے اپنی استطاعت کے مطابق خرید سکیں۔ چاہے وہ نقد کی صورت میں ہو یا اقساط کی صورت میں ہو۔ یہ سکیمیں اتنی مہنگی ہیں کہ کم آمدنی والا خاندان اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ پھر سر کاری سطح پہ جومکانات بنائے جاتے ہیں وہ سر کاری ملازمین اور وہ بھی سیاسی تعلقات کی بنیاد پہ مخصوص افراد میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح پرائیویٹ سکیمیں بھی کم آمدنی والے افراد کو مد نظر رکھ کر نہیں بنائی جاتیں۔ مڈل یا ا پر کلاس کی ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔کم آمدنی والا طبقہ صرف اچھے گھر کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔

پاکستان کو آزاد ہوئے 70 برس بیت گئے، لیکن آج بھی ایک کروڑ لوگ بے گھر ہیں۔ ایک بڑی تعداد جھگیوں میں بستی ہے۔ دوسری جانب ہزاروں گز پر مشتمل محلوں میں چند لاکھ لوگ بستے ہیں جو محل ان غریبوں کے خون چوس کر ہی تعمیر ہوتے ہیں۔ تمام لوگوں کو مکانات فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر انسان، انسان کی طرح گزر بسر نہیں کرسکتا۔ غریب عوام کو سستے داموں رہائش فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی بجائے پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں، قبضہ گروپوں اور نجی ڈیولپرز کو لوٹ مار اور استحصال کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف نئی نئی امیر اور درمیانے طبقے کی خوشحال بستیاں بسائی جارہی ہیں، جبکہ دوسری طرف ملک کے تمام شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ایک بڑی تعداد ویران جگہوں پر کچی آبادیاں بسا رہے ہیں، جو ہر قسم کی بنیادی سہولت اور ضرورت سے محروم ہیں۔ مکانات کے کرایے آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ محنت کش خاندان کے خاندان ایک کمرے میں رہنے پر مجبور ہیں، بہت سوں کے پاس رہنے کو ایک کمرہ بھی نہیں ہے، وہ کھلے آسمان تلے پڑے زندگی بسر کررہے ہیں، لیکن پاکستانی حکومت اس ذمے داری سے خود کو مبرا سمجھتی ہے۔ ملک میں 50 سے 60 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ غریبوں کو مناسب قیمت پر چھت فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات کے ریڈار میں شامل ہی نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بے گھر افراد کو گھروں کی فراہمی حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، لیکن لگتا ہے کہ حکومت کو غریب اور محنت کش مزدور طبقے کی بنیادی ضروریات سے کو سروکار ہی نہیں ہے۔اگرچہ رہائش کا مسئلہ دیگر ممالک میں بھی ہے، لیکن وہاں حکومت کی طرف سے عوام کو مختلف اسکیموں کے ذریعے رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں صرف امیر ہی بستے ہیں، اسی وجہ سے سرمایہ دار طبقے پر مشتمل حکومتیں غریب عوام کے لیے سرکاری رہائشی ا سکیموں کی منصوبہ بندی نہیں کرتیں۔ حکمرانوں کو ان عوام کی پریشانیوں کا رتی بھر احساس نہیں، جن غریب عوام سے ووٹ لیتے ہیں۔ اس مہنگے دور میں ایک غریب آدمی کے لیے روٹی، کپڑے اور صحت و بچوں کی تعلیم کا انتظام کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ایک مزدور اور درمیانے درجے کا ملازم ساری زندگی بچت کر کے بھی مکان کی جگہ خرید کر ایک دو کمرے کا مکان نہیں بنا سکتا۔ مکان بنانا اس کی ساری زندگی کا خواب ہوتا ہے، جو آخر دم تک خواب ہی رہتا ہے۔

