عجائب گھر میں ہوں
(Prof. Shoukat Ullah, Bannu)
دیکھتے ہیں سب مگر کوئی مجھے پڑھتا نہیں گزرے وقتوں کی عبارت ہوں، عجائب گھر میں ہوں یہ شعر احساسِ تنہائی اور بیگانگی کو نہایت گہرائی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر نے جس کرب کو مقید کیا ہے، وہ درحقیقت ناقدری اور فراموشی کا مرثیہ ہے۔ جب سے بنوں عجائب گھر کا دورہ کیا ہے، ریاض مجید کا یہ شعر میرے ذہن میں مسلسل بازگشت بنا ہوا ہے۔ شاعر نے خود کو عجائب گھر میں رکھی ہوئی ایک عبارت، یعنی تحریر سے تشبیہ دی ہے۔ اس شعر کو جب سے سنا ہے اور بنوں عجائب گھر کو دیکھا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ: آئینہ دیکھ کر تسلی ہوئی ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی محلِ وقوع کے اعتبار سے پاکستان قدیم تہذیبوں کی آماج گاہ رہا ہے جن میں گندھارا، بدھ مت، ہڑپہ، موہنجو داڑو اور مغلیہ تہذیبیں قابلِ ذکر ہیں۔ اپنی قدیم ثقافت، تہذیب، تاریخ اور وسعت کے باعث ان میں سے کئی تہذیبیں یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں بھی شامل ہو چکی ہیں۔ اتنا قیمتی اور گراں قدر ورثہ ہونے کے باوجود ہم انہیں عالمی سطح پر مؤثر انداز میں متعارف نہیں کرا سکے، حالانکہ ان سے ہمیں اربوں روپے کا معاشی فائدہ بھی حاصل ہو سکتا تھا۔جہاں تک بنوں عجائب گھر کا تعلق ہے، یہ خیبر پختونخوا کے اہم تاریخی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کا سنگِ بنیاد سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اکرم خان درانی نے 2005ء میں رکھا، تعمیراتی کام 2010ء میں مکمل اور افتتاح عجائب گھروں کے عالمی دن، یعنی 18 مئی 2011ء کو ہوا، لیکن اس عجائب گھر کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ اس نے اس خطے کے ہزاروں سال پر محیط تہذیبی، سماجی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کر دیا ہے۔ یہ عجائب گھر نہ صرف مقامی تاریخ کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں قدیم انسانی آبادکاری کے ارتقائی مراحل کو بھی واضح کرتا ہے۔ بنوں عجائب گھر کو مجموعی طور پر تین اہم گیلریز میں تقسیم کیا گیا ہے: مخطوطاتی گیلری، بشریاتی گیلری اور ثقافتی گیلری۔ بنوں عجائب گھر میں بنوں آرکیالوجیکل پراجیکٹ کے تحت دریافت ہونے والے آثارِ قدیمہ نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں شیری خان ترکئی، لیوان اور آکرہ کے آثار خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ شیری خان ترکئی کے آثار تقریباً پانچ ہزار سال سے زیادہ قدیم ہیں جو اس خطے میں ابتدائی انسانی آبادکاری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لیوان سے ملنے والے آثار کو تقریباً 3200 قبل مسیح سے منسوب کیا جاتا ہے جو مٹی کے برتنوں اور روزمرہ زندگی کے اوزاروں کے ذریعے ایک منظم معاشرتی ڈھانچے کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ آکرہ کے آثار کا زمانی دائرہ 2000 قبل مسیح سے 1000 عیسوی تک پھیلا ہوا ہے جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ مختلف ادوار میں انسانی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ مخطوطاتی گیلری میں نایاب اور قدیم تحریری مواد محفوظ ہے، جس میں بے شماردینی، ادبی اور تاریخی مخطوطات شامل ہیں۔ یہ گیلری علمی روایت، علمی مراکز اور تحریر کی ارتقائی تاریخ کو نمایاں کرتی ہے اور اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ بنوں اور اس کے گرد و نواح میں علم و دانش کی روایت صدیوں سے موجود رہی ہے۔ بشریاتی گیلری انسانی ارتقا، طرزِ زندگی، رہن سہن اور معاشرتی ڈھانچوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہاں رکھی گئی اشیاء قدیم انسان کے رہائشی طریقوں، خوراک، اوزار اور سماجی نظم کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ شیری خان ترکئی ، لیوان اور آکرہ کے آثار اس گیلری کو خصوصی اہمیت عطا کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ شیری خان ترکئی اور آکرہ کے ان آثار قدیمہ پر پروفیسر فرید خان (مرحوم)، پروفیسر ڈاکٹر کیمرون۔اے پیٹرےاوردیگر محقیقن نے نہ صرف تحقیقی مقالے عالمی جرائد میں شائع کیے ہیں بلکہ ان پر کتابیں لکھ کر اس ورثے کو زندہ جاوید رکھنے کی سعی کی ہے۔ ثقافتی گیلری بنوں اور اس کے اطراف کی زندہ ثقافت کی نمائندہ ہے۔ اس میں روایتی لباس، زیورات، گھریلو استعمال کی اشیاء ، جنگی ہتھیاراور مقامی فنون شامل ہیں۔ ان سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور کے لوگ مضبوط قد و کاٹ اور بلند قامت تھے۔یہ گیلری ماضی اور حال کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم کرتی ہے اور مقامی شناخت کو نمایاں کرتی ہے۔ بنوں عجائب گھر محض نوادرات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخی دستاویز ہے، جو شیری خان ترکئی سے لے کر آکرہ تک انسانی تہذیب کے ارتقائی سفر کو یکجا کرتی ہے۔ یہ عجائب گھر نہ صرف محققین اور طلبہ کے لیے ایک قیمتی علمی سرمایہ ہے بلکہ عام عوام کے لیے بھی اپنی تاریخ اور ثقافت کو سمجھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ بنوں عجائب گھر درحقیقت اس خطے کے ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط فکری پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ |
|