فریادی نمبر ایک حاضر ہو․․․․

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 آج شہنشاہیت کا درو تو بظاہر ختم ہو چکا ہے۔مگر شہنشاہیت اور فریادی کی گو نج باربارسُنائی دیتی رہی ہے۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم میں سے جس کو بھی ربِ کائنات حسُن دیتا ہے اُس میں نزاکت آہی جاتی ہے۔جس کورب کی عطاٗ کرد ہ طاقت میسر آجاتی ہے،تو وہ ہی یہاں ظلے سبحانی کا روپ دھار لیتا ہے!رعونت اتنی آجاتی ہے کہ چھوٹے بڑے کی تمیز ہی تک نہیں رہتی ہے۔پاکستان کا ہر ادارا اپنے آپ کو طاقت و اقتدار حاصل کر لینے کے بعد سجھنے لگتا ہے کہ اب شہنشاہیت اُسی کا مقدر ہے۔باقی پارلیمنٹ ہو یا سیاست دان ہوں یا عوام، وہ ان کے ہانکے پر چلیں گے، (اور چلانے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے۔) تو ٹھیک، ورنہ ایسا سبق دیا جائے گا کہ تاریخ اُس کو فراموش نہیں کر پائے گی اور اس طرح اچھے یا برے انداز میں وہ تایخ کا حصہ بن جائیں گے․․․․
پاکستان میں بعض طاقتور افراد پاکستان کو اپنی چشمِ ابرو کے ا شاروں پر چلاتے رہے ہیںِ اور آج بھی چلا رہے ہیں۔زرداری جو یہ کہتے رہے ہیں کہ’’ ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ۔تم تو تین سالوں کے لئے آتے ہو( ہمیں دوام ہے)ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں۔تو انکی اس بات پر کسی کو طیش نہیں آتا ہے۔مگر ایک ایسے شخص کو ہر ادرا اُنگلیوں پر نچانا چہتا رہا ہے کو اس ملک کو آگے لے جانے کی سو رکھتا ہے۔ اپنی مطلب براری کے لئے ایسیاداروں میں بیٹھے لوگ جن کے پاس حکومتی دیئے ہوئے اختیارات ہیں وہتمام لوگ،لٹیروں کے تمام گناہ کسی اور کی جھولی میں ڈال کر ۔آج ان ہی جیسے ذرداریوں کے سامنے یہ لوگ گھٹنے ٹیکے دکھائی دے رہے ہیں۔بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی اور پھر سینٹ کے انتخابات میں طاقت اور چمک نے جو کھیل کھیلا اُس سے پاکستانیوں کے ساتھ دنیا کا کونسا ذی شعور انسان ہے؟ جس کواس بد عنوانی پر حیرت نہ ہو؟جب مجھ جیسا بے پر کوئی پرواز کر جائے، تو اُس کے بقیہ پر بھی تراشنے کی تدبیریں اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے لوگ شروع کر دیتے ہیں۔

شنید ہے کہ بعض سرکاری مشکلات کے پیشِ نظر،جن میں حکومتی ،انتظامی،گورننس کے امور ،انتخابات اور حلقہ بندیوں پر تبادلہ ِخیال کرنے کی غرض سے جب وزیاعظم پاکستان جناب خاقان عباسی نے جو اس ملک کے چیف ایگزیکٹیو ہیں نے چیف جسٹس کو ان امور کے حوالے سے خاموشی کے ساتھ طلب کیا تو چیف جسٹس نے وزیر اعظم ہاؤں جانے سے غالباََ انکار کر دیا ۔تو وزیر اعظم خاقان عباسی خاموشی کے ساتھ بغیر کسی پروٹوکول کے ذاتی طور پر خود سپُریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس پہنچ گئے ۔اس ملاقات کا دورانیہ دو گھنٹوں پر محیط تھا۔ اس ملاقات کو مختلف لوگوں نے مختلف رنگ دیا کسی نے کہا ملاقات کا وقت مناسب نہیں تھا،اس سے شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں۔کسی نے کہا کہ وزیر اعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات ،نواز شریف کی نا کامی ہے۔کہیں سے سوال اٹھا ،کیا وزیرِ اعظم چیف جسٹس پراثر و رسوخ ڈالنے گئے تھے؟ مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ چیف ایگزیکٹیوں ہیں،وہ کسی بھی ادارے کے سربرہ کو طلب کر سکتے ہیں یا خود اُس سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

