بے قراری سی بے قراری ہے (قسط نمبر ٢٠)

(گوہر شہوار, Karachi)
بے قراری سی بے قراری ایک سماجی رومانوی و روحانی ناول ہے جس کی کہانی بنیادی طور پر دو کرداروں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ عبیر جو ایک فیشن ڈیزائنر ہے اور اسلامی فیشن میں کچھ نیا کرنا چاہتی ہے۔ تیمور درانی جو ایک ملحد ہے جس کے خیال میں محبت اور زندگی بے معنی ہے۔

حصہ سوئم
یہ نہ تھی ہماری قسمت ….
تیمور درانی کی کہانی الف لیلا جیسی تھی۔ میں اس کی کہانی میں کھو گئی۔ ہر کردار کے ساتھ میرے جذبات میں بھونچال آتا۔ میں شروع میں عنبر سے نفرت کرتی رہی۔ پر اس کی خود کشی پر روپڑی۔
کہانی کے دوران میں کئی بار روئی اور کئی بار اپنے آنسو روکے۔ میرا دل بہت ہی نازک ہے۔ میں تو کسی جانور کی تکلیف بھی نہیں دیکھ سکتی۔ کئی بار سوچا: تیمور درانی سے کہوں کہ کہانی روک دے۔ مگر کہانی سننے کی چاہ نے مجھے روکے رکھا۔
میرے دل میں تیمور درانی کے بارے میں مکس سی فیلنگ آنے لگی۔ میں اس کی شخصیت کو اس کے کاموں سے دیکھوں یا اس کے ماضی کے الم ناک واقعات سے۔
مجھے اس سے شدید ہمدری محسوس ہوئی۔ مگراس کا خدا کو نہ ماننا مجھے بہت برا لگا۔ ایسا لگا جیسے کوئی ناپاک چیز میرے ساتھ بیٹھی ہوں۔
کہانی کے آخر میں بابا جی کی بتائی ہوئی بات مجھے یاد رہ گئی۔ یعنی تیمور درانی کو خدا کے راستے پر کوئی ایمان والی ہی لا سکتی ہے۔ مگر کون ایمان والی ہو گی جو اس کے دل میں سما جائے اور وہ لڑکی بھی اسے قبول کرے۔
اس جیسے شخص کو جانتے بھوجتے سچے دل سے پیار کرے گی۔
اللہ کرے اسے کوئی ایسی لڑکی مل جائے۔
مجھے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ پتا نہیں کتنے گھنٹوں سے صوفے پر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی۔ میرے سامنے پڑے کپ کی تہہ میں موجود کافی جم چکی تھی۔ لائبریری کی فضا میں ٹھنڈک مزید بڑھ گئی۔ مدھم سی لائٹوں میں لائبریری کی فضا مزید اداس ہو گئی۔
تیمور صاحب۔ آئی مین تیمور مجھے تمھاری کہانی سن کر بہت افسوس ہوا ہے۔
مجھے سمجھ نہ آئی کہ میں اور کیا کہوں۔
اس کے چہرے پر ایک ناپسندیدگی کی لہر اٹھی۔ میں نے یہ کہانی اس لیے نہیں سنائی کہ تم میرے ساتھ ہمدردی کرو۔
مجھے کسی کی ہمدردی نہیں چاہیے۔ اس نے خشک لہجے میں کہا۔
میں نے تمھارے تجسس کو ختم کرنے کے لیے تمھیں اپنے بارے میں بتا دیا۔ یہ ساری باتیں کوئی ایسا راز بھی نہیں ہیں۔ مگربہتر ہےم کہ تم کسی سے ان کا ذکر مت کرنا۔
میں اپنے صوفے پر سمٹ سی گئی۔ اس شخص کا کوئی بھروسہ بھی نہیں، جانے کب نقصان پہنچا دے۔
عبیر! میں نے تمھارے لیے اپنی ذات سے نقاب اتار دیا ہے۔ اب تمھاری باری ہے۔
میری باری؟ یہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ میں اپنے ذہن میں برے برے وسوسے اٹھنے لگے۔
