موسیقی،بے پردگی اور بے حیائی کا طوفان بدتمیزی

(Peer Tabasum, Narowal)

اﷲ تعالیٰ آج ملک و ملت کے خیر خواہ اس بات سے نہایت مغموم و آزردہ ہیں کہ بے حیائی و فحاشی کے عفریت نے پوری ملتِ اسلامیہ کو اپنے شکنجے میں بری طرح سے جکڑ لیا ہے ۔آج کا مسلمان نوجوان عیش ،و عشرت کا دلدادہ اور نفسانی خواہشات کی تکمیل میں سرگرداں ہوتا جا رہا ہے ۔نماز کی جگہ ٹی وی کمپیوٹر ، روزہ کی جگہ بسیار خوری ،تلاوت و درود خوانی کی جگہ فحش گانوں اور کیبل جب کہ با مقصد تفریحی کھیلوں (نیزہ بازی ،شمشیر زنی ،گھڑ دوڑ وغیرہ) کی جگہ ڈش اور انٹرنیٹ کے حیا سوز پروگراموں نے لے لی ہے ۔رہی سہی کسر موبائل فونز کے ایس ایم ایس اور کال پیکچز نے پوری کردی ہے ۔آج کا نوجوان اپنے دین سے غافل اور اپنے اسلاف کی روایات و تہذیب سے بے خبر میڈیا کے اخلاق سوز نظاروں پر مسحور ہے ۔گھر سے نکل کر بازار جانے یا کسی پبلک ٹرانسپورٹ پرسفر کرنے یا پھر کسی بھی راستے پر پیدل چلنے کا ’’شغل ‘‘ فرما کر دیکھ لیں بے ہنگم موسیقی کا طوفان بدتمیزی آپ کی سماعتوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔ سائیکل پر ایک قلفی بیچنے والے سے لے کر پراڈو اور مرسیڈیز پر سفر کرنے والے تک سب طاؤس و رباب کے عشق میں گرفتار و بیمار نظر آئیں گے ۔(البتہ سپیکر پر نعت و تقریر کی آواز پر پابندی ہے کہ لوگ ڈسٹرب ہوتے ہیں اور نقصِ امن و امان کا خطرہ ہے )کیا یہ اسلامی معاشرہ ہے ؟ کیا ہم نے اسلام سے نعوذ باﷲ بغاوت کا اعلان کر دیا ہے ؟ کیا خوفِ الہٰی اور حیائے مصطفوی سے ہم اتنے بیگانہ ہو گئے ہیں ؟ قرآن پاک کا دو ٹوک فیصلہ سن لو!ترجمہ’’تو وہ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی ، تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور (اپنے ) نفس کو خواہش سے روکا تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے ۔‘‘(سورۃ النازعات )
یہ بھی سن لیں:ترجمہ :’’کیا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں ۔یا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں ۔‘‘(سورۃ الاعراف )اسی لئے تو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اﷲ علیہ نے کہا تھا ۔
اے قوم ترا حال میں کیا دیکھ رہا ہوں
جو کل تھا کچھ آج اس سے برا دیکھ رہا ہوں
ملت کے جواں نغموں کی سرتال میں گم ہیں
محبوب کی رفتار و خدو خال میں گم ہیں
فیشن کے زن و مرد پرستار ہیں دونوں
شیطان کے پنجے میں گرفتار ہیں دونوں
اپوا کی نمائش کہیں اور ہیں کہیں میلے
لے ڈوبیں گے اک روز تمہیں ایسے جھمیلے

نئی نسل جب ایسی اخلاق سوز سرگرمیوں میں ملوث ہوتی ہے تو پھر اپنے ذہنی انتشار سے مجبور ہو کر وہ کیسی گھناؤنی حرکات میں ملوث ہوتی ہے اس کی جھلک روزنامہ نوائے وقت کی 9جون 1996ء کی ان دو رپورٹس میں ملاحظہ کیجئے ۔

انسانی حقوق کو نسل پاکستان کے سابق صدر اور رکن قومی اسمبلی ممتاز تارڑ نے راولپنڈی پریس کلب میں 1995ء کے حوالے سے رپورٹ پیش کی کہ صرف ایک سال میں بارہ ہزار خواتین جبری آبروریزی کا نشانہ بنیں ۔تھانوں میں بتیس خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور ہمارے ہاں اخلاقی اقدار کی اس پامالی کا باعث ٹی وی اور ڈش کے پروگرامز اور پھر بلیو فلموں کی بھر مار ہے ۔

