"موہے عشق نچایا کر تھیا تھیا"(تیسری قسط)

(Mona Shehzad, Calgary)

اس نے بےقراری سے صبا کا ہاتھ تھاما اور اکھڑتی سانسوں سے بولی:
"صبا تم کوئی جیون ساتھی ڈھونڈ کر اس دوزخ سے بھاگھ جانا. میری طرح حرام موت یا بے غیرتی کی زندگی کو گلے مت لگانا. مجھ سے وعدہ کرو"
اس سے پہلے صبا کچھ بولتی فائقہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی. صبا کی دردناک چیخیں بھی اس کو جگا نہ سکیں.صبا کو پتا ہی نہیں چلا کہ وہ کب بےہوش گئی. جب اس کو ہوش آیا تو فائقہ کی تدفین ہوچکی تھی. صبا پر رہ رہ کر غشی کے دورے پڑتے.
فائقہ کی اس بے وقت اور دردناک موت نے صبا کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا وہاں پر اس پر نگران لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا. کچھ دن کوٹھے کا کاروبار بند رہا مگر آہستہ آہستہ سارے معمولات پھر سے شروع ہوگئے.فائقہ ایسے لگتا تھا کہ کبھی اس کوٹھے کا حصہ ہی نہیں تھی .کبھی کبھی صبا کو اپنی ماں اور نانی سے شدید کراہت آتی. وھ جسموں کی اس منڈی میں پھر سے مصروف ہوگئی تھیں. نانی کو فائقہ کی موت سے زیادہ عربی شیخ سے نہ ملنے والی دولت کا زیادہ غم تھا.
صبا کو ایسا محسوس ہوتا کہ وہ اس دلدل میں دھنستی جارہی ہے. اس کو پتا تھا کہ اس کے پاس صرف ایک سال کا وقت ہے اور اس کے بعد اس کی اٹھارویں سالگرہ اس کی بھی تباہی کا مژدہ لے کر آئے گی. اس کو اس سے پہلے پہلے اپنے بچاؤ کا طریقہ سوچنا تھا.
آج کالج سے باہر نکلی تو خلاف توقع اس کا ڈرائیور موجود نہیں تھا. اس نے سوچا کہ وہ سڑک کراس کرکے کوئی رکشہ یا ٹیکسی لے کر گھر چلی جائے گی. سڑک پار کرتے کرتے نہ جانے کیوں شدت سے اس کا دل چاہا کہ کوئی گاڑی اس کو روندتی ہوئی چلی جائے. وھ شاید قبولیت کا لمحہ تھا. اچانک ایک تیز رفتار گاڑی اس سے ٹکرائی اور وہ ہوش و حواس سے عاری ہوگئی.
(باقی آئندہ *)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178731 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
10 Apr, 2018 Views: 433

Comments

آپ کی رائے