تیمور۔ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے تشویش زدہ لہجے میں کہا۔
میری پریشانی دیکھ کر وہ تھوڑا محظوظ ہوا۔ مجھے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔
یہ شخص کیا کرنے والا ہے؟ اگر اس نے کوئی زور زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں کیسے خود کو بچاؤں گی۔
میرے ساتھ آؤ! یہ کہہ کر وہ اٹھ پڑا اور مجھے بھی صوفے سے اٹھنا پڑا۔
بیٹھے بیٹھے میری ٹانگیں سن سی ہو گئی۔
تیمور درانی اٹھ کر لائبریری کے ایک کونے میں گیا۔ اس کے ہاتھ کے ایک دھکے سے وہ جگہ کسی ریوالونگ ڈور کی طرح گھوم گئی۔ پیچھے ایک کمرہ دکھائی دیا۔
اچھا تو تیمور درانی نے ایک خفیہ کمرہ بھی بنا رکھا ہے۔ حیرت ہے اس لائبریری کی ڈیزائننگ کے دوران مجھے اس کا بالکل بھی پتا نہیں چلا۔ مجھے اس خفیہ کمرے کے بارے میں خوف آنے لگا۔ نہ جانے اس میں کیا ہو گا۔
میرے پاس چوائس ہی کیا تھی؟۔ میں بھاری قدموں سے اس کمرے میں داخل ہوئی، ہر قدم میرے دل کی دھڑکن بڑھادیتا۔
میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تیمور درانی نے دروازہ بند کر دیا۔ میری پریشانی مزید بڑھ گئی۔
کمرہ کشادہ اور ہوا دار تھا۔ حالانہ اس میں کوئی کھڑکی یا روشن دان دکھائی نہیں دی۔ کمرے کی فضا میں بہت بھینی بھینی خوشبو پھیلی تھی بالکل ہلکی بارش کے بعد گیلی مٹی کی خوشبو جیسی۔ کمرے میں فرش سمیت سار اکام خوبصورت لکڑی کا تھا۔ اس کمرے میں کونے میں بیڈ کے علاوہ کوئی فرنیچر نظر نہ آیا۔
مجھے اس کمرے میں ہونے والے کاموں کا سوچ کر ہی شرم آ گئی۔
میں یہاں کیا کر رہی ہوں؟
اگر یہ مجھے یہاں بند کر کے۔۔ کچھ بھی کر دے؟ میری امی اور بہنیں مجھے کہاں ڈھونڈیں گی۔
دیواروں پر پینٹنگز بھی بڑی خوفناک تھیں۔ ہر پینٹنگ میں لوگوں پر مختلف انداز سے تشدد ہوتے دکھایا گیا تھا۔ میں تو یہ سب دیکھ کر بہت ڈر گئی۔
جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ ڈرایا وہ سامنے دیوار کے ساتھ لمبی لوہے کی چینز اور ہتھکڑیاں تھیں۔ ساتھ والی دیوار پر مختلف ایسی چیزیں لٹکی نظر آئیں۔ جن کے نام تو کیا شکلیں بھی پہلی بار دیکھی ہے۔ صرف ایک کوڑے جیسے چیز کو میں پہچان پائی۔ باقی چیزیں بھی شاید اسی کیٹیگری کی ہیں۔
اس کمرے میں ایسا کیا ہوتا ہے؟
کچھ ہی لمحوں میں حقیقت مجھ پر واضح ہو گئی۔
میری کمر میں سرد لہر دوڑ گئی اور ذہن سائیں سائیں کرنے لگا۔
یہ۔ یہ سب کیا ہے تیمور؟ میں نے ڈرے ڈرے انداز سے پوچھا۔
وہ ہلکے سے طنزیہ لہجے میں بولا۔
یہ چینز اور ہتھکڑیاں ہیں جن سے باندھا جاتا ہے، یہ سامنے موجود سامان اسی لیے ہے کہ ہتھکڑی میں بندھے ہوئے کو ان سے مارا جائے۔ وہ کونے میں فرسٹ ایڈ باکس اس لیے ہے کہ اگر چوٹ شدید لگ جائے تو مرہم پٹی کی جا سکے۔