یونہی فرید احمد پراچہ کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں انہوں نے لکھا کہ ’’ڈش اینٹینا نے گویا دنیا کی غلاظت کو لاکر گھروں میں پھینک دیا ہے ۔وی سی آر (آج کل سی ڈیز)اور گلی گلی ویڈیو شاپس کے ذریعہ پھیلنے والا زہر اس کے علاوہ ہے ۔‘‘ ایک جگہ براچہ صاحب لکھتے ہیں :’’ٹی وی سے ہر وقت موسیقی کے پروگراموں کی بھر مار ، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط مجالس غرضیکہ اب ٹی وی تفریح نہیں بلکہ عذاب بن چکا ہے ۔ٹی وی پروگراموں میں موسیقی ، پاپ میوزک ،ناچ رنگ کی مجالس اور رقص و سرور کے ذریعے معاشرہ پر پڑنے والے اثرات تو واضح ہیں ،مسلم معاشرہ کے بارے میں یہ ایک پرانی سازش ہے جو علامہ محمد اقبال نے اپنی نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں واضح کی ہے :
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو

نیز پراچہ صاحب لکھتے ہیں
’’ناچ گانے کے علاوہ ٹیلی ویژن کے دیگر پروگرامز بھی انتہائی منفی اثرات رکھتے ہیں ۔تشدد اور جرائم پر مبنی ڈرامے اور فلمیں جرائم کی تربیت گاہیں ثابت ہوئی ہیں۔‘‘

المختصر:ہمارے معاشرے میں جو اخلاقی بگاڑ پیدا ہوا ہے اس کے بڑے اسباب تین ہیں۔۱۔گانا۔۲۔اختلاط مردوزن۔۳۔بے پردگی و عریانی۔

گانوں کی تباہ کاریاں:گانے باجے گناہوں پر اُکساتے ہیں ،شہوت بھڑکاتے اور انسان کو بے غیرت بناتے ہیں اور سب سے بڑا نقصان کہ اﷲ اور اس کے حبیب ﷺ کی ناراضی ملتی ہے ۔

اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی راہ سے بہکائیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنا لیں ،ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے ۔(سورہ لقمان پارہ 21)

حضرت سیدنا عبد اﷲ بن مسعود ،حضرت سیدنا عبد اﷲ ابن عباس، حضرت سیدنا امام حسن بصری، حضرت سیدنا سعید بن جبیر، حضرت سیدنا عکرمہ ، حضرت سیدنا مجاہد، حضرت سیدنا مکحول وغیرھم ائمہ صحابہ و تابعین رضی اﷲ عنہم اجمعین نے اس آیت کریمہ میں ’’لھو الحدیث‘‘ کی تفسیر موسیقی اور گانا کے ساتھ فرمائی ہے ۔(فتاویٰ رضویہ جلد 10،صفحہ109)

