ہوں کیوں اپنے ہی ملک میں شہری خوار

(Syed Maqsood Hashmi, )

"اﷲ کریم نے فرمایا مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں"پھر فرمایا مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں ایک حصہ میں تکلیف ہو تو پورے بدن میں محسوس ہوتی ہے۔لیکن آج 74 سال گذر جانے کے بعد بھی ہر مخکمہ میں میر جعفر میر صادق بے ایمان بے دین لوگو ں کا ہی کنٹرول ہے کچھ نیک لوگ بھی ہیں لیکن انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے میری یہ کوشش ہوتی ہے کے قارئین کواصل حقیقت سے اگاہ کرتا رہوں-

انسان زندگی میں اپنا ایمان خراب کرکے زن دولت کے پیچھے بھاگتابھاگتا آخر کار قبر میں چلاجاتا ہے اور وہ دیناوی دولت کے حصول کے لئیے ناجائز ذرائع اپناتا ہے۔ نادرا شناختی کارڈ بنانے والا ادارہ ہے جہاں ہر دوسرا شخص انکے ترش رویہ سے نالاں ہے۔ اب اصل مضمون کی طرف چلتے ہیں میرے شناختی کارڈ میں والدہ کا نام غلط لکھا گیا سات ما ہ سے نادرا دفتر کے چکر لگا لگا کر تنگ آگیاہوں پہلے مغلپورہ آفس میں خوار ہوا اسکے بعد ہربنس پورہ آفس میں اسکے بعد کوپ سٹور نادرا آفس یہ سب برانچ ختم کردی گئی اب شملہ پہاڑی میں 6 مرتبہ کیمرے کے سامنے ہو کر ہر چیز مکمل کرائی فیس بھی جمع ہوگئی لیکن بعد میں معذرت کرکے کینسل کردیاجاتابڑے افسر کے پاس گیا کے آخر اتنی تاخیر کیوں ہورہی ہے اس نے بتایا کے آپ کو روٹی ہضم نہ ہوتو یہ بھی نادرا آفس کا قصور ہے۔ دوسرے آفسر کے پاس گیا جو لیڈی تھی میں نے کہا آپ کے محکمہ نے میری والدہ کا نام غلط لکھ دیا ریکاڈ میں سات ما ہ سے زلیل ہورہاہوں اس نے سنی ان سنی کردی۔آج تک میں اپناشناختی کارڈ ر ینو (Renew)نہیں کراسکا۔کئی مرتبہ انفارمیشن کاوئٹر سے پہلے ہی سب کچھ بتادیتا تاکہ ٹائم کی بچت جائے تمام کاغذات دیکھاکر کہ میری والدہ کا نام غلط لکھا گیاہے ۔گھنٹے دو گھنٹے کبھی کبھی چار گھنٹے ضائع ہوجاتے لیکن رزلٹ زیرو ہوتا۔

اب معلوم ہوا کہ جب سوچ پست ہوجائے توقومیں تباہ برباد ہوجاتی ہیں یعنی جس کام کے لئے یہ کرسی پر بیٹھا ہے اس سے سہی طرح انصاف نہیں کر رہا تو رزق حرام ہو جاتاہے۔ عوام کی خون پسنیے کی کمائی سے ہر سرکاری ادارہ چلتاہے ۔مایوسی کے عالم میں کیونکہ میر ا ریکاڈ سکول ، کالج ، یونیوسٹی ۔ پاسپورٹ آفس بجلی کے بل ، پانی کے گیس کے بل وو ٹر لسٹ کے ریکار ڑ ڈرا ئیونگ لائیسنس پر بھی مل سکتاہے۔ ہسپتال سے دوائی کے حصول کے لئے شناختی کارڈ درکارہے دوائی نہیں ملتی اسکی کہانی چھیڑوں تو ایک کرپشن کی ایک الگ کتاب لکھنی پڑے گی۔ کیونکہ یہاں مخلوط سسٹم ہے اس لئے آپ یہاں صبح کے وقت بھونڈی بھی نظر آئیگی جواکثر نادراکے ملازمین آپس میں کررہے ہوتے ہیں دفتر کے اندر اور موٹر سائیکل سٹینڈ پر اکژ لوگوں کو کہتے سناکے بھائی رشوت دو جیب گرم کرو ابھی آپ کا کام ہوجائے گا ۔125سال سے لاہور میں رہ رہے ہیں اسکا مکمل ثبوت بھی دیا۔ کرپشن95% ہے صرف 05%فیصدمیرٹ پر کام ہورہاہے۔

سٹام پیپر پر حلف نامہ لکھ کر اپنے علاقے کے چیرمین سے پاس کراکر عدالت ہذا کی مہر لگواکر بھائی کا شناختی کارڈ ۔ بہن کاشناختی کارڈ، والدمرحوم کا اور والد ہ مرحومہ کا شناختی کارڑ ساتھ نتھی کئے اور بہن بھائی پیش ہوئے نادرا کے دفتر انٹرویوز ہوئے سب کے ۔ پھر ٹریکنگ نمبر ایشو ہو گیا کہ 45دن میں کارڈ مل جائے گا 40دن بعد میں نے نادرا مین آفس اسلام آباد کی مسیج سروس سے تفصیل جانی تو معلوم ہوا کے یہاں تو درخوست ہی نہیں پہنچی پھر نادرا آفس گیا انفرمیشن کاوئٹر نے کارڈ وصو لی کاوئٹرپر ریفر کیا وہاں جمعہ کے بعد : 3بجکر05 منٹ پر کام سٹارٹ نہیں ہو ا اتھا مورخہ 30-03-2018 ٹوکن نمبر 2411ابھی چلناتھا لیکن ایک شخص پتلادبلا شناختی کارڈ وصو لی سیکشن میں آیا وہ کسی کا شناختی کارڈ لینے آیا تھا لیکن اس کو نا م یاد نہیں آرہا تھانادرا آفیسر نے پوچھا کس کاکارڈ لینا ہے ہم کسی کو کسی دوسرے شخص کا کارڈ نہیں دے سکتے لیکن وہ نام صیح نہ بتاسکا اس شخص نے جیب سے فون نکالا اور اس آفسر سے بات کرادی اس نے جھٹ کارڈ والا لفافہ اسکے ہاتھ میں دے دیا ۔ یہی حال اندر تمام کاؤنٹر کا ہے واقفیت ہے تو مسئلہ کوئی نہیں۔ صورتِ حال پر روناکیوں آرہاہے کہ لاہور میں بم بلاسٹ ہوا مال روڈ پر جس میں کئی پولیس آفیسر بھی شہید ہوئے آخر اسکا شناختی کارڈ کیسے بنا دہشت گرد ایک کرائے کے مکان میں رہتاتھا پولیس میں کرایہ نامہ بھی جمع ہوگا انکی جانچ پڑتال کیوں نہ ہوئی وہ کس طرح ایک شہر سے سفر کرکے لاہور آیا کیونکہ لونگ روڑ میں شناختی کارڈ کے بغیر ٹکٹ نہیں ملتا ہر محمکہ ایک غلیظ گٹر بن چکاہے جہاں سوائے رشوت کے کوئی کام نہیں ہوتا۔کئی بابے جوکہ سینئرسیٹزن یعنی 60سال سے زیادہ عمر کے آ تے ہیں گالیاں بکتے اور برا بھلاکہتے میں نے خود سنا ۔یہ سب سوالیہ نشانیاں ا ور لا پراہیاں ایک دن اﷲ کی طرف سے ہماری پکڑ کا باعث نہ بن جائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood Hashmi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2018 Views: 449

Comments

آپ کی رائے