جوگی بابا سے ملاقات

(Wajid Nawaz, Bhakkar)

تمام شہر ہی جوگی سمجھ رہا ہے مجھے
تمہارے دھیان کی مالا گلے میں کیا پہنی
چوہدری خوشی محمد ناظر کی مشہور نظم ’’ جوگی ‘‘ کا شمار اردو کلاسکس میں ہوتا ہے ، یہ نظم دو حصوں یعنی ’’ نغمہ حقیقت ‘‘ اور ’’ ترانہ وحدت ‘‘ پر مشمل ہے۔ چوہدری صاحب کی اس طویل نظم کو پڑھنے کے بعد دل میں ایک غبار سا اٹھنے لگا کہ کیوں نہ آج ’’ جوگی بابا ‘‘ سے ہی کیوںنہ ملاقات کرلوں ! اس سے پہلے کے جوگی بابا کے ’’ جوگ ‘‘ اور تجربات پر مشتمل ملاقات کا احوال بیان کروں چوہدری صاحب کی نظم کی ایک جھلک پیش خدمت ہے۔
اپنا تو زمانہ بیت گیا ، سرکاروں میں درباروں میں
پر جوگی میرا شیر رہا ، پربت کی سونی غاروں میں
وہ دن کو ٹہلتا پھرتا تھا ، ان قدرت کے گلزاروں میں
اور رات کو محو تماشہ تھا ، انبر کے چمکتے تاروں میں

چنے کے کاشتکار اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کٹائی شروع ہوتے ہی ’’ پکھی واس ‘‘ ( خانہ بدوش ) مرد و خواتین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، دور دراز سے آنے والے یہ خانہ بدوش اپنی غربت اور بے بسی کی عملی تصویر لیے چنے اور گندم کے کاشتکاروں ، کسانوں سے معاونت طلب کرتے ہیں، ایسے میں کسان بھی بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاتم طائی کا کردار ادا کرتا ہے اور انہیں چنے کے ’’ پوڑوں ‘‘ سے نواز دیتا ہے۔ ’’ دے سخیا رَب سوہنڑیں دے ناں تے ‘‘ کی صدا لگاتے خانہ بدوشوں میں مرد ، خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔
چار تنکے اٹھاکے جنگل سے
ایک بالی اناج کی لے کر
چند قطرے بلکتے اشکوں کے
چند فاقے بجھے ہوئے لب پر
مٹھی بھر اپنی قبر کی مٹی
مٹھی بھر آرزوئوں کا گارا
ایک تعمیر کی ، لیے حسرت
تیرا خانہ بدوش بے چارہ
شہر میں دربدر بھٹکتا ہے

سارا دن کھیتوں میں چل کر اناج کی ایک ایک بالی اکٹھی کرنے کے بعد یہ لوگ اپنے اپنے محلات ( جھونپڑیوں ) میں واپس چلے جاتے ہیں۔ان خانہ بدوشوں میں ’’ جوگی ‘‘ بھی اپنی نوعیت کا منفرد اور اچھوتا کردار ہے ، لفظ ’’ جوگی ‘‘ کا مطلب ، اس کی حدود و قیود اور ماضی حال جانے کے لیے ہمیں ایک حقیقی کردار ’’ جوگی ‘‘ کی تلاش تھی۔ سورج سیاہ بادلوں کی اوٹ میں غروب ہونے والا تھا ، آسمان پر سیاہ بادلوں کی چادر اور ٹھنڈی ہوا نے موسم میں خنکی پیدا کردی تھی۔ یہ اپریل کا مہینہ تھا ، گندم اور چنے کی کٹائی شروع تھی، پاکستان میں اپریل سے ہی موسم گرما کی شروعات ہوجاتی ہیں ، خصوصاً دن کے اوقات گرم جبکہ راتیں خوشگوار ہوا کرتی ہیں۔شام ہوتے ہی ان جھگیوں سے دھویں کے سیاہ بادل اور ہلکی ماند پڑتی روشنیاں دکھائی دیتی ہیں۔ خانہ بدوشوں کی اس عارضی بستی میں ایک گندمی رنگت ، پیلے نیلے کپڑوں میں ملبوس ، کانوں میں بڑی بڑی بالیاں، ہاتھ میں دو تین پٹاریاں تھامے ادھیڑ عمر کا یہ شخص جو بظاہر ’’ سامری جادوگر ‘‘ کی طرح دِکھ رہا تھا ، اپنی نہ ختم ہونے والی گردان سنانے میں مگن تھا۔ سرائیکی سندھی لہجے میں وہ مسلسل بولے جارہا تھا کہ ’’ ادّا سائیں جوگی اُوں کوں آھدن ، جہڑا رَب دی پڑتال اِچ اپنے گھر نوں چھوڑ ڈیوے تے تھاں تھاں دے چکر مارے ، یا اپنے سجنڑ دی سنجانڑ اِچ ٹین ڈبے کھڑکا ڈیوے ۔‘‘
جوگی بڑیاں گلاں کردا ھیں توں
میڈا یار ملا تیکوں من ویساں