اس آیت کریمہ میں گانے اور موسیقی کے دلدادہ کوذلت کے عذاب کی خبر دی گئی ہے ۔

٭........ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔’’اور بہکادے ان میں سے جس پر قدرت پائے اپنی آوازسے۔‘‘(سورۃ اسرائیل ،پارہ 15 )
امام فخر الدین رازی رحمۃ اﷲ علیہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’اس (شیطان ) کی آواز سے مراد گانا اور لہو و لعب ہے ۔‘‘
تفسیر ابن کثیر ، تفسیر روح البیان ،تفسیر تبیان القرآن اور تفسیر جلالین میں بھی کم و بیش ایسا ہی کہا گیا ہے ۔
٭........رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’گانا اور لھو دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتے ہیں جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے ۔قسم ہے اس ذات مقدسہ کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ،بے شک قرآن اور ذکر اﷲ ضرور دل میں اس طرح ایمان اگاتے ہیں جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے ۔‘‘(دیلمی شریف)
٭........حضرت سیدنا انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ،رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا :’’جو گانے والی کے پاس بیٹھے ،کان لگا کر دھیان سے اس سے سنے تو اﷲ بروزِ قیامت اس کے کانوں میں سیسہ انڈھیلے گا۔‘‘
٭........حضرت ضحاک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے :’’گانا دل کو خراب اور اﷲ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا ہے ۔‘‘(تفسیرات احمدیہ)
٭........سیدنا نافع رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار میں حضرت سیدنا عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ ایک راستے میں تھا کہ آپ نے باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں اور اس راستے سے دوسری طرف ہٹ گئے ۔ پھر دور جانے کے بعد فرمایا ، اے نافع !کیا تم سن رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا ،نہیں ۔تب آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے ہٹائیں اور فرمایا میں رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھا ،آپ ﷺ نے بانسری کی آواز سنی تو اسی طرح کیا جو میں نے کیا ۔ (مشکوٰۃ ،مسند احمد ،ابو داؤد)
٭........حضرت سید عالم ﷺ نے فرمایا:’’مجھے ڈھول اور بانسری توڑنے کا حکم دیا گیا ہے ۔‘‘(دیلمی شریف)
٭........حضور پر نور ﷺ کا فرمان ہے :’’سب سے پہلے شیطان نے نوحہ کیا اور گانا گایا۔‘‘ (تفسیر اتِ احمدیہ)
ملاحظہ کیجئے !اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے تو میوزک اور گانے کو حد درجے ناپسند کیا ہے ۔آلاتِ موسیقی کو توڑنے اور گانے کو شیطانی کام قرار دیا ہے مگر رسول اﷲ ﷺ کی غلامی کا دم بھرنے والے مسلمان ڈھول باجے کو حرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں ۔بغیر ڈھولوں اور ناچ گانے کے ان کی شادیاں جائز نہیں ہوتیں۔گلی گلی میوزک سنٹر کھلے ہیں بلکہ اپنے گھر ہی میوزک سنٹر بنے ہیں ۔میوزک شوز رات کو ٹی وی پر لگنا ہوتو صبح سے ہی اسے دیکھنے کا پروگرام تیار ہوتا ہے ۔کون سی دکان او رکون سا ہوٹل ایسا جہاں اس کا اہتمام نہیں ہوتا ؟
ترجمہ:’’ اے ناپائیدار ناچ رنگ کی لذتوں میں منہمک ہونے والو! موت تمام کھیل کود کو ختم کر دیتی ہے ۔بہت سے ایسے لوگ ہم نے دیکھے جو مسرتوں اور لذتوں میں غافل تھے ،موت نے انہیں اپنے اہل و عیال سے جدا کر دیا ۔‘‘(شرح الصدور از علامہ سیوطی علیہ الرحمہ)

اختلاطِ مرد و زن:
مسلم معاشرے کی زوال پذیری میں جواسباب نمایاں نظر آتے ہیں ۔ ان میں سے ایک مرد و زن کا اختلاط بھی ہے اور ایسا مغربی معاشرے کی اندھی تقلید کی وجہ سے ہے ۔جنگ عظیم اول و دوم میں جب کروڑوں مرد قتل ہو گئے تو مغربی سرمایہ داروں نے سوچا کہ مردوں کی کمی کے پیش نظر عورت کو صنعت و حرفت میں بطور ملازم استعمال کیا جائے ۔چنانچہ مغربی لوگوں نے عورتوں میں ’’مردوں کی برابری‘‘ اور ’’حقوقِ نسواں‘‘ کا نعرہ لگا کر گھر کے مقدس و محفوظ حصار سے نکالا اور تمام شعبہ ہائے زندگی شعبہ تعلیم ،شعبہ صحت ،شعبہ پولیس، شعبہ فوج، شعبہ طب اور دیگر سرکاری وغیر سرکاری شعبہ جات میں مردوں کے ساتھ لا کھڑا کیا ۔چنانچہ اب عورت غیر محفوظ اور بے سکونی کا شکار ہے ۔کس کس طرح نامساعد حالات کا اسے سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ افسوس ہے اسلامی معاشرے پر جس نے مغرب کی پیروی میں اپنی دینی اور تہذیبی روایات کی بھی پاسداری نہیں کی ۔ہمیں بتائیں کہ ایک ایسے ماحول میں جہاں ہر گھر (الا ماشاء اﷲ ) سینما گھر بنا ہوا ہو ، سر عام عریاں اشتہار لگے رہتے ہوں ۔اخبارات کے صفحے گندے اشتہاروں اور تصویروں سے بھرے رہتے ہوں ،ہاتھوں میں ہر طرح کی برائی پر مشتمل موبائل فون ہو ، کانوں میں ہر طرف سے فحش فلمی گانوں کی آوازیں آتی ہوں ،بازاروں میں بے پردہ اور نیم عریاں لباسوں میں ملبوس خواتین گھومتی دکھائی دیتی ہوں ، (تو ایسے ماحول میں ) سکولوں ، کالجوں (یونیورسٹیوں اور دفاتر میں مخلوط ماحول پیدا کر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے اخلاق ، ضبط نفس اور پاکیزگی کی توقع رکھنا کہاں کی دانشمندی ہے ؟ عین عالم شباب میں مرد و زن کو ساتھ ملنے جلنے کے مواقع دے کر یہ امید رکھنا کہ وہ اخلاقیات اور اسلامیات کے اسباق یاد رکھیں گے ۔پرلے درجے کی حماقت نہیں تو اور کیا ہے ۔مان لیجئے کہ مخلوط اور جذبات کو بھڑکانے والے ماحول میں نوجوانوں کی باہمی جنسی کشش کو حدود میں رکھنے کا پھر کوئی امکان نہیں رہتا ۔ چنانچہ عصمت دری ،گینگ ریپ اور اغوا جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔بالخصوص ہمارے تعلیمی اداروں میں فروغ پاتا مخلوط طرزِ تعلیم اور پھر سالانہ و دیگر تقریبات میں ’کلچر ‘ کے نام پر ناچ گانے کے پروگرام ،فیشن شوز اور دیگر خرافات نے اسلامی معاشرے کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا ہے ۔یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے ؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا :’’کوئی مرد کسی عورت سے تنہائی میں ملتا ہے تو ان دونوں میں تیسرا شیطان ہوتا ہے ۔‘‘(مشکوٰۃ و ترمذی)

اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جہاں مردوزن اکٹھے ہوتے ہیں وہاں شیطان خوب اپنے کھیل کھیلتا ہے ۔

یہاں نامور صحافی غلام اکبر صاحب کے مضمون ،خیرو شر اور حدود و قیود سے ان کے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ پیش کر کے دعوت غور و فکر دی جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں:
’’میں سندھ یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں آنرز کر رہا تھا ۔ہماری کلاس میں بیس کے قریب لڑکے اور تقریباً سات آٹھ لڑکیاں تھیں ۔ایک مرتبہ کلاس نے پکنک کا پروگرام بنایا تو میں نے یہ موقف اختیار کیا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو الگ الگ منانی چاہئے ۔مجھے زیادہ ہمنوائی حاصل نہ ہو سکی لیکن معاملہ ہمارے استاد پروفیسر جمیل واسطی صاحب کے پاس چلا گیا ۔انہوں نے لیکچر دیتے وقت اچانک میری طرف دیکھا اور کہاتمہاری جیب میں چونیّ ہو گی غلام اکبر ؟ چونیّ میں چونک پڑا ، جی ہاں ۔واسطی صاحب بولے جا کر دروازے کے باہر رکھ آؤ۔ میں جانے لگا تو انہوں نے فوراً کہا سمجھو کہ تم نے چونی باہر رکھ دی ہے ۔قدرے توقف کے بعد وہ ایک لڑکی کی طرف دیکھ کر بولے ،جب کلاس ختم ہو گی اور ہم باہر نکلیں گے تو کیاچونی وہاں موجود ہو گی ؟ وہ لڑکی مشترکہ پکنک کی روحِ رواں تھی ۔فوراً بول اٹھی ،ہو سکتا ہے کسی کی نظر پڑے تو وہ اسے اٹھا لے ۔اس بات پر واسطی صاحب بڑے عجیب انداز میں مسکرا کر بولے ،’’جو لوگ ایک چونی کے معاملے میں بے ایمان ہو سکتے ہیں میری بیٹیو اور بیٹو! و ہ لوگ لڑکی کے معاملے میں کیسے ایماندار اور قابل اعتبار سمجھے جا سکتے ؟جب کہ چونیّ بیچاری لپ سٹک بھی نہیں لگا تی ‘‘
خوش توہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلاآئے گا الحاد بھی ساتھ (اقبال)