آج پاکستان میں جوڈیشل ایکٹیویزم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ بات بات پر سوو موٹو ایکشن ہو رہے ہیں۔ کہں ہسپتالوں کے وزٹ کے بعد ایکشن لئے جاتے ہیں تو کہیں ڈاکٹرز کی تنخواہوں پر سوال اُٹھائے جاتے ہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ اتنی بڑی طاقت اور چمک کے سینٹ کے انتخابات کے اس کھیل پر بھی کوئی سوو موٹو لے لیا جاتا ۔تاکہ قوم کے سامنے ملک کی جمہوریت سے کھلواڑ کرنے والے بد نما چہرے بھی سامنے آجاتے۔مگر جوڈیشل ایکٹیوازم کے اس دور میں بھی ایسا نہ ہوا !! اگر اپنے ادروں یعنی عدالتوں کی خبر نہیں لی جارہی ہے ۔ایک پروگرام میں ،میں نے کئی کئی خوتین اورسائلین کو عدالتوں میں شنوائی نہ ہونے اور بیسیوں سالوں سے عدالتوں میں پھرتے پھرتے دہاڑین مار مار کر روتے ہوئے دئکھا ۔تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔بعض اعداد و شمارکے مطابق پاکستان بھر کی عدالتوں میں 60،لاکھ کے قریب کیسز موجود ہیں ۔ چیف جسٹس صاحب ان کیسوں کی جانب بھی سوو موٹو ایکشن ہو جائیں؟ کیونکہ موجودہ عدا لتی کیفیت سیہمارے نظام کی بدنامی بھی ہو رہی ہے۔

شہنشاہ جہانگیر کے متعلق پڑھا ہے کہ اُس نے اپنے محل کے باہر ایک زنجیرِ عدل ایک بڑے گھنٹے سے منسلک کر کے لٹکوا دی تھی ۔ جب سائلین آتے تھے تو ایک کے بعد ایک اس زنجیر کو کھینچ کر شہنشاہ کو اس بات کا اشارہ تھا، کہ شاہ عالم کی خدمت میں کوئی سائل آیا ہے ۔سائل کے نمبر پر چوبدار اعلان کرتا تھا کہ سائل نمبر ایک حاضر ہو! اورشہنشاہ سائل کے معاملات سُن کر اُسے اپنے دربار سے خالی نہیں جانے دیتا تھا۔

مگرچیف جسٹس ثاقب نثار نے وزیرِ اعظم شاہد خاقاں عباسی سے اپنی ملاقات کے حوالے سے جمعرات 29مارچ 20 18 کو کہا کہ فریادی آیا تھا ،لے کر کچھ نہیں گیا ۔ بلکہ کچھ دے کر ہی گیا ہے۔ چیف جسٹس صاحب کے یہ ریمارکس ساری دنیا اور تمام پاکستانیوں نے محوِ حیرت ہو کر میڈیا پرسنے۔ بعض مبصرین نے تو یہاں تک کہا کہ لگتا ہے پاکستان کے ادار وں سے چیف ایگزیکٹیو کا وقار ختم ہو گیا ہے! ہر ادارے میں شاہ عالم بیٹھے ہیں۔چیف جسٹس جیسے اہم افراد بھی اپنے معتبرا دارے میں بیٹھ کرملک کے بڑے رہنما اور چیف ایگزیکٹیو ،وزیرِاعظم کو بھی فریادی جیسے الفاظ سے پکار رہے ہیں۔ جس پرہر جانب سے تعجب کا اظہارکیا گیا ہے۔ دوسری جانب سابق ویزیر ِاعظم پاکستان محمد نواز شریف کااس حوالے سے کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے فریادی والی بات کی تھی تو اس پر قائم بھی رہناچاہئے تھا،اور اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’وہ میرے پاس آئے تھے‘‘ یہ بھی زیب نہیں دیتا ہے! یہ انسانیت کی بھی توہیں ہے! مگرچیف جسٹس اپنے سابقہ ریمارکس’’گاڈ فادر اور سیسلین مافیہ ‘‘پر بھی یہ موقف رکھتے ہیں کہ ان کی جانب سے ایسے ریمارکس نہیں دیئے گئے، یہاں پربھی صداقت و امانت کا تو سوال اُٹھتا ہے نا؟؟؟ دوسری جانب جناب وزیر اعظم پاکستان کی انکساری دیکھئے کہ انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے وضاحت طلب کرنے کے بجائے معاملات کو کس حسن و خوبی سے نمٹایا!اور فرمایا کہ پاکستان کا فریادی بن کر گیا تھا۔اس میں میری یا میری پارٹی اور پارٹی کے قائد جناب نواز شریف کی کوئی غرض نہ تھی۔میری چیف جسٹس سے ملاقات پر کچھ لوگوں کو تکلیف کیوں ہوئی؟مخالفین کہتے ہیں ملاقات ٹھیک، مگر ٹائمنگ غلط تھی۔پہلے یہ تمام ہمارے مخالفین کہتے تھے کہ ادارے بات نہیں کرتے ․․․․․ فریادی نمبر ایک نے اداروں کے سامنے فر یاد تو رکھ دی ہے مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا بلوچستان حکومت کی تبدیلی اور پھر سینٹ کے الیکشن والا کھیل تو آنے والے انتخابات 2018 میں تودہرایا نہیں جائے گا؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 116854 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Apr, 2018 Views: 304

Comments

آپ کی رائے