رسم و رواج اور ہم

(Mohammad Asad Saeed, Lahore)

آج جب ظہر کی نمازکے لیے مسجد گیا تو ایک عجب منظردیکھا، ایک دولہے میاں بمعہ چند دوستوں اور ایک عدد کیمرہ مین کے مسجد میں آئے، دوستوں نے تو مسجد سے باہر ٹھرنا ہی مناسب سمجھا جبکہ دولہا اور کیمرہ مین مسجد کے اندر تشریف لے آئے جہاں نمازی حضرات فرض نماز سے قبل سنتیں ادا کرنے میں مصروف تھے، اب دولہے میاں نے نفل پڑھنا شروع کیے جبکہ کیمرہ مین نے ان لمحات کو کیمرے میں محفوظ کیا۔ جیسے ہی فرض نماز کے لیے اقامت ہوئی دولہے میاں نفل پڑھ کرفارغ ہو چکے تھے لہذا انہوں نے واپسی کی راہ لی۔ چونکہ مسلمان کے بارے میں حسن ظن رکھنا لازم ہے لہذا میں گمان کرتا ہوں کہ ان دولہے میاں، ان کے دوستوں اور کیمرہ مین نے بارات میں جانے کی غرض سے پہلے ہی نمازظہرادا کر لی ہوگی لیکن نجانے کیوں بظاہر نظر آنے والا یہ منظر چیخ چیخ کر ہمارے معاشرے کی عکاسی کررہا ہے کہ جہاں صرف رسم و رواج کی پرواہ کی جاتی ہے نہ کے مالک کی خوشنودی کی، جب معاملہ رسم و رواج کا ہو تو وہاں فرائض و دیگر احکام شریعت ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔

اللہ رب العزت ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Asad Saeed

Read More Articles by Mohammad Asad Saeed: 2 Articles with 1099 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 584

Comments

آپ کی رائے
Mohammad Asad Saeed:
bohat hi aham nukty ki tarf ap ni tawaja markuz karae ha . sub ki .or tahreer ache hay kafi . haqiqt hay ky ajj kal rasam ul riwaj intaha ky aham hochukay hain .jab kay jo haqiqt main faraz hain jin ki ,shayd mafi nhi koi dheel nhi ha.. us ki taraf hum logoun ki tawaja nhi ha bilqul bhi...ALLAH pak reham farmae ameen .or ase rasmoun se bachae jes rasam se hamry faraz main kohtae ho .ameen
By: shohaib haneef , karachi on Mar, 26 2018
Reply Reply
0 Like