بے پردگی اور عریانی و فحاشی:
آدم و حوا علیہما السلام کی اولاد کی فطرت کو ان کے خالق سے بہتر کون جان سکتا ہے ؟ ہم کو جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور جن سے روکا گیا ہے وہ صرف اور صرف ہماری بھلائی کے لئے ہے ۔ان حدود و قیود میں صدہا حکمتیں اور اَن گنت برکتیں ہیں ۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا آج کا معاشرہ نہایت ڈھٹائی اور بے حسی کے ساتھ ان حدود و قیود کا تمسخر اڑا رہا ہے ۔اس بات کی آگاہی کے لئے آپ بھی ٹی وی چینل آن کرلیں ۔ ہمارے نزدیک اگر یہ ٹی وی چینل دنیا بھر کے حالات سے آگاہ کرنے اور دین اسلام کی اشاعت کے لئے استعمال ہوتو بڑی رحمت ہو تی مگر انہیں شیطانی افکار کی ترویج اور عریانی و فحاشی کے پھیلاؤ کے لئے ’اکسیر ‘بنا دیا گیا ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری اسلامی خواتین کی ایک بڑی تعداد چادر اور چاردیواری کے حصار کو زحمت اور فیشن آلودہ لباس اور بازار کے پھیروں کو ’’آزادیٔ نسواں‘‘سمجھنے لگی ہیں ۔حالانکہ یہ اسی سوچ اور طرزِ عمل کا نتیجہ ہے کہ عورت آج کے ترقی یافتہ معاشرے میں بھی اسی قدر غیر محفوظ ہے جس قدر غیر محفوظ وہ انسانی تہذیب کے ہر ’’چنگیزی عہد‘‘ میں تھی ۔

ہم اپنی قوم کی ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں سے یہ درخواست کریں گے کہ وہ قرآنی آیات اور احادیثِ رسول ﷺ کا بغور مطالعہ کریں ،جن میں عورت کے لباس اور حجاب کی حد مقرر کی گئی ہیں اور زندگی گزارنے کے ڈھب سکھائے گئے ہیں ۔یہ ان کے لئے دین و دنیا کی بہتری کے لئے از حد ضروری ہے ۔سورہ نور اور سورہ احزاب کی چند آیات کا ترجمہ پڑھیں اور ہوش کے ساتھ غور کریں ۔
٭........اپنے اپنے گھروں میں پڑی رہیں ،دورِ جاہلیت کی طرح بے پردہ نہ رہیں ۔(الاحزاب)
٭........دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالی رہیں اور غیرمردوں کو اپنا سنگھار نہ دکھائیں۔ (سورہ نور)
٭........ہاں ان رشتہ داروں پر چھپاسنگھار ظاہر ہو جائے تو حرج نہیں ۔مثلاً خاوند ،باپ ،سسر ،بیٹے، بھانجے ، بہت ہی بوڑھے ،نابینا ،نابالغ ملازم اور چھوٹی عمر کے لڑکے ۔ (سورہ نور)
٭........مسلمان مردوں کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔(نور)
٭........مسلمان عورتوں کو بھی حکم دیا جائے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔(نور)
٭........لہجے میں نرمی نہ ہو کہ کہیں کوئی بیمار دل والا کسی قسم کے طمع میں مبتلا نہ ہو جائے ۔(احزاب)

اے بنتِ اسلام! ملاحظہ کیجئے ! قرآن حکیم ہم سے کس شرم و حیا اور غیرت و حمیت کا تقاضا کرتا ہے ۔روسی فلسفی ٹالسٹائی نے بھی سج سنور کر خوشبو لگا کر عورت کے باہر نکلنے کے متعلق یہ حدیث پیش کی ہے جس مین حضور پر نور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:’’جو عورت خوشبو لگا کر گھر سے نکلی ، پھر اس غرض سے لوگوں کے پاس سے گذری کہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں وہ زانیہ ہے اور جنہوں نے اسے دیکھا ان میں سے ایک ایک آنکھ زانیہ ہے ۔‘‘

یاد رکھیے!مغربی عورت کی نقالی آپ کے لئے باعث عزت نہیں ،نہ یہ آپ کی کامیابی کی ضامن ہے ،نہ اسے آپ کے لئے سٹیٹس سمبل ہونا چاہئیے۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان میں ’’ہم وہ قوم ہیں جس کو اﷲ نے اسلام کی بدولت عزت دی ہے ۔‘‘

