ملازمین کے ساتھ بے حسی کا برتاؤ

(Maryam Arif, Karachi)

مراسلہ: بنت ارشاد، لاہور
میرا ایک رشتے دار کے گھر جانا ہوا۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر آنکھیں مارے حیرت کے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ سرد موسم میں ہلکے باریک کپڑے پہنے سردی سے ٹھٹھرتی کاپنتی ملازمہ بھاگ بھاگ کر سب کے کام کررہی تھی۔ ہر پکار پر لبیک کہتی اور فورا اس کا کام مکمل کردیتی۔ جب سب نے کھانا ختم کرلیا تو دن بھر کے کاموں میں مصروف تھکی ہاری اس ملازمہ کو دو لقمے بچے ہوئے کھانے کے نصیب ہوئے۔

میں سوچتی رہی تھی کہ کیا کوئی ایسا کر سکتی ہے۔۔۔ ہاں شاید وہ ملازمہ یہ سب کر سکتی ہے اور وہ کر رہی تھی۔ اس کے لبوں پر کوئی شکوہ نہیں تھا۔ اس کو تکلیف ہوتی ہے معلوم نہیں شاید نہیں ہوتی کیوں کہ وہ غریب کی بیٹی ہے، غریب تو ہوتے ہی دوسروں کے کاموں کے لیے ہیں۔ ان کے اپنے نہ تو ارمان ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی خواہشات۔ وہ جنہیں گھر چھوڑ کے آئی تھی وہ اہل خانہ ہر ماہ اس کی دیے ہوئے چند ٹکوں پر پل رہے تھے۔
اس گھر میں ایک معمولی سی ملازمہ کی حالت دیکھ دماغ پر کئی ایک سوال ابھرے۔ کیا امارت میں ہمارا کوئی کردار ہے یا پھر ملازمین کی غربت میں ان کا قصور ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں تو کہ ہم پڑھ لکھ کر بڑے ہوگئے ہیں اب ہماری نظریں نیچے نہیں پڑتیں۔ ہماری انسانیت مٹ چکی ہے۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ چند روپے ہمارے پاس آجائیں تو ہمیں سب کچھ عجیب لگنے لگتا ہے۔ جس انسان کو رب نے پیدا کیا اب وہیں خود کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے۔ اس میں ایک قصور ہمارا بھی ہے کہ ہم اس سب کو دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں مگر کوئی اس پر کچھ نہیں کہتا۔

حقوق نسواں اور اور چائلڈ ورک کے خلاف آواز اٹھانے والے گھریلو ملازمین کے حقوق پر کیوں خاموش ہیں۔ سال میں کتنے ہی ملازمین اپنے مالک کے ہاتھوں قتل کردیے جاتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی ایک کیس سامنے آجائے تو اس پر کچھ شور شرابہ سنائی دیتا ہے اور پھر ایک دم سے سب اپنے کاموں میں غرق ہوجاتے ہیں۔ کئی ایک ایسے کیس بھی سامنے آچکے ہیں کہ جن کے مالکان نے غربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں تھوڑے پیسے دے کے یا دھمکی دے کے قتل معاف کروادیا۔
سب سے پہلے تو ہمیں ایسے حالات کا سبب بننے سے
بچنا چاہیے۔ ملازمین کا خیال رکھنا چاہیے۔ اﷲ نے ان کو آپ کی خدمت کے لیے اگر بھیج دیا تو اس سے کہیں زیادہ آپ ان کا خیال رکھیں۔ دوسری بات اگر دھمکی یا چند روپوں کے لالچ دے کر قتل یا کسی قسم کا گناہ معاف کروانے کی کوشش کی بھی جائے گی تو کیا وہ لوگ یہ جانتے کہ انصاف اوپر بھی ہوگا۔ ساتویں آسمان پہ جب عدالت لگے گی کیا دلیل دیں گے وہاں اپنی جہالت کی؟
ملازمین کے حقوق کے لیے ہمیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ملازمین اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان کا خیال رکھنا بھی اسی معاشرے کے پڑھے لکھے اور صاحب ثروت طبقے کی ذمے داری بنتی ہے۔ کتنا افسوس ہوتا ہو گا ان کو جب ان کے ساتھ کچھ غلط ہوتا ہوگا۔ شاید وہ اپنے پیدا ہونے کو بھی برا سمجھتے ہوں گے اوراس کی بنیادی وجہ ہوتے ہیں ہم ، اس معاشرے کے امرا، پڑھے لکھے اور دنیا کو اچھائی کے لیکچر دینے والے۔

آئیے! سب پہلا قدم اٹھاتے ہیں ایسی درندگی جہاں بھی دیکھیں ایسے لوگوں کی مدد کریں، غربت جرم نہیں ہے۔ چند صاحب حیثیت لوگ مل کر ایسی ملازماؤں کے مدد کر کے ان کے لیے رزق حلال کا سبب بنا سکتے ہیں۔ آئیں ظلم کے خلاف عملی آواز اٹھاتے ہیں ، نعرے تو سب لگاتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521042 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 360

Comments

آپ کی رائے