مسلمانوں کی بربادی کا ذمہ دار کون؟

(Farrukh Abidi, )

یہ ہمارے نفس و شیطان کا اور آج کے دور کا سب سے بڑا دھوکہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو جھوٹی تسلی دینے کے لیئے یہ کہتے اور سمجھتے ہیں کہ آج کے مسلمان فرقہ پرستی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو رہے ہیں حالانکہ اگر ہم ایمانداری سے اپنے حالات کا جائزہ لیں تو صاف پتہ چلیگا کہ یہ فرقہ پرستی نہیں بلکہ یہ ہمارے اپنے ایسے بدترین گناہوں کا نتیجہ ہے جن میں ہم سوفیصد اپنے ہی اختیار سے مبتلا ہیں جن میں ہمیں فرقہ پرستی نے ذرہ برابر بھی مجبور کیا ہے بلکہ ان گناہوں کا فرقہ واریت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے، اوراگربالفرضِ محال کوئی گمراہ فرقہ ان گناہوں کو جائز بھی بتاتا ہو تو بھی جو ان گناہوں میں مبتلا ہیں انکا تعلق اس فرقے سے نہیں ہوگا لیکن پھر بھی وہ ان میں بری طرح سے مبتلا ہونگے۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فرقہ پرستی ہم سے یہ گناہ نہیں کروا رہی ہے بلکہ یہ ہمارا نفس اور شیطان ہے جس کی بہکائی میں آکر ہم ان شرمناک گناہوں میں مبتلا ہیں۔ ہم ان کی طرف کیوں کوئی توجہ نہیں دیتے؟ اسلیئے کہ یہ بدترین اور شرمناک گناہ ہمارے خاندانوں کے رسم و رواج ہیں اور معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں اور ہم خود ان گناہوں کی لذت کی وجہ سے انہیں چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور یا پھر اپنی بزدلی اور ڈرپوکی کی وجہ سے اپنے گھروں اور اپنے خاندانوں کو ان گناہوں کی لعنت سے پاک کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، اگر کبھی ہمارا ضمیر ہمیں تھوڑی بہت ملامت بھی کرے تو ہم یا تو سکو یہ کہکر خاموش کردیتے ہیں کہ یہ تو سب حکومتوں کا قصور ہے اور یا پھر ہم بڑی ہی ڈھٹائی کے ساتھ فرقہ پرستی کو اسکا ذمہدار ٹہراکراپنے گناہوں پر حیلے بہانے بناتے ہیں اوراپنی روش پر قائم رہتے ہیں۔

لہذا ہمیں اس دھوکے سے اب نکل آنا چاہئے اور اپنے گریبان میں جھانک کر یہ دیکھنا چاہئے کہ میں نے جن شرمناک گناہوں کو اپنی زندگی میں سجایا ہوا ہے اور اپنے گھروں اور خاندانوں کی ذینت بنایا ہوا ہے، انکو کس فرقے نے جائز قرار دیا ہے اور اگر کسی فرقہ نے اسے جائز قرار دیا ہے بھی تو کیا میں اس فرقے کا پیروکار ہوں؟

آج بہت سے گناہ ہمارے معاشرے میں ایسے عام ہیں کہ تعلیم یافتہ طبقہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ، امیر طبقہ ہو یا غریب، شہر کا رہنے والا ہو یا گائوں کا، اور یہاں تک کہ، اللہ معاف کرے۔۔۔۔۔۔ شریف کہلانے اور شریف سمجھا جانے والا طبقہ ہو یا آوارہ اور فحاش، تقریباَ سب ہی ان گناہوں میں دن رات ایسے مبتلا ہیں کہ انہیں گناہ ہی نہیں سمجھتے حالانکہ یہ گناہ معاشرے کے بدترین اور شرمناک ترین گناہ ہیں اور ان گناہوں کو کوئی بھی فرقہ جائز نہیں سمجھتا، ان ہی گناہوں کی وجہ سے آج ہم تمام مسلمانوں کو دنیا بھر میں ذلت کا سامنا ہے۔ لہٰذا، مسلمانوں کی موجودہ حالات کا ذمہدار فرقہ پرستی کو ٹہرانا سراسر دھوکہ اور گمراہی ہے اور ہمارے نفس و شیطان کی بدترین مکاری ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارا فرقہ پرستی کو روتے رہنا اور اسکو اپنی بربادی کا ذمہدار ٹہرانے کا مقصد اپنے شرمناک گناہوں پر پردہ ڈالنے اور اپنے آپکو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

انشاءاللہ ان گناہوں کا ذکر کسی اور وقت کرونگا۔ اللہ تعالٰی ہمیں عمل کی توفیق دیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farrukh Abidi

Read More Articles by Farrukh Abidi: 6 Articles with 3478 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2018 Views: 605

Comments

آپ کی رائے