سبز ترقی اور اعلیٰ معیار کی نمو کا کامیاب چینی ماڈل

سبز ترقی اور اعلیٰ معیار کی نمو کا کامیاب چینی ماڈل
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین کی دریائے یانگسی اقتصادی پٹی گزشتہ ایک دہائی کے دوران قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کے تحت ایک نمایاں اور ہمہ گیر تبدیلی سے گزری ہے۔ اس خطے کی ترقی کو محض معاشی وسعت تک محدود رکھنے کے بجائے ماحولیاتی تحفظ، سبز ترقی اور جدت پر مبنی نمو کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ پٹی چین کے اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک عملی اور کامیاب ماڈل کے طور پر ابھری ہے۔ یانگسی اقتصادی پٹی آج نہ صرف ملکی معیشت کا طاقتور ستون ہے بلکہ قومی ماحولیاتی سلامتی کی بھی ایک کلیدی ضامن بن چکی ہے۔

یانگسی اقتصادی پٹی چین کے طویل ترین دریا، 6300 کلومیٹر طویل دریائے یانگسی، کے ساتھ واقع 11 صوبائی سطح کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہ خطہ چین کی سب سے متحرک شہری آبادیوں، ترقی یافتہ صنعتی نظاموں اور جدید معاشی ڈھانچوں کا حامل ہے، جو ملک کی تقریباً نصف آبادی اور مجموعی معاشی پیداوار کا قریب نصف حصہ سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دریائے یانگسی کا طاس چین کے 35 فیصد آبی وسائل پر مشتمل ایک اہم ماحولیاتی لائف لائن تصور کیا جاتا ہے، جو قومی ماحولیاتی تحفظ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ5 جنوری 2016 کو چینی صدر شی جن پھنگ نے چھونگ چھنگ شہر میں دریائے یانگسی اقتصادی پٹی کی ترقی سے متعلق ایک اہم سمپوزیم کی صدارت کی، جسے اس خطے کی ترقی میں ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ یانگسی اقتصادی پٹی کی ترقی ماحولیاتی ترجیح اور سبز ترقی کے اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔ دریائے یانگسی کے ماحولیاتی نظام کی بحالی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ "بڑی حفاظت" کو "بڑی ترقی" پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔

اسی اجلاس کے ساتھ یانگسی اقتصادی پٹی کی ترقی کو باضابطہ طور پر قومی حکمتِ عملی کا درجہ دیا گیا، جو ماضی کے ان ترقیاتی ماڈلز سے یکسر مختلف تھا جن میں صنعتی توسیع کو ماحولیاتی تحفظ پر ترجیح دی جاتی تھی۔ بعد ازاں 2016 ہی میں دریائے یانگسی اقتصادی پٹی کے ترقیاتی منصوبے کا خاکہ جاری کیا گیا، جس میں ماحولیاتی تحفظ، جدت پر مبنی صنعتی اپ گریڈیشن، مربوط ٹرانسپورٹ نظام اور علاقائی ہم آہنگی کو یکجا کیا گیا۔

گزشتہ ایک دہائی میں اس حکمتِ عملی کی رہنمائی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے منعقدہ متعدد سمپوزیمز کے ذریعے جاری رہی۔ مختلف مواقع پر اس بات کو دہرایا گیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور اعلیٰ معیار کی ترقی ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ حالیہ اجلاس میں سائنسی و تکنیکی جدت کو ترقی کی مرکزی قوت قرار دیتے ہوئے ماحولیات، معیشت اور سماجی ترقی کے درمیان توازن کو جدید چین کی تعمیر کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

اس دوران چین نے آلودگی پر قابو پانے، ماحولیاتی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور دریا کے جامع انتظام سے متعلق متعدد پالیسیاں اور قوانین متعارف کروائے۔ مارچ 2021 میں نافذ ہونے والا "یانگسی ریور پروٹیکشن قانون" چین کا کسی بھی دریا سے متعلق پہلا مخصوص قانون ہے، جس نے اس پورے طاس کی سبز اور سائنسی بنیادوں پر ترقی کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک فراہم کیا۔ 2024 میں ریاستی کونسل نے 2021 سے 2035 تک کے لیے ایک قومی منصوبے کی منظوری دی، جس سے طویل المدتی ترقیاتی اہداف کو مزید تقویت ملی۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دہائی میں یانگسی اقتصادی پٹی میں بہتر آبی معیار رکھنے والے حصوں کا تناسب 67 فیصد سے بڑھ کر 96.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ 1,300 سے زائد قدرتی محفوظ علاقوں میں ماحولیاتی مسائل کی اصلاح کی گئی، جبکہ 17 جامع ماحولیاتی بحالی منصوبے نافذ ہوئے۔ اسی طرح مقامی مچھلیوں کی اقسام میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو حیاتیاتی تنوع کی بحالی کا واضح ثبوت ہے۔

ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ یہ خطہ چین کے سب سے متحرک جدت پسند مراکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، آٹوموبائل سازی اور الیکٹرانک انفارمیشن جیسے شعبوں میں عالمی معیار کی کمپنیاں اور صنعتی کلسٹرز وجود میں آئے ہیں۔ شنگھائی، ہیفی، ووہان، چھنگ دو اور چھونگ چھنگ جیسے شہروں میں سائنسی و تکنیکی مراکز کی تعمیر نے اس خطے کو قومی جدت کا محور بنا دیا ہے۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ دریائے یانگسی کی مرکزی آبی گزرگاہ آج دنیا کی مصروف ترین اندرونِ ملک آبی شاہراہ بن چکی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ریل اور ایکسپریس ویز کے جال نے علاقائی روابط کو مضبوط بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یانگسی اقتصادی پٹی ، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں بھی ایک فعال کردار ادا کر رہی ہے۔

مستقبل کی جانب نظر ڈالی جائے تو چین کے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں سائنسی جدت، سبز تبدیلی اور علاقائی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں دریائے یانگسی اقتصادی پٹی محض ایک علاقائی ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسی قومی تجربہ گاہ بن چکی ہے جہاں اعلیٰ سطح کا ماحولیاتی تحفظ اور اعلیٰ معیار کی معاشی ترقی بیک وقت حاصل کرنے کا عملی نمونہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ماڈل نہ صرف چین بلکہ عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم حوالہ بنتا جا رہا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1745 Articles with 1006557 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More