جوگی پنجاب میں ایک بہت بڑا کردار ہے ، یہ لوگ اکثر آبادی سے دور جھگیوں میں رہتے ہیں، کئی جوگی ’’ حکمت ‘‘ سے بھی وابستہ ہیں، دیسی جڑی بوٹیوں سے بنی ادویات ، تیل ، سفوف ، معجون بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ذرا اُن جھگیوں کے قریب پہنچا تو وہاں پر موجود تمام لوگ ادھیڑ عمر کے اس شخص کو ’’ جوگی بابا ‘‘ کے نام سے پکاررہے تھے۔ جوگی بابا کی جاری گردان سُن کر ہم بھی لمبے تھڑنگے اُس ٹیلے پر جابیٹھے جہاں پہلے سے بیٹھک سجی ہوئی تھی۔ اسی اثناء میں جوگی بابا نے دو پٹاریاں نکالیں جن کے اندر دو ’’ سیاہ کوبرا ‘‘ (کالے سانپ ) جلیبی شکل میں محو استراحت تھے ۔ جوگی بابا نے جیسے ہی پٹاری ہلانا شروع کی دونوں ’’ سنگ چوڑ ‘ ‘ آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگے۔ جوگی بابا نے اپنی بانسری ( بین ) اپنے پہلو سے لگا رکھی تھی ، پھر انہوں نے خشک ہڈی اور پانی سے بھرا ایک پیتل کا لوٹا اٹھایا ، ایک پٹاری کو کھولا اور ایک ’’ کوبرا سانپ ‘‘ کو باہر نکال کر اس کا ’’ سر ‘‘ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھولا۔ خشک ہڈی کو اس میں داخل کیا اور پھر جوگی بابا نے لوٹے سے سانپ کے منہ میں پانی بھرنا شروع کردیا۔ جوگی بابا نے حاضرین و سامعین کے سامنے یہ وضاحت بھی رکھی کہ ’’ جنگلوں میں سانپ اپنی خوراک خود حاصل کرلیتے ہیں مگر جب وہ اُن کی تحویل میں ہوتے ہیں تو اُنہیں دودھ اور پانی اسی طریقے سے پلاتے ہیں۔ ‘‘ پھر بابا جوگی نے جسم کے ساتھ لٹکی بین کو بجانا شروع کردیا، بین کے بجتے سازوں نے کوبرا کو جھومنے پر مجبور کردیا، جوگی بابا ہماری سمجھ بوجھ سے کچھ زیادہ ہی سیانا نکلا کہنے لگا، کوبرا کے رقص کو غور سے دیکھو! ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ دیکھو میں انہیں کس طرح اپنے تابع کرچکا ہوں اور اب کس طرح اسے بین کے آگے رقص کرنے پر مجبور کررہا ہوں، ذرا غور کرو آج ہمارے حکمران بھی زر دولت ، وزارت ، شہرت کے آگے رقص کرنے پر مجبور ہیں، عالمی طاقتیں انہیں انگلیوں پر نچارہی ہیں اور یہ حکمران اب عوام کے سامنے جمہوریت کی بین بجاکر نیا ڈرامہ کرنے والے ہیں۔ ‘‘

جوگی بابا کی ان قیمتی باتوں نے ہمارے باغی من کے تار ہلا دیے، یہ بابا کوئی عام جوگی نہیں تھا بلکہ اس عارضی بستی کے خانہ بدوشوں کے قبیلے کا سردار تھا۔ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہنے لگا ’’ پتر لگدائے تساں کوئی گالھ پچھنڑاں چاہندے اُو ۔۔۔ پَر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘جوگی بابا سو فی صد درست اندازہ لگارہے تھے ، کیونکہ اُس وقت میرے ذہن کے پردوں پر درجنوں سوالات ابھرچکے تھے ، ابھی میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ جوگی بابا نے تسلسل سے اپنے متعلق بتانا شروع کردیا کہ اُن کا تعلق سندھ کے بڑے شہر عمر کوٹ سے ہے، اُن کا قصبہ عمر کوٹ سے دس بارہ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اُن کی باتوں سے لگا کہ وہ اپنی بستی کے لوگوں کے لیے ایک ’’ مہان اُستاد ‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں ۔