میرے تو پیروں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی۔ یعنی میرے بدترین خدشات درست تھے۔
ایک بھیڑیے مجھے گھیر کر اپنی کچھار تک لے آیا تھا۔ اتنے دن سے یہ سب ایک پلان کا حصہ تھا۔ میں اتنی بے وقوف ہوں کہ خود بخود جال میں پھنستی چلی گئی۔
اب یہ مجھے باندھ کر۔ ۔ ۔ اف میرے خدا ! میں کہاں پھنس گئی ہوں۔ میں نے بھاگنے کے لیے دروازے کی طرف دیکھا مگر آٹو میٹک دروازہ میرا منہ چڑانے لگا۔ میرا گلا خشک ہو گیا۔ میں نے دل ہی دل میں آیت الکرسی پڑھنا شروع کی۔ یا اللہ مجھے بچائیں۔
میں نے اپنے خوف پر تھوڑا سا قابو پاتے ہوئے۔ ۔ ۔ سہمے سے انداز میں پوچھا۔ تیمور ! تم مجھے یہ سب کیوں دکھا رہے ہو؟
دیکھو۔۔ تم۔ تم نے ایگریمنٹ کیا تھا: کوئی ایسا ویسا کام نہیں کرواؤ گے۔ آخر میں میری آواز روہانسی ہو گئی۔
کیا میں تمھیں ایسا شخص لگتا ہوں جو کسی اصول کو مانتا ہو؟ اس کے لہجے میں سفاکی در آئی۔
میں سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ یہ شخص تو واقعی سائیکوپاتھ ہے۔
میں نے ایک فلم دیکھی تھی جس میں ایک سائیکوپاتھ لڑکیوں کو اغوا کر کے قید کرتا ہے۔ یہ تمام لڑکیاں کمسن اور معصوم ہوتیں۔ وہ شخص ان کی بے بسی اور بیچارگی دیکھ کر لطف اندوز ہوتا ہے۔ ان کی منتیں اور رونا دیکھ کر اسے سکون ملتا ہے۔ وہ لڑکیوں کو دھیرے دھیرے ذہنی اور جسمانی ٹارچر سے گزارتا۔ لڑکیاں خود کشی کی کوشش بھی کرتیں۔ پر کامیاب نہ ہوتیں۔ آخر میں وہ انھیں بھیانک طریقے سے مار دیتا۔ کیا میرا انجام بھی ایسا ہی ہو گا؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی کوڑے کو ہلکے سے انداز سے مارا۔ ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ کوڑا جیسے ہی اس کے جسم سے ٹچ ہوا ایک سسکی سنائی دی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا سرور دکھا۔ عجیب شخص ہے جو تکلیف کو بھی انجوائے کر رہا ہے۔
میرا ڈر اس وقت حیرت میں بدل گیا جب تیمور درانی نے بتایا، یہ ہتھکڑیاں اور کوڑے مجھے باندھ کر تشدد کرنے کے لیے نہیں۔ بلکہ وہ چاہتا تھا میں عنبر کی طرح اسے باندھ کر اس کے اوپر تشدد کروں۔
میں بات کو سمجھ نہ سکی۔ اس نے سمجھانا بھی مناسب نہ سمجھا۔
یہ کہتے ہی اس نے اپنی شرٹ اتاردی۔ میں نے شرم سے نظریں جھکا لیں۔ یہ شخص کتنا بے شرم ہے۔
وہ میرے سامنے صرف پینٹ میں میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔
میں نے جھجکتے جھجکتے اس کی طرف ایک نگاہ ڈالی تو چونک گئی۔ اس کے جسم پر بے تحاشا زخموں کے نشان تھے، جیسے بہت زیادہ تشدد کیا گیا ہو۔ اس کی مضبوط مسلز دیکھ کر یہی لگتا کہ ریگولر ہارڈ ایکسرسائز کرتا ہے۔
