بس کا سفر زندگی گزارنا مشکل ہوگیا

(Gada Hussain Chandio, Karachi)
صبح جلدی اٹھنا پڑتا ہے،گاڑی کی سفائی ستھرائی کر کے مسافروں کیلے گاڑی ا سٹینڈ پر لگانا اور لگاتار مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرنا انہیں گاڑی پر سوار کرنا اُتارنا اُن کاسامان چڑھانااس کے علاوہ کرایہ وُصول کرنا اگرڈرائیور کے ساتھ مشکلات درپیش ہو تو اُس کی مدد کرنا یہ عمل تقریباََ اٹھارہ، گھنٹے دہرانا پڑتا ہے ۔معاوضہ بھی کم ملتا ہے ،اس دوراں مسافروں اور مالکان کا ناروہ سُلوک اور بدتمیزی ہے۔جس سے تقریباََ اٹھارہ گھنٹے واسطہ پڑتا ہے،لیکن مالکان کو صرف پیسے سے غرض ہوتی ہے۔

کراچی میں چلنے والی مسافر برادر گاڑیوں میں سفر کرنے والے ،عموماََ اُن کے ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کے رویوں کے بارے میں شکایت کرتے نظر آتے ہیں ۔ فریقین کے درمیان جھگڑے بھی روز کا معمول ہیں ، لیکن ہم میں سے بہت کم افراد نے کبھی اُن کی زندگیوں میں جھانکنے کی کوشش کی ہوگی۔ ہماری طرح ان گاڑیوں کے ڈرئیورز اور کنڈیکٹرز بھی انسان ہوتے ہیں، جن میں بہت سی خامیوں کے ساتھ کچھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔ان کے بھی جذبات ،احساسات ،مفادات اور مسائل ہوتے ہیں ۔اُن کے بھی بچے ہوتے ہیں، یہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں،آج کل کے حالات نے سب کو اپنی مجبوری کا شکار بنادیہ ہے۔اس دنیا میں سب اپنا پیٹ پالنے کی کوشش کرتے ہیں،ان کے لیے بس کا سفر کرنا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ ہمیں اِن کے بارے میں بھی سوالات کے جواب جاننے کی ضرورت ہے ۔یہ لوگ روزانہ جس ماحول میں وقت تک کام کرتے ہیں ،وہ کسی بھی نارمل انسان کی ذہنی جسمانی صحت اور رویوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔

ٹاور سے سہراب گوٹھ تک چلنے والی بس ڈبیلو گیارہ کے کنڈکٹر عبدالرحمٰن نے چھ سات جماعتوں تک تعلیم حاصل کی ہے۔وہ صبح پانچ بجے سے دہ بجے شب تک کام کرتے ہیں ۔ اس دوران انہیں آرام کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ انہیں روزانہ سخت محنت کے بعد500 تا600 روپے معاوضہ ملتا ہے ۔ان کے مطابق ڈبلیو گیارہ کے ڈرائیورکو عوماََ روزانہ 700تا 800 روپے معاوضہ ملتا ہے ،لیکن معاوضے میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ اگر ہر چکر میں گاڑی مسافروں سے بھری رہے تو اِتنا معاوضہ باآسانی سے مل جاتا ہے ،لیکن روزانہ ایسا ہرچکر میں نہیں ہوتا ۔زیادہ سردی،گرمی،بارش،ٹریفک جام اور امن وامان کی خراب صورت حال میں مسافروں کی تعداس بہت کم ہوتی ہے۔وہ 1998ء سے کنڈکٹر کی حیشیت سے کام کر رہے ہیں۔