یوں تو ملک میں جگہ جگہ سرمایہ داروں نے ہاؤسنگ اسکیمیں شروع کی ہوئی ہیں، لیکن یہاں قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ غریب آدمی یہاں جگہ خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ حکومتی نااہلی کا ہی نتیجہ ہے کہ بلڈرز نے جو جگہ جگہ رہائشی اسکیمیں شروع کی ہوئی ہیں، ان میں مناسب ضروریات زندگی کی مکمل طور پر فراہمی نہ ہونے کے باوجود ان کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہوتی ہیں اور ہر کوئی اپنی مرضی سے قیمت مقرر کرتا ہے، لیکن حکومت کی طرف سے کوئی روک تھام نہیں ہوتی، بلکہ الٹا بلڈرز پیسے لے کر ان کو مکمل طور پر من مانی کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب خواہش ہوتی ہے تو راستہ بن ہی جاتا ہے لیکن یہاں تو حکومتوں کو عوام کو رہائش فرام کرنے کی خواہش ہی نہیں ہے، کیوں کہ ان کے خیال میں ملک میں صرف امیر ہی بستے ہیں جن کے اپنے محلات ہیں۔ ملک کے چاروں صوبوں میں حکومتیں سرکاری زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیموں کی منصوبہ بندی کریں اور ان اسکیموں میں کم از کم دو دو سو مربع گز کے پلاٹ بنائیں اور ضرورت مندوں کو فراہم کریں تو ضرورت مندوں کی پریشانی کافی حد تک کم ہوسکتی ہے۔ رہائشی اسکیموں کو ایسے علاقوں میں قائم کیا جا نا ضروری ہے جہاں پانی موجود ہو، جہاں آنے جانے کے لیے سڑک موجود ہو، جہاں پبلک ٹرانسپورٹ پہلے سے چلتی ہو۔ ملک کے بہت سے علاقوں میں تو کوئی قابل ذکرسکیم بنائی ہی نہیں گئی اور اگر کوئی بنائی بھی گئی ہے تو پانی نہیں، بجلی نہیں، گیس نہیں، ٹرانسپورٹ نہیں۔ گھر محض در و دیوار اور چھت کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ مسئلہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی، گندگی کی نکاسی کے بہترین نظام، بجلی کی سستی اور لگاتار فراہمی، صاف ستھری گلیوں اور سڑکوں سمیت کئی دوسری بنیادی سہولتوں کی یقینی فراہمی کے بغیر حل نہیں ہوتا۔ایسی رہائشی بستیوں میں ملازمت پیشہ، محنت کش یا غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ کیوں کر رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ حکومتوں کی اس کمزوری سے سرمایہ کار اور بلڈر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ غریب شہروں میں یا قریب ترین علاقوں میں کچی آبادیاں بساتے ہیں۔ کرایہ کے مکانات میں رہائش رکھنے والے کم تنخواہ والے سفید پوش لوگ بھی کرایوں میں کئی گنا اضافے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

رہائشی سہولیات کی فراہمی، منصوبوں کا آغاز، کچی آبادیوں اور بے ہنگم پرانے مکانات کی جگہ نئے اور جدید مکانات کی تعمیر اور مفت فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان منصوبوں کو بدعنوانی اور اقربا پروری سے پاک رکھا جائے۔ لاکھوں نئے گھروں کی تعمیر کے نتیجے میں نہ صرف صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہوگی بلکہ لاکھوں افراد کو روزگار بھی فراہم ہوگا۔ شہری آبادی میں دو کنال سے بڑے گھروں کی تعمیر پر پابندی لگادی جائے۔ سرکاری اہلکاروں کے زیر استعمال تمام بڑے سرکاری گھروں کو چھوٹے مکانات میں تبدیل کرکے لوگوں کو فراہم کیے جائیں۔ سرکاری زمینوں پر مکانات تعمیر کر کے ضرورت مندوں میں تقسیم کیے جائیں۔ مکانات کی تعمیر، سیوریج، سڑکوں، پانی، گیس کی پائپ لائنوں، بجلی کی فراہمی، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر اور دوسری سہولتوں کی فراہمی کے لیے ٹھیکے داری نظام ختم کیا جائے۔ نئے شہر تعمیر کیے جائیں، تاکہ شہروں پر آبادی کے بوجھ کو کم کیا جاسکے اور دور دراز علاقوں میں تمام بنیادی ضروریات زندگی فراہم کی جائیں گی تاکہ آبادی کی منتقلی کو روکا جاسکے۔ تعمیر نو کے ان منصوبوں اور پروگرام پر محنت کش عوام اور ماہرین کی کمیٹیوں کے ذریعے عملدرآمد کروایا جائے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417726 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Mar, 2018 Views: 257

Comments

آپ کی رائے