میں کچھ لمحوں سے زیادہ اس کے جسم کو نہ دیکھ سکی اور شرم سے اپنی نظریں پھیر لیں۔
عبیر تم کیا کر رہی ہو؟ ایک غیر محرم بندے کے ساتھ، اکیلے اس حالت میں؟ فوراً یہاں سے نکل پڑو۔
میں ایسا نہ کر سکی۔ میرے تجسس نے مجھے ایک بہت ہی غیر اخلاقی صورتحال میں ڈال دیا تھا۔
میں نے اپنی شرمندگی، کنفیوژن اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے ان زخموں کے بارے میں پوچھا۔
تیمور یہ زخم کیسے ہیں؟تم کیوں چاہتے ہو میں تمھارے اوپر تشدد کروں۔
وہ میری بات کا جواب دیے بغیر اس نے کوڑا میرے ہاتھ میں پکڑایا اور اپنے آپ کو ہتھکڑیوں کے ساتھ باندھ کر بیٹھ گیا۔
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
عبیر اب یہ زخم ہی مجھے کچھ سکون دیتے ہیں۔ میں انھی زخموں کو تازہ رکھ کر خود کو انسان ہونے کا یقین دلاتا رہتا ہوں۔
یاد ہے ! میں نے تمھیں کہا تھا کہ کسی بھی طرح کا پلیژر ہو انسان بہت جلد اکتا جاتا ہے۔ پھر اسے کسی اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے بھی طاقت اور کامیابی کے نشے میں ہر چیز کی انتہا کو چھوا۔ مگر کچھ عرصہ بعد ہر چیز بے ذائقہ ہو گئی۔ مجھے درد اور غم کی کمی چھبنے لگی۔ میں جتنا طاقت ور ہوتا گیا میرے اندر ایک عجیب خواہشیں اٹھنے لگیں۔
کوئی مجھے اسی طرح بے عزت کرے جیسے مجھے مدرسے اور چچا کے گھر میں کیا جاتا تھا۔
جب مجھے لڑکیاں رشک اور محبت سے دیکھتیں، تو میرے اندر یہ خواہش اٹھتی: کوئی لڑکی ہو جو عنبر کی طرح مجھے حقارت سے مارے۔
مجھے نہیں معلوم میرے اندر یہ خواہشیں کیوں اٹھنا شروع ہوئیں۔ نفسیات اس بارے میں کچھ کہتی ہے مگر مجھے اس کو جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
مجھے اس کام کے لیے خاص طرح کی لڑکیاں چاہیے ہوتی ہیں۔ ایسی لڑکیاں جو اندر سے خالی نہ ہوں۔ جن کی شخصیت ادھوری نہ ہو، جن کی موجودگی میرے اندر کچھ احساسات جگائے۔ جو مجھے رو بوٹ سے دوبارہ انسان بنادے۔
میں ایسی لڑکیوں سے محبت نہیں نفرت چاہیے ہوتی ہے۔ میں چاہتا ہوں یہ مجھے ماریں اور میری تذلیل کریں۔ یہ میرے جسم اور دل پر زخم لگائیں۔ یہ میرے پرانے زخموں کو بھرنے نہ دیں۔
یا اللہ تیرے کام نرالے ہیں۔ جو تجھے چھوڑتا ہے، تواسے کیسے کیسے امتحانات میں ڈالتا ہے۔
یہ شخص دنیا کے سارے سکون اور عزت چھوڑ کر چاہتا ہے، اس کو دکھ اور ذلت دی جائے۔ اسے سمجھ کیوں نہیں آتی؟ یہ بھی خدا کی طرف سے ایک سزا ہے۔
تیمور تو کیا تم اسی لیے لڑکیوں کے اندر کبوتریاں، مورنیاں اور شیرنیاں تلاش کرتے ہو؟
ہاں ! ایسی لڑکیاں جو پلاسٹک کی گڑیاں نہ ہوں۔ ایسی گڑیاں جن کے اندر کچھ نہیں ہے۔ بس باہر سے ہی سجی سنوری رہتی ہیں۔
تو تم اپنے اس کھیل کے لیے لڑکیوں کو مینوپلیٹ بھی کرتے ہو؟