ابھی کچھ روز کی بات ہے ،پردہ دار خاتون کی بہت زیادہ عزت کی جاتی تھی اور اب بھی کی جاتی ہے ۔بسوں میں اس کے لئے سیٹ خالی کردی جاتی تھی ۔بحالتِ مجبوری کسی دفتر یا ادارے میں جاتی تو اس کے کام کو مردوں سے مقدم کر دیا جاتا ہے ۔ لیکن بے پردہ خاتون کی تکریم کے لئے عام لوگ تیار نہیں ۔دورِ جدید میں عورت کی بے پردگی نے اس کو اس حد تک رسوا کیا کہ وہ اخبارات و رسائل ،اشتہارات اور پردۂ سکرین کی زینت بن کر نفع اندوزی کا ایک وسیلہ بنا دی گئی ۔ جہاں جہاں خواتین کو جگہ دی جاتی ہے احترام کی وجہ سے نہیں ،تجارت چمکانے اور نفع حاصل کرنے کے لئے یعنی جدید معاشرے کی عورت پر نظر خالصتاً تاجرانہ ہے جبکہ اسلام کی نظر سراسر مشفقانہ ہے ۔

المختصر!انگریزی فکر نے خواتین کے ایک مخصوص طبقے کے ذہنوں کو پراگندہ کر کے اسلام کی سچائی سے ان کو دور کر دیا ۔ان خواتین کی بے پردگی نے جسمانی آرائش و زیبائش کا راستہ کھول دیا ،پھر اس نے بے حیائی کی صورت اختیار کی اور بے حیائی نے عریانی اور بدکرداری کا دروازہ کھول دیا ۔

اسلامی معاشرے کے فکری و اخلاقی انحطاط اور عریانی و فحاشی کے فروغ کا ایک اور بڑا سبب وسیع پیمانے پر مخرب اخلاق سی ڈیز اور لٹریچر کی نوجوان نسل کو دستیابی ہے ۔پچیس تیس روپے میں ایک نوجوان دنیا کی غلاظت سی ڈی کی صورت میں اپنے گھر لا کر کمپیوٹر وغیرہ میں دیکھتا ہے اور یوں اپنا دین ،ایمان ،پیسہ ،وقت ،صحت غرضیکہ سب کچھ تباہ و برباد کر لیتا ہے جبکہ ڈائجسٹ ،ناول اور جذبات کو مشتعل کر دینے والی تصاویر کے حامل میگزینز نے بھی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی فکر کو تباہ ،سوچ کو عریاں اور لباس کو نامناسب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔صرف ایک خوفناک جھلک ملاحظہ کیجئے ۔معروف ماہر نفسیات ارشد جاوید کہتے ہیں’’میرے پاس ایسے کتنے ہی نوجوان مریض آتے ہیں جنہوں نے انگریزی ناول پڑھے ۔وہاں محترم اور مقدس رشتوں پہ دست درازی یا آمادگی کے ساتھ جنسی تعلق کی منظر کشی پڑھی اور پھر کسی کمزور لمحے اپنے ہی سگے رشتوں کے ساتھ ویسا کرنے کی کوشش کی ۔کامیابی اور ناکامی دونوں صورتوں میں ذہنی مریض بن کر پھر برسوں اپنا علاج کراتے ہیں مگر اس شرمندگی سے نہیں نکل پاتے ۔‘‘

جی تو چاہتا ہے کہ بے حیائی کو رواج دینے والے اور پہلوؤں کا بھی احاطہ کیا جائے لیکن یہ مضمون مزید طوالت کا متحمل نہیں ہے ۔قوم کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مذکورہ بالا صورتحال کا بغور جائزہ لے اور اصلاح کے لئے میدان عمل میں آئے ۔اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کی اسلامی اصولوں پر تربیت کرے ۔ والدین اپنی اولاد کو اپنی نظروں کے حصار میں رکھیں ۔اساتذہ ،سرمایۂ ملت یعنی نوجوانوں کو شرم و حیا اور بلندیٔ کردار کے اسباق از برکرائیں ۔حکومتی اراکین فحاشی و عریانی کے خاتمے کے لئے موثر ضابطے بنائیں اور عدالتیں بے حیائی کے فروغ کی اپنے سخت احکامات کے ذریعے حوصلہ شکنی کریں ۔میڈیا کو لگام دی جائے ۔خود عورت کو باور کرایا جائے کہ وہ شمع محفل نہیں اور نہ یہ باعزت مقام ہے ۔وہ تو گھر کی ملکہ ہے اور گھر ہی کیا جنت کی مالکن ہے ۔اﷲ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Peer Tabasum

Read More Articles by Peer Tabasum: 40 Articles with 28979 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Mar, 2018 Views: 716

Comments

آپ کی رائے