اسی روٹ پر چلنے والی ایک بس کے ڈرائیور سلیم دس برس سے یہ کام کر رہے ہیں۔انہیں اکثر 500روپے معاوضہ ملتا ہے ۔انہون نے دس برس قبل باقاعدہ ڈرائیور نگ ٹیسٹ پاس کر کے گاڑی چلانے کا لائسنس حاصل کیا تھا ۔ ان کے بہ قول اب جائز طریقے سے لائسنس حاصل کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اِسی طرح پہلے کے مقابلے میں گاڑی چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے ۔ کراچی میں اکثر اُن کو ڈرائیونگ لائسنس ملتے ہیں، جو کراچی کے روڈ راستوں کو جانتے بھی نہیں لیکن کچھ پیسوں کے عیوض ان کے لائسنس ایک دن میں بن جاتے ہیں جوایکسیڈنٹ کا سبب بنتے ہیں، پہلے کے ڈرائیور ز سمجھ دار ،سنجیدہ اور دوسروں کا خیال ،مل کر کام کرنے والے ہوتے تھے،لیکن اب زیادہ تر ڈرائیورز غیر سنجیدہ انداز میں گاڑی چلاتے ہیں اور زیادہ مسافر اُٹھانے کی دوڑ میں تمام اخلاقی اور قانونی حدودپار کر جاتے ہیں۔اس کی محض وجہ مالکان کا دباؤ ہوتا ہے۔کراچی میں آبادی تو بڑتی چلی جارہی ہے لیکن بسیں وہ ہی پرانی اور ٹوٹی نظر آتی ہیں اور ہر طرح کے لوگ،ہر طرح کی گاڑیاں چلانے لگے ہیں۔دوسری جانب منہگائی میں بھی بے تحاشا اضافے اور مقابلے کے رُجہان کی وجہ سے مسافر برادرگاڑیوں کے ڈرائیور کے لیے گاڑی چلانا اور زندگی کا سفر ،ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔
ٹاور سے گلشن حدیدتک کے روٹ پر چلنے والی مسلم کوچ کے ڈرائیور زاہد محمودچار برس سے یہ کام کر رہے ہیں۔انہیں روزانہ800 روپے معاوضہ ملتا ہے ۔انہوں نے 2001 ء میں باقائدہ امتحان میں کامیابی حاصل کرکے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا تھا ۔ اس سے قبل ان کے پاس جعلی لائسنس حاصل کیا تھا ، جسے یہ لوگ اپنی زبان میں ’’دونمبر لائسنس‘‘ کہتے ہیں، جو آج بھی 1000تا1500 روپے خرچ کر کے لوگ حاصل کرلیتے ہیں۔

دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والازاہد محمود کے مطابق جعلی لائسنس ٹریفک پولیس کے متعلقہ اہل کاروں کے ذریعے بنتا ہے۔انہوں نے بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر یہ پیشہ اختیار کیا تھا ،لیکن اب یہ ان کی ضرورت اورمجبوری بن گیا ہے، نہ وہ تعلیم یا فتہ ہیں اور نہ انہیں کوئی دوسرا ہنر آتا ہے،جسے آزما کر وہ اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں۔اسی روٹ پر چلنے والی G7بس کے ڈرائیور عبدالمجید 28برس سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ اس دوراں انہوں نے مختلف اقسام کے ٹرکس ،بسیں اور مختلف گاڑیاں چلائیں۔ 20 برس سے اسی روٹ کی بس کے ڈرائیور کی حیشیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔وہ نا خواندہ ہیں اور انہیں بسوں سے ہونے والی کل آمدنی میں سے پانچ فی صد حصہ معاوضہ کے طور پر ملتاہے، جو عموماََ 500 تا 600 روپے ہوتا ہے ۔وہ بھی ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل ،لوگوں کے بدلتے ہوئے رویوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی منہگائی سے پریشان ہیں۔ان کے بہ قول اب ٹریفک پولیس کے اہل کار زیادہ بدعنوان ہوگئی ہیں۔جگہ جگہ مختلف بہانون سے گاڑیاں روک کر ، لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور رشوت طلب کی جاتی ہے ۔ صدر کے علاقے سے بس کو گزارنا عذاب ہوتا ہے ۔ رشوت،دھونس،دھمکی اور گالم گلوچ اس شعبے میں روز کا معمول بن گیا ہے۔ ان حالات میں ڈرائیور کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔ یوٹی ایس بسوں کا پہلے والا نظام نہیں رہا ۔ ہم سب نے مل کر اسے بھی بگاڑ دیا ہے ۔بارہ تا سولہ گھنٹے ٹریفک کے ہجوم ،شور شرابے،سڑکوں پر ہونے والے تماشے اور مسافروں کے ساتھ وقفے وقفے سے ہونے والی تلخیوں کے ماحول میں پورا دن گزارنے کے بعد ذہن بالکل ماؤف ہوجاتا ہے۔ گھر پہنچ کر نہانے یہ ہاتھ دھونے اور کھانا کھانے کے بعد بس آرام کرنے کو دل چاہتا ہے ۔ ایسے میں اگر اہل خانہ کسی اہم مسئلے پر بھی بات کرنا چاہیں تو اس کا جواب دینے کو دل نہیں چاہتا۔اور ٹریفک پولیس اہل کاروں کے رویون اور زیادتیوں نے ڈرائیورز کو ز ہنی پریشانیوں میں مبتلا کر دیاہے۔