ہاں کسی حد تک۔۔
میں ان کے ساتھ زور زبردستی نہیں کرتا اوراس کام میں ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔
میں چاہتا ہوں وہ یہ کام اپنی مرضی سے کریں ورنہ اس کام میں کوئی مزہ نہیں ہے۔
لڑکیاں اپنی مرضی سے ایسا کرنے پر کیوں تیار ہو جاتی ہیں۔
شاید ایک طاقت ور شخص کو یوں مارنے، دبانے اور ذلیل کرنے میں انھیں بھی مزہ آنے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں طاقت کا یہ احساس انھیں ساری زندگی نہیں مل سکتا۔ اوپر سے انھیں اس کام کے اچھے خاصے پیسے بھی ملتے ہیں۔
مجھے تیمور درانی پہلے سے بھی زیادہ عجیب لگا۔
تیمور میں تمھارے اس کھیل میں شامل نہیں ہونا چاہتی۔
اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ عبیر تمھارے پاس کچھ گھنٹے پہلے یہ چوائس تھی۔ اب نہیں ہے۔
میرے گلے میں کوئی چیز اٹک گئی، یہ میں کیا کربیٹھی ہوں؟
میں پھر بھی اصرار کروں گی۔ پلیز۔۔ تم مجھے اس کھیل میں مت گھسیٹو، مجھے یہ سوچنا بھی عجیب لگ رہا ہے۔
میں بے وجہ ایک انسان پر تشدد کیسے کر سکتی ہوں؟
عبیر ہم نہیں جانتے، کل ہمارے محسوسات کیا ہوں گے۔ مختلف حالات ہمارے اندر مختلف جذبات جگاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے تم اس کام کو باقی لڑکیوں کی طرح انجوائے کرنا شروع کر دو۔
نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
میں تو ایک بلی کی تکلیف نہیں دیکھ سکتی۔ ایک جیتا جاگتا انسان کو دور کی بات ہے۔
ایسا کرنے والے بیمار ذہن کے لوگ ہوتے ہیں۔
عبیر! اپنے محسوسات پر اتنا اعتبار نہ کرو۔
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم
تم ایک بار یہ تجربہ کر کے تو دیکھو تمھارے محسوسات تبدیل ہو جائیں گے۔
میرے بہت کنفیوز ہو گئی۔ کیا کروں، اسے کس طرح منع کروں؟
اسی دوران اس نے پھر کہا کہ اٹھاؤ کوڑا اور مارنا شروع کرو۔
میں بھی کیا کرتی۔ مجبوراً چمڑے کا کوڑا ٹھایا اور بھاری قدموں سے اس کے قریب گئی۔
یوں لگا میں اپنے خواب کو کی تعبیر دیکھ رہی ہوں۔ ایک بھیڑیا، میرے سامنے بندھا ہے۔ اور میں اسے کوڑے سے مارنے جا رہی ہوں۔ کتنی عجیب بات ہے۔ پر مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا۔
اس کے چہرے پر پہلی بار مجھے جذبات کی لہر نظر آئی۔ جیسے وہ اندر سے ایکسائیٹڈ ہو۔
میں نے بہت مجبوری اور بے دلی سے کوڑا مارا۔ ہلکی سی آواز کے ساتھ کوڑا جیسے ہی اس کی نشانات کے بھری کمر پر پڑا تو لگا جیسے یہ کوڑا میرے جسم پر پڑا ہے۔
اس نے ہلکی سی سسکی لی۔
زور سے مارو۔۔ اس نے سرور بھرے لہجے میں کہا۔
ذہنی توازن بگڑنے کی بھی حد ہے۔
