راؤ انوار کی گرفتاری……نقیب اﷲ کو انصاف مل سکے گا؟

(عابد محمود عزام, Lahore)

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اﷲ محسود قتل کیس میں سابق ایس پی ملیر راؤ انوار کو 30 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ 30 روز کے طویل ریمانڈ کی وجہ سیکورٹی خدشات کو قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں شامل رکھنے کا حکم دیا ہے اور قتل کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی کو جلد کام مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ راؤ انوار نے کئی ماہ کی روپوشی کے بعد بدھ کے روز خود کو سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا، جہاں سے انہیں گرفتاری کے بعد کراچی پہنچایا گیا۔ اس سے قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت راؤ انوار کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔ عدالت نے راؤ انوار سے تفتیش کے لیے ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس آفتاب پٹھان کی سربراہی میں پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جبکہ عدالت نے راؤ انوار کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے۔ عدالت نے راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں برقرار رکھنے اور راؤ انوار کے منجمد بینک اکاؤنٹس کھولنے کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ ملیر کے سچل تھانے میں ایس ایس پی راؤ انور کے خلاف قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقتول نقیب اﷲ کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج ہے۔ نقیب اﷲ کے والد محمد خان محسود نے ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ 3 جنوری کو مبینہ طور پر راؤ انوار کے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ان کے بیٹے نقیب اﷲ کو اٹھا کر لے گئے، 17 جنوری کو ٹی وی اور اخبارات سے انھیں معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے کو راؤ انوار اور اس کے اہلکاروں نے جعلی مقابلے میں ہلاک کردیا۔

جب راؤ انوار کے ہاتھوں جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اﷲ محسود کی موت کی خبر آئی تو سوشل میڈیا پر پاکستان کے لاکھوں افراد راؤانوار کے ظلم کے خلاف متحد ہوگئے اور انصاف کا مطالبہ کرنے لگے، جو کہ آج تک سوشل میڈیا پر نقیب اﷲ محسود کے قاتل راؤ انوار کی سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پشون قبائل نے بھی کراچی اور اسلام آباد میں نقیب اﷲ محسود کے قتل کے خلاف دھرنے دیے اور نقیب اﷲ کو انصاف ملنے تک دھرنے ختم نہ کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا اور حکومت کو دھرنے کی انتظامیہ سے مذاکرات کرکے دھرنے ختم کروانا پڑے، جبکہ سپریم کورٹ پہلے ہی اس کیس کا نوٹس لے چکی تھی۔ سپریم کورٹ نے راؤ انوار کی گرفتاری کا حکم دیا تھا اور گرفتاری کے لیے ملک کے خفیہ اداروں کو بھی قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کی مدد کرنے کو کہا تھا۔ کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے نقیب اﷲ محسود کے والد نے کہا ہے کہ نقیب کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کرنے کے بعد پاکستان کی20 کروڑ عوام عورتوں بچوں اور بزرگوں سب نے ہمارا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے سپریم کورٹ میرے بے گناہ بیٹے کے قاتل کو منطقی انجام تک ضرور پہنچائے گی اور465 بے گناہ لوگ جو کہ راؤ انوار کے جعلی پولیس مقابلے میں جاں بحق ہوئے ان کو انصاف ملے گا۔ راؤ انوار کی گرفتاری پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ڈائریکٹ سابق ایس ایس پی ملیر کو سزا نہیں دے سکتی۔ راؤا نوار پیپلزپارٹی کے بہت قریبی ایس ایس پی سمجھے جاتے ہیں۔ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں اقتدار سنبھالا تو راؤ انوار نے دوبارہ کراچی کا رخ کیا۔ سہراب گوٹھ کے آس پاس میں مبینہ پولیس مقابلوں کا آغاز ہوا، جن میں ایس ایس پی راؤ انوار کی قیادت میں سیکڑوں افراد کو شدت پسند قرار دے کر قتل کیا گیا، تاہم اس مقابلوں میں پولیس کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔ راؤ انوار نے 2016 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ 150 سے زائد مقابلہ کرچکے ہیں، اگر انہیں ہٹایا نہیں گیا تو وہ اس میں اضافہ کریں گے۔ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کا خاص الخاص قرار دے چکے ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سینیٹر نہال ہاشمی نے بلدیاتی انتخابات میں الزام عائد کیا تھا کہ راؤ انوار نے ان کے لوگوں کو منحرف کرکے پیپلز پارٹی کے ضلعی چیئرمین کو ووٹ دلوائے ہیں۔ نقیب اﷲ قتل کیس چلنے کے بعد ہی آصف زرداری نے راؤ انوار کو بہادر بچہ قرار دیا تھا۔ پیپلزپارٹی رہنما خورشید شاہ کے بیان کو اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