M-1 کے روٹ پر چلنے والی بس کے کنڈکٹر احسان نذیر پندرہ برس سے یہ کام کر رہے ہیں ۔ان کے چار بچے ہیں اور وہ چار ہزار روپے ماہانہ مکان کا کرایہ دیتے ہیں ۔ ان کے صرف ایک بچے نے پانچویں جماعت تک سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی۔وہ بچوں کی تعلیم میں زیادہ دلچسپی تو نہیں لیتے جس کلی محض وجہ کم آمدنی ہے ۔ ان کے بہ قول غریب کے بچے پڑھ لکھ کر بھی نوکر ی کے لیے مارے مارے پھرتے رہتے ہیں ،مگر کوئی انہیں پوچھتا نہیں ،لہٰذا غریبوں کے بچوں کو کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سیکھانا چاہیے ۔دس ،بیس برس پہلے غریب کے لیے زندگی گزارنا اتنی مشکل نہیں تھی ،جتنی آج ہے ۔آج ایک ہی روٹ پر چلنے والی گاڑیوں کے کنڈکٹر ز اور ڈرائیورز آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں ۔پہلے ایسانہیں ہوتا تھا ۔پیسوں کی ہوس نے ہم سب کو اندھا کر دیا ہے ۔ تھکے ہارے گھر پہنچو تو اکثر بجلی غائب ملتی ہے۔ پانی کی قلت بھی بڑامسئلہ ہے ۔ پیٹرول اور ڈیزل روز بہ روز مہنگا ہوتاجارہا ہے ۔گئس پر بھی گاڑیوں کو چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ ہر ہفتے 2د ن گئس نہیں ملتی اگر ملتی ہے تو لائینوں میں دودوگھنٹے لگ جاتے ہیں ،ہر بار نعیں بہانے سُننے کو ملتے ہیں، مسافرتنگ آکر دوسری گاڑیوں میں بیٹھ کر چلے جاتے ہیں، اس تناسب سے کرائے نہیں بڑھے ہیں ،اس کا اثر ڈرائیور ز ،اور کنڈکٹر اور کلینرز کے معاوضوں پر پڑا ہے، جو پہلے کے مقابلے میں کم ہیں۔

اکثر ڈرائیورز اور کنڈکٹرز آپس میں رشتے دار ہوتے ہیں،ارشاد حسین،بخاری،صدر،کراچی ٹراسپورٹ اتحاد
مسافر برادر گاڑیاں چلانے والے اور ان میں کنڈکٹر اور کلیز کی حیثیت سے کام کرنے والے عموماََ گاڑیوں کے مالکان کے رشتے دار یا جان پہچان والے ہوتے ہیں۔منی بسوں اورکو چز میں یہ شرح 60تا 70فی صد اور بسوں میں تقریباََ30 فیصد ہوتی ہے ۔ان میں سے زیادہ تر افراد غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ان کی زندگی بہت سخت ہوتی ہے۔ ڈرائیور یا کنڈکٹر کو ملازمت دیتے وقت اکثر تعلیم اور تجربے پر دھیان نہیں دیا جاتا۔پرانے لوگوں کے ملک سے چلے جانے کی وجہ سے ڈرائیورز کی قلت پیدا ہوئی تو نئے ،نئے لوگ سامنے آنے لگے ۔آج بھی اچھے ڈرائیورز ملک سے باہر مقیم ہیں ۔ پاکستان میں کم تربیت یافتہ اور جعلی لائسنس والے بھی ڈرائیونگ کر رہے ہیں ،جنہوں نے ڈرائیونگ کا ٹیسٹ پاس بھی نہیں کیا ہے ، تا ہم باقاعدہ طریقے سے لائسنس حاصل کرنے والے ڈرائیورز بھی کام کر رہے ہیں۔

کراچی میں 1998 ء تک سائٹ کے علاقے میں کالعدم کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے تحت ایک تربیتی اسکول چلتا رہا ۔ جہاں مسافر برادر گاڑیوں کے ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کو ایک ماہ کی تربیت اور سرٹیفکیٹ دیا جاتا تھا، جس کے بعد ٹریفک پولیس انہیں لائسنس جاری کرتی تھی ۔ نجی بسوں کے مالکان بھی اپنے ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کو تربیت کے لیے وہاں بھیجتے تھے۔ وہاں ان لوگوں کو ٹریفک کے قوانین اور اخلاقیات کا درس دیا جاتا تھا ۔ لیکن آج وہ اخلاقیات کی حدود پار کر گئے ہیں ۔نظام کی بھتری کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ بدعنوانی اوررشوت ستانی نے ٹراسپورٹ کا نظام تباہ کردیا ہے ۔ پاکستان کے ڈرائیورز بیرون ِ ملک جا کر قانون کی پاس داری کرنے والے اورمہذب ہوجاتے ہیں، کیوں کہ انہیں وہاں اچھا معاوضہ اور ماحول ملتا ہے اور قانون کی گرفٹ میں آنے کا خطرہ رہتا ہے ۔ لیکن اصل بات قانون کی عمل داری کی ہے ۔ یہاں تو تعلیم یافتہ افراد بھی کھلے عام ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں ۔