میں نے اس بار ذرا زور سے مارا کوڑا مارا۔ اس کے درد کا سوچتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ مگر اسے تو جیسے یہ تکلیف اچھی لگ رہی تھی۔ اگرچہ میں اپنی طرف سے آہستہ ہی مار تی، پھر بھی اس کی کمر پر لال نشان پڑ جاتے۔
ہر بار وہ اور زور سے مارنے کا کہتا۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔
دس منٹ بعد اس کی کمر پر ہلکے ہلکے زخم دیکھ کر میں ہانپتے ہوئے رک گئی۔ وہ آنکھیں بند کیے سرور کی کیفیت میں بیٹھا رہا۔
اس نے مجھے ہتھکڑیاں کھولنے اور فرسٹ ایڈ کا سامان لانے کا کہا۔ اس کے زخموں پر کریم لگاتے ہوئے مجھے بہت عجیب لگا۔ زخم پر جیسے ہی ٹھنڈی کریم لگتی تو وہ ہل سا جاتا۔
تھوڑی دیر کے بعد ہم دوبارہ لائبریری میں آ کر بیٹھ گئے۔ میری گھٹن کچھ کم ہوئی۔ تیمور درانی کی حالت سے معلوم ہوتا جیسے نشہ کر کے آیا ہو۔ کچھ ہی دیر میں وہ دوبارہ نارمل ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ البتہ چہرے پر تازگی تھی۔ اس نے مجھ سے مزید کوئی بات نہیں کی۔ میں جلدی جلدی گھر سے باہر نکل آئی۔
شام ہو گئی، اور چڑیاں اپنے گھونسلوں کو جا رہی تھیں۔
سارا راستہ میں یہی سوچتی رہی: یہ میں کیا کر کے آ رہی ہوں۔
شگفتہ نے بھی پوچھنے کی کوشش کی۔ میں نے کام کی پریشانی کا بہانہ بنا کر ٹال دیا۔ اپنی پسند کے دال چاول بھی تھوڑے سے کھائے۔ میں کس جال میں پھنس گئی ہوں؟
تیمور درانی میری زندگی کو غیر محسوس انداز سے کنٹرول کر رہا تھا۔ اس کی کمپنی کی جاب سے میرا اور میرے گھر والوں کا مستقبل وابستہ تھا۔ اسی نوکری کی خاطر میں ایکسٹرا فیور والی بات بھی مان چکی تھی۔ وہ بہانے بہانے سے مجھے اپنے گھر بلاتا ہے اور عجیب عجیب سے کام کرنے کو کہتا ہے۔ میں اسے انکار بھی نہیں کر سکتی۔
کیا مصیبت ہے۔ کاش کاشف جلدی سے آ جائے اور میں یہ نوکری چھوڑ کر اپنا گھر بساؤں۔
میرے گھر سے جانے کے بعد امی اور شگفتہ کا کیا بنے گا؟
کیا کاشف ان کی دیکھ بھال اور کفالت کا ذمہ اٹھائے گا؟
اگر وہ مجھے اپنے ساتھ امریکہ لے گیا تو میں کروں گی۔ انھی سوچوں کے ساتھ میں نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
امی پریشان تھیں کہ میرے سسرال والے اتنے لاتعلق کیوں ہو گئے ہیں۔ نہ ان کا کوئی فون آتا ہے۔ نہ عید شب برات پر کوئی تحفہ۔ یہ سب کوئی خاندانی باتیں تو نہ ہوئیں۔ جب امی ان کے ہاں جاتیں، تو گھر کی عورتیں بھی روکھے روکھے انداز سے ملتیں۔
شمائلہ تو بالکل ہی اجنبیوں ہو گئی۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے نکل جاتی۔
کہیں یہ لوگ منگنی توڑنے کے چکر میں تو نہیں؟
امی کہتیں، میرے سسرال والے لوگوں کی باتوں میں آ گئے ہیں۔ ڈاکے والی رات کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ لوگوں کو تو مرچ مصالہ لگا کر بات کرنے کا شوق ہے۔