راؤانوار عام ملزم نہیں ہے۔ سندھ ہائی کورٹ اور پولیس محکمے میں راؤ انوار کے خلاف لوگوں کو ہراساں کرکے زمینوں پر قبضے کرنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ایک سابق ایس پی نیاز کھوسو نے راؤ انوار کے خلاف ناجائز طریقے سے اثاثے بنانے اور بیرون ملک ملکیت منتقل کرنے کے الزام میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔ کراچی کے ایک معروف اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ راؤ انوار کراچی شہر میں اغوا برائے تاوان کا ایک بہت بڑا ریکٹ چلا رہا تھا اور اس نے ملیر کے علاقے میں تین فارم ہاؤسز میں ٹارچر سیلز قائم کر رکھے تھے، جبکہ بیگناہ شہریوں کو شہر کے مختلف علاقوں سے اٹھا کر ان ٹارچر سیلوں میں لایا جاتا اور ان کے اہل خانہ سے لاکھوں روپے تاوان وصول کیا جاتا۔ جن افراد کے اہل خانہ تاوان ادا نہ کر سکتے، ان کو جعلی پولیس مقابلوں میں دہشتگرد قرار دے کر ہلاک کر دیا جاتا۔

اب راؤانوار گرفتار ہوچکا ہے اور پورے ملک کی نظریں اس کیس پر ہیں، جو اس حوالے سے تشویش کا شکار ہیں کہ آیا راؤانوار کو سزا مل سکے گی یا ماضی میں بااثر مجرموں کی طرح اسے بھی باعزت بری کردیا جائے گا؟ عوامی حلقوں کو تشویش ہے کہ بااثر افراد راؤ انوار کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب تک کی کارروائی سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ راؤا نوار کو سزا ہونا مشکل ہے، کیونکہ راؤ انوار جس انداز میں فل پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش ہوا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اسے سزا کا کوئی خوف نہیں ہے۔ راؤ انوار کو 30دن کے جسمانی ریمانڈ کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے، حالانکہ اس کا تعلق خود پولیس سے ہے اور اسے بحیثیت مجرم ریمانڈ کے لیے کراچی میں ہی اپنے پیٹی بھائیوں کی تحویل میں دینا مذاق سے کم نہیں ہے، جو کسی طور بھی سزا نہیں دیں گے اور اگر نقیب اﷲ محسود قتل کیس میں راؤ انوار کے ساتھ رعایت برتی گئی اور اسے بری کردیا گیا تو یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے اور اس نظام اور قانون سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا، کیونکہ نقیب اﷲ محسود قتل کیس ایک طرف توسوشل میڈیا کی وجہ سے عوام میں بھرپور مقبولیت اختیار کرچکا ہے اور دوسری جانب اس کیس کی وجہ سے پشتون قبائل میں انتقامی جذبات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ذمہ داروں کو اس حوالے سے بہت غور و خوض سے کام لینا ہوگا اور ایک مجرم کو بچانے کے لیے پورے نظام کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417296 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Mar, 2018 Views: 266

Comments

آپ کی رائے