جوگی بابا کی بستی کے ہر گھر میں تقریباً ایک ایک کوبرا تو موجود ہے مگر بیشتر افراد کے پاس کوبرا، کرایت، وائپر سمیت متعدد سانپ اب بھی موجود ہیں۔( سانپوں کی اقسام سے میں بالکل نابلد تھا ، جوگی بابا نے ایک درجن کے قریب اقسام بیان کیں جن میں سے چند کا ذکر کررہا ہوں ) ۔ جوگی بابا نے بتایا کہ پٹاری میں موجود سانپوں کے زہریلے دانت نہیں نکالے گئے ، مگر بچے انہیں کھلونا سمجھ کر کھیلتے ہیں اس کی وجہ جوگیوں اور ان کے ساتھ رہنے والے سانپوں کے درمیان ایک خاص تعلق قائم ہوجانا ہے۔ جوگی بابا نے بتایا کہ متعدد بار’’ ٹی وی چینلز‘‘ والے بھی اُن کے علاقے کا دورہ کرچکے ہیں، وہ لوگ اس بات کی تصدیق کرنے آئے تھے کہ جوگیوں اور سانپوں کے درمیان کتنا گہرا رشتہ قائم ہوچکا ہے ۔

جوگی بابا نے دعویٰ کیا کہ ’’ ایک سانپ کسی جوگی یا اُس کے بچے کو ڈنگ نہیں مارسکتا اور اگر ایسا کرتا بھی ہے تو وہ ہمیں یا ہمارے بچے کو نقصان نہیں پہنچاتا کیونکہ سانپ کے زہر کے تریاق کا ایک قطرہ پہلی غذا کے ساتھ ہی نومولود کو دے دیتے ہیں جس سے اُن کے اندر سانپ کے زہر کے خلاف پوری زندگی کے لیے قوت مدافعت پیدا ہوجاتی ہے۔ ‘‘

جوگی بابا جوکہ چنے کی کٹائی کے دنوں میں سندھ سے پنجاب کا رُخ کرتے ہیں ، جوگی یا سپیرے جوکہ خانہ بدوش قبائل سے تعلق رکھتے ہیں پورا سال ایک جگہ سے دوسری جگہ سانپ ، جڑی بوٹیوں اور روزی کی تلاش میں رخت سفر رہتے ہیں۔ عارضی جوگی بستیاںجنوبی پنجاب اور اندرون سندھ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ جوگی بابا نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ اُن کے والد کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں دس مرلے جگہ الاٹ ہوئی تھی ،یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اُن کے قبیلہ کی ایک نوجوان لڑکی وہاں کے مقامی وڈیرے نے اغواء کرالی تھی جس کے بدلے جوگیوں کو چند مرلے زمین الاٹ کی گئی تھی،آج بھی وہ اُسی دس مرلے کی جگہ پر زندگی کے ماندہ ایام گزار رہے ہیں۔ جوگی بابا نے بتایا کہ جوگیوں سپیروں اور خانہ بدوشوں کے مستقل گھر ہیں ، ان کے قریبی عزیز جنوبی پنجاب کے ضلع میلسی میں بھی رہائش پذیر ہیں۔ ان خانہ بدوشوں کے بیشتر گھر کسی ترتیب کی بجائے عجیب طرزِ تعمیر کے شاہکار ہیں۔ کچھ گھر تو درحقیقت عارضی جھونپڑیاں ہیں جبکہ دیگر گارے سے بنے گھروں میں چار دیواری ہی نہیں۔ اسی طرح یہاں گلیوں کا تصور تک موجود نہیں۔اکثریت گھر جھونپڑیوں پر مشتمل ہیں مگر اِن سپیروں ، جوگیوں کے لیے یہ محلات سے کم نہیں۔

جوگی بابا کی باتوں سے لگا کہ جیسے اُن کی بستی میں کبھی ’’ آبادی کنٹرول پروگرام ‘‘ شروع ہی نہیں ہوا، کیونکہ بستی کے ہر بچے کے آٹھ سے دس بہن بھائی ہیں ، لگ بھگ ہر بچہ اپنے بالوں کا رنگ سیاہ سے گولڈن دیکھتا ہے جو اُن کے اندر پروٹین کی شدید کمی کی تصدیق کرتا ہے ۔ اکثر بچوں کے سروں پر بالوں سے ’’ لٹیں ‘‘ بھی بنائی جاتی ہیں جوکہ اُن کے جوگی ہونے کی نشانی ہوتی ہے، خواتین سونے و چاندی کے پرانے انداز کے زیورات پہنتی ہیں اور لگ بھگ ہر خاتون کی کہنی، گردن یا ہاتھوں پر روایتی ٹھپے ( ٹیٹو ) موجود ہوتے ہیں جبکہ ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں پہننا اور فروخت کرنا اُن کی ثقافت کا حصہ ہے۔

جوگی بابا کی باتوں سے محسوس ہوا کہ ماحولیاتی تنزلی، بڑھتی آبادی، جنگلات کی کٹائی اور جنگی حیات میں ناپسندیدہ انسانی مداخلت کے باعث یہ جوگی اب سانپوں کو اس طرح آسانی سے ڈھونڈ نہیں پاتے جیسے پہلے پکڑ لیتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کے اندر بھی سانپوں اور سپیروں میں دلچسپی کم ہوئی ہے جس کے نتیجے میں جوگیوں کی نئی نسل بھی اپنے آبائی پیشے کو ترک کرنے لگی ہے۔

جوگی دارو کی روایت کے مطابق جو سپیرے عارضی طور پر دیگر شہروں میں روزگار کی تلاش کے لیے جاتے ہیں وہ اپنی حفاظت کے لیے جھونپڑیوں کا سہارا لیتے ہیں ، ان جھونپڑیوں کے داخلی دروازوں کو کانٹے دار شاخوں سے کورکردیتے ہیں، یا پھر بوریوں سے بنا پردہ ڈال کر عارضی قیام گاہ میں بسیرا کرتے ہیں۔اکثر جوگی مرد بین کی سُروں سے سانپوں کو رقص کرواکے پیسہ کماتے ہیں۔

خواتین جوگی عام طور پر پامسٹ یا دست شناس ہوتی ہیں جو گھر گھر جاکر قسمت کا حال جاننے میں دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ کئی جگہ پر چوڑیاں، چھوہارے ، کپڑے اور کراکری کا سامنا فروخت کرکے بھی روزی کماتی ہیں، یہ کام بھی شہر میں مارکیٹ کا درجہ رکھتا ہے۔

جوگی بابا نے بتایا کہ خود کو ’’ اصل جوگی ‘‘ ثابت کرنے کے لیے بیشتر افراد اپنے پاس متعدد چیزیں رکھتے ہیں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ جادوائی اثرات رکھتی ہیں۔جیسا کہ ، ’’ منکا ( منڑکا) ، گیدڑ سنگھی اور ہاتھا جوڑی۔ ان کی خاصیتوں کے پیش نظر ہم انہیں بہت مددگار تصور کرتے ہیں اور اکثر اپنے پاس رکھتے ہیں اور انہیں اپنی بیٹیوں کو شادی کے وقت بطور جہیز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ‘‘

’’ منکا ‘‘ ایک سیاہ رنگ کے پتھر جیسا دانہ ہوتا ہے جس کے بارے میں جوگیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ درحقیقت کسی سانپ کے سر کے اندر سے نکالا گیا ہے۔ ایک گیدڑ سنگھی ایک ایسے خاص گیدڑ کا سینگ ہوتا ہے جو کہ ایک گلہری جتنا چھوٹا اور پہاڑی یا چٹانی علاقوں میں رہتا ہے۔جوگی بابا کا بتانا تھا کہ بیشتر جوگی پاکستان کے بڑے بڑے پہاڑی سلسلوں میں جاکر قیمتی گیدڑ سنگھی کی تلاش کرتے ہیں۔ ہاتھا جوڑی ایک خاص پودے کی جڑ ہوتی ہے جو کہ کسی بند مٹھی والے انسانی ہاتھ جیسی شکل کی ہوتی ہے۔

جوگی بابا نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے شکوہ کیا کہ جوگیوں کا خانہ بدوش قبیلہ اپنے بیماروں کو اکثر ہسپتال نہیں لے جاتابلکہ بیشتر روایتی طریقہ نسخوں اور علاج پر انحصار کرتے ہیں یا پھر تعویز کو متعدد امراض کا بہترین علاج تصور کیا جاتا ہے۔

ان تمام تر مشکلات کے باوجود جوگی بابا پرعزم ہیں کہ وہ سانپ پکڑنے کے فن کو اس وقت تک مرنے نہیں دیں گے جب تک بچے اسے سیکھنے کے خواہشمند ہیں’’ آپ کو ان صدیوں پرانے سانپ پکڑنے کے فن کو سیکھنے کے لیے پیدائشی جوگی ہونا پڑتا ہے کوئی بھی سیکھ کر جوگی نہیں بن سکتا۔ ‘‘
آکر پر جوگی بابا نے ہماری فرمائش پر یہ کلام بھی سنایا :
لگی والیاں نوں نیندر نئیں آندی
تیری کیویں نیں اکھ لگ گئی
رات چن دی تے اُڈدا ، چکور ، سی
روندا پیار وِچ پیلہاں پاکے مور، سی
ڈاروں وچھڑ کے کونج کرلاندی
لگی والیاں نو ں نیندر نئیں آندی
تیری کیویں نیں اکھ لگ گئی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 42286 views »
i like those who love humanity.. View More
20 Mar, 2018 Views: 953

Comments

آپ کی رائے