مجھے کاشف پر اور اپنی محبت پر پورا اعتماد تھا۔ وہ جب واپس آئے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
کاشف سے اب دنوں کے بعد بات ہوتی۔ اس کی آواز میرے کانوں میں رس گھولتی۔ وہ میری باتیں سننے سے زیادہ بزنس سے متعلق باتیں کرتا۔ اس کی باتوں میں بس امریکہ میں سیٹل ہونا ہوتا۔
فیس بک پر اس کی اپنے نئے کولیگز کے ساتھ تصویریں ہوتیں۔ جہاں وہ کبھی ہائیکنگ کر رہا ہوتا، تو کبھی بنجی جمپنگ۔ ایڈونچر کا تو وہ ویسے ہی شوقین تھا۔ اس کی تصویروں پر کمنٹ کرنے والی لڑکیاں مجھے زہر لگتیں۔
بھلا تمھارا کیا کام ہے کسی کے ہونے والے شوہر سے اتنا فری ہونے کا؟
یہ کاشف بھی عجیب ہے ابھی تک اپنا ریلیشن شپ سٹیٹس تبدیل نہیں کیا۔
ان مردوں کو بھی کام کی باتوں کا خیال ہی نہیں رہتا۔
کئی بار سوچا اسے کہہ دوں۔ پربات چیت کے دوران ہمیشہ بھول جاتی۔ بھلا مذاق میں ایسی بات کہہ دینے میں کیا حرج ہے۔
میں اس کی فیس بک وال پر زیادہ لگاؤ نہیں دکھاتی۔ پتا نہیں لوگ کیا سوچیں گے۔
اس کی فرینڈ لسٹ میں شامل لڑکیوں بڑی بے حیا تھیں۔ ایسے ایسے کمنٹس کرتی ہیں جیسے کاشف ان کا بوائے فرینڈ ہو۔ یہاں ایسے لوگوں کے لیے ان لائیک کا آپشن بھی ہونا چاہیے۔
کاشف جب امریکہ سیٹل ہونے کی بات کرتا تو میں بھی کچھ دیر کے لیے خوابوں میں کھوجاتی۔ ایک نیا ملک اور ایک نئی زندگی نہ جانے کیسی ہو گی؟ میں وہاں کیسے ایڈجسٹ کروں گی؟ ہمارے خاندان میں آج تک کوئی لڑکی ایسے باہر نہیں گئی۔ میں تو کبھی کراچی سے باہر نہیں گئی۔ ملک سے باہر تو دور کی بات ہے۔ البتہ شگفتہ کے پلان کچھ عجیب تھے۔ وہ باہر سے ڈگری لینے اور جاب کرنے کی بات کرتی رہتی۔ شاید وہ کر بھی سکتی تھی۔ میرے اندر تو اتنی ہمت نہیں تھی۔
آفس میں ہمارے کام میں بہت تیزی آ گئی۔ صبح سے شام تک سر کھجانے کی فرصت نہ ملتی۔ مجھے اس کام میں مزا بھی خوب آتا۔ تخلیق سے زیادہ مزے کی چیز کوئی نہیں۔ میرے ارد گرد رنگ ہی رنگ ہوتے اور میں رنگوں میں ڈوب جاتی۔
میرے آفس میں لٹکتی امپریشنسٹ پینٹگز مجھے کچھ بڑا کام کرنے پر اکساتیں۔ ایک آرٹسٹ کیسے رنگوں سے دنیا کو مختلف طریقے سے دکھا دیتا ہے۔ آپ گھنٹوں ان تصویروں کو دیکھتے رہیں دل نہیں بھرتا۔ آپ جتنا غور سے دیکھیں، اتنی زیادہ باریکیاں نظر آتی ہیں۔ میرے نزدیک پینٹنگز زندگی کی خالص خوبصورتی کو دکھاتی ہیں۔
ایکسپریس کرنے کی تمنا بھی عجیب ہے۔ سب سے پرانی پینٹگز تیس چالیس ہزار سال پرانی ہیں۔ جنھیں غاروں میں رہنے والے انسانوں نے بنایا۔ اتنے سخت حالات میں بھی انسان کو اگر پینٹگ کا خیال آ سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے: انسان میں اظہار کی تمنا بہت شدید ہے۔
