بچوں کا مستقبل تاریک مت کیجئے

(Rizwan Shahzad, )

ایک لمبے عرصہ سے اس خطے میں قابلیت معدوم ھوتی جا رہی ہے ۔وجوہات تو بہت سی ہیں لیکن جو وجہ تیزی سے ہمارے بچوں کی قابلیت کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے وہ ہے ہمار تعلیمی اداروں کا بہت اچھا ہو جانا، جی ہاں ہمارے تعلیمی ادارے بہت اچھے ھو چکے ھیں۔ایک تین سال کے بچے سے لے کر تیس سال کے بڑے تک سبھی کو ایک دوڑ میں لگا دیا گیا ہے ا ور وہ ہے کامیابی، میں بات کر رہا ہوں ہمارے نجی تعلیمی اداروں کی، نجی سکولز اور کالجز میں آج کامیاب لوگ ضرور پیدا کیے جا ریے ہیں لیکن قابل نہیں۔ان اداروں میں صبح 7 بجے سے لے کر شام کے 4 یا 5بجے تک بچوں کو پڑھایا جاتا ہے ۔کچھ اداروں میں تو یہ اوقات اور بھی زیادہ ہیں،یہاں پہ اساتذہ اتنی محنت کرواتے ہیں، اتنا اچھے سے پڑھاتے ہیں کے کوئی لفظ بھی ایسا نہی بچتا جس پہ بچہ غوروفکر کرے اور خوش قسمتی سے اگر کوئی سوال رہ بھی جائے تو وہ ٹیوشن والی باجی حل کروا دیتی ہیں اور یوں بچے کو سب کچھ سمجھا دیا جاتا ہے، یا یوں کہیں یاد کروا دیا جاتا ہے ۔اور وہی سب کچھ امتحان میں لکھ کر وہ بچہ اچھے گریڈز لے لیتا ہے ۔اور بلآخر وہ ایک کامیاب ڈاکٹر،انجینیر وغیرہ بھی بن جاتا ہے ۔اب سوال یہ ہے، کہ ان سب میں بچے کا کیا کردار تھا؟ کیا صرف اتنا ہی کہ لکھی ہوئی باتوں کو پڑھ لیا، جو کہا گیا وہ سن لیا، جو سمجھایا گیا وہ سمجھ لیا؟ خدارا اپنے بچے کا سارا وقت استاد،ٹیوٹر اور نصاب کے نام مت کیجئے، اسے خود کا دماغ استعمال کرنے دیا جائے اسے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے دئیے جائیں اسے اسکے بند ذہن کے دروازوں کو کھولنے دیا جائے تو یقین جانئیے جب ان بند دروازوں کے قفل ٹوٹے تو منظر یکسر بدل جائے گا، پھر جابر بن حیان،البیرونی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے نام پیدا ہونگے، جو آنے والی نسلوں کیلئے بہت کچھ چھوڑ جائیں گے.یہ ضروری نہیں کہ بچے کو کسی اعلی درجے کے سکول،کالج میں پڑھایا جائے، اس کام کیلئے ایک اوسط درجے کا سکول کافی ہے۔بلکہ اپنے بچوں کو اوسط درجے کے سکول،کالج میں ہی پڑھایا جائے ۔دراصل میں بھی ایک استاد ہوں، اور اس بڑھتے ہوئے گمراہ کن رجحان سے تنگ آ کر یہ موضوع آپ کے سامنے پیش کر رھا ہوں.پوزیشن کی دوڑ میں بچے کو یوں بھگاتے ہیں کہ اسکی اپنی کوئی پہچان باقی نہیں رہتی، وہ خود اعتمادی جیسی دولت سے محروم رہ جاتا ہے. جدت اسکے ذہن کے بند خلیوں میں ہی کہیں گم ہو کر رہ جاتی ہے.وہ تاریخ پڑھتا ہے،پر رقم نہی کر پاتا.وہ اس دائرے سے کبھی نکل ہی نہی پاتا جو اسکے اردگرد والدین،اساتذہ،اور ٹیوٹر نے لگایا ہے، ان پودوں کو تب تک ہی پانی دیجئے جب تک کہ یہ اپنی جڑیں مظبوط کر لیں،اور پھر دھوپ،چھاوں کا اثر لیتے ھوے بڑھنے دیجئے.موسمی شدت کو برداشت کریں گے تب ہی پھل بھی ذائقہ دار ہو گا،میٹھا ہو گا.خداراً! اپنے بچے کی وقتی آسانی کیلئے اسکا اور آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک مت کیجئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Shahzad

Read More Articles by Rizwan Shahzad: 3 Articles with 1606 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Apr, 2018 Views: 674

Comments

آپ کی رائے