ہمارا بھی یہ مطالبہ ہے کہ ا ب ڈرائیونگ ٹیسٹ ماہر افسران کے سامنے لیکے قابل لوگوں کو ڈراؤنگ لائسنس جاری کرنا چاہیے جن کی کم ازکم تعلیم پرائمری ہواور سنگنل پے ٹریف قوانین کے متعلق اردو میں لکھی حدایات لگائی جائیں۔ 1985 ء تک کنڈکٹر کو بھی کے ٹی سی کے اسکول سے تربیت حاصل کرنے کے بعد ٹریفک پولیس سے لائسنس لینا پڑتا تھا ۔ بسوں اور کوچز میں ڈرائیور ز اور کنڈکٹر اکثر قریبی رشتے دار ہوتے ہیں ۔ ان لوگون پر قوانین لاگو نہیں ہوتے ۔مالکان سوفیصد پر رقم حاصل کر کے گاڑیاں خریدتے ہیں اور قسطوں کی ادائیگی کے لیے ہر صحیح اور غلط کام کرنے کو تیار رہتے ہیں ۔ یہ لوگ 16سولہ گھنٹے کام کرتے ہیں ۔پہلے دن بھر میں ڈرائیورز اور کنڈ کٹررز شفٹس میں کا م آتے تھے ، لیکن اب منہگائی کی وجہ سے ایک شفٹ میں کام ہوتا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شدید منہگائی ہے۔ 12اکٹوبر1999 ء کو دس روپے 66 پیسے فی لیٹر تھا ,لیکن آج۔۔80۔روپے فی لیٹر ہے ۔ اس طرح اس عرصے میں اس کے نرخ میں300 فی اضافہ ہوا ہے۔اس کے مقابلے میں کرایوں میں صرف 70فی صد اضافہ ہوا ہے۔

پہلے کنڈکٹررز اور کلیز کو ماہانہ تنخواہ ملتی تھی، لیکن اب انہیں ہر وز معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ ڈرائیوز اور کنڈکٹر ز کو کم ازکم روزانہ 600روپے معاوضہ ملتا ہے ۔ دونوں وقت کے کھانے کے اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں،عموماََ مالکان کنڈکٹرز، ڈرائیورز کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے ہیں ۔یہ لوگ بادشاہ ہوتے ہیں اور مالکان ان کے یر غمال ہوتے ہیں۔ان لوگوں کے مسافر وں کے ساتھ غلط رویے سے مالکان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ شکر کرو کہ کراچی کے لوگ بہت اچھے ہیں ،ورنہ شدید مسائل پیدا ہوجاتے۔ پہلے سب ڈویزنل مجسٹریٹس اور ٹریفک مجسٹریٹس ہوتے تھے، جو قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 1000روپے جرمانہ لگا کر 6 ماہ کے لیے جیل بھیجنے کا ختیار رکھتے تھے، لیکن یہ نظام بھی ختم کر دیا گیا۔اب چالان کر کے پرچی ڈرائیور کے ہاتھ میں پکڑادی جاتی ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ پہلے والا نظام بحال کیا جائے اور جرمانے کے ساتھ کم ازکم دوچار دن کے لیے ڈرائیور کو جیل بھیجا جائے ،تاکہ ان میں خوف پیدا ہو۔ کراچی کے عوام دیگر شہروں کے مقابلے میں بہت شائستہ ہیں ۔ لیکن وہ مسائل کا شکار ہیں ۔ بجلی اور پانی کی قلت منہگائی اور غربت نے ان کی بھی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ وہ بھی تناؤ کا شکار رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے بعض اوقات وہ کنڈکٹرز یا ڈرائیورز سے بُری طرح الجھ پڑتے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ کنڈ کٹرز اور ڈرائیورز مسافروں سے بدتمیزی کرتے ہیں اور مسافروں کو رسواز کرنے اور اُتارتے وقت گاڑی چلا دیتے ہیں، خواتین سے بدتہذیبی سے پیش آتے ہیں اور جہاں دل چاہے، گاڑی روک دیتے ہیں۔ حالات کی بہتری کے لیے ہم سب کو کوشش کرنی ہوگی۔