آرٹ ہمیشہ اپنی مٹی اور تہذیب سے جڑا ہوتا ہے۔ خوبصورتی کو ڈھونڈنے اور ایکسپریس کرنے کی تمنا تو تمام انسانوں میں ہے مگر بیوٹی کے پیمانے ہر قوم اور ہر دور میں مختلف رہے ہیں۔ انسانی جبلت تو ایک ہی رہی ہے مگر اس کے مظاہر بدلتے رہتے ہیں۔
مغربی لباس کی خوبصورتی مشرقی معاشروں میں مقبول نہیں ہو سکتی۔ ہمارے ہاں جینز بہت ہی دھیرے دھیرے آئی۔ وہ بھی شہروں میں۔ سکرٹ اور فراکس کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ہماری شرٹس کی لمبائی کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ دوپٹے بڑے چھوٹے ہو جاتے ہیں، شلواروں کے پائنچے کھلے اور تنگ ہو جاتے ہیں۔ کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔ ہمارے سب سے مقبول لباس اب بھی روایتی ہی ہیں۔
حیا ہماری اسلامی تہذیب کا بنیادی جزو ہے۔ البتہ اس کے مظاہر ہر دور میں بدلتے ہیں۔ میں یہ مانتی ہوں کہ حیا آنکھ میں ہی ہوتی ہے مگر انسان کی نیت اور خیالات کو ٹھوس مادی اظہار بھی چاہیے ہوتا ہے۔ ورنہ ذہن کی بات ذہن میں ہی رہ جاتی ہے۔
اسی لیے پردہ ایک اہم چیز ہے۔ ہماری بڑی بوڑھیاں پالکیوں میں جاتی تھیں۔ میری امی کبھی برقع اور کبھی لمبی سی چادر سے خود کو ڈھانپتی ہیں۔ ہمارے دور تک آتے آتے بہت خوبصورت عبائے، سکارف اور نقاب آ گئے ہیں۔ اصل مقصد پردہ کرنا ہے وہ خوبصورت انداز سے ہو تو سونے پہ سہاگا۔
آج کے دور میں عبایہ، سکارف اور نقاب مسلم خواتین کی پہچان بن چکا ہے۔ یہ کسی مذہبی جبر یا کمزوری کا نتیجہ نہیں۔ بلکہ ایک طاقت کے اظہار کے طور پر ابھرا ہے۔ اب ساری دنیا کی مسلم خواتین ایک دوسرے کو دیکھتی اور فالو کرتی ہیں۔ ترکی اور مصر میں رہنے والی لڑکیاں اس بات سے بے خبر نہیں ہو سکتیں کہ پاکستانی لڑکیاں کیا پہن رہی ہیں۔۔ ٹیکنالوجی کی وجہ سے مسلم فیشن کسی ایک ملک تک محدود ہو کر نہیں رہ سکتا۔ حجاب مسلم خواتین میں ایک پہچان کے طور پر مزید مقبول ہو گا۔
ایلف کہتیں، فیشن کبھی بھی اپنی تہذیب سے کٹا ہوا نہیں ہو سکتا۔ ہم مغربی فیشن انڈیسٹری سے بہت متاثر ہو سکتے ہیں، مگر یہ متاثر ہونا ہمارے کسی کام نہیں آتا۔ ہم جب بھی ان کے جیسا کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اسے کاپی پیسٹ، ان اوریجینل، اور سب سٹینڈرڈ کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ تہذیبی ہے۔ وہ ہمیں سیاسی اور معاشی شکست کے بعد تہذیبی شکست بھی دینا چاہتے ہیں۔ ہم جب تک اس بات کا ادراک نہیں کریں گے آگے نہیں بڑھ سکتے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: گوہر شہوار

Read More Articles by گوہر شہوار: 23 Articles with 14439 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Apr, 2018 Views: 552

Comments

آپ کی رائے