یوم پاکستان ، امن کا پیغام اقوام عالم کے نام

(Rashid Sudais, Karachi)

یوم پاکستان موقع پر آئی ایس پی آر نے نیا ملی نغمہ امن کا نشان ہمارا پاکستان ریلیز کیا ہے چاہتا ہوں اس کا پس منظر پیش کروں اور ساتھ بین الاقوامی سامراجی قوتوں کا چہرہ بے نقاب کروں جنہوں نے امن کاجھانسا دے کر زمین پر فساد مچایا ہوا ہے خون سے رنگے ہاتھ انہیں ملامت کررہے ہیں مگر افسوس یہ بین الاقوامی جنگجو اپنے عزائم سے باز آنے کو تیار نہیں ہیں نت نئے اندازسے نئے مہرے تلاش اور تیار کیے جارہے ہیں بلاشبہ پاکستان نے عالمی امن علاقائی امن کے لیے اقوام عالم سے زیادہ قربانیاں پیش کیں ہیں ان قربانیوں کا مقصد بالخصوص ارض پاک کو نئی نسل کے لیے پرامن بنانا ہے اوربالعموم دنیا کو انسانو ں کے لیے محفوظ کرناہے بادی النظر میں سبھی جانتے ہیں کہ امن سماج کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں معاملات کو تشدد کی بجائے افہام وتفہیم سے نمٹایا جائے امن کا تصور کسی بھی معاشرے میں تشدد کی غیر موجودگی یا پھر صحت مند مثبت بین الاقوامی یا بین انسانی تعلقات سے تعبیر کیا جاتاہے اس کیفیت میں معاشرے کے تمام افراد کو سماجی معاشی معاشرتی سیاسی حقوق حاصل ہوتے ہیں بین الاقوامی تعلقات میں امن کا دور اختلافات یا جنگ کی صورت حال کی غیر موجودگی سے تعبیر کیا جاتاہے امن کی سادہ مطلب ہے خوشحال اورتشدد سے پاک معاشرہ جس میں عدل انصاف بلاتفریق وتقسیم رنگ ونسل ذات پات سب کو یکساں میسر آئے مگر افسوس پاکستان کو معرج وجود میں آنے کے فورا بعد جنگ میں دھکیل دیا گیا 1948 ء ، 1965 ء اور 1971 ء میں دشمن ہمیں خدا نخواستہ صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہُوا مگر الحمد ﷲ اُس کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔دشمن کی اِن تمام کارستانیوں کو دیکھتے ہوئے وطن عزیز کے دفاع پر خصوصی توجہ دی گئی روائتی ہتھیاروں کی بہتات کے باوجود جب دشمن کو منہ کی کھانا پڑی اس کے باوجود بزدل دشمن اپنی کارستانیوں سے باز نہ آیا نت نئے انداز سے پاک سرزمین کے امن کو تباہ کرنے کے لیے سازشیں ترتیب دیتا رہا کلبھوشن یادیو اس کی مثال ہے پاکستان نے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی افواج پاکستان اوردیگر قانون نافذکرنے والے اداروں نے رات دن محنت کرکے وطن سے دہشت گردوں اوربیرونی سہولت کاروں کا صفایا کیا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بین الاقوامی دنیا ہمارے اس قومی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی مگر افسوس انتہاپسند مہروں نے جاسوسی دھمکیاں اوراقتصادی بندش کے حربوں کے ذریعے پاکستان کی امن کی کوششوں کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کیں کبھی بلیک لسٹ میں ڈالا گیا تو کبھی گرے لسٹ میں تو کبھی امریکہ صدر نے پاکستان کی قربانیوں سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے ہمیں دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دیا ان تمام تر سازشوں کے باوجود پاکستان نے ارض پاک اور اپنے دفاع کورب کائنات کے فضل و کرم سے ناقابل تسخیر بنایا ہے کیوں نہ بنایا جاتا امن اﷲ کو پسند ہے امن ہی اسلام کا قلعہ ہے اور مسلمان اس قلعے کے باسی ہیں یہ قلعہ مسلمانوں کی دشمنوں سے حفاظت کرتا ہے اور مسلمان اس قلعے کی شریر عناصر سے حفاظت کرتے ہیں امن اسلام کی چار دیواری ہے اسی چار دیواری میں مسلمان اپنے آپ کومحفوظ تصور کرتے ہیں نیز شر پسند اور باغیوں سے اپنے آپ کو بچا پاتے ہیں مسلمان اس چار دیواری کو ٹوٹنے اور گرنے سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ کسی قسم کا شگاف بھی نہیں پڑنے دیتے کیونکہ اﷲ تعالی نے اسی کی بقا میں دین مال و جان عزت آبرو لین دین آزادانہ نقل و حرکت سمیت زندگی کی تمام سر گرمیوں کی بقا رکھی ہے رسول ِ اکرم نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس میں واضح طور پر اس بات کا اعلان کیا کہ ان کے جان ومال عزت و آبرو ان کی عبادت گاہیں ان کی مورتیاں اﷲ کی امان اور میرے یعنی محمد کی ضمانت میں ہے ان تمام اشیا کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سلام یعنی امن ہی ہمارے دین حنیف کی بنیاد ہے اور اس کو پھیلانے کے لئے ہمیں اس بات کو قبول کرنا ہوگا کہ ہم اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں ہمیں بین المذاہب بلکہ بین المسالک مکالمہ کی ضرورت ہے کیونکہ اگر مختلف مذاہب اور مسالک کے لوگوں کے درمیان رابطہ ہوگا تو وہ غلط فہمیاں جس کو بعض متشددین پھیلاتے ہیں اور جو فسادات اور قتل وغارت کا سبب بنتی ہیں بے بنیاد ہو جائیں گیں مختصر یہ کہ پاکستان کو د ہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ 16 سالوں کے دوران 10374 ارب روپے کا مالی نقصان ہواحکومت کی جانب سے جمع کی گئی دستاویزات کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کو ٹیکس وصولی کے نظام میں 5320 ارب روپے کا نقصان ہوااسی طرح بیرونی سرمایہ کاری میں بھی 1995 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی جب کہ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو 928 ارب روپے کا نقصان پہنچاحکومتی دستاویز کے مطابق نجکاری کی مد میں پاکستان کو 262 ارب روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا جبکہ غیر یقینی صورت حال کے باعث 15 ارب روپے کا نقصان ہواامداد روک کر پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنا ممکن نہیں رہا وزیر دفاع پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان سال 11-2010 میں 2037 ارب روپے کا ہوا جبکہ 10-2009 میں پاکستان کو 1136 ارب روپے کا نقصان ہوا اور اسی طرح 13-2012 میں پاکستان کو 1964 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہزاروں سیکورٹی اہلکاراورہزاروں سویلین اس جنگ میں شہید ہوئے اب پاکستان بدل چکاہے کھیل کھلیان آباد ہوچکے ہیں بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان کو پرامن ترین جگہ قرار دے رہے ہیں پی ایس ایل کی کامیابی اس کا واضح ثبوت ہے اب ضروری ہوگیا ہے کہ پی ایس ایل کا انعقاد پاکستان ہی میں ہو اب اس میں مزید تاخیر غیرمناسب ہے البتہ بلوچستان میں آرمی کے زیراہتمام کامیاب جیپ ریلی کا انعقاد کیا او ربتایا کہ آئندہ سے بلوچستان میں سال میں چار مرتبہ جیپ ریلیوں کا انعقادہوگا جو بلوچستان کے امن کی واضح دلیل ہے تفتان سے شکرگڑ ھ اورخیبر سے مکران اورخنجراب سے کشمیر تک امن قائم ہوچکا ہے سیاہوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے پوری قوم کو افواج پاکستان کے ساتھ مل کر اس امن عمل کو اگے بڑھانا ہے اور ارباب سیاست کوبھی چاہیے کہ وہ بھی اپنا طرز عمل تبدیل کریں اورارض پاک کی خوشحالی وترقی کے لیے اپنے ذاتی مفادات پس پشت ڈال کر عامتہ الناس کی خوشحالی کے لیے اقدامات کریں اور ہم سب کا ایک ہی نعرہ ہو۔
ناقابل تقسیم ہیں ہم ناقابل تسخیر ہیں ہم
اقبال کے اورقائدکے ہر خواب کی تعبیر ہیں ہم

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Sudais

Read More Articles by Rashid Sudais: 56 Articles with 36717 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 305

Comments

آپ کی رائے