ٹائم کیپراور منشی کا کردار
ٹائم کیپرروٹ پر چلنے والی گاڑی کے ڈرائیور یا کنڈ کٹر کو یہ بتاتا ہے کہ آگے والی گاڑی کتنی دیر پہلے گزری تھی اور اس میں کتنے مسافر سوار تھے ۔ اس کی روشنی میں ڈرائیورزاور کنڈکٹرز آگے کے سفر کا لاتحہ عمل طے کرتے ہیں کہ انہیں کس رفتار سے باقی فاصلہ طے کرنا چاہیے۔ان کے بہ قول خان کوچ کا کلفٹن سے سپر مارکیٹ تک اور نیو کراچی سے دو منٹ چورنگی تک ٹوکن کا وقت مقرر ہے ۔ منشی کی حیثیت سے کام کرنے والے لیاقت کے مطابق اُن کا کنڈکٹرز اور ڈرائیورز سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔وہ روزانہ روٹ کے بسوں کے چالان بھرتے ہیں۔ٹریفک پولیس کی ہر متعلقہ چوکی پر جا کر روزانہ بسوں کے کاغذات حاصل کرتے ہیں۔ٹریفک پولیس کے تمام اہل کاروں سے قریبی رابطہ اور انہیں’’ خوش‘‘ رکھتے ہیں۔رُوٹ کی ہر بس والا ،اُنہیں روزانہ اس کے عوض 10 روپے ادا کرتا ہے۔

اورکنڈکٹرز کو روزانہ 400تا 700روپے ملتے ہیں۔ کنڈکٹر گاڑی میں رکھے جانے والے سامان اور مسافرون پر بھی نظر رکھتے ہیں ۔ وہ گاڑی کی صفوئی، ایندھن ،پانی،بریک آئل اور شوپر بھی نظر رکھنے کا پابند ہوتا ہے۔ہر گاڑی کے مخصوص ڈرائیورزاور کنڈکٹرزہوتے ہیں۔

بڑی عمر کے لوگ اور اسٹوڈنٹ کارڈ
کئی کنڈکٹرز نے شکوہ کیا کہ بسوں میں بعض اوقات بڑی عمر کے افرد بھی خود کو طالب علم کہہ کر اسٹوڈنٹ کارڈ دکھاتے ہیں اور نصف کریہ لینے پر اصرار کرتے ہیں، ان میں سے اکثر کارڈ جعلی ہوتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے ملازم پیشہ نوجوان جعلی کارڈ حاصل کر کیتے ہیں ۔ ایسے نوجوان اپنے حلیے سے طالب علم نہیں لگتے ، مگر مجبوراََ ان سے نصف کرایہ وصول کیا جاتا ہے ۔

گاڑیوں میں جھگڑوں کی وجوہات
ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کے بہ قول مسافر برادر گاڑیوں میں روزانہ ہونے والے جھگڑوں کی کئی وجوہات ہیں ۔ بعض افراد ریکاڈنگ پر اعتراض کرتے ہیں اور بعض ریکاڈنگ کے لیے مجبور کرتے ہیں ۔ کوئی اسٹاپ پر گاڑی روکنے پر مجبور کرتا ہے اور کوئی اسٹاپس کے درمیان اُترنا چاہتا ہے۔ کنڈکٹرزباربار مسافروں سے آگے بڑھنے کو کہتے ہیں۔ ان کے درمیان سے باربار گزرتے ہیں۔ خواتین بچوں اور بڑھوں کو سوار کرتے اور اُتارتے وقت جلدبازی کا مظاہر کرتے ہیں۔اپنی مرضی سے کبھی سست اور کبھی تیز گاڑی چلاتی ہیں ۔ بعض افراد کرایوں کی شرح پر بھی اعتراض کرتے ہیں ۔ کوئی کنڈکٹر کسی مخصوص فاصلے کے لیے ایک دوروپے زیادہ اور کوئی ایک د وروپے کم وُصول کرتا ہے۔ اکثراُن ہی وجوہات کی بناء پرمسافر برادرز کے گاڑیوں میں جھگڑے ہوتے ہیں ۔ ایک کنڈکٹر کے بہ قول کراچی میں1685 ء کے بعد غیر مہذب کنڈکٹرزاور ڈرائیورز کی وجہ سے مسافر برادر گاڑیوں میں ہونے والے جھگڑے،سیاسی اور لسانی رنگ اختیار کرگئے تھے ۔ اس لیے وہ اکثر کنڈکٹرز کو یہ سمجھاتے ہیں کہ وہ خصوصاََ خواتین کے ساتھ الجھنے سے پر ہیز کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Gada Hussain Chandio

Read More Articles by Gada Hussain Chandio: 6 Articles with 3940 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Apr, 2018 Views: 559

Comments